”میں جب انٹرویو دینے گئی تو مجھے ۔۔۔“ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا نیوز کاسٹر کوہ نور ٹی وی چینل میں انٹرویو دینے گئی تو اس کیساتھ کیا سلوک کیا گیا ؟ روداد سناتے ہوئے رونا شروع کر دیا؟ بڑا انکشاف کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی پہلی خواجہ سرا نیوز کاسٹر مارویہ ملک نے نیوز ٹی وی انڈسٹری میں قدم رکھتے ہی ہر طرف دھوم مچا دی ہے اور سوشل میڈیا پر تو ہر کوئی ان کی حوصلہ افزائی کرنے میں مصروف ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں نجی ٹی وی کوہ نور ٹی وی سے بطور نیوز کاسٹر اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والی مارویہ ملککا کہنا تھا کہ کوہ نور نیوز کے ری لانچ کے بارے میں کافی دھوم تھی

تو وہ بھی انٹرویو کیلئے چلی گئیں. انہوں نے بتایا کہ بہت سارے لڑکے لڑکیاں آئے ہوئے تھے اور ان میں ایک میں بھی تھی۔جب میری باری آئی تو انٹرویو کے بعد انہوں نے کہا آپ باہر انتظار کریں. جب دیگر افراد کے انٹرویو ہو گئے تو مجھے دوبارہ اندر بلایا گیا اور کہا گیا کہ ہم آپ کو ٹریننگ دیں گے اور کوہ نور نیوز میں خوش آمدید. میں نے خوشی سے چیخ تو نہیں ماری لیکن میری آنکھوں میں آنسو آ گئے.یہ آنسو اس لئے آئے کہ جو خواب میں نے دیکھا تھا اس کی پہلی سیڑھی میں چڑھ گئی ہوں.“ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں گریجوایشن اور اب جرنلزم ہی میں ماسٹرز کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں. ٹریننگ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نیوز کاسٹر کی تربیت کے دوران ان کو مشکل نہیں ہوئی اور ٹی وی چینل نے جتنی محنت دوسرے نیوز کاسٹرز پر کی، اتنی ہی مجھ پر بھی کی اور کسی قسم کی جنسی تفریق نہیں رکھی.“ مارویہ نے کہا کہ وہ اپنی کمیونٹی کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہیں تاکہ ان کے حالات بہتر ہو سکیں، انہیں مرد اور عورت کے برابر حقوق ملیں اور ایک عام شہری کہلائے جائیں نہ کہ تیسری جنس. مارویہ نے کہا کہ انہیں نیوز کاسٹر کی نوکری ملی ہے لیکن ان کی کہانی اور سڑک پر بھیک مانگنے اور ڈانس کرنے والے خواجہ سراءکی کہانیاں ایک جیسی ہیں.اور اس چیز کو بدلنے کی ضرورت ہے۔مارویہ ملک نے خواجہ سرائوں کے معاشرے میں مقام پر ایک اور جگہ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب خواجہ سراؤں کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو پھر ان کے پاس سڑکوں پر بھیک مانگنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا.لاہور کے ایک نجی چینل پر بحیثیت نیوز کاسٹر خدمات انجام دینے والی مارویہ ملک نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ میںاپنی کمیونٹی سمیت سب کے لیے ایک مثال ہوں کہ جب خواجہ سرا فیشن اور میڈیا میں جگہ حاصل بناسکتے ہیں تو دیگر شعبوں میں بھی وہ اہمیت کے حامل ہیں۔میری مثال امن کا پیغام دیتی ہے اور ملک میں شعور پیدا کرتی ہے.21 سالہ مارویہ نے بتایا کہ انہوں نے صحافت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر فیشن کی دنیا میں اپنا سفر بطور میک اپ آرٹسٹ شروع کیا اور بعد میں تھیٹر پرفارمنس بھی دی.مارویہ کا کہنا تھاکہ جب انہوں نے معاشرے میں اپنی پہچان بنانے کا ارادہ کیا تو ان کے گھر والوں نے بالکل بھی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ ان پر ظلم و تشدد کیا اور انہیں گھر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا لیکن انہوں نے کسی کی نہیں مانی اور پھر ایک دن ان کے گھر والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا. اس سب کے باوجود بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے دوسرے خواجہ سرا دوستوں کی مدداور حوصلہ افزائی سے اپنے مقصد کے حصول میں لگی رہیں۔اس موقع پر انہوں نے شکوہ کیا کہ جب والدین اور گھر والے ہی کسی خواجہ سرا بچے کو تعلیم و تربیت نہیں دیں گے اور اسے گھر سے نکال دیں گے تو وہ سڑکوں پر بھیک نہیں مانگے کا تو اور کیا کرے گا.اس حوالے سے حکومتی سطح پر قانون سازی کارآمد ثابت ہوگی.انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ خواجہ سراؤں کےملکیتی حقوق کے حوالے سے بھی کام کرے، جہاں ان کی تعلیم ضروری ہے وہیں ان کا پراپرٹی میں حصہ بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنا کوئی کاروبار کرسکیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں. ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے حکومتی سطح پر قانون سازی کارآمد ثابت ہوگی