جاہل کی پہچان کیا ہے –

شمعون (یہودا کا پوتا اور جناب عیسیٰ کا حواری) نے رسول خدا سے کہا : مجھے جاہل کی علامتیں بیان فرما دیں. آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کے ہم نشیں ہو گے تو تم کو رنج پہنچائے گا ۔اگر اس سے الگ رہوگے توتم کو برا بھلا کہے گا ۔ اگر کوئی چیز تم کو دے گا تو احسان جتائے گا۔ اگر تم اس کو کچھ دو گے تو نا شکری کرے گا۔ اگر اس سے کوئی راز کی بات کہو گے تو (اس کو فاش کرکے ) تمھارے ساتھ خیانت کرے گا۔

اگر اس سے تم نے کوئی راز کی بات کی تو (افشائے راز کا) الزام تم پر رکھے گا۔ اگر بے نیاز و مال دار ہو جائے گا تو مغرور سرکش ہوجائے گا اور سختی سے پیش آئے گا۔پیش آئے گا۔ اگر فقیر ہوگا تو خدا کی نعمتوں کا انکار کرے گا اور گناہ کی پروا نہیں کرے گا۔ اگر خوش ہوگا تو طغیان و زیادہ روی کرے گا۔اگر غمگین ہوگا تو نا امید ہوجائے گا ۔ اگر روئے گا تو نالہ و فریاد کرے گا۔نیکوں کی غیبت کرے گا۔ اگر ہنسے گا تو اس کی ہنسی قہقہ ہوگی۔ خدا کو دوست نہیں رکھے گا اور قانونِ الہی کا احترام نہیں کرے گا۔ خدا کو یاد نہیں کرے گا۔ اگر تم اس کو خوش کردو تو تمھاری تعریف کرے گا اور تعریف میں لاف و گزاف سے کام لے گا جو باتیں تمھارے اندر نہیں پائی جاتیں تمھاری نیکیوں کے عنوان سے تم میں گنوائےگا۔اگر تم سے ناراض ہوجائے تو ساری تعریفوں کو ختم کردے گا اورتمھاری طرف ناروا چیزوں کی نسبت دے گا۔