خانہ کعبہ میں زنا کرنے اور پتھر بن جانے والے اساف ونائلہ

انڈیا کی خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں بینگن کو کس مقصد کیلئے استعما کرتی ہیں حیران کن ویڈیو دیکھیں انڈیا کی خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں بینگن کو کس مقصد کیلئے استعما کرتی ہیں حیران کن ویڈیو دیکھیں قدرت نے کھانے کی ہر شے میں غذائیت کے ہمراہ افادیت بھی پو

شیدہ رکھی ہے۔ بینگن بھی ایک ایسی ہی سبزی ہے جسے زیادہ تر افراد کھانا پسند نہیں کرتے لیکن اس کے فوائد سننے کے بعد یقیناً آپ بھی اسے اپنی خوراک میں ضرور شامل کرناچاہیں گے۔

اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ یعنی گول اور لمبی۔ بڑے بینگنوں کی نسبت چھوٹے بینگن لذیذ اور اچھے ہوا کرتے ہیں۔ بینگن میں فاسفورس، فولاد، وٹامن اے، بی اور سی ہوتے ہیں۔ اس کا مزاج گرم خشک ہوتا ہے۔ خوراکی ریشہ، حیاتین بی1،بی 6، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فولک ایسڈ کے علاوہ یہ سبزی ایسے مقوی عناصر سے بھرپور ہے جو کہ بلند فشارِ خون اور تناؤ میں کمی اور ذیابیطس کے مرض کو قابو میں کرنے میں مددگار ہیں۔

بینگن کی تاریخ اس کے رنگ کی مانند بہت زرخیز ہے۔ یہ عربی، یونانی، رمانی اور ایشیائی تاریخ کا خاص حصہ رہا ہے۔ امریکی کینیڈین اور آسٹریلوی لوگوں نے اسے ایگ پلانٹ کا نام دیا جو در اصل فرانسیسی زبان کا لفظ ہے۔ ہندی فارسی اور جنوبی افریقی لوگ اسے برنجل کہتے ہیں۔ بینگن کی اپنی تاریخ نہایت شاندار ہے کہ کیسے مختلف خطۂ زمین کے لوگوں نے اس کے لیے خوبصورت نام چنے۔ اسے آپ جو بھی نام دیں،دیگر سبزیوں میں اسے اپنی الگ خصوصیات کی وجہ سے خاص مقام حاصل ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق بینگن انسانی معدے کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ بھوک میں بھی اضافہ کرتا ہے جسے گیس اور تیزابیت کے مریض بطور قبض کشا دوا کے استعمال کرسکتے ہیں۔انسانی جلد کیلئے انتہائی مفیدسبزی بینگن میں ایسے قدرتی اجزاء بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں جو کینسر جیسے موذی امراض سے محفوظ رکھنے میں نہایت مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس بیش فائدہ سبزی میں موجود پوٹاشیم دل کو تقویت بخشتا ہے جبکہ بینگن حافظہ کی کمزوری کو دور کرتے ہوئے دیگر کئی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

ایک اور تحقیق کے مطابق بینگن میں ایسے قدرتی اجزاء بھی کثرت سے پائے جاتے جو کینسر جیسے موذی امراض سے محفوظ رکھنے میں نہایت مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں اس بیش فائدہ سبزی میں موجود پوٹاشیم دل کو تقویت بخشتا ہے جبکہ بینگن قوتِ حافظہ کی کمزوری کو دور کرتے ہوئے دیگر کئی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں