آج کی سب سے بڑی خبر پاک فوج کے ریٹائرڈجنرل اور بریگیڈئیرسمیت متعدد اعلیٰ شخصیات کی کرپشن۔۔نیب نے شاندار کامیابی حاصل کر لی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق آئی جی ایف سی بلوچستان لیفٹینینٹ جنرل (ر) عبید اللہ خان، بریگیڈئیر (ر) اسد شہزادہ ، ڈاکٹر احسان علی وائس چانسلر، افسران و اہلکاران عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، پروکیورمنٹ کمیٹی برائے ایم آئی ای 171 ہیلی کاپٹر حکومت بلوچستان،سابق صوبائی وزیر بلوچستان جعفر جارج، سندھ سے ایم پی اے سردار عاطف خان مزاری،

سابق ڈی آئی جی لاڑکانہ سائیں رکھیو میرانی سمیت 13 انکوائریوں کی منظوری دے دی ہے جبکہ ایگزیکٹیو آفیسر پی آئی ڈی سی خالد محمود چڈا و دیگر کے خلاف ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دی گئی ہے، گزشتہ روز چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا جسمیں مندرجہ ذیل فیصلے کئے گئے۔نیب کی جانب سے جاری تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ نیب اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشن مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب تمام متعلقہ افراد سے بھی قانو ن کے مطابق ان کا موقف معلوم کرے گا تاکہ قانو ن کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے ۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلوں میں خالد محمود چڈا چیف ایگزیکٹیو آفیسر پی آئی ڈی سی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دی ۔ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوے 17کنال اور 16 مرلے کی زمین غیر قانونی طور پر خریدنے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے لیفٹینینٹ جنرل (ر) عبید اللہ خان سابق آئی جی ایف سی بلوچستان کے خلاف مشتبہ ٹرانزیکشن رپورٹ کی بنیاد پر انکوائری کی بھی منظوری دی۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے بریگیڈئیر اسد شہزادہ کے خلاف مشتبہ ٹرانزیکشن رپورٹ کی بنیاد پر انکوائری کی منظوری دی۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے محکمہ صحت سندھ کے افسران/اہلکاران اور میسرز المڈسلوشن کے مالکان /ڈائریکٹر زکے

خلا ف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پرطبی آلات کی خریداری میں خردبرد کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو تقریبا 377 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈنے ڈاکٹراحسان علی وائس چانسلر ، افسران و اہلکاران عبد ا لولی خان یونیورسٹی مردان کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر 161گاڑیوں کی خریداری اور یونیورسٹی کے پٹرول کے فنڈز میں خرد برد کرنے کا الزام ہے۔

جس سے قومی خزانے کوکروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ بورڈ نے محکمہ آبپاشی کے افسران و اہلکاران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طورپرغبیرڈیم کے تعمیراتی ٹھیکہ میں بے ظابطگی کا الزام ہے ۔ جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ قاری ذولفقار علی سیالوی بروکر اور حاجی عبدالغفور نیو ماڈل ٹائون ڈسکہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر عوام کو لوٹنے ، دھوکہ دہی اور بدعنوانی کاالزام ہے ۔