دنیا گول نہیں بلکہ۔۔۔ دنیا کو چپٹا ثابت کرنے کی خواہش میں اس آدمی نے راکٹ بھی بنا لیا اور آسمان پر بھی پہنچ گیا،

راکٹ سائنس کتنی پیچیدہ اور مشکل چیز ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے مشکل ترین کاموں کے لئے ’راکٹ سائنس‘ کے الفاظ بطور ضرب المثل استعمال ہوتے ہیں

، البتہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے 61 سالہ مائیک ہیوز اس بات کو بالکل نہیں مانتے۔ مائیک، جنہیں عرف عام میں ’جنونی‘ کہا جاتا ہے، دنیا کے واحد راکٹ سائنسدان ہیں جنہوں نے کبھی یونیورسٹی کا منہ نہیں دیکھا۔ انہوں نے اپنی تمام راکٹ سائنس خود ہی ایجاد کی ہے

۔ مائیک کے سائنسی نظریات بھی الگ ہی قسم کے ہیں۔ وہ اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ زمین گول ہے بلکہ وہ اسے طشتری کی طرح سپاٹ سمجھتے ہیں۔

بات صرف نظریات تک ہی محدود رہتی تو پھر بھی خیر تھی، مگر مائیک تو اتنے آگے بڑھ گئے کہ اپنے گھر میں بنائے ہوئے راکٹ میں بیٹھ کر خلاءکی جانب سفر سے بھی باز نہیں آئے۔ یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق یہ گھریلو ساختہ راکٹ 2000 فٹ کی بلندی تک گیا جس کے بعد یہ نیچے گرنے لگا اور مائیک نے اس کے پیراشوٹ کھول کر اسے زمین پر اتارا۔

خود ساختہ سائنسدان مائیک نے یہ عجیب و غریب تجربہ امریکہ کے موجاوے صحرا میں لاس اینجلس شہر سے 200 میل کی دوری پر کیا۔ ان کا خلائی راکٹ ’فلیٹ ارتھ‘ 2000 فٹ کی بلندی سے زمین پرآیا تو اس کی لینڈنگ خاصی مشکل ثابت ہوئی۔ مائیک نے اس کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ”ڈاکٹروں نے میرا معائنہ کیا ہے اور کمر پر آنے والی کچھ چوٹوں کے علاوہ سب ٹھیک ٹھاک ہے۔“

راکٹ کو لانچ کرنے کے لئے مائیک نے ایک موبائل ہوم اور کچھ تعمیراتی سامان کی مدد سے خود ہی لانچنگ پیڈ تیار کیا تھا۔ لانچنگ تو ٹھیک ہو گئی لیکن واپس گرتے ہوئے اس کی رفتار 350 میل فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تھی اور پہلا پیراشوٹ کھولا گیا تو بھی رفتار غیر محفوظ تھی۔ اس کے بعد مائیک نے دوسرا پیراشوٹ بھی کھول دیا جس کے باعث رفتار کچھ کم ہوئی لیکن پھر بھی لینڈنگ قدرے غیر محفوظ رہی۔ واپسی پر یہ راکٹ لانچنگ پیڈ سے تقریباً 1500 فٹ کی دوری پر زمین سے ٹکرایا۔ مائیک کا کہنا ہے کہ اس کا اصل مقصد یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ زمین گول ہے بلکہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ناسا کے خلانورڈ جان گلین اور نیل آرم سٹرانگ در اصل کمپیوٹر سے تخلیق کی گئی گول زمین کے سامنے اداکاری کررہے تھے۔ وہ امریکی حکومت اور ناسا کی اس مبینہ جعلسازی کو ثابت کرنے کے لئے خود خلاءمیں جا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ زمین گول نہیں ہے۔