پیٹ کے کیڑوں کا آسان علاج

پیٹ کے کیڑوں کے بارے میں ہر کسیک نہ سنا ہوگا لیکن کیا کوئی جانتا بھی ہے کہ یہ کیڑے آنتوں میں کیسے پیدا ہوتے ہیں اور اس کی کیا وجہ ہوتی ہے ۔ دراصل یہ پیٹ کے کیڑے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ جب ان کیافائش آنت میں ہوتی ہے تو اس سے آنتوں مین زخم بننے لگ جاتےہیں اور اس کے ساتھ انسان کی غذا بجائے اس کے کہ جسم کو فائدہ دیں اس کے الٹ وہ کیڑی اس غذا کو استعمال کرنے لگ جاتے ہیں

اور ان کے ساتھ آنتوں میں رہنے کہ وجہ سے دوسری بیماریاں بھی پھیلنے لگ جاتی ہے ۔ اس کی کچھ علامات ہوتی ہے جیسے ہی یہ علامات سامنے آئے ایسے بچے کو یا آدمی کو فورا ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا چاہئے تا کہ مکمل علاج ممکن ہو سکے ذیل میں ہم آپ کو ان کی اقسام اور اور احتطاطی تدابیر بتائے گے ۔

ترقی پذیر ممالک میں آنتوں کے کیڑوں کا مرض انتہائی عام ہے، یہ کیڑے پن وارم، ٹیپ وارم ، اور راونڈ وارم کہلاتے ہیں ۔ اگرچہ کہ آنتوں کے کیڑوں کی یہ بیماری ابتداء میں بہت عام نظر آتی ہے لیکن بعد میں زندگی کو اجیرن بنادیتی ہے۔

آنتوں کے کیڑے

ٹیپ وارم

ٹیپ وارم نامی کیڑے جسم میں کئی طرح کی بیماریاں پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ عام طور پر کسی جانور کا گوشت کھانے سے جسم میں داخل ہوتے ہیں ، اسکے انفیکشن کی علامات بھی بہت کم ظاہر ہوتی ہیں۔

پن کیڑے

یہ دھاکے کی شکل کے ہوتے ہیں اور عام طور پر بچے اس مرض کا شکار ہوتے ہیں ۔

مرض پھیلنے کی وجوہات

پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کا موسم اس مرض کیلئے سازگار شمار ہوتا ہے لیکن اسکے علاوہ بھی اس مرض کے پھیلنے کی دیگر وجوہات ہیں جن میں بغیر دھوئے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال شامل ہے۔ اسہی طرح یہ ناخنوں کے ذریعے سے منہ یا پھر ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونے کا راستہ بنانے کے قابل ہوتے ہیں۔

آنتوں میں کیڑوں کی موجودگی کی علامات

ان کیڑوں کے مرض کے شکار ہونے کی چند بنیادی علامات میں سے ایک متلی ہونا ہے قبض رہنا ، تھکاوٹ کا شکار رہنا اور آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے ہونا شامل ہے۔

آنتوں کے کیڑوں کی روک تھام یا پھر اسکا علاج

آنتوں کی کیڑوں کے علاج کیلئے مریض کو چاہیئے کہ وہ اینٹی سیپٹک خوراک کا خود کو عادی بنائے۔ ادرک کا جوس یا پھر انار بھی اس مرض میں فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

پپیتے کے بیجوں کو پیس کر اس میں شہد ملاکر شامل کیا جائے تو اسکا مرکب بھی اس مرض کوجڑ سے ختم کرسکتاہے۔

سبزیوں اور پھلوں کا اچھی طرح دھو کر استعمال کیا جائے اور سبزیوں کو خاص طور پر ایک خاص درجہ حرارت پر پکایا جائے تو بھی یہ جراثیم کو ختم کرنے میں معاون ہوسکتی ہیں