سعودی عرب کا وہ انتہائی طاقتور جنرل جس پر تشدد کرکے اسے مار ڈالا گیا کیونکہ۔۔۔ ایسا دعویٰ منظر عام پر کہ کھلبلی مچ گئی

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں چند ماہ قبل درجنوں اہم شخصیات کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تو یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ان میں سے متعدد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ سعودی حکومت نے تشدد کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا لیکن اب اس سلسلے کا سب سے تہلکہ خیز دعوٰی سامنے آ گیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ اس بات کا امکان موجو دہے کہ ایک طاقتور سعودی جنرل پر بھی حراست کے دوران تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی۔ سعودی حکومت نے 200 سے زائد مالدار کاروباری شخصیات، وزراءاور شہزادوں کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کرکے رٹز کارلٹن ہوٹل میں زیر حراست رکھا تھا۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ اس بات کی اطلاعات موجود ہیں کہ زیر حراست افراد میں سے متعدد پر تشدد کیا گیا تاکہ انہیں اربوں ڈالر حکومت کے حوالے کرنے پر تیار کیا جاسکے۔ سعودی حکومت کی جانب سے ان الزاما ت کو قطعی طور پر بے بنیاد قرار دے کر رد کیا جا چکا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ممکنہ طور پر تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے میجر جنرل کا نام علی القحطانی ہے، جن کی موت دسمبر کے وسط میں اس وقت ہوئی جب وہ زیر حراست تھے۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنرل علی القحطانی کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ ان کی موت طبعی نہیں تھی۔ انہیں نومبر میں ہسپتال لیجایا گیا لیکن معائنے کے بعد دوبارہ تفتیش کے لئے واپس لیجایا گیا۔ ان کی موت کے بارے میں پہلے بھی میڈیا میں خبریں آچکی ہیں لیکن اس سے پہلے تشدد کے نتیجے میں موت کا دعویٰ سامنے نہیں آیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی اخبار کی جانب سے یہ دعویٰ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان عنقریب امریکہ کے دورے پر پہنچنے والے ہیں۔ جنرل قحطانی پرنس ترکی بن عبداللہ، جو کہ ریاض کے سابق گورنر ہیں، کے معاون تھے۔ گزشتہ سال نومبر میں دیگر اہم شخصیات کے ساتھ پرنس ترکی کو بھی گرفتا ر کر لیا گیا تھا لیکن بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا۔