دوستی

کسی گاؤں میں پانچ دوست رہا کرتے تھے، اْنکی آپس کی دوستی اتنی گہری تھی کہ جہاں جاتے ایک رنگ جما لیتے تھے۔ ایک بار یہ سبھی دوست شہر کسی کام سے گئے وہاں انہیں ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کا اتفاق ہوا۔ کھانا وہ خوب مزے لے لے کر کھا رہے تھے۔ وہاں موجود سبھی گاہک اْنکی خوش گپییوں

اور قہقوں سے محظوظ ہو رہے تھے۔کہانی میں جذباتی صورتحال تب بنی جب بل دینے کا وقت آیا۔اْن میں سے ہردوست کہہ رہا تھا، “خبردار کوئی بل نہ دے، بل میں دونگا۔۔۔اْن سب کا یوں اپنے آپ کو بل دینے کیلئے پیش کرنا، وہاں موجود لوگوں کو بھی جذباتی کر گیا۔ کچھ تو اندر ہی اندر اْنکی اِس پیار بھری تکرار سے یوں لطف اندوز ہو رہے تھے، جیسے یہ حقیقت نہ ہو بلکہ کسی رومانٹک فلم کا سین ہو۔آخر ہوٹل کے مینجر نے باقی لوگوں کی رضامندی سے ایک تجویز اْن سب دوستوں کے سامنے رکھی کہ، “میں سیٹی بجاؤں گا، تم سبھی دوست بھاگ کر ہوٹل کے مین گیٹ کو ہاتھ لگاؤ گے، چنانچہ تم میں سے جو پہلے ہاتھ لگا لے گا۔وہی بل دے گا۔۔۔!”یہ لمحات اتنے سسپنس سے بھرے ہوئے تھے کہ لوگ اپنا اپنا کھانا چھوڑ کر اْن دوستوں کی ریس دیکھنے میں محو تھے، لوگ چہہ مگوئیوں میں اْن دوستوں کے پیار کو داد دے رہے تھے۔ آخر مینجر نے سیٹی بجائی اور اْن سب دوستوں نے گیٹ کی طرف دوڑنا شروع کیا، خوشی کے آنسوؤں اور پیار کی تالیوں میں ریس شروع ہوئی۔آج اْس ریس کو دو سال ہو گئے ہیں، ہوٹل کا مینجر آج بھی اْن دوستوں کے واپس آنے کا انتظار کر رہا ہے۔۔۔۔