دوران حمل کیا کھایا جائے جس سے بچہ صحت مند اور خوبصورت ہو

ان بننا ہر عورت کا ایک خواب ہوتا ہے اور شادی کے فورا بعد شدید تر خواہش بن جاتی ہے حتی کہ اگر خواتین کا بس چلے تو نو مہینے تک انتظار ہی نہ کریں ۔ لیکن معاشرتی رجحان کی وجہ سے ان کی یہ بھی خواہش ہوتی ہےکہ لڑکا پیدا ہو اور ہو بھی گورا چھٹا

، اس کے لئے عورتیں ہر طرح کے کام کرتی ہے اور اس کی وجہ عورتوں کا قصور نہیں بلکہ معاشرہ کا رجحان اور جبر ہے ورنہ کوئی بھی ماں اپنی کسی بھی اولاد کو کبھی نہ دھتکارے اور کبھی بھی کوئی فرق پیدا نہ ہونے دیں لیکن برا ہو ہمارے سماج کا کہ بچوں کی پیدائش میں جنس کا ذمہ دار بھی عورت کو ٹھہرایا جاتا ہے حالانکہ لڑکا یا لڑکی ہونے کا دارومدار مرد پر ہوتا ہے نا کہ عورت پر۔

ایسے بہت سے پھل ہے جن کے کھانے سے بچہ اور ماں دونوں صحت مند رہتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو ایک خاص پھل کے بارے میں بتائیں گے جس کے کھانے سے دوران حمل عورت کو تکلیف کم ہوتی ہے صحت برقرار رہتی ہے اور اس کے ساتھ بچہ بھی صحت مند رہتا ہے ،۔تحقیق کے مطابق آم وہ پھل ہے جسے حمل میں کے دوران کھانے سے پیدا ہونے والے بچوں کارنگ گورا ہوتاہے

تاہم کسی بیماری میں مبتلا خواتین کو آم ڈاکٹرز کے مشورے سے استعمال کرنا چاہئیں۔ہر عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ خوبصورت پیدا ہو، ہمارے ہاں چونکہ خوبصورتی سے

مراد گورا رنگ لیا جاتا ہے۔لہذا ایسا بچہ جس کا رنگ گورا ہو وہی خوبصورت سمجھا جاتاہے۔ ماؤں کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ گورا پیدا ہو‘ تازہ ترین تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک پھل ایسا ہے جسے کھانے سے مائیں خوبصورت اور گورے چٹے بچوں کو جنم دے سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق آم وہ پھل ہے جسے حمل میں کے دوران کھانے سے پیدا ہونے والے بچوں

کارنگ گورا ہوتاہے۔ تاہم کسی بیماری میں مبتلا خواتین کو آم ڈاکٹرز کے مشورے سے استعمال کرنا چاہئیں۔ہر عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ خوبصورت پیدا ہو،ہمارے ہاں چونکہ خوبصورتی سے مراد گورا رنگ لیا جاتا ہے۔