” سپریم کورٹ کے دروازے پر گالیاں دی گئیں، خواتین کو کون لے کر آیا ؟ پچھلے 3 دن سے میں خود۔۔۔ “چیف جسٹس نے اندر کی بات بتادی، بڑے بڑوں کو پریشان کردیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عدلیہ مخالف تقاریرپرپابندی سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدالتی حکم میں نوازشریف اورمریم نوازتقاریرپرپابندی کاحکم نہیں دیاگیا،لیکن یہ تاثردیاگیاکہ اظہار رائے کے بنیادی حق کوسلب کیاگیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اہم مقدمے کا فیصلہ دینے پر سپریم کورٹ کے دروازے پرآکرگالیاں دی گئیں،3 روزسے سب واقعات کاپتہ کرارہاہوں کہ خواتین کوکون سپریم کورٹ لےکرآیا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ بنیادی حقوق کوکم نہیں کریں گے،یہ تاثردیاگیاکہ ہائیکورٹ نے نوازشریف،مریم نوازکوآف ایئرکرنے کاحکم دیاہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جھوٹ بول کرعدلیہ کوبدنام کرنے کامنصوبہ ہے،نوازشریف اورمریم نوازنے جوتقریرکرنی ہے یہاں آکرکریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ پرحملے کے مترادف ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہمیں ریاست کی طرف سے کسی تحفظ کی ضرورت نہیں،یہ قوم ہماراتحفظ کرے گی۔