”اگر صحت مند بچے کے باپ بننا چاہتے ہیں تو مردوں کو 25سال کی عمر سے پہلے ہی یہ کام کر لینا چاہیے“ سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن کام کرنے کا مشورہ دے دیا، یہ شادی نہیں بلکہ۔۔

ج کل دنیا کا ماحول ایسا ہو چکا ہے کہ مردوخواتین شادی کر بھی لیں تو اپنے ’کیریئر ‘کے لیے بچوں کی پیدائش التواءمیں ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مردوخواتین میں بانجھ پن اور غیر صحت مند بچوں کی پیدائش کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ۔

اب ایسے مردوں کو سائنسدانوں نے ایک انتہائی حیران کن مشورہ دے دیا ہے جس سے وہ بانجھ پن کے خطرے اور غیرصحت مند اولاد کے خدشے سے بچ جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”جو مرد فی الوقت باپ نہیں بننا چاہتے انہیں چاہیے کہ 25سال کی عمر میں اپنے سپرمز نکلوا کر فریز کروا دیں اور جب باپ بننا چاہیں ان کے ذریعے بچہ پیدا کر لیں۔“

برطانیہ کے ری پروڈکٹیو ہیلتھ گروپ سے منسلک گائناکالوجسٹ پروفیسر لوسیانو نارڈو کا کہنا تھا کہ ”25سال کی عمر میں جو سپرمز محفوظ کر لیے جائیں وہ انتہائی صحت مند رہتے ہیں اور ان سے بچے بھی صحت مند پیدا ہوتے ہیں، اور دوسری طرف زیادہ عمر میں جا کر اگر مرد بانجھ بھی ہو جائے

تو اس کے محفوظ کیے ہوئے سپرمز اس کی اولاد کے حصول کی خواہش پوری کر سکتے ہیں۔“ جینیات کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر کیوین سمتھ کا کہنا تھا کہ ”مردوں کو 18سال کی عمر میں ہی اپنے سپرمز محفوظ کرنے کے بارے میں غور شروع کر دینا چاہیے تاکہ بانجھ پن کے مسئلے سے نمٹا