انٹرنیٹ پر بوڑھے لوگوں سے زیادہ نوجوانوں کے ساتھ یہ انتہائی شرمناک کام کیا جاتا ہے، ایسا انکشاف منظر عام پر کہ ہمارے سب اندازے غلط ثابت ہوگئے

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) عام تاثر ہے کہ عمررسیدہ افراد انٹرنیٹ پر ہونے والے فراڈکا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں انٹرنیٹ کی اتنی سوجھ بوجھ نہیں ہوتی

، تاہم اب امریکہ کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ اس حوالے سے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ سال 70سال سے زائد عمر کے افراد کی نسبت نوجوان لڑکے لڑکیاں انٹرنیٹ فراڈ کا زیادہ نشانہ بنے۔ ان میں 20سے 29سال عمر کے افراد کی تعداد سب سے زیادہ 40فیصد تھی۔

کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2017ءمیں 70سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی انٹرنیٹ فراڈ کا شکار ہونے کی شرح محض 18فیصد تھی۔گزشتہ سال 80سال عمر کے ایک شخص کی شکایت سامنے آئی جس سے انٹرنیٹ کے ذریعے 1ہزار 92ڈالر (تقریباً1لاکھ 20ہزار روپے) لوٹے گئے۔

دوسری طرف 20سے 29سال عمر کے نوجوان افراد سے اوسطاً 400ڈالر (تقریباً 44ہزار روپے) لوٹے گئے۔مجموعی طور پر گزشتہ سال 20لاکھ 68ہزار افراد نے انٹرنیٹ فراڈ کی شکایت درج کروائی۔ 2016ءمیں یہ تعداد 20لاکھ 98ہزار تھی۔