میری سزا میں نرمی کی جائے زینب کے قاتل کا عدالت میں بیان

ننھی معصوم زینب کا جب قتل ہوا تو لوگوں جس کا اضطراب اٹھا اور ٓسوشل میڈیا پر ایک ایسی تحریک چلی جس کی کبھی مثال نہیں ملی ۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ قاتل پکڑا گیا لیکن اس کے پیچھے موجود گینگ تک کسی کی رسائی نہ ہو سکی ۔ عدالت نے مجرم کو سزا موت سنائی قصور کی ننھی زینب کے قاتل عمران نے لاہور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ اقرار جرم کرنے کی وجہ سے اس کی سزا میں نرمی کی جائے،اپیل کی سماعت لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے موقع پر زینب کے والد حاجی امین اپنے وکیل اشتیاق چوہدری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ ننھی زینب کے قاتل عمران نے سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کے توسط سے جیل سے اپیل دائر کی ہے اپیل کے ہمراہ انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کی مصدقہ کاپی بھی منسلک ہے۔

مطابق مجرم عمران نے تین صفحات پر مشتمل جیل اپیل میں موقف اختیار کیا کہ دوران ٹرائل اس نے عدالت کاقیمتی وقت بچانے کے لیے عدالت کےسامنے اقرار جرم کیا، ترقی یافتہ ممالک میں اقرار جرم کرنے والے مجرموں کے ساتھ عدالتیں نرم رویہ اختیار کرتی ہیں لیکن اقرار جرم کے باوجود عدالت نے اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہیں کیا اور اسے سزائے موت اور دیگر سزاؤں کا حکم سنا دیا۔
اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ غربت کے باعث وکیل کی خدمات حاصل نہیں کرسکتا لہذا عدالت عالیہ اس کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے سزا میں نرمی کرے۔لاہور ہائی کورٹ نے قصور واقعے میں ننھی زینب کے قاتل عمران علی كی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے مجرم کا عدالتی ریکارڈ اور جیل سپرنٹنڈنٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔