جسم کے کن حصوں کو ہاتھ نہیں لگانا چاہئے

اپنے جسم کو ہاتھ لگانے میں کجھانے میں ہمیں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی اور ہم بلا تکلف کسی بھی جگہ کو چھو لیتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق جسم کی ایسی بہت سی جگہ ہے جو کہ جراثیم کی آماجگاہ ہوتی ہے اس لئے انہیں چھونے سے پہلے سوچنا چاہئے اور چھو بھی لیا جائے تو اس بات کا خیال رکھیں کہ اس کے بعد ہاتھوں کوضرور صاف کریں ۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کون سی جگہ کو ہاتھ لگانا معیوب اور صحت کے لئے خطرناک ہے

اسی طرح آنکھوں کا معاملہ بہت ہی حساس ہوتاہے۔ ہم میں سے اکثر جب آنکھوں میں تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو بلا جھجک انہیں اپنی انگلیوں سے مسلنا شروع کردیتے ہیں۔ آنکھ کے زیادہ تر انفیکشن کی وجہ آلودہ ہاتھوں سے انہیں چھونا ہی ہوتا ہے ۔ اگر آپ کو آنکھوں کے کسی بھی قسم کے مسائل درپیش ہیں تو ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق آئی ڈراپس استعمال کریں، ناکہ ہاتھوں سے انہیں بار بار مسلتے رہیں۔

جسم کے پچھلے حصے پر تو بیکٹیریا کی بہتات ہوتی ہے۔ اگر آپ جسم کے اس حصے کو چھوتے ہیں تو اس کے فوری بعد ہاتھوں کو صابن سے بہت اچھی طرح دھولیں ورنہ یہ بیکٹیریا آپ کے جسم کے کسی دوسرے حصے پر منتقل ہوکر انفیکشن کا باعث بنیں گے۔

ہمارے ناخنوں کے نیچے کی جلد بہت حساس ہوتی ہے اور اتفاق سے اس جگہ جراثیم بھی کافی جمع ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی وجہ سے ناخن کے نیچے کی جلد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں تو اسے نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس میں انفیکشن بھی ہوسکتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں کو ناخن کے عین نیچے کی جلد میں انفیکشن اور زخم بننے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کان میں کھجلی محسوس ہو تو فوراً انگلی ڈال کر زور زور سے ہلانا اکثر لوگوں کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کان کے اندر کی جلد ناصرف بہت نازک ہوتی ہے بلکہ اس پر بہت سے بیکٹیریا اور دیگر جراثیم بھی موجود ہوتے ہیں۔ کان میں انگلی ڈالنا نہ صرف جلد کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ انفیکشن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اپنے منہ میں انگلی ڈالنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عموماً ہمارے ہاتھ اتنے صاف نہیں ہوتے کہ ہم انہیں منہ کے اندر داخل کرسکیں۔ انگلیوں پر لگے جراثیم منہ کے ذریعے ہمارے جسم کے اندر منتقل ہوکر جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وقت بے وقت ناک میں انگلی ڈالنے سے سخت پرہیز کرنا چاہیے۔ بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کسی بھی وقت ناک کی صفائی کے لئے اس میں انگلی پھیرنا شروع کردیتے ہیں۔ اگر آپ ناک کی صفائی کریں تو اس کے فوری بعد اپنے ناک او رہاتھ دونوں کو پانی سے صاف کریں، اور خصوصاً ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح صاف کرلیں۔

جسم کی ان جگہوں کو ہم عموما دن میں کئی دفعہ ہاتھ لگاتے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے تھے کہ اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں اور ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے اس لئے جب ہمیں اس بات کا علم ہو گیا کہ اس کے نقصانات ہوتے ہیں تو پھر ہمیں اس کام سے بچنا چاہئے

اپنا تبصرہ بھیجیں