جاہل کی پہچان کیا ہے –

شمعون (یہودا کا پوتا اور جناب عیسیٰ کا حواری) نے رسول خدا سے کہا : مجھے جاہل کی علامتیں بیان فرما دیں. آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کے ہم نشیں ہو گے تو تم کو رنج پہنچائے گا ۔اگر اس سے الگ رہوگے توتم کو برا بھلا کہے گا ۔ اگر کوئی چیز تم کو دے گا تو احسان جتائے گا۔ اگر تم اس کو کچھ دو گے تو نا شکری کرے گا۔ اگر اس سے کوئی راز کی بات کہو گے تو (اس کو فاش کرکے ) تمھارے ساتھ خیانت کرے گا۔

اگر اس سے تم نے کوئی راز کی بات کی تو (افشائے راز کا) الزام تم پر رکھے گا۔ اگر بے نیاز و مال دار ہو جائے گا تو مغرور سرکش ہوجائے گا اور سختی سے پیش آئے گا۔پیش آئے گا۔ اگر فقیر ہوگا تو خدا کی نعمتوں کا انکار کرے گا اور گناہ کی پروا نہیں کرے گا۔ اگر خوش ہوگا تو طغیان و زیادہ روی کرے گا۔اگر غمگین ہوگا تو نا امید ہوجائے گا ۔ اگر روئے گا تو نالہ و فریاد کرے گا۔نیکوں کی غیبت کرے گا۔ اگر ہنسے گا تو اس کی ہنسی قہقہ ہوگی۔ خدا کو دوست نہیں رکھے گا اور قانونِ الہی کا احترام نہیں کرے گا۔ خدا کو یاد نہیں کرے گا۔ اگر تم اس کو خوش کردو تو تمھاری تعریف کرے گا اور تعریف میں لاف و گزاف سے کام لے گا جو باتیں تمھارے اندر نہیں پائی جاتیں تمھاری نیکیوں کے عنوان سے تم میں گنوائےگا۔اگر تم سے ناراض ہوجائے تو ساری تعریفوں کو ختم کردے گا اورتمھاری طرف ناروا چیزوں کی نسبت دے گا۔

جب یہودیوں کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ بیٹی اور بیٹے کے پیدا ہونے کا سبب کونسی چیز ہوتی ہے

اسلام پر تنقید کرنے والے تو ایک جانب خود مسلمان بھی ان باتوں سے غافل ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے تو اس میں بیان کردہ ہر حکمت کا اپنا سائسنی وجود بھی ایک حقیقت رکھتا ہے لیکن انسان اپنے محدود علم سے اس کو پہچان نہیں پاتا ۔اسلام اور سائنس کو متصادم قراردینے والوں نے تو یہ یقین کررکھا ہے کہ اسلام جن حقیقتوں کی جانب اشارہ کرتا اور انہیں کھول کر بیان بھی کرتا ہے یہ نعوذ باللہ فرضی ہیں حالانکہ یہ لوگ فرض المرض میں گرفتار ہیں ،ان کی کوتاہ بینی اور تنگ دلی انہیں اسلام کو سمجھنے نہیں دیتی ۔

جیسا کہ قرآن میں بیٹوں اور بیٹیوں کی پیدائش بارے اللہ کا فرمان ہے کہ وہ جسے چاہے بیٹا دے جسے چاہے بیٹیاں ،اس پر میڈیکل سائنس پر ایمان رکھنے والے کہتے ہیں کہ میڈیکل سائنس نے تو اس پر زیادہ تفصیل بیان کررکھی ہے کہ بچوں کی جنس پر ایکس اور وائے کروموسوم کیا اہمیت رکھتے ہیں اور اس پر کسی کو قدرت نہیں ہے حالانکہ یہی نظریہ چودہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ نے کھول کر بیان کردیا تھا ۔یہ واقعہ سائنسی تحقیق سے بہت پہلے کا ہے جب بچوں کی پیدائش کو جانچنے کے لئے کوئی لیبارٹری ٹیسٹ وغیرہ موجود نہیں تھے ۔یہ علم اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عطا کیا تھا کہ آپﷺ یہودیوں کے اس گروہ کے سوال پر یہ حقیقت بیان فرمائیں کہ لڑکی اور لڑکے کی پیدائش میں عورت کے بیضے اور مرد کے جرثومے کیا کردار ادا کرتے ہیں ۔

صحیح بخاری میں اس سے متعلقہ حدیث کے مطابق یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام قبول کرنے کے لئے ایسے سوالات پوچھے تھے کہ جن میں ایک سوال یہ بھی تھا ”اب ہم پوچھتے ہیں کہ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اور کبھی لڑکی؟ “آپﷺ نے فرمایا ”سنو مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زردی مائل ہوتا ہے جو بھی غالب آ جائے اسی کے مطابق پیدائش ہوتی ہے اور شبیہ بھی۔ جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو حکم الٰہی سے اولاد نرینہ ہوتی ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو حکم الٰہی سے اولاد لڑکی ہوتی ہے۔

“ دوسری حدیث کے الفاظ یوں ہیں” جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت کر جاتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی سے سبق لے جاتا ہے تو لڑکی ہوتی ہے“ یہ جواب سنتے ہی یہودیوں کے سردار نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔یہ حضرت عبداللہ بن سلام تھے جو اللہ کے رسول ﷺ کی حکیمانہ تاویل سن کر کلمہ شہادت پکار اٹھے تھے ۔انہوں نے عرض کیا ”حضورﷺ یہودی بڑے بیوقوف لوگ ہیں۔ اگر انہیں میرا اسلام لانا پہلے معلوم ہو جائے گا تو وہ مجھے ملامت کریں گے۔ آپﷺ پہلے انہیں ذرا قائل کر لیجئے“ اس کے بعد آپﷺ کے پاس جب یہودی آئے تو آپﷺ نے ان سے پوچھا” عبداللہ بن سلام تم میں کیسے شخص ہیں؟ “انہوں نے کہا ”بڑے بزرگ اور دانشور آدمی ہیں۔

بزرگوں کی اولاد میں سے ہیں وہ تو ہمارے سردار ہیں اور سرداروں کی اولاد میں سے ہیں “آپﷺ نے فرمایا” اچھا اگر وہ مسلمان ہو جائیں پھر تو تمہیں اسلام قبول کرنے میں کوئی تامل تو نہیں ہو گا؟“ کہنے لگے ”اعوذ باللہ اعوذ باللہ وہ مسلمان ہی کیوں ہونے لگے؟ “حضرت عبداللہ بن سلام ؓجو اب تک چھپے ہوئے تھے ،باہر آ گئے اور زور سے کلمہ پڑھا تو تمام کے تمام یہودی شور مچانے لگے۔ کہ یہ خود بھی برا ہے اس کے باپ دادا بھی برے تھے ۔یہ بڑا نیچلے درجہ کا آدمی ہے۔ خاندانی کمینہ ہے۔ حضرت عبداللہؓ نے فرمایا” حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کا مجھے ڈر تھا۔یہ لوگ جھٹلانے والے ہیں “

قرآن پاک سے علاج –

اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا دنیا میں ہر امیر غریب ، نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں ، غموں اور پریشانیوں ، بیماریوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے۔ لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم ، دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔اگرچہ غم اور پریشانیوں کا علاج تو آج سے چودہ سو ۴۳ سال پہلے قرآن و حدیت میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کر دیا گیا۔

ہماری موجودہ پریشانیوں کی بنیادی وجہ قرآنی کمالات سے لا علمی اور دوری ہے۔ آئیے ہم آپ کو قرآنی شفا سے روشناس کرائیں تاکہ آپ کی مایوس کر دینے والی ۔ مشکلات فوری دور ہوں۔ یقین جانیے ان آزمودہ قرآنی شفاﺅں کو آزما کر خود کشتی تک پہنچنے والے خوشحالی کی زندگی ہنسی خوشی بسر کر رہے ہیں۔ قارئین! سورہ البقرہ سے لے کر سورہ الناس تک کے روحانی و ظائف و عملیات ملاحظہ فرمائیں۔

روحانی بیماری کی مثال:نیک کاموں میں دل کا نہ لگنا، برے کاموں میں مزہ آنا جسمانی بیماری کی مثال: ہر طرح کے جسمانی اعذار جس میں کھانسی نزلے سے لیکر فالج کینسر تک کی بیماریاں شامل ہیں۔سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں اور بندش سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے آخر تک رات میں سوتے وقت پڑھا کریں اس لیے کہ : سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے ختم تک ایسی ہیں۔

کہ جس گھر میں تین رات تک پڑھی جائیں شیطان اس کے قریب نہیں جاتا ۔ (ترمذی ‘نسائی‘ ان حبان‘ حاکم ‘حصن حصین) حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ کو ایسی دو آیتوں پر مکمل فرمایا جنہیں اپنے اس خزانے سے مجھے دی ہیں، جو اس کے عرش کے نیچے ہے۔ انہیں خود ہی سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاﺅ کیونکہ یہ آیتیں رحمت ہیں، قرآن اور دعا ہیں۔

(حاکم ‘حصن حصین) حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں کسی رات پڑھ لے تو یہ دونوں آیتیں اس کے لیے ہو جائیں گی۔ (ترمذی ، حدیث نمبر:۱۸۸۲)

آپ ﷺ نے اُلٹا ہوکر سونے سے منع کیوں فرمایا؟ –

آج کل کی مصروف زندگی انسان کو بہت تھکا دیتی ہے اور دن بھر کے مصروف دن کے بعد جب رات میں بستر نظر آتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ بس اس پر فوراً لیٹ کے سوجائیں۔لہذا کچھ لوگوں کوتھکے ہوئے دن کے بعد جیسے ہی بستر نظر آتا ہے، وہ فوراً الٹے ہوکے اس پر سوجاتے ہیں۔ہر کوئی شخص مختلف طریقے سے سوتا ہے، کچھ افراد زیادہ جگہ لے کے سوتے ہیں، کچھ لوگ بالکل سمٹ کے سوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پیٹ کے بل اوندھے ہوکے سوتے ہیں۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پیٹ کے بل سونا کتنا خطرناک ہے؟پیٹ کے بل سونا آپ کی گردن اور پیٹھ کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔

پیٹ کے بل سونے سے آپ کی نیند میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے ، جس کے باعث اگلے دن آپ کا دن بالکل اچھا نہیں گزرتا اور تھکا تھکا محسوس کرتے ہیں۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں کھیچاؤ پیدا ہوجاتا ہے، جس کے باعث آپ کو سونے میں دقت محسوس ہوتی ہےاور آپ اپنے روٹین کے کام بھی صحیح طور پر سرانجام نہیں دے سکتے

۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کے جسم کے کون کون سے حصے متاثر ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہے٭ ریڑھ کی ہڈی آپ کے جسم میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اگر یہ صحیح طور پر کام نہیں کرے گی توآپ کا پورا جسم متاثر ہوگا اور آپ کوئی بھی کام صحیح طرح سرانجام نہیں دے سکتے۔اس کے علاوہ پیٹ کے بل سونے سے آپ کے جسم کے کئی سارے حصے سن ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔

٭پیٹ کے بل سونے سے گردن بھی متاثر ہوتی ہے،مسلسل الٹے یا پیٹ کے بل سونے سے آپ کی گردن میں درد بیٹھ جاتا ہے اور آپ آسانی کے ساتھ گردن کو حرکت نہیں دے سکتے ہیں۔٭ اگر آپ کو پیٹ کے بل سونے کی بہت زیادہ عادت ہے تو آپ اس طرح سوتے ہوئے تکیے کا استعمال بالکل نہیں کریں، یا اگر کریں بھی تو بالکل پتلے تکیے کا استعمال کریں تاکہ اس سےآپ کی گردن میں درد نہیں بیٹھے۔٭ جب آپ صبح سو کے اٹھیں تو اپنی جسم کو اسٹرچ کریں، اس عمل سے آپ کا جسم نارمل ہوجائے گا

اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے –

ہمارے بابا سائیں نور والے فرماتے ہیں کہ اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے، جو شخض اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملا لیتا ہے، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کسی نے بابا جی سے پوچھا کہ ”اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملانا بھلا کیسے ممکن ہے؟“ تو جواب ملا کہ ”انار کلی بازار جاؤ، جس وقت وہاں خوب رش ہو اس وقت جیب سے ایک روپے کا بڑا سکہ (جسے اس زمانے میں ٹھیپہ کہا جاتا تھا) نکالو اور اسے ہوا میں اچھال کر زمین پر گراؤ۔ جونہی سکہ زمین پر

گا، تم دیکھنا کہ اس کی چھن کی آواز سے پاس سے گزرنے والے تمام لوگ متوجہ ہوں گے اور پلٹ کر زمین کی طرف دیکھیں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ان سب کے دل اس سکے کی چھن کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ یا تو تم بھی اپنا دل اس سکے کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کر لو یا پھر اپنے خدا کی آواز کے ساتھ ملا لو“بابا جی کا بیان ختم ہوا تو نوجوانوں کے گروہ نے ان کو گھیر لیا اور سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ کسی نے پوچھا ” سر! ہمیں سمجھائیں کہ ہم کیسے اپنا دل خدا کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کریں کیونکہ ہمیں یہ کام نہیں آتا؟“ اشفاق صاحب نے اس بات کا بھی بے حد خوبصورت جواب دیا، فرمانے لگے”یار ایک بات تو بتاؤ، تم سب جوان لوگ ہو، جب تمہیں کوئی لڑکی پسند آ جائے تو تم کیا کرتے ہو؟ کیا اس وقت تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے؟ نہیں، اس وقت تمہیں سارے آئیڈیاز خود ہی سوجھتے ہیں، ان سب باتوں کے لئے تمہیں کسی گائڈینس کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ اس میں تمہاری اپنی مرضی شامل ہوتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب خدا کی بات آتی ہے تو تمہیں وہاں رہنمائی بھی چاہئے اور تمہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ خدا کے ساتھ اپنے آپ کو” ٹیون اپ “کیسے کرنا ہے؟

خاندانی مزاج کا اثر –

ایک شخص اپنا قصہ بیان کرتا ہے کہ ’’ایک مرتبہ میں سفر پر نکلا تو راستہ بھٹک کر ایک جنگل میں جا نکلا، اچانک میری نظر ایک جھونپڑی پر پڑی تو میں وہاں چلا آیا، جھونپڑی میں ایک عورت تھی اس نے مجھے دیکھ کر پوچھا، کون ہو تم؟ میں نے کہا ’’ایک مسافر مہمان ہوں‘‘ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی کہنے لگی ’’اللہ تعالیٰ آپ کا آنا مبارک کرے، آئیے! تشریف رکھیے۔ میں گھوڑے سے اتر آیا، اس نے میرے سامنے کھانا پیش کیا، میں عورت کی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوا، ابھی میں کھانا کھا

ہی ہوا تھا کہ اتنے میں اس کا شوہر آ پہنچا، اس نے غصیلی نگاہوں سے مجھے گھورا اور کرخت لہجے میں پوچھا ’’کون ہو تم؟‘‘ میں نے کہا ’’ایک مسافر مہمان ہوں‘‘۔یہ سن کر وہ ناک بھوں چڑھا کر کہنے لگا، ’’مہمان ہو تو یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ ہمارا کسی مہمان سے کیا کام‘‘۔ میں اسکی یہ بدمزاجی برداشت نہ کر سکا، اسی وقت گھوڑے پر سوار ہوا اور چل دیا۔مجھے اس جنگل بیابان کی خاک چھانتے ہوئے دوسرا دن ہو چلا تھا، آج پھر مجھے اس ویرانے میں ایک جھونپڑی نظر آئی، میں قسمت آزمائی کرنے چلا آیا، دیکھا تو یہاں بھی ایک عورت تھی، اس نے پہلے تو مجھے کھا جانے وای نظروں سے دیکھا پھر بولی ’’کون ہو تم؟‘‘میں نے جواب دیا ’’ایک مسافر مہمان ہوں‘‘ وہ جل بھن کر کہنے لگی ’’ہونہہ! مہمان ہو تو یہاں ہمارے پاس کیا لینے آئے ہو، جاؤ اپنا راستہ ناپو‘‘ ابھی وہ اپنی جلی کٹی سنا رہی تھی کہ اس کا شوہر آ گیا اس نے ایک نظر مجھے دیکھا، پھر اپنی بیوی سے مخاطب ہوا ’’کون ہے یہ؟‘‘بیوی نے برا سا منہ بنا کر کہا ’’کوئی مسافر مہمان ہے‘‘۔ یہ سن کر اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا، اس نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا، کہنے لگا ’’آپ کی آمد مبارک! آپ ہمارے لئے اللہ کی رحمت بن کر آئے ہیں‘‘پھر اس نے مجھے عزت و احترام سے بٹھایا، نہایت ہی

عمدہ کھانا لے کر آیا، میں کھانا کھا ہی رہا تھا کہ مجھے گزشتہ روز کا واقعہ یاد آ گیا اور بے اختیار میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی، اس شخص نے مجھے مسکراتے دیکھا تو پوچھا ’’آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟‘‘ میں نے اس کے سامنے گزشتہ روز کا واقعہ بیان کیا اور دونوں میاں بیوی کا متضاد سلوک کا بھی ذکر کیا،یہ سن کر وہ شخص ہنس دیا، بولا ’’وہ عورت جس سے گزشتہ روز آپ کا واسطہ پڑا تھا، میری بہن ہے اور اس کا شوہر جس کی بداخلاقی کی آپ شکایت کر رہے ہیں، میری اس بیوی کا بھائی ہے۔ یقیناً ہر شخص پر اس کے خاندانی مزاج کااثر ضرور ہوتا ہے۔

تیسرا پارٹنر –

عبدالحامد خان کراچی پرل کانٹیننٹل میں ملازم تھے‘ تنخواہ اچھی تھی لیکن وہ مالدار نہیں تھے‘ تین بچے تھے‘ ایک بیٹا اور دوبیٹیاں۔ صاحبزادے کا نام سہیل خان تھا‘ سہیل خان نے 1984ءمیں بی کام کیا اور یہ کراچی کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازم ہو گئے‘ یہ وہاں تین سال کام کرتے رہے‘ سہیل خان نے نوکری کے دوران اپنا بزنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا‘ نوکری کو خیرباد کہا‘ پچاس ہزار روپے اکٹھے کئے‘نو سلائی مشینیں خریدیں اور یو اینڈ آئی کے نام سے گارمنٹس کا چھوٹا سا یونٹ لگا لیا‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا ہاتھ پکڑ

لیااور یہ کامیاب ہونےلگے‘ یورپ اور امریکا کی گارمنٹس کمپنیاں اس وقت پاکستان سے ڈینم پینٹس بنواتی تھیں‘ سہیل خان نے ڈینم پینٹس بنانی شروع کر دیں اور یہ آہستہ آہستہ ملک کے بڑے ایکسپورٹرز میں بھی شمار ہونے لگے‘ سہیل خان نے 1990ءمیں والد عبدالحامد خان اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو بھی کاروبار میں شامل کر لیا‘ یہ ترقی کے زینے چڑھتے چلے گئے‘ یہ 2000ءمیں تبلیغی جماعت میں شامل ہو گئے اور یہ مولانا طارق جمیل کے ساتھ چلے بھی لگانے لگے‘ جنید جمشید بھی اس وقت تازہ تازہ مولانا کے حلقے میں شامل ہوئے تھے‘ وہ بھی چلے پر جاتے رہتے تھے‘ یہ دونوں تبلیغ کرنے کے اس دور میں ایک دوسرے کے دوست بن گئے‘ جنید جمشید نے اس زمانے میں اپنے نام سے گارمنٹس کا ایک برانڈ بنایا اور وہ برانڈ کُرتا کارنر کے حوالے کر دیا‘ جنید جمشید ملک کا بڑا نام تھے لیکن ان کا برانڈ مار کھا گیا‘ وہ مارکیٹ میں جگہ نہ بنا سکا‘ جنید جمشید مذہب کی طرف راغب ہو رہے تھے‘ وہ موسیقی چھوڑ کر اپنی باقی زندگی اللہ کے نام وقف کرنا چاہتے تھے مگر وہ روزگار کے خدشات کا شکار تھے‘ وہ گانا گانے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تھے‘ وہ سمجھتے تھے” میں نے جس دن گانا چھوڑ دیا میں اس دن سڑک پر آ جاﺅں گا“ اور ان کا یہ خدشہ غلط بھی نہیں تھا‘جنید جمشید نے 2002ءمیں شعیب منصور کے ساتھ مل کر پیپسی کےلئے نیا البم بنانا تھا‘ پیپسی کے ساتھ کروڑوں روپے کا کانٹریکٹ ہو چکا تھا‘ وہ مختلف فورمز پر گانا گانے کے پیسے بھی وصول کر چکے تھے مگر انہوں نے جوں ہی داڑھی بڑھائی اور گانا گانے سے انکار کیا‘ ان کے سارے کانٹریکٹ منسوخ ہو گئے اور وہ ایک ہی رات میں عرش سے فرش پر آ گئے‘ بچے مہنگے سکولوں میں پڑھتے تھے‘وہ بچوں کو سکول سے اٹھانے پر مجبور ہو گئے اور گھر کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا‘ جنید جمشید کے بقول ”میرے پاس اس زمانے میں والدہ کی دواءکےلئے سو روپے بھی نہیں تھے“۔ان برے حالات میںسہیل خان ان کےلئے غیبی مدد ثابت ہوئے‘ جنید جمشید نے ایک دن مشورے کےلئے ان سے رابطہ کیا‘ لنچ پر ملاقات طے ہو گئی‘ جنید جمشید چھوٹی سی لیبل مشین لگانا چاہتے تھے‘ ان کی خواہش تھی

وہ لیبل مشین لگائیں اور سہیل خان اپنے لیبلز کا ٹھیکہ انہیں دے دیں‘ سہیل خان نے بات سننے کے بعد جواب دیا ”جنید بھائی ہم تیس پیسے کے حساب سے لیبل خریدتے ہیں‘ یہ کام آپ کے شایان شان نہیں ہو گا‘ آپ کو دو تین ہزا روپے کے آرڈرز کےلئے لوگوں کے دفتروں کے چکر لگانا پڑیں گے‘ آپ اس کے بجائے کوئی بڑا کام کریں“ یہ بات جنید جمشید کے دل کو لگی‘ انہوں نے اپنے برانڈ پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا مگر ان کے پاس سرمایہ نہیں تھا چنانچہ انہوں نے سہیل خان کو پارٹنر شپ کی پیش کش کر دی‘ سہیل خان مان گیا اور یوں جنید جمشید نے گارمنٹس کا کام شروع کر دیا‘ سہیل خان نے طارق روڈ‘ گلشن اقبال اور حیدری میں تین دکانیں خریدیں ‘اپنی فیکٹری کے اندر جنید جمشید کے نام کا ایک کارنر بنا یااور کام شروع کر دیا مگر برانڈ اس کے باوجود کامیاب نہ ہو سکا‘ جنید جمشید مایوس ہو کر گانے کی طرف واپس چلے گئے‘ داڑھی بھی صاف کرا دی اور اپنے پرانے معاہدے بھی تازہ کر لئے‘ یہ تبدیلی سہیل خان اور جنید جمشید کے معاہدے میں رکاوٹ بن گئی‘ کام تقریباً بند ہو گیا لیکن جنید جمشید جلد ہی واپس آ گئے‘کام دوبارہ شروع ہو گیا‘ سہیل خان نے یہ برانڈ اپنے بہنوئی محمود خان کی نگرانی میں دے دیا لیکن وہ بھی یہ کام نہ چلا سکے‘ برانڈ بری طرح پٹ گیا‘ جنید جمشید کا مالی بحران بڑھ گیا لیکن پھر ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور جنید جمشید کا برانڈ تیزی سے ترقی کرنے لگا‘ کیسے؟ ہم اب اس طرف آتے ہیں۔سہیل خان اور جنید جمشید مشکل دور میں مشورے کےلئے مولانا تقی عثمانی کے پاس چلے گئے‘ مولانا نے دونوں کی بات سنی اور فرمایا ”میں تم دونوں کو کامیابی کا گُر بتا دیتا ہوں‘ آپ اس گُر کو پلے باندھ لو تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا“ یہ دونوں مولانا صاحب کی بات غور سے سننے لگے‘ مولانا نے فرمایا ”تم دو پارٹنر ہو‘ تم آج سے اللہ تعالیٰ کو اپنا تیسرا پارٹنر بنا لو‘ تم کامیاب ہو جاﺅ گے“ یہ بات دونوں کے دل کو لگی‘ یہ دونوں باہر نکلے اور ایک نیا کانٹریکٹ ڈیزائن کیا‘ جے ڈاٹ میں سہیل خان‘ جنید جمشید اور اللہ تعالیٰ تین پارٹنر ہو گئے اور یہ دونوں نہایت ایمانداری سے اپنے منافع کا تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کے اکاﺅنٹ میں جمع کرانے لگے‘ بس یہ اکاﺅنٹ کھلنے اور تیسرے پارٹنر کی شمولیت کی دیر تھی ملبوسات کے ناکام برانڈ کو پہیے لگ گئے‘ یہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے کامیاب ترین برانڈز میں شامل ہو گیا‘ یہ لوگ شروع میں اپنے منافع کا تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کو دیتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی پارٹنر شپ کا نتیجہ سامنے آنے لگا تو یہ لوگ اپنی سیل کا تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کے اکاﺅنٹ میں جمع کرانے لگے‘ یہ لوگ اپنے آﺅٹ لیٹس سے جو

کماتے تھے یہ اس کا تیسرا حصہ چپ چاپ اللہ تعالیٰ کے نام وقف کر دیتے تھے‘ اس نئے ارینجمنٹ نے ان پر برکتوں کے مزید دروازے کھول دیئے‘ ان کی ترقی اور منافع دونوں کے پہیے تیز ہو گئے اور یہ تمام ملکی برانڈز کو پیچھے چھوڑتے چلے گئے‘ جے ڈاٹ ملک کا سب سے بڑا برانڈ بن گیا‘ پاکستان میں اس وقت اس کے 65 آﺅٹ لیٹس ہیں‘ ملک سے باہر 8 بڑے شو روم ہیں جبکہ جے ڈاٹ نے عالمی سطح پر دس فرنچائز بھی دے رکھی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ پارٹنر شپ نے جنید جمشید اور سہیل خان دونوں کی زندگی بدل دی‘ جنید جمشید اس کاروبار میں 25 فیصد کے شیئر ہولڈر تھے‘ یہ 25فیصد بھی بہت بڑی تھی‘ یہ رقم جنید جمشید کی ضرورت سے زیادہ تھی چنانچہ انہوں نے اس رقم کا بھی بڑا حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا‘ مساجد بنائیں‘ مدارس کو فنڈ کیا‘ بیواﺅں اور یتیموں کو سپورٹ کیا اور وہ طالب علموں کو وظیفے بھی دینے لگے‘ وہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی پارٹنر شپ میں اضافہ کرتے چلے گئے اللہ تعالیٰ ان پر اپنے کرم کے دروازے کھولتا چلا گیا یہاں تک کہ مولوی جنید جمشید راک سٹار جنید جمشید سے زیادہ مقبول ہو گیا‘ وہ گانا گاتے تھے تو وہ مشہور تھے‘ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے پر چل پڑے تو وہ باعزت شخصیت بن گئے‘ وہ گلوکار تھے تو لوگ ان سے آٹو گراف لیتے تھے‘ وہ مولوی بنے تو لوگ ان کے ہاتھ چومنے لگے اور وہ سٹار تھے تو وہ پیسے کے پیچھے بھاگتے تھے‘ وہ اللہ والے ہوئے تو پیسہ ان کے تعاقب میں دوڑ پڑا‘ سہیل خان کی دنیا بھی بدل گئی‘ یہ اللہ تعالیٰ کو پارٹنر بنا کر مٹی کے جس ڈھیر کو ہاتھ لگاتے ہیں وہ سونا بن جاتا ہے اور یہ جس پراجیکٹ میں اللہ تعالیٰ کو شامل نہیں کرتے وہ منصوبہ کثیر سرمایہ کاری

اور ماہر ترین ٹیم کے باوجود بیٹھ جاتا ہے‘ یہ تجربہ حیران کن تھا چنانچہ سہیل خان نے اپنے ہر کاروبار میں اللہ تعالیٰ کو پارٹنر بنا لیا‘ اللہ تعالیٰ ان کے بعض بزنس میں دوسرا پارٹنر ہے اور بعض میں تیسرا چنانچہ ان کے تمام کاروبار دن رات دوڑ رہے ہیں‘ پارٹنر شپ کا یہ فارمولہ سہیل خان کی زندگی کا اتنا بڑا حصہ ہے کہ انہوں نے گھر میں چندے کا ایک باکس رکھا ہوا ہے‘ خاندان کا جو بھی فرد گھر سے باہر جاتا ہے وہ اس باکس میں کچھ نہ کچھ ڈال دیتا ہے اور یہ باکس بعد ازاں ضرورت مندوں کی جھولی میں خالی کر دیا جاتا ہے‘ یہ باکس اب سہیل خان کے خاندان کا حصہ بن چکا ہے۔مجھے جنید جمشید کی مقبولیت کے پیچھے ان کی قربانی دکھائی دی اور خوشحالی کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی پارٹنر شپ‘ جنید جمشید نے اللہ تعالیٰ کےلئے شہرت کو ٹھوکر ماری تھی‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں عزت سے نواز دیا اور جنید جمشید نے اپنے کاروبار میں اللہ تعالیٰ کو پارٹنر بنا لیا تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں مال و دولت سے رنگ دیا‘ یہ ملک کے خوشحال ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے‘ کاش جنید جمشید کی زندگی اور موت ہماری آنکھیں کھول دے‘ کاش ہم جنید جمشید کی طرح اللہ تعالیٰ کےلئے شہرت بھی قربان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کو اپنا پارٹنر بھی بنا لیں اور اللہ تعالیٰ جواب میں ہماری زندگیاں بھی بدل دے‘ مجھے یقین ہے ہم نے جس دن یہ کیا‘ ہم اس دن خوشحال بھی ہو جائیں گے اور باعزت بھی‘ کیوں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کبھی یہ گوارہ نہیں کرتی دنیا کا کوئی شخص اس کے نام پر شہرت قربان کرے اور یہ اسے بدلے میں عزت نہ دے اور کوئی شخص اسے اپنا بزنس پارٹنر بنائے اور اسے اس کے بعد کاروبار میں

نقصان ہو جائے‘ بے شک اللہ تعالیٰ کائنات کا سب سے بڑا غیرت مند پارٹنر ہے‘ یہ اپنے پارٹنر کو کبھی نقصان نہیں ہونے دیتا۔

جارہا ہے جس کے کرنے سے ہرسال ڈیڑھ لاکھ لوگ موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور ساڑھے تین لاکھ کینسر میں مبتلا ہوجاتے ہیں

اپنی بیوی سے صحبت(جماع) کے آداب جس طرح اسلام کے روشن اور پر نور انقلاب نے ایک ہی وار میں جاہلیت کے دور کی تمام بے حیائی اور بے راہ روی کو مٹا دیا اور اُس کی جگہ دنیا میں شرعی نکاح کو پیش کر دیا۔جس طرح اجتماعی سطح پر نکاح کی پاک سنت ایک طریقہ ٹھہرا۔

اسی طرح نکاح کے بعد ہمبستری یا جماع کے آداب بھی پیش کئے گئے۔ان آداب کا سیکھنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔صحبت کے آداب:1۔ پہلی بار جب دلہن اپنے دلہا کے ساتھ یکجا ہوتی ہے تو مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے شوہر اپنی بیوی کے پیشانی کے بال پکڑے، بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر یہ دعا کریں:اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ(“اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس چیز کی بھلائی چاہتا ہوں جس پر تو نے اس کو پیدا کیا ,

اور تجھ سے اس کی برائی ,اور اس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔جس پر تو نے اس کو پیدا کیا “)2۔ دولہا کو چاہئے کہ شب زفاف میں اپنی بیوی کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے۔ ایسا کرنے سے دونوں کی ازدواجی زندگی ہر نا پسند یدہ چیز سے محفوظ رہے گی .حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ کا بیان ہے کہ” جب تمہاری بیوی تمہارے پاس آئے تو تم اُسے کہو کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے,

اور یہ دعا کرو(اللهم بارك لي في أهلي ,وبارك لهم فِيَّ ,اللهم اجمع بَيننا ما جمعت َبِخير ,وفرِّق بيننا إذا فرَّقت إلي الخير)” اے اللہ میرے لئے میرے اہل میں برکت عطا فرما . اور ان کے لئے مجھ میں برکت عطا فرما , اے اللہ! جب تک ہمیں اکھٹا رکھے خیر پر اکھٹا رکھ, اورجب ہمارے اندر جدائی ہو تو خیر ہی پر جدائی کر ” (طبرانی ,علامع البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اثرکوحسن کہا ہے )

3۔ مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ ہمبستری کی دعاؤں کا اہتمام کرے , ایسا کرنے سے صحبت سے پیدا ہونے والا بچہ شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا ,حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا( لو أن أحدکم إذا أتی أھلہ قال: بسم الله ,اللهم جنبنا الشيطان ,

وجنب الشيطان ما رزقتنا , فقضى بينهما ولد , لم يضره الشيطان أبدا )”اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے( بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ) “اے اللہ !تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ, اور تو ہمیں جو اولاد عطا کر اسے بھی شیطان سے بچانا ” تو اُن کے یہاں جو بچہ پیدا ہوگا شیطان اُسے کبھی ضرر نہیں پھنچا سکے گا ” (صحیح بخاری وصحیح مسلم )

4۔ جماع کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ضروری ہے۔ اس میں بہت زیادہ برکت ہے۔(اور یا اوپر زکر شدہ دعا)5۔ جماع کے وقت بالکل ننگا ہونا ممنوع ہے۔ اس سے میاں، بیوی اور بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ میاں بیوی اپنے اوپر کوئی پردہ وغیرہ ڈال کر صحبت کریں۔ اپنی انسانی کرامت کا خیال رکھے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” جانوروں کی طرح اپنے آپکو برہنہ نہ کرو”6۔ حیض (عورت کو ماہواری کا خون آنا) اور نفاس (ولادت کا خون) کی حالت میں بیوی کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے۔ اسلئے کہ حیض کے معنیٰ پلیدی یا زخم کے ہیں۔ ان دنوں میں حائضہ عورت رحم کا ناپاک خون گراتی ہے جس سے درد اور تکیف بھی ہوتی ہے۔

ان دنوں میں بیوی کے ساتھ جماع مردوں کیلئے بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ عورت کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔اسی طرح نفاس اور ولادت کے بعد ناپاک خون نکلتا ہے۔ ایسی حالت میں بھی عورتیں سخت ازیت سے گزرتی ہیں۔

۔ایسے میں بھی مرد اور عورت کا صحبت کرنا سخت نقصان دہ ہے۔اس کے علاوہ ایک ساتھ سونا، کھانا کھانا، وغیرہ جیسے امور سب جائز ہیں۔ دورِ جاہلیت کی طرح نہیں کہ جس میں ایامِ حیض و نفاس میں بیوی سے نفرت کی جاتی تھی۔7۔ اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے کی طرف ( پاخانے کی جگہ) صحبت کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔

بہت بڑی بے شرمی کی بات ہے۔ ایسا کام جانور بھی نہیں کرتے۔ اسی گناہ کی وجہ سے قوم لوط ہلاک ہوئی۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ : ” وہ شخص لعنتی ہے جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف جماع کرے” (رواہ ابوداود، احمد)

8۔ اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت ایک راز ہے۔۔جاری ہے۔ اس راز کا فاش کرنا بڑا گناہ اور بڑی بے غیرتی اور بے حیائی ہے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” قیامت کے دن اللہ کے نزدیک وہ شخص بدترین درجے میں ہوگا جو بیوی سے جماع کرنے کے بعد اس کا راز افشاء کرے” (رواہ مسلم)

اگر آپ کے جسم میں یہ خطرناک کیمیکل بڑھ رہا ہے تو فوراً چائے پینا چھوڑ دیں،خطرناک اور جان لیوا بیماری

ولیسٹرول پر نظر رکھنے سے انسان کو اپنی صحت قائم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔جتنا آپ کو کولیسٹرول کا علم ہوگا اتنا آپ احتیاط کے قابل ہوجائیں گے۔ دل کے امراض میں کولیسٹرول اور دوسری چکنائیاں خون کی وریدوں میں جم جانے کی وجہ سے ان راستوں کو تنگ کر دیتی ہیں۔

جس کی وجہ سے خون کے بہاﺅ میں رکاوٹ آجاتی ہے۔ ناکافی خون کے بہاﺅ سے ٹشوز میں زخم بھی ہو سکتے ہیں اور وہ مر بھی سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے انسان میں فوراً موت کا سانحہ پیش آ جاتا ہے۔ وریدوں میں چکنائیوں کے جم جانے کا عمل تیز بھی ہو سکتا ہے اور سست بھی۔ (ا) خون کا دباﺅ (۲) سگریٹ نوشی (۳) خون میں کولیسٹرول کا زیادہ ہونا (۴) وزن زیادہ ہونا (۵) زیادہ عرصہ تک ورزش سے دور رہنا۔

یہ وہ عوامل ہیں جن پر انسان کسی حد تک کنٹرول کر سکتا ہے۔ ان تمام عوامل کو دور رکھنے سے دل کے امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض بھی ان عوامل کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں سے پرہیز کر کے دل کے امراض سے دور رہ سکتے ہیں۔

جدید تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ دل کے امراض میں خون کا دباﺅ نمایاں کر دار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کولیسٹرول اس کے اثرات بڑھا سکتا ہے۔ عام طور پر دل کے امراض ان لوگوں کو لاحق ہوتے ہیں جن کا کولیسٹرول لیول 240 ملی گرام / ڈیسی لیٹر ہوتا ہے یا اس سے زیادہ ہوتا ہے۔

بعض دفعہ اس سے کم کولیسٹرول کی موجودگی میں بھی دل کا مرض ہو جاتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کو دل کے امراض سے بچنے کیلئے کولیسٹرول کی مقدار پر قابو پانا چاہئے اور یہ اسی صورت میںممکن ہو سکتا ہے

کہ کم چکنائی استعمال کی جائے اور ورزش اور خوراک کا خاص طور پر خیال رکھا جائے۔ کیونکہ یہ تصدیق شدہ بات ہے کہ کولیسٹرول کو کم کرنے سے دل کے امراض کا ریٹ کم کیا جا سکتا ہے اور مندرجہ ذیل چیزوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔

وہ خاتون جو سانپ کے ساتھ سویا کرتی تھی،اچانک سانپ کی طبیعت خراب ہوئی تو ڈاکٹر نے ایسی وجہ بتائی کہ لڑکی کے پیروں تلے زمین نکل گئی،

کرس پلانر نامی فیس باک صارف نے ایک ایسی کہانی فیس بک پر شائع کر دی کہ اب وہ تقریباًتمام صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور صارفین کی جانب سے اسے بے حد سراہا جارہاہے،

یہ ایک عام انسان کیلئے انتہائی سبق آموز بھی ہے ۔تفصیلات کے مطابق کرس پلانر کہتاہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا جس سے وہ بے حد پیار کر تی تھی ،

سانپ تقربیاً سات فٹ لمبا تھا جس نے اچانک ایک دن کھانا پینا بند کردیا ۔خاتون نے کئی ہفتوں سانپ کو کھانا کھلانے کی کوشش جاری رکھی لیکن وہ ناکام رہی جس پر خاتون اپنے پالتو سانپ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئی

۔خاتون نے ڈاکٹر کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا جس پر ڈاکٹر نے سوال کیا کہ کیا ہر رات سانپ آپ کے ساتھ سوتا تھا اور جب سے اس نے کھانا پینا چھوڑا ہے آپ کے جسم کے بے حد قریب لیٹ کر اپنے جسم کو اکٹراتا تھا؟

۔جس پر خاتون نے کہا جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے اور مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں اپنے سانپ کو بہتر محسوس کرانے کیلئے اس کی کوئی مدد نہیں کر پار ہی ہوں ۔

ڈاکٹر نے خاتون کا جواب سننے کے بعد کہا کہ ’محترمہ آپ کا سانپ بیمار نہیں ہے بلکہ یہ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہاہے‘،سانپ آپ کی جسامت کا روزانہ اندازہ لگاتا رہاہے

اور اس نے کھانا پینا اس لیے بند کر دیا ہے کہ آپ کو کھانے کیلئے وہ جگہ بنا سکے ۔خاتون ماہر کی یہ بات سن کر سکتے میں آ گئی۔کرس پلانر نے کہانی کے آخر میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا ہے

کہ آپ کو ارد گرد موجود ’سانپوں ‘کو پہچاننا ہے جوکہ آپ کے نہایت قریب ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے بیڈ پر سوتے ہیں ،اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کے بارے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں