عورت

پوپ نے چھوٹے پادری کا امتحان لینے کے لیے اسے حضرت مریم علیہ السلام کی تعریف کا حکم دیا، پادری پوپ کے سامنے کھڑا ہوا ، گاﺅن کی پیٹی کھول کر دوبارہ باندھی، سینے پر صلیب کا نشان بنایا اور پھر آنکھیں بند کرکے مخاطب ہوا۔ ”فادر عیسیٰ علیہ السلام کی ماں ہونے کے بعد مریم علیہ السلام کو کسی دوسری تعریف کی ضرورت نہیں۔“ایک مدت بعد جب ڈاکٹر علی شریعتی سے اس سے ملتا جلتا سوال پوچھا گیا تو مفکر ایران نے مسکرا کر کہا ”حضرت فاطمہ ؓ کے مقام نے ایک مدت تک مجھے پریشان رکھا، میں ن

سوچاحضرت فاطمہؓ حضور اقدس ﷺ کی بیٹی ہیں لیکن پھر سوچا نہیں آپ کا اس کے علاوہ بھی ایک مقام ہے، سوچاحضرت فاطمہؓ حضرت علیؓ کی بیوی ہیں لیکن پھر سوچا نہیں آپ کا اس کے علاوہ بھی ایک مقام ہے، سوچاحضرت فاطمہؓ امام حسین ؓ کی والدہ ہیں لیکن پھر سوچا نہیں آپ کا اس کے علاوہ بھی ایک مقام ہے۔ سوچا حضرت فاطمہؓ خاتون جنت ہیں لیکن پھر سوچا نہیں آپ کا اس کے علاوہ بھی ایک مقام ہے، قصہ مختصر صاحبو! میں سوچتا چلا گیا، سوچتا چلا گیا، جب تھک گیا تو بات یہیں پر آکر ختم ہوئی ”فاطمہؓ از فاطمہؓ ۔“اکثر ایسا ہوتا ، جب سرور دو عالم ﷺ گھر سے نکلنے لگتے تو وہ اپنے ننھے ہاتھوں سے آپ ﷺ کی انگلی پکڑ کر ساتھ چلنے کی ضد فرماتیں، آپ ﷺ شفقت سے سر پر ہاتھ پھیر کر فرماتے۔ ”بیٹا یہ خواہش کیوں؟“ تو وہ بھری آنکھوں سے محبوب خداﷺ کو دیکھ کر کہتیں: ”بابا جان مجھے خطرہ ہے کہیں اکیلا جان کر کفار آپ(ﷺ) کو نقصان نہ پہنچا دیں۔“ یہ بھی ہوتا تھا جب پائے مبارک میں کافروں کے بچھائے کانٹے چبھ جاتے، آپ ﷺ ناخن مبارک سے کھینچتے اور نوکیلے سرے ٹوٹ کر گوشت ہی میں رہ جاتے، تو وہ آپ ﷺ کا جوتا اتار کر اپنی ننھی انگلیوں سے پائے مبارک کے کانٹے چنتی جاتیں اور سسکیاں بھرتی جاتیں، اور یہ بھی ہوتا تھا، جب کفر کے غرور

میں مبتلا مکی آپ ﷺکے سر مبارک پر آلودگی پھینک دیتے تو آپؓ اپنے ہاتھوں سے صاف کرتیں، گرم پانی سے سر مبارک دھوتیں اور روتی جاتیں اور یہ بھی ہوتا تھا جب آپ ﷺ سارے شہر کی نفرت

سمیٹ کر گھر واپس آتے تو آپ ﷺ کادستار مبارک کھول کر بالوں میں تیل لگاتیں، کنگھی کرتیں اور اپنی بھیگی ہوئی آواز میں کہتیں: ”بابا جان فکر نہ کریں ہمارا رب ہمارے ساتھ ہے۔“باپ بیٹی میں انسیت بھی تو بہت تھی، آپؓ کی رخصتی کے بعد بھی کوئی ایسا دن نہیں گزرا، جب آپﷺ نے بیٹی کا دیدار نہ کیا ہو، آپ ﷺ کوشش کرکے اس راستے سے گزرتے جس پر حضرت علیؓ کا گھر تھا، جب حضرت فاطمہؓ کی طبیعت ناساز ہوتی تو محبوب خداﷺ بے چین ہو جاتے تھے اور آپؓ تھیں بھی تو انوکھی، حضرت علیؓ کے گھر میں قدم رکھتے ہی سارے گھر کا کام سنبھال لیا، گھر میں جھاڑو دیتی تھیں، کنوئیں سے پانی لاتیں تھیں، جانوروں کو چارہ ڈالتی تھیں، آٹا پیستی تھیں، برتن دھوتی تھیں، کپڑے سیتی تھیں، کھجوریں صاف کرتی تھیں اور حضرت علیؓ کے ہتھیار تیز کرتی تھیں، جب بہت غربت تھی تو اس وقت بھی حسنؓ اور حسینؓ کو اس شان سے بنا سنوار کر گھر سے باہر بھیجتیں کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ دونوں مدینہ کے سب سے بڑے رئیس کے بچے ہیں۔میں جب مقام فاطمہ ؓ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے حیات اقبال کا وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے، جب شاعر مشرق نے اپنے استاد میر حسن کا نام شمس العلماءکے خطاب کے لیے پیش کیا، کمیٹی کے ارکان نے پوچھا ان کی تصنیف کیا ہے؟

علامہ اقبال نے اپنی طرف اشارہ کرکے کہا: ”میں ہوں ان کی تصنیف۔“ آپ اس واقعے کی روشنی میں مقام فاطمہؓ کی جستجو کریں تو آپ کو کر بلا کے میدان میں کھڑے حسینؓ حضرت فاطمہؓ کے مقام کا تعین کرتے نظر آئیں گے، جن کے دس دن آج تک چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں ”ہاں میں ہوں فاطمہؓ کی تصنیف۔“ یہ اعزاز بھی صرف فاطمہ ؓ بنت محمد ﷺ ہی کو حاصل ہے کہ بڑے سے بڑا گناہ گار، فاسق اور فاجر بھی دو نفل پڑھ کر ”خاتون جنت“ سے بار گاہ رسالت ﷺ ، بارگاہ خداوندی میں سفارش کی درخواست کرے تو اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔محترم قارئین ! مارچ کی آٹھ تاریخ کو حقوق نسواں کا عالمی دن منایا گیا، مجھے یقین ہے اس دفع بھی بھی گزشتہ برسوں کی طرح پاکستان کے تمام بڑے چھوٹے شہروں میں غیر ملکی خوشبویات سے معطر، الٹرا ماڈرن خواتین آزادی¿ نسواں کے سیمینار کریں گی، جن میں ہر مقررہ ”مردوں“ کے اس معاشرے پر خوب کیچڑ اچھالیں گی۔ عورت کے حقوق، عورت کی آزادی اور عورت کی برابری کے لیے نعرے لگائے جائیں گے۔ پاکستانی عورت کی مظلومیت ثابت کرنے کے لیے امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور مشرق بعید کی رپورٹوں کے حوالے دئیے جائیں گے، زچگیوں کے دوران مرنے والی خواتین، خاوندوں سے پٹنے والی عورتوں اور گھروں سے بھاگنے والی لڑکیوں کی داستانیں سنائی جائیں گی، اس ملک جو غربت کے 122 ویں نمبر پر ہے جس کے8کروڑسے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، کی عورت کا تقابل ”مس

یورپ“ سے کیا جائے گا لیکن ان بھرے بھرائے ہالوں میں کوئی ایک خاتون بھی فاطمہؓ بنت محمدﷺ کا ذکر نہیں کرے گی، جو بچی تھیں تو نسل انسانی کے سب سے بڑے انسان کے زخم دھوتی تھیں، جو لڑکی تھیں تو اپنے دور کے سب سے بڑے شجاع کو زرہ بکتر پہناتی تھیں اور جو خاتون تھیں تو تاریخ کے سب سے بڑے شہید کی پرورش کرتی تھیں، اور جس نے زندگی سے، وقت سے، معاشرے سے عمر بھر کچھ نہیں لیا، اسے صرف دیا ہی دیا۔سچ ہے ”مردوں کی برتری“ کے معاشرے میں آج عورت کو وہ مقام حاصل نہیں جو حضرت ابوبکرؓ سے لے کر حضرت علیؓ تک کے ادوار میں حاصل تھا لیکن اس کے باوجود یہ بھی سچ کہ اس کو جو پروٹو کول یہاں دیا جاتا ہے وہ شاید یورپ کی عورت کو ایک ہزار سال بعد بھی نصیب نہ ہو۔ آج بھی لوگ پرائی عورت کو دیکھ کر نظریں نیچی کر لیتے ہیں، بسوں میں ان کے لیے نشست خالی کر دیتے ہیں، ان کی موجودگی میں سگریٹ نہیں پیتے، ان سے عزت و احترام سے مخاطب ہوئے ہیں، آج بھی لوگ گھر میں بیٹی پیدا ہونے پر شراب چھوڑ دیتے ہیں جوا اور بری صحبت ترک کر دیتے ہیں، آج بھی لفظ ”بھائی“ سن کر لوگوں کی آنکھیں جھک جاتی ہیں۔ آج بھی لوگ عورت سے زیادتی پر باہر آجا تے ہیں، آج بھی لوگ ایک زنانہ چیخ پر اپنے ہم جنس کو پیٹتے دیر نہیں لگاتے، آج بھی لوگ بیوی کو طلاق دینے اور ماں ، بہن اور بیٹی سے تلخ کلامی کرنے والے مرد کو پاس نہیں بیٹھنے دیتے، آج بھی گھروں میں بوڑھی ماﺅں، دادیوں اور نانیوں کو

”نیوکلیس“ کی حیثیت حاصل ہے، ہاں آج بھی اس ”قدامت پسند“ معاشرے میں عورت اتنی محفوظ ہے جتنی یورپ کے جنگلی معاشروں میں کبھی نہیں تھی۔پھر سوچنے کی بات ہے، یہ عورتیں کون ہیں جو اسلام آباد میں بیٹھ کر ان ”فاطماﺅں“ کے لیے اس یورپ جیسی آزادی طلب کر رہی ہیں، جہاں عورت، عورت نہیں انڈسٹری ہے، جہاں مرد وراثت میں حصہ داری، ٹیکس اور اخراجات کے ڈر سے پوری زندگی کی ”صحبت“ کے بعد بھی عورت کو بیوی کا درجہ نہیں دیتے، جہاں ایک ہی عورت کے تین بچوں کے رنگ اور ناک نقشے آپس میں نہیں ملتے، جہاں عورت بیٹی، بہن، بیوی اور ماں نہیں صرف ”پارٹنر“ ہے۔ جب فیروز خان نون نے کسی مسئلے پر انگریز سرکار کو چنگیز خان جیسے حملے کی دھمکی دی تو نہرو نے مجلس احرار کے ایک جلسے میں کہا تھا۔ ”افسوس چنگیز خان کا ذکر کرنے والے بھول گئے ان کی تاریخ میں ایک عمر فاروقؓ بھی تھا۔“ہاں آج جب یہ چند نا سمجھ خواتین اس مغرب جیسی آزادی طلب کرتی ہیں جس میں اب طلاق، جنس اور ناجائز بچوں کے سواکچھ نہیں تو میں سوچتا ہوں، افسوس میڈونا اور الزبتھ ٹیلر جیسی زندگی کی خواہش مند عورتیں یہ بھول گئیں، ان کی تاریخ میں ایک فاطمہؓ بھی تھی اصلی اور سچی عورت ۔

Post navigation