خوبصورت مچھلیوں کا دیس

بلوچستان میں ایک ایسا علاقہ بھی موجود ہے جو دنیا میں بے نظیر مقام رکھتا ہے مگر عام اور خاص پاکستانی

اس کی خوبصورتی سے ناواقف ہیں۔ اس علاقے کی کئی خصوصیات ہیں خوبصورت پہاڑ ، خوبصورت آبشاریں ، خوبصورت تاریخی اور پراسرار مقامات ،صحرا ایسا کہ جیپ سواروں کی پسندیدہ ٹریکنگ۔ مگر بدقسمتی دیکھئے کہ دور دراز تک پھیلے ہوئے چھوٹے چھوٹے گھر جہاں کے مکین پانی کی بوند بوند کیلئے ترستے ہیں. مگر چھتل شاہ نورانی کے مزار کے قریب ایک ایسا مقام ہے جہاں پہ بہت میٹھا پانی موجود ہے اور اس جگہ پر پیاری پیاری مچھلیاں رقص کرتی اور انسانوں کے ساتھ کھیلتی ہے۔

تحصیل گنداواہ ضلع جھل مگسی میں یہ دلفریب مقام آج بھی سیاحوں کا منتظر ہے یہاں پہ مچھلیاں انسانوں کو

دیکھ کر اپنی خوراک کی امید کرتی ہے۔ یہ رنگین مچھلیاں اپنے خوبصورت رنگوں، عجیب و غریب بناوٹ اور عام مچھلیوں سے مختلف شکل شباہت کی وجہ سے آج کل پورے ملک کے سیاح لوگوں کی خاص توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔ اب ہر سال ہزاروں لوگ ان رنگین مچھلیوں کے اقسام دیکھنے ملک بھر سے آتے ہیں۔ ان مچھلیوں کی افزائش نسل اور بچے جننے والی مچھلیاں یہ دیگر مچھلیوں کے برعکس بچے جنتی ہیں اور یہ مچھلیاں کبھی زیادہ بڑی نہیں ہوتی ہے اس لئے انہیں عام زبان میں پہاڑوں کی مچھلی بھی کہا جاتا ہے

چتھل شاہ نورانی کے مزار کے قریب نکلنے والا پانی آب حیات کہلاتا ہے اس شفا بخش ٹھنڈے پانی میں کوئی

بھی سالن تیار کرو مگر کبھی ان مچھلیوں کو بد بو نہیں آئے گی۔ یہ خوبصورت تیرتی ہوئی مچھلیاں ہر آنے والے سیاحوں کا دل لبھاتی ہیں۔ آج کل پاکستان کے سیاح اس جگہ پر جوق در جوق انجوائے کرنے آتے ہیں اور اپنے کھانے کی اشیاء ان مچھلیوں کو دیتی ہیں۔ جنہیں مچھلیاں منٹوں میں کھا جاتی ہے حتاکہ یہ مچھلیاں سیب انگور گوشت اور دوسرے کئی کھانے کئی چیزیں کھاتی ہے جو سیاح مسلسل سفر سے تھکا ہارا ہوا پہنچتا ہے وہ شخص سخت سردی یا سخت گرمی کے سبب بے حال ہوتا ہے تو ان مچھلیوں کے نخرے دیکھ کر اپنی تھکاوٹ دور کرتا ہے ان ٹھنڈے پانی کے تالاب میں تیرتی خوبصورت مچھلیوں کو دیکھ کر بندہ ضرور نہانے کیلئے اتر جاتا ہے۔ سخت سردی ہو یا سخت گرمی یہ مچھلیاں اپنا اپنا رخ اس جگہ سے کبھی نہیں موڑتیں ہیں مقامی لوگوں کے بقول جو بھی یہ مچھلی کھائے گا اس کے پیٹ سے یہ مچھلی زندہ باہر نکلے گی اسلیئے اس مچھلی کو کوئی بھی مقامی شخص کبھی نہیں کھاتا ہے اور نہ ہی کبھی ان مچھلیوں کا کسی کو شکارکرنے کی اجازت دیتے ہے۔

دو سو سال سے ان مچھلیوں کی کبھی نسل کشی نہیں کی گئی ہے۔ ان مچھلیوں کا شکار غیر قانونی سمجھا جاتا ہے اور ان مچھلیوں کے نسل کشی میں ملوث افراد کے خلاف ہمیشہ مقامی لوگوں نے مزاحمت کی ہے۔ مقامی لوگوں کے بقول ایک مرتبہ ایک سیاح نے چوری مچھلی پکڑی

اور پھر اس کو بنا کر کھانے لگے تو اس کے حلق میں ان مچھلیوں کا ایک کانٹا پھنس گیا پھر اس شخص کا سانس الٹ گیا تھا پھر اسے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تھی مگر وہ کانٹا نکل نہیں پایا تو وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹھنڈے اور میٹھے پانی میں انفرادیت رکھنے والی یہ مچھلیاں چھتل شاہ نورانی کی خوبصورتی اور شور مچاتی ندیوں کی رونق کہلاتی ہے

جگہ کی ایک اور بات بھی مشہور ہے جسے آپ سن کر حیران ہوں گے یہاں پر ہم نے ہڈی خور بکریاں بھی دیکھیں ہمارے آس پاس کئی بکریاں مرغی اور دوسرے جانورں کی ہڈیاں تک کھا رہی تھیں۔ جب ہم دوست گوشت کھا کے ہڈیاں پھینکتے تھے تو بکریاں کتے اور بلی کی طرح دوڑتی ہوئی آتیں ہے اورہڈیاں چٹ کرجاتیں ہیں بہت سے لوگوں سے معلوم ہوا کہ ان کو کھانے کے لئے سبزہ نہیں ملتا ہے تو یہ بھوک انہیں ہڈیاں کھانے پر مجبور کردیتی ہے حتاکہ کئی سال پہلے مقامی لوگوں نے چتھل شاہ نورانی کی وجہ سے اس جگہ کو پکنک پوائنٹ بنا رکھا ہے اگر بلوچستان حکومت اس جگہ کی مزید اہمیت دیں تو یہ پاکستان کے خوبصورت ترین پکنک پوائنٹ میں بدل سکتا ہے