میرے بوڑھے جسم کو آکسیجن فراہم کرنا پڑے گی –

سید اقرار الحسن نے ہومیو پیتھک میڈیکل کالج کے پروفیسر کو ننگا کر دیا سیکرٹری کا اشتہار دے لڑکیوں کا استحصال ایسے کیا جاتا تھا کہ ہر وہ انسان جو عزت دار ہے اور ماں بہن بیٹی کی عزت سمجھنے والا ہے اس کی روح بھی کانپ جائے

پرنسپل کے لبادے میں یہ بھیڑیا کس طرح بیچاری مجبور لڑکیوں کی عزت تار تار کرتا تھا جو صرف محض چند ہزار کے لئے کسی مجبوری کے تحت اپنا گھر چلانے کے لئے گھر سے باہر نکلتی اور اس پروفیسر کے درندہ صفت ہونے کا اندازہ اس بات سے باخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے آفس کیساتھ ایک بیڈ روم بنا ہوا تھا جہاں یہ لڑکیوں کی عزتیںپامال کرتا تھا

اقرار الحسن اور ان کی ٹیم نے لڑکیاں سیکرٹری کے انٹرویو کےلئے اس کے پاس بھیجی جہاں اس نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی سب سے پہلی ڈیماند اس درندے کی یہ تھی کہ تم مجھے خوش کرو تب ہی یہاں نوکری کر سکتی ہو

افسوس اس بات کا ہے کہ قائد کی تصویر اپنے آفس میں لگا کر اور ڈاکٹر جیسے پاک پیشے کا اس شخص نے کیسے بدنام کیا اور اپنے ہی ملک کی بہن بیٹیوں کی عزتیں پامال کی جی ہاں یہ بیٹیاں مسلمان ہی تھیں اور پاکستانی تھیں اور یہ درندہ اپنے ہی ملک کی بیٹیوں کی عزتیں چند ہزار تنخواہ کی خاطر کیسے اپنی خواہشات کی تکمیل چاہ رہا تھا

دیکھ کر آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی ہم اقرار الحسن اور انکی ٹیم کو اس کاوش کے لئے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ان کالے بھیڑیوں کو بے نقاب کرنے کا بیڑہ اٹھایا

:ویڈیو دیکھیں

یہ 14 ایسی غذائیں جو کینسر کو بھگائیں –

کینسر اب تک کی سب سے خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے جس کا متاثر اگر بچ بھی جائیے تو اس کی بقیہ ماندہ زندگی کسی مردے کی طرح گزرتی ہے ۔ دراصل کینسر انسان کی جسمانی خلیات کا غیر معمولی طور بڑھنا یا گھٹنے کا عمل کہلاتا ہے ۔

اچھی صحت اور اچھی غذا کا اس عمل پر گہرا اثر پڑتا ہے اور جسم میں ایسی نقصان دہ عمل کو روک دیتا ہے ۔ کینسر میں صرف جسم کے خلیوں کی بڑھو تری کا عمل ہی تیز نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اس کا پھیلاؤ بھی ہوتا ہے ۔ جو زیادہ سے زیادہ جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

بیٹا تیری گڑیا چلی گئی

نکل !!!! وہ کونے پر رکھی گلابی گڑیا چاہئے مجھے، سو روپے کی ہے نا ؟یہ الفاظ سن کر میں نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا. ایک معصوم سا بچہ مٹھی میں کچھ دبائے میرے دائیں طرف کھڑا تھا .

لگ بھگ سات سال عمر ہوگی.پرانی سے قمیض شلوار میں ملبوس جن پرگریس اور تیل کے دھبے بڑے واضح نظر آ رہے تھے. چہرے پر بلا کی معصومیت اور آنکھوں سے ذہانت عیاں تھی .دیکھ نہیں رہا تو گاہک کھڑے ہیں اور یہ گڑیا اب مہنگی ہوگئی ہے. ہیں ڈیڑھ سو روپے تو نکال ورنہ چل دفع ہوجا یہاں سے .

صبح صبح نحوست پھیلا رہا ہے دکان میں .سیلزمین نے ٹیڑھا سا منہ بنا کر جواب کیا دیا .بچے کا چہرہ ہی مرجھا گیا . ایسا لگا جیسے اسے شاک لگ گیا ہو . وہ بوجھل قدموں سے پیچھے کی طرف سرکنے لگا . جی میڈم اور کیا دے دوں بیبی کی سالگرہ کے لئے ؟ یہ باربی ڈول ذرا دیکھئے صرف دو ہزار کی ہے اور اس سے اچھی پوری مارکیٹ میں نہیں ملے گی . سیلزمین مجھ سے مخاطب تھا لیکن میری نظریں اس بچے پر جیسے ٹک سی گئی تھیں .اس کے رخساروں پر خاموشی سے بہتی دو آنسوؤں کی لکیروں نے مجھے جکڑ سا لیا تھا . اچھا چلو یہ باربی ڈول بھی پیک کر دو اور بل بنا دو، میں سیلز مین کو کہتی ہوئی مڑی اور کونے میں کھڑے بچے کی طرف بڑھ گئی .کیا نام ہے تمہارا بیٹا؟ بی بی جی یاسین ، محلے والے سنی کہہ کر بلاتے ہیں. تم رو کیوں رہے ہو؟ گڑیا سے تو لڑکیاں کھیلتی ہیں . چلو میں تمہیں بیٹ بال دلا دیتی ہوں شاباش اب یہ آنسو پونچھ لو . میرا یہ جملہ سن کر اس نے لمحہ بھر کو سر اٹھایا اور پھر فرش پر نظریں جمائے مجھ سے کہنے لگا . بی بی جی ، یہ گڑیا میری چھوٹی بہن کو بہت پسند تھی .اسی کے لئے لینے آیا ہوں جب ہم یہاں سے گزرتے تھے تو وہ مجھ سے کہتی تھی .بھیا جب تم بڑے ہوجاؤ گے . پیسے کماؤ گے تو مجھے یہ گڑیا دلا دو گے نا؟مجھے اسکی معصوم زبان سے ‘چھوٹی بہن ‘ نا جانے کیوں بہت اچھا لگا . اس کے لہجے میں اپنی بہن کے لئے محبت تھی کہ امڈی چلی آ رہی تھی . اچھا تو یہ بات ہے .تم اپنی چھوٹی بہن کے لئے وہ گلابی گڑیا خریدنے آئے ہو مگر پچاس روپے تو اب بھی کم ہیں تمھارے پاس . یہ سو روپے تم نے خود جمع کئے ہیں . نہیں بی بی جی ، میرے پاس بھلا پیسے کہاں سے آئیں گے .گیراج والا استاد میری پوری دیہاڑی ابا کے حوالے کردیتا ہے. میرے ہاتھ میں پیسے تھوڑا ہی دیتا ہے.بچہ اب مجھ سے کھل کر گفتگو کررہا تھا .

ایک سیکنڈ کو رک کر اس نے آستین سے ناک صاف کی اور گویا ہوا .’ اصل میں آج بڑے صاحب اپنی گاڑی لینے گیراج پر آئے تھے . ان کی گاڑی پر پالش میں ہی کرتا ہوں . گاڑی دیکھ کر انہوں نے مجھے بلایا اور کہنے لگے .’ سنی آج تو نے دل خوش کردیا بچے ، ایسی چمکائی ہے میری پراڈو کہ شکل تک دکھائی دے رہی ہے ، بھئی واہ ، یہ لے سو روپے تیرا انعام اور سن استاد کو نہیں بتانا . ورنہ تیری دیہاڑی کے ساتھ یہ بخشش بھی تیرے نشئی باپ کے حوالے کر دے گا . آج صاحب کا موڈ شاید بہت اچھا تھااور میں نے بھی چپ چاپ نوٹ جیب میں ڈال لیا .مجھے اس کے کپڑے دیکھ کر اندازہ تو ہو گیا تھا پر نہ جانے اس کی زبانی سن کردکھ ہوا کہ اتنا چھوٹا سا بچہ اسکول جانے کے بجائے گیراج پر کام کرتا ہے. پر بی بی جی ابھی پچھلے ہفتے ہی اس گڑیا کے دام پوچھ کر گیا تھا ،دکان والے انکل نے سو روپے بتائے تھے . پر آج کہتے ہیں ڈیڑھ سو روپے نکالو . آپ نے بھی سنا تھا نا بی بی جی . ڈیڑھ سو ہی بولا تھا انکل نے .شاید اس نے مجھ سے سوال کیا تھا ! ہاں بیٹا اس گڑیا کے دام انکل نے ڈیڑھ سو ہی بتائے تھے ، میں نے اس کی بات کی تصدیق کردی . اوہو! تو اب میری سمجھ میں آیا . تو تم پچاس روپے کے لئے رو رہے ہو . چلو آنسو پوچھ لو اور یہ لو پچاس روپے ،میں نے پرس میں ہاتھ ڈالا اور پچاس کا نوٹ اسکے ہاتھ میں تھما دیا .میں نے بھی پچاس روپے دیکر اپنی دانست میں حاتم طائی کی قبر پر لات دے ماری تھی .اچھا یہ تو بتاؤ تمہاری چھوٹی بہن کہاں ہے ؟ وہ کیوں نہیں آئی اپنی گڑیا لینے ؟میں نے تجسس کے مارے فورا ہی اگلا سوال داغ دیا . وہ کیسے آ سکتی ہے وہ تو اللہ کے پاس رہنے چلی گئی ہے !’ اور اماں کہتی ہے جو اللہ کے پاس چلا جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آتا . اللہ اتنا پیار جو کرتے ہیں خیال رکھتے ہیں شائد اسی لئے .کیا! میری مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی مجھے ایسا لگا جیسے اس بچے نے بھرے بازار میں مجھے طمانچہ رسید کردیا ہو . ہاں بی بی جی . اصل میں اسکو بخار ہوگیا تھا. بہت تیز بخار میری اماں آپ جیسی ایک بی بی جی کے گھر کام کرتی ہے اس نے کچھ پیسے ادھار لیکر ابا کو دیئے تھے بہن کی دوا لانے. ساری رات ہم انتظار کرتے رہے .پر ابا دوا لیکر نہیں آیا .مجھے تو نیند آ گئی تھی اماں کے زور زور سے رونے کی آواز سے آنکھ کھلی تو دیکھا پڑوس والے غفورچاچا اور سلمیٰ چاچی اماں کے ساتھ ہی کھڑے تھے اور گڑیا سکون سے سو رہی تھی .مجھے اماں سینے سے لگا کرزور زور سے چیخنے لگی . بیٹا تیری گڑیا چلی گئی . ہمیں چھوڑ کر اللہ کے پاس چلی گئی بیٹا .غفورچاچا بھی بہت غصے میں تھے . کہہ رہے تھے آنے دے آج تیرے باپ کو .اس کمینے کو گھر میں نہیں گھسنے دوں گا . معصوم بچی کو اپنے نشے کی بھینٹ چڑھا دیا سالے نے .مجھے اپنی آواز حلق میں پھنستی ہوئی محسوس ہورہی تھی میری سمجھ میں نہیں آیا میں اس سے اب کیا کہوں. بیٹا تو یہ گڑیا اب کس کو دو گے ؟ اپنی اماں کو دوں گا بی بی جی. اسی کے ہاتھ بھجواؤں گا اور کیا. میرا ابا کہتا ہے تیری ماں بھی اب اللہ کے پاس جانے والی ہے .سارا دن خون تھوکتی رہتی ہے، سدا کی بیمار جو ہے . ہڈ حرام سے کوئی کام بھی نہیں ہوتا . اس سے اچھی تو وہ سکینہ ہے .پورا دن گھروں میں کام کرتی ہے . بیوہ ہے اور پورے آٹھ ہزارمہینے کا کماتی ہے . میرے نشے کا خرچہ تو اٹھا ہی لے گی اور روٹی کا خرچہ تیری دیہاڑی سے پورا ہوجائے گا . بی بی جی ! میں اب چلتا ہوں، میری چھوٹی گڑیا کا انتظار کر رہی ہوگی کہیں دیر نہ ہو جائے اور اماں بھی اللہ کے پاس چلی جائے.میں دم سادھے اسکی کہانی سن رہی تھی اسکے الفاظ بم بن کر میری سماعت پر گر رہے تھے .مرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اگر اماں بھی چلی گئی تو یہ گڑیا میری چھوٹی بہن کو کون پہنچائے گا ؟آپ بہت اچھی ہیں بی بی جی. اللہ آپ کو بہت دے گا .یہ الفاظ ادا کرکے وہ کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا اور اسکی آواز سناٹے میں گونجنے لگی . انکل . دیکھو پورے ڈیڑھ سو روپے ہیں اب میرے پاس . یہ گلابی گڑیا جلدی سے دے دو اور ہاں ایک اچھے سے تھیلے میں ڈال کر دینا . بہت دور بھیجنا ہے اسے ،جلدی کرو انکل کہیں اور دیر نہ ہوجائے.

پردہ پوشی

بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا، مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی. لوگ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کے پاس گے اور عرض کیا: یا کلیم اللہ! رب تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش نازل فرمائے.

چنانچہ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ہمراہ لیا اور بستی سے باہر دعا کے لیے آ گئے.یہ لوگ ستر ہزار یااس سے کچھ زاہد تھے. موسیٰ علیہ السلام نے بڑی عاجزی سے دعا کرنا شروع کی:”میرےپروردگار!ہمین بارش سے نواز، ہمارے اوپر رحمتوں کی نوازش کر……چھوٹے چھوٹے معصوم بچے، بے زبان جانور اور بیمار سبھی تیری رحمت کے امیدوار ہیں،تو ان پر ترس

کھاتے ہوئے ہمیں اپنی دامنِ رحمت مین جگہ دے.”دعائیں ہوتی رہیں مگر بادلوں کا دور دور تک پتا نہ تھا، سورج کی تپش اور تیز ہو گئی. حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کو بڑا تعجب ہوا. اللہ تعالیٰ سے دعا کے قبول نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو وحی نازلہوئی:” تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے

جو گزشتہ چالیس سالوں سے مسلسل میری نا فرمانی کر رہا ہے اور گناہوں پر مصر ہے. اے موسیٰ! آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ وہ نکل جائے، کیوں کہ اس آدمی کی وجہ سے بارش رُکی ہوئی ہے اور جب تک وہ باہر نہیں نکلتا بارش نہیں ہوگی.”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: باری تعالیٰ! میں کمزور سا بندہ، میری آواز بھی ضعیف ہے،یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے بھی

زیادہ ہیں، میں ان تک اپنی آواز کیسے پہنچاؤں گا؟جواب ملا:” تیرا کام آواز دینا ہے،پہنچانا ہمارا کام ہے.”حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو آواز دی، اور کہا:” اے رب کے گناہگار اور نافرمان بندے! جو گزشتہ چالیس سال سے اپنے رب کو ناراض کر رہا ہے اور اس کو دعوتِ مبارزت دے رہا ہے….. لوگوں میں سے باہر آجا،تیرے ہی کالے کرتوتوںکی پاداش میں ہم بارانِرحمت

سے محروم ہیں.”اس گناگاربندے نے نے اپنے دائیں بائیں دیکھا، کوئی بھی اپنی جگہ سےنہ ہلا. وہ سمجھ گیا کہ وہی مطلوب ہے.سوچا کہ اگر میں تمام لوگوں کے سامنے باہر نکلا تو بے حد شرمندگی ہو گی اور میری جگ ہنسائی ہو گی .اور اگر میں باہر نہ نکلا تو محض میری وجہ سے تمام لوگ بارش سے محروم رہیں گے.اب اس نے اپنا چہرہ اپنی چادر میں چھپا لیا، اپنے

گزشتہافعال و اعمال پر شرمندہ ہوا اور یہ دعا کی:” اے میرے رب! تو کتنا کریم ہے اور بردبار ہے کہ میں چالیس سال تک تیری نافرمانی کرتا رہا اور تو مجھے مہلت دیتا رہا. اور اب تو میں یہاں تیرا فرمانبردار بن کر آیا ہوں، میری توبہ قبول فرما اور مجھے معاف فرما کر آج ذلت و رسوائی سے بچالے.”…………..

ابھی اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ آسمان بادلوں سے بھر گیا اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی.اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ عرض کیا: یا الہٰی! آپ نے بارش کیسے برسانا شروع کردی ،وہ نافرمان بندہ تو مجمع سے باہر نہیں آیا؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے موسیٰ! جس کی بدولت میں نے بارش روک رکھی تھی اسی کی بدولت اب بارش برسا رہا ہوں، اس لیے کہ اس

نے توبہ کر لی ہے.موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: یا اللہ ! اس آدمی سے مجھے بھی ملا دے تا کہ میں اس کودیکھ لوں؟فرمایا:”اے موسیٰ! میں نے اس کو اس وقت رسوا اور خوار نہیں کیا جب وہ میری نافرمانی کرتا رہا ،اور اب جب کہ وہ میرا مطیع اور فرمانبردار بن چکا ہے تو اسے کیسے شرمندہ اور رسوا کروں؟”٭….وہ ایک گناہگار اور نافرمان شخص تھا اور اس کی

بدولت بارش کا نزول نہیں ہو رہا تھا اور چند کو چھوڑ کر تمام اُمت ہی گناہگار اور غفلت میں ہو تو پھر کیا حشر ہوگا؟سورۃ الجن آیت نمبر 16 میں رب تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے:”لوگ اگر راہ راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی دیتے.

جو ہمارے ازلی دشمن بھارت کی ریشہ داوانیوں،ہمارے دوست نما دشمن امریکا اور اسرائیل کی گریٹ گیم کی وجہ سے ہے۔ بھارت نے اعلانیہ پاکستان توڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کے معاون بن کر ملک کو دشمنوں سے بچانے کی تدبریں کریں۔ نواز لیگ کے لوگوں کو اس بات کا ادراک کر لینا چاہیے کہ نواز شریف کرپشن کے لزام

میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ کی بنیاد پر تاحیات نا اہل ہوا ہے۔ اس کی چلائی ہوئی مہم کی کہ وہ نہیں ہے تو جمہوریت نہیں ہے ،فیل ہو چکی ہے۔ اس کے نا اہل ہونے کے بعد کسی کٹ پتلی نے آئین میں مداخلت نہیں کی ۔ آئین کے مطابق نواز لیگ نے اپنا نیا وزیر اعظم چن لیا جو ملک چلا رہا ہے۔ ملک میں جمہورت چل رہی ہے انشا اﷲ چلتی رہے گی۔

چنانچہ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ہمراہ لیا اور بستی سے باہر دعا کے لیے آ گئے.یہ لوگ ستر ہزار یااس سے کچھ زاہد تھے. موسیٰ علیہ السلام نے بڑی عاجزی سے دعا کرنا شروع کی:”میرےپروردگار!ہمین بارش سے نواز، ہمارے اوپر رحمتوں کی نوازش کر……چھوٹے چھوٹے معصوم بچے، بے زبان جانور اور بیمار سبھی تیری رحمت کے امیدوار ہیں،تو ان پر ترس

کھاتے ہوئے ہمیں اپنی دامنِ رحمت مین جگہ دے.”دعائیں ہوتی رہیں مگر بادلوں کا دور دور تک پتا نہ تھا، سورج کی تپش اور تیز ہو گئی. حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کو بڑا تعجب ہوا. اللہ تعالیٰ سے دعا کے قبول نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو وحی نازلہوئی:” تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے

اس پارلیمنٹ نے دنیا کا عجیب غریب بل بھی پاس کر لیا اور امین اور صادق نہ رہنے والے نا اہل شخص کو اپنا صدر بھی بنا لیا۔کسی نے مداخلت نہیں کی۔اب نواز لیگ مذید کیا اسے مغل اعظم بنانا چاہتی ہے۔ تو عرض گزارش ہے کہ ان وقت بادشاہتیں ختم ہو گہیں ہیں۔جمہوری طریقے سے سیاست کریں۔ آنے والے الیکشن کی تیاری کریں۔ اور ملک کی فوج اور اعلیٰ عدلیہ پر ناجائز تنقید بند

کر دیں۔ ورنہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ یوسف رضا بھی کنٹمٹ آف کورٹ پر نا اہل قرار پا چکے ہیں۔ کہیں نواز لیگ کے لوگ بھی پکٹر میں نہ آ جائیں۔ اس وقت سپہ سالار سیاسی قیادت کو سیکورٹی ،علاقائی،امریکی کردار پر بریفنگ دے رہا ہے۔ جو پاکستان کی حق میں۔ پاکستانی تاریخ کا خوش گوارلمحہ ہے۔ فوج اور سیاست دان ایک پیج پر ہیں۔

جس دن بڑے بڑے بادشاہ اس کے سامنے کانپ رہے ہوں گے

سونے سے پہلے اس نے اپنے غنودگی میں لیٹے شوہر کو مخاطب کیا..

سنیں فجر میں اٹھاؤں آپ کو؟اس نے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھولیں اور تھوڑے کڑوے لہجے میں بولا..تم کو کتنی دفعہ کہا ہے میں نیند سے نہیں اٹھ پاتا فجر میں، سارا دن کا تھکا ہارا ہوتا ہوں وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی. پر نماز تو فرض ہے ناں. فجر ہی کیا آپ کوئی بھی نمازادا نہیں کرتے.بس جمعہ یا عید.اس کی بات سن کر وہ جھنجلا کر بستر پر بیٹھ گیا اور کہادیکھو تم نماز پڑھتی ہو. میں کبھی نہیں ٹوکتا مگر یہ بار بار مجھے مت لیکچر دیا کرو. سب نے اپنا اپنا حساب دینا ہے. اب سونے دو مجھے اور لائٹ بند کر دو.وہ پھر بستر پر لیٹ گیا.اچھا سنیں…. اس کے پھر پکارنے پر اس کا ضبط جواب دے گیا.ایک بار کہہ دیا تو کیوں بحث کر رہی ہو بار بار… وہ کچھ دیر کے توقف کے بعد بولی..نماز کا نہیں کہہ رہی،

دوسری بات ہے….کیا! اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اب کیا پوچھنا چاہ رہی ہے..مجھے کل پیسوں کی ضرورت ہے.جو آپ نے دئیے سب ختم ہو گئے… سب ختم ہوگئے؟؟ اس کے لہجے میں بلا کی حیرت تھی…. خدا کی بندی ایسے کہاں خرچ کئیے پیسے؟ابھی آدھا مہینہ باقی ہے تنخواہ ملنے کو. اور تم نے مہینے بھر کا بجٹ ابھی سے ختم کر دیا؟میں آپ کو حساب نہیں دینا چاہتی، بس ہو گئے خرچ. کل بندوبست کر دیجئے گا پیسوں کا. اس کی بات پر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی…. کیوں حساب نہیں دینا چاہتیں..پیسہ کیا درختوں پر لگا ہے جو توڑ لے بندہ..ایسا تو آج تک تم نے نہیں کیا پھر اس بار..کچھ بھی ہو مجھے ساراحساب چاہئے. ابھی اس کا چہرہ بتا رہا تھا وہ سخت غصے میں ہے. اس کی بات پر وہ مسکرا دی. وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا.تم ہنس رہی ہو..مذاق ہے کیا یہ؟وہ بولی..میں اس لئے ہنس رہی ہوں کہ اللہ نے آپ کو اس گھر کا سربراہ بنا یا اور جب آپ کی سربراہی میں ،میں حساب نہ رکھ پائی تو آپ کو غصہ آ گیا..

اب سوچیں کل کو آپ سے بھی وہ رب محشر میں حساب مانگے گا تو کیسے دیں گے. آپ کا میرا حساب تو چند ہزار روپوں کا ہے پر بندے اور رب کا تو پوری زندگی کی ایک ایک نعمت کاہے جس کی کوئی قیمت نہیں…کوئی بدل نہیں… وہ جیسے سن ہوا اسے سن رہا تھا…وہ پھر بولی..میں نے تو آپ کو مزے سے کہہ دیا میرے پاس حساب نہیں. پر کیا آپ اس بڑے دن اس رب کے سامنے یہ کہہ سکیں گے؟جس دن بڑے بڑے بادشاہ اس کے سامنے کانپ رہے ہوں گے؟؟وہ چپ ہو چکا تھا نظریں جھکائے تصورمیں جیسے اس بڑے دن کے تصور سے کانپ رہا تھا…آپ فکر نہ کریں، ہر مہینے کی طرح اس بار بھی پورا ہو جائے گا کہیں خرچ نہیں ہوئے پیسے یہ تو بس اس لئے کہا کہا…اس نے بات ادھوری چھوڑ دی…سو جائیں میں لائٹ بند کر دیتی ہوں.وہ اٹھی تو وہ ایک دم بول پڑا.بات سنو! جی؟… تم اٹھو تو فجر کے لئے مجھے جگا دینا..یہ کہہ کر اس نے کروٹ بدلی اور آنکھیں بندکر لیں..اس کی بیوی نے اسے مسکرا کر دیکھا اور بتی گل کر دی..فجرمیں ایک نئی روشنی پھوٹنے والی تھی.

سبق آموز قصہ

ﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻗﺪﺭﮮ ﮨﭧ ﮐﺮ ﮐﭩﯿﺎﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮔﯿﺎﺟﻮ ﺣﻖﮐﺎ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﺗﮭﺎ.ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ:ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺑﮭﻼ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺯﻧﮓﮐﯿﺴﮯ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ؟ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮔﮩﺮﮮ ﺍﺳﺘﻐﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﺗﮭﮯ ﺳﻨﯽ ﺍﻥ ﺳﻨﯽﮐﺮﺩﯼ.ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﯼﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﺱ ﻧﮯﯾﮩﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭﮔﯽ ﺳﮯ

ﺍﺳﮯﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ:ﺟﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﭘﮍﯼ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﻠﮯﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮﻻ.ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺣﺪ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺍﺱﻋﺠﯿﺐ ﺟﻮﺍﺏ ﭘﺮ ﺟﺰﺑﺰ ﮨﻮﺍ ﻣﮕﺮ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺣﺎﺋﻞ ﺗﮭﺎ ﻟﮩٍﺬﺍﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮﺩﺭﯾﺎ ﮐﯽﺟﺎﻧﺐ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ.

ﮐﻮﺋﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﺑﺎﮨﺮﺳﮯ ﭼﻤﮑﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺳﯿﺎﮦ ﺗﮭﯽ.ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﺍﭨﮭﺎﮐﺮ ﭼﻼ ﺗﻮ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍﮐﮧ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺍﺥﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﭩﯿﺎ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﮩﮧﮔﯿﺎ. ﻭﮦ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﺟﺮﮦ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭﮐﮩﺎ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﺎ.ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭﮐﻮﺋﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﻞ

ﭘﮍﺍ.ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮﺍ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮩﮧ ﮔﯿﺎ.ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﮐﻤﺎﻝ ﻻﭘﺮﻭﺍﮨﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ:ﺟﺎ ﭘﮭﺮ ﻻ.ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺌﯽ ﭼﮑﺮ ﮐﺎﭨﮯ ﺟﺐ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﻮﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:ﺁﭖ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮﺭ ﮨﮯﮨﯿﮟﺟﺒﮑﮧ ﺁﭖ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺳﮑﺘﺎ.

ﺍﺏ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:ﺫﺭﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﮨﮯﺟﯿﺴﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ؟ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺻﺎﻑ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ،ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺎﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﺑﮭﺮﺍﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ.ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ:ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﯽ ﺻﻔﺖ ﻧﮯ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﮐﻮﺳﯿﺎﮦ ﺳﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﯾﮩﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺻﻔﺖﮨﮯ.ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺟﺎ،

ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺟﺎ، ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺟﺎ ﺍﺳﮑﯽ ﺻﻔﺎﺕ ﺗﯿﺮﮮﺩﻝ ﮐﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺯﻧﮓ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﻝ ﻣﯿﮟﻣﻮﺟﻮﺩ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺧﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﺯﻧﮓ ﺑﮩﺎﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﺻﺎﻑ ﺳﺘﮭﺮﺍ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽﺁﻻﺋﺶ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﮐﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﻮﮌﺩﮮ ﮔﺎ. ﺑﺲ ﯾﮩﯽ ﺗﮭﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎﺟﻮﺍﺏ

شادی میں لٹایا جانا ڈالر اور ریال کا
ریل گاڑی کے رکتے ہی بہت سے لوگ ٹرین کی طرف لپکتے ہیں، اور ’’خان پور کے مشہور پیڑے‘‘ کا شور سا برپا ہو جاتا ہے۔ ریل گاڑی میں لاہور سے کراچی سفر کریں تو پنجاب کے آخر میں خان پور کے نام سے ایک بڑا ریلوے سٹیشن آتا ہے، یہاں اکثر گاڑیاں کچھ دیر کے لئے رکتی ہیں، جیسا کہ ریل کی روایت ہے، گاڑی رکتے ہی ایک ہنگامہ برپا ہوتا ہے، اس ہنگامہ آرائی میں

وقت کی کوئی پابندی نہیں، کہ دن رات سفر میں گاڑی ہر سٹیشن پر مقررہ وقت پر پہنچتی اور مسافر اپنوں سے ملتے اور بچھڑتے ہیں۔ رات کے تین بجے بھی گاڑی رکی تو ایک ہنگامہ ضرور ہوگا، ایک تو مسافروں کے اترنے اور سوار ہونے کا اور دوسرا اشیائے خوردونوش اور مقامی شہر میں بنی ہوئی چیزیں جو روز مرہ میں کام آتی ہیں۔ خان پور میں بھی دیگر چیزوں کے علاوہ

’’پیڑے‘‘ بہت مشہور ہیں، مٹھائی کی ایک قسم ہے، کسی کو پسند ہو یا نہ ہو، مشہور بہت ہے۔

گزشتہ دنوں ٹی وی چینلز نے ایک تصویر دکھائی، کہ ایک بارات جب اپنی منزل کے قریب پہنچی تودلہا والوں نے نوٹ لُٹانے شروع کردیئے۔ بات پاکستان کی کرنسی تک محدود نہ رہی، بلکہ معاملہ امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں تک پہنچ گیا، مزید بات آگے بڑھی تو ڈبہ بند موبائل فون بھی لٹائے جانے لگے۔ نوٹ اور ڈبے لٹائے جارہے تھے، تو وہاں موجود عوام (اور باراتیوں ) کی جانب

سے یہ چیزیں لوٹی جارہی تھیں، یوں جانئے کہ لوٹ مچی ہوئی تھی۔ کسی کے ہاتھ ڈالر آیا تو کسی کے قابو میں ریال آیا، کوئی ڈبے پر جھپٹا تو کوئی نوٹ پر۔ کہیں چھینا جھپٹی میں ڈالر پھٹ گئے تو کہیں کوئی ڈبہ قابو کرتے زمین پر جاگر، کیا باراتی ، کیا مقامی ، کیا دلہن والے سب ہی مالِ غنیمت سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے، کوئی پاؤں تلے روندا جارہا تھا تو کسی کے کپڑے پھٹ رہے

تھے، دھکم پیل کا منظر تھا، کوئی گر رہا تھا تو کوئی نوٹ کو ہوا میں ہی ’کیچ‘ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نوٹ اور موبائل لٹتے رہے اور یار لوگ لوٹتے رہے، کون جانے کتنے کروڑ روپے کی مالیت کے ڈالر، ریال اور موبائل لٹائے گئے؟

خان پور کے مشہور ’پیڑے‘ اور بارات میں لٹائے جانے والے ڈالروں، ریالوں، نوٹوں اور موبائل ڈبوں کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا، مگر میڈیا والے بھی تحقیق کرکے بال کی کھال اتار ہی لیا کرتے ہیں، معلوم ہوا کہ یہ بارات خان پور سے شجاع آباد جار ہی تھی، یہ شادی بابا پیڑے والے کی نسل سے کسی کی بتائی جارہی ہے۔ خاندان نے یہ دولت نہ جانے کن ذرائع

سے کمائی تھی، کہ اس بے دردی سے لٹایا گیا۔ معاملہ صرف ’’پیڑے‘‘ فروخت کرنے تک ہی محدود نہیں رہا ہوگا، نسلیں باہر کی دنیا میں بھی کمائی کے لئے پہنچی ہونگی، ورنہ ڈالر اور ریال ایسے تو نہیں لٹائے جاتے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ خاندان کس قدر انکم ٹیکس ادا کرتا ہے، کہ جو لوگ شادی پر کروڑوں لٹا سکتے ہیں، ٹیکس بھی یقینا کروڑوں میں ہی ادا کرتے ہوں

گے، یہ تو انکم ٹیکس والے جانیں یا کاروبار والے۔ اس سے قبل ملتان میں بھی ایسی ہی شادیاں دیکھنے میں آئیں جن میں سونے کے تاروں سے بُنے سہرے باندھے گئے، اصلی شیر بارات میں شامل کئے گئے، سنا ہے کہ اُن شادیوں کے بعد ایف بی آر والے بھی ’’جائے واردات ‘‘ پر پہنچ گئے، نہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بات قومی خزانے کی رونق بڑھانے تک پہنچی یا پھر معاملہ

محکمانہ اہلکاروں کی جیبیں گرم کرنے تک ہی محدود رہا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں دولت جس طریقے سے دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر جمع کی جاتی ہے، تو سمجھ نہیں آتی کہ اسے خرچ کیسے کیا جائے؟ ورنہ محنت سے کمائی ہوئی دولت کو اس طرح لٹایا جانا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ خیر یہ سرمایہ ’’بابا پیڑے والے‘‘ کا ذاتی تھا، قومی خزانے میں نقب نہیں لگایا گیا تھا، اس لئے تنقید اس طرح

نہیں ہو سکتی جیسے قومی خزانہ لوٹنے والوں پر ہوتی ہے، مگر جس ملک میں غربت اور افلاس ہو ، لوگوں کو تعلیم، صحت اور صاف پانی سمیت دیگر بنیادی سہولتیں بھی میسر نہ ہوں وہاں اس قدر سرمایہ کا ضیا ع غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔

ایک باپ کی بیٹی کو نصیحت

بیٹی بد دل ہو کر میکے آ گئی‘ باپ نے کہا تمہارے ہاتھ کا کھانا کھائے بہت دن ہو گئے ہیں‘ آج میرے لئے ایک انڈا اور ایک آلو ابال دو اور ساتھ میں ایک گرما گرم کافی لیکن 20 منٹ تک چولہے پر رکھنا۔جب سب کچھ تیار ہو گیا تو کہا آلو چیک کر لو‘

ٹھیک سے گل کر نرم ہو گیا ہے‘ اب انڈا چھو کر دیکھو‘ ہارڈ بوائل ہوگیا ہے اور کافی بھی چیک کرو‘ رنگ اور خوشبو آ گئی ہے؟بیٹی نے چیک کر کے بتایا کہ سب پرفیکٹ ہے۔باپ نے کہا‘ دیکھو تینوں چیزوں نے گرم پانی میں یکساں وقت گزارا اور برابر کی تکلیف برداشت کی‘ آلو سخت ہوتا ہے‘ اس آزمائش سے گزر کر وہ نرم ہو گیا‘ انڈا نرم ہوتا ہے ‘ گرے تو ٹوٹ جاتا ہے لیکن اب سخت ہو گیا ہے ۔

اس کے اندر کا لیکویڈ بھی سخت ہو چکا ہے‘ کافی نے پانی کو خوش رنگ‘ خوش ذائقہ اور خوش بودار بنا دیا ہے‘ تم کیا بننا چاہو گی؟ آلو‘ انڈہ یا کافی؟ یہ تمہیں سوچنا ہے ‘خودتبدیل ہو جاؤ یا پھر کسی کو تبدیل کر دو‘ ڈھل جاؤ یا ڈھال دو‘ یہی زندگی گزارنے کا فن ہے‘ سیکھنا‘ اپنانا‘ تبدیل ہونا‘ تبدیل کرنا‘ ڈھلنا اور ڈھل جانا‘ یہ اسی وقت ممکن ہے‘ جب نباہ کرنے کا عزم ہو کہ کم ہمت منزل تک نہیں پہنچتے‘ راستے ہی میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

یہ میرا نوکر ہے –

ایک واقعہ اکبر الہ آبادی مرحوم کا ہے کہ ان کا بچہ بیرون ملک تعلیم حاصل کر کے لوٹا تو یہ سادہ لباس پہنے بچےکو لینے ایئرپورٹ پر پہنچے تو بیٹے کےساتھ آئے دوستوں نے جب ان کے بارے میں پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟ تو بچے کو یہ بتاتے ہوئے شرم آئی کہ میں پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک دیہاتی کو والد کہوں.انگلش میں کہنے لگا کہ یہ میرا نوکر ہے.

جس پر اکبر آلہ آبادی مرحوم نے تاریخی شعر کہا تھا کہہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں جن کو پڑھ کر بچے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں دو چار لفظ انگلش یا سائنس کے کیا آجاتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی اس کامیابی میں والدین کی محنت بھی شامل ہے جس پر ان کا مشکور ہونے کے بجائے

ان کو خدا کی پناہ پاگل و ناجانے کیا کیا کہتے ہیں. تو آئیے اپنے نفس کو یہ باور کروائیں کہ جس ماں باپ نے ہمیں گویائی کا طریقہ سکھایا، انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا اور سب سے بڑھ کر ہمارے دنیا میں آنے کا سبب بنے ان کے سامنے ہماری کچھ حیثیت نہیں ہے اپنی تمام تر عقلمندی کو خاک میں ملادیں ان کے آگے خود کو ویسا ہی خیال کریں جیسا کسی کہ بچپن میں کیا کرتے تھے جب کوئی چیز دیکھتے یا سنتے تو ان سے پوچھا کرتے کہ یہ کیا ہے؟

تاکہ ہمارے بچے ہمارا لحاظ کریں ورنہ جس طرح زمانہ جدت کی طرف جا رہا ہے آج اگر ہم موبائل، کمپیوٹر و دیگر چیزیں استعمال کرنے میں ماہر اور ہمارے والدین ان سے ناآشنا ہیں تو کل کلاں اس سے جدید آلات ایجاد ہوں تب ہم ان سے نابلد اور ہمارے بچے ان کے پرزے پرزے سے واقف ہوں گے. اللہ مجھ سمیت ہر ایک کو والدین کی قدر اور خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے…آمین

..

امریکہ، اسرائیل اور عالم اسلام
ہ خبر سن کر کے امریکہ نے قابض عرب علاقوں پر قائم غیر قانونی ریاست اسرائیل کے دارلحکومت تل ابیب سے اپنا سفارتحانہ یروشلم منتقل کرنے اعلان کر دیا ہے یرو شلم تاریخی اعتبار سے مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصٰی کا مقام ہے یروشلم اور اس کی عبادت گاہ جس کی بنیاد حضرت داؤدؑ نے رکھی اور تکمیل حضرت سلمان ؑ نے کی عام طور پر یروشلم کو بھی بیت المقدس ہی کہا جاتا ہے یہ ان شہروں میں سے ایک ہے جنہیں نوع انسانی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے جس کا ذرہ ذرہ مقدس ہے اکثر انبیاؑ اسی شہر میں مبعوث ہوئے جب آپ ؐ معراج کے لیے گئے

تو یہی مقام آپ ؐ کی پہلی منزل بنا ۔اس مقام پر آپ ؐ نے انبیاؑ کی امامت فرمائی ۔حضرت سلمان ؑ کی وفات کے بعد بنی اسرائیل دو حصو ں میں بٹ گئے اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل فواحش، حرامکاری اور عیاشی میں مبتلہ ہوگئے اور انہوں نے ایک اﷲ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا شروع کر دی۔ اسرائیل فلسطینی علاقے یر وشلم پر بھی قابض ہو گیاغیر قانونی بستیوں کی تعمیر اوربے گناہ

فلسطینی مسلمانوں کا قتل ِعام اور اسرائیل روز بروزفلسطینی علاقوں پر قبضہ کرتا جا رہا ہے امریکہ کے اس اسلام دشمنی فیصلے سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور اسلامی ممالک میں غم و غصہ کی لہر نے جنم لیا ہے عوام اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی پوری دنیانے امریکہ کے اس فیصلے کو اقومِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور کھلی بدمعاشی قرار

دیا ہے اقومِ عالم اور اقوام متحدہ کی مخلصانہ کوششوں کو امریکہ اوراسرائیل نے پاؤں تلے روند ڈالا ہے عرب ممالک اور عرب علاقوں پر قبضہ اور انتشار کوئی نئی بات نہیں ہے امریکہ ہر جگہ اسرائیل کے غلط اقدام کی حمایت کرتا ہے اور کھلے عام ساتھ بھی دیتا ہے آپ یوں بھی فرض کر سکتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا دوسرا نام ہے اور ہم اسرائیل کو امریکہ کا لاڈلہ بھی

کہہ سکتے ہیں اسلامی ممالک میں امریکہ کے فیصلے سے غصہ کی لہر نے جنم لیا ہے کیونکہ مسلمانوں کا قبلہ اول یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھ جارہا ہے ایک مسلمان ہونکے ناطے مسلم

ممالک کی حالت کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے مگر کیونکہ مسلمانوں کی مدد کا وعدہ اﷲ مالک نے کیا ہے اس لیے فتح انشاء اﷲ مسلمانوں کی ہوگی ۔آج ہٹلر کی یہ بات سچ ثابت ہوتی نظر آتی ہے جب جنگ عظیم میں ہٹلر نے یہودیوں کا قتل ِ عام کیا اور کچھ یہودی اس نے زندہ چھوڑ دیئے کہ دنیا کو پتا چل سکے کہ یہودی دنیا کی تباہی اور انتشار کی علامت ہیں اور ہٹلر

کیوں ان کو مٹا دینا چاہتا تھا؟یہودی دماغ نے عیسائیت مذہب میں چالاکی کے ساتھ یہ بات بیٹھا دی ہے کہ کوئی بھی قوم خصوصاً مسلمان اگر یہودیوں پر حملہ کریں تو دفاع عیسائی کریں گے اپنے اس مفروضے کی بنیاد پر مسلمانوں کا مقابلہ یہودی اورعیسائی ممالک سے ہونے کا خدشہ لازمی ہے اور یہ بات ذہن نشین رہنا ضروری ہے کہ اسرائیل کا مقابلہ دفاع میں امریکہ اور عیسائی ممالک

کا گٹھ جوڑ لازمی ہوگا ۔اسرائیل مسجد اقصیٰ کو خدانخواستہ گرا کر عظیم قبلہ اول (عیسائیوں اور یہودیوں کی مشترکہ عبادت گاہ)کی تعمیر کی طرف بڑھ رہا ہے امریکہ ،یورپ اور اسرائیل سے مل کرراستے کے تمام کانٹے ایک طرف کرتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔مسلمانوں کی حالت قابل رہم ہے مسلم ممالک جمہوریت ،مذاکرات، اقوامِ متحدہ کی بدولت یرغمال

بنے ہووے ہیں شام فلسطین سمیت دیگر عرب علاقوں پرسب جانتے ہیں کہ اسرائیل قابض ہے۔امریکہ ،اسرائیل یورپ نے بڑی چالاکی سے عربوں کو عیاشی کی زندگی میں دھکیلا ہے اسلامی نظام حکومت کو ختم کرکے اسلامی ممالک میں جمہوریت امریکی عیسائی نظام کو پر وان چڑھایا ۔عراق،مصر، لیبیا، صومالیہ، یمن، شام، افغانستان فلسطین پربراہ راست عیسائی اور یہودی حملہ آور ہوئے اور

آج بھی ان کی بمباری کا محور بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان،مصر،ترکی اور عرب ممالک میں آئے روز کے انتشاراور نام نہاد دہشت گردی کا تحفہ ان امریکی اور یہودی سازشی ذہن کی چال ہے بڑی عقلمندی سے اس نے اسلامی ممالک کو آپس میں لڑایاہے(یا ) ان کو خانہ جنگی کا شکار کر کے کمزور کیا ہے تاکہ ان ممالک کی طرف سے مزاحمت کا ڈر نہ ہو۔اسلامی ممالک کی حکومتیں یا

تو کمزور حالت میں ہیں یا ان کے حکمران بکاؤ مال بن چکے ہیں حکمرانوں کو اسلامی ممالک کی عوام کا پیسہ لوٹ کر عیسائی اور یہودی ممالک کی بنکوں میں رکھنے کے علاوہ کوئی کام نہیں اسی وجہ سے وہ معاشی طور پر مضبوط ہوئے ۔مگر اسلام کی فتح یقینی ہے یہ جنگ صلیبی جنگ ہے جس کا آغاز عیسائی اور یہودی کئی دہائیوں پہلے سے کر چکے ہیں۔مگر ہم عالم اسلام ابھی تک بھی نیند کی حالت میں ہیں اب ہمیں بیدار ہونا ہوگا اسلام کی بقاء اور اسلامی ممالک کی حفاظت کے لیے متحد ہونا ہوگا داخلی انتشار کی جنگ سے باہر نکلنا ہوگا اپنی عوام کو جہادی اصولوں

کی روشنی میں تیار کرنا ہوگا ۔یورپی ،یہودی ،عیسائی مصنوعات اور منڈیوں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا روس ،چین،شمالی کوریاجن کو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ امریکی نظام کے مخالف ہیں انکی طرف راغب ہو کراپنے آپ کو مضبوط کرنا ہوگااسلامی ممالک کی مشترکہ گٹھ جوڑہر میدان میں مدد لازمی ہے غدار حکمرانوں اور اپنے آقاؤں امریکہ اسرائیل کے نام لیواؤں کی روک تھام کرنا ہوگی ۔داعش

جیسی تنظیمیں ہمارے دشمنوں کی بنائی ہوئی ہیں انکی جڑ کو پکڑنا ہوگااسلامی دنیا کو فتنے سے نکالنے کا وقت ہے اسلامی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے جہادی نظریئے پراپنی اپنی عوام کواسلحہ کی تربیت اور دفاع کی طرف سوچنا ہوگا۔مذاکرات کی میز اقوام متحدہ کے اصولوں کی کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی دشمن گھر میں داخل ہوکر حالت جنگ میں ہے اور ہم غافل بنے بیٹھے ہیں عرب

ممالک کو متحد ہونا ہوگا عمارتوں کی تعمیر کو چھوڑ کراصلحہ اور جنگ و حرب کا شوق دوبارہ زندہ کرنا ضروری ہو گیا ہے ورنہ یہ صلیبی جنگ تباہی کی علامت ہے نقصان زیادہ مسلمانوں کا ہوگا فلسطین پر امریکہ کی پشت پناہی پراسرائیل کا قبضہ ہے کشمیر پر امریکہ کی پشت پناہی پر بھارت کا قبضہ ہے عالم اسلام کے لیے لمحہ فکریا ہے امریکہ کھلم کھلا اسلام دشمنی میں سب سے

آگے ہے ہماری بقاء اسلامی اصولوں کے مطابق ہے اسلامی اصولوں کی روشنی میں جنگی تیاری ہی ہماری فتح کی علامت ہے اور جسم پوشی موت ہوگی۔امریکہ اور سامراجی نظام کو چھوڑ کراﷲ کے دیئے ہوئے نظام کی طرف راغب ہونا کامیابی ہے جانوروں سے محبت کرنیوالا امریکی ،اسرائیلی اور یورپی معاشرہ دوسرے ممالک خصوصاً اسلامی ممالک میں انسانوں کا قتل ِ عام کرنے میں

سب سے آگے ہے اقوام ِ متحدہ سے یرغمال بنانے اور اپنے مقاصد کے علاوہ کچھ نہیں ہے کوے کے مرجانے سے کوؤں کی طرح اکٹھے ہونے سے شور مچاکر اسلامی ممالک امن و سلامتی اور
اپنے حقوق کا کبھی دفاع نہیں کر سکتے ۔بیان بازیوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہونگے دشمن بیان بازیوں سے راہ راست پر آنیوالا نہیں ہے جس کی مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے میڈیا اور اسلامی درد رکھنے والے دانشور بار بار لکھے جا رہے ہیں اور بولے جا رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے حامی ممالک کی جنگ سے باہر نکلو اسلامی ممالک اپنے اپنے علاقوں سے ان شیطانی

کارندوں کو نکالیں ان ممالک کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوں بلکہ ان کا معاشی ،سماجی و ثقافتی ہر طرح سے بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ورنہ آنکھیں بند کر کے کبوتر کی طرح بلی کا شکارنہ ہو جائیں ۔امریکہ کے اس اقدام سے جہادی قوتیں زور پکڑیں گی حکمرانوں اور اسلامی ممالک کو اس طرح تقسیم ہونے کی بجائے ایک پلٹ فارم پر اکٹھا ہوکرعوام کو دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کرنا ہوگا

پورا شہر مسلمان ہوگیا –

حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں”میں نے ایک سال حج کا عزم کیا.جب اونٹنی پر سوار ہوا تو اس کا رُخ کعبہ کی طرف ہی تھا لیکن جب میں نے اُس کی گردن پر ہاتھ مارا تووہ قُسطُنطُنیہ(اِستنبول) کی طرف مُڑگئی .

میں نے کئی مرتبہ اس کا رُخ موڑا مگروہ قبلہ کی طرف نہ مڑی،میں نے اپنے دل میں کہا:”اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اس میں ضرورکوئی راز پوشیدہ ہے.”میں نے اُس کی مرضی کے مطابقاُسے جانے دیا اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی : ”اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اگر تو مجھے اپنے گھر نہ جانے دے تو میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں،تمام معاملہ تیرے ہی پاس ہے .”فرماتے ہیں کہاونٹنی تیزی سے چلتی ہوئی قسطنطنیہ میں داخل ہوگئی.

جب میں شہر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ فتنہ وفساد میں مبتلاہیں.میں نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اس کا سبب کیا ہے؟ تواس نے بتایا:”بادشاہ کی بیٹی کی عقل زائل ہو گئی ہے اور لوگ کوئی ایساطبیب تلاش کر رہے ہیں جو اس کا علاج کرسکے.”میں نے دل میں کہا: ”میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت کی قسم! اسی کام کے لئے میرے رب عَزَّوَجَلَّنے مجھے اس سال حج سے روک دیا

ہے.”میں نے ان لوگوں کو بتایا:”میں طبیب ہوں.”انہوں نے پوچھا”کیاآپ علاج کریں گے؟”میں نے کہا : ”ہاں! اِنْ شَآءَ اللہ عزَّوَجَلَّ.”لوگوں نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے بادشاہ کے پاس لے گئے. اس نے اپنی بیٹی کا علاج میرے ذمے لگا دیا. میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کی اور کمرے میں داخل ہوگیا، میں نے وہاں لوہے کی کَھْنَک سنی اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا:”اے جنید (

رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ )!اونٹنی نے تجھے ہماری طرف لانے کی کتنی کوشش کی جبکہ تواسے کعبہ مشرَّفہ کی طرف پھیرتا رہا.”اس کلام سے میری عقل کھو گئیپھر میں اندر داخل ہوا تو ایسی لڑکی دیکھی کہ دیکھنے والوں نے اس سےزیادہ حسین لڑکی نہ دیکھی ہوگی،وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی،میں نے اس سے پوچھا:” یہ کیسی حالت ہے؟”تواس نے جواب دیا:”اے دلوں کے طبیب !

مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس سے میں غم سےنجات پا جاؤں

.”میں نے اُسے کہا:”لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )پڑھ.”اس نے بلند آواز سے کلمہ پڑھاتوہتھکڑیاں اور بیڑیاں کُھل گئیں.جب اس کے باپ نے دیکھا تو کہنے لگا:”آپ کتنے اچھے طبیب ہیں اور آپ کی دوا کتنی اچھی ہے. میر ا علاج بھی اِسی دوا سے کر دیجئے جس سے اس کا علاج کیا ہے .”تومیں نے کہا:”تم بھی پڑھو: ”لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ

اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )”پھر اس کی ماں آئی ،وہ بھی دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور مسلمان ہو گئی. پھر اس شہر میں رہنے والے سب لوگ مسلمان ہو گئے.اس پر میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی حمد کی اور روانگی کاارادہ کیا تو وہ لڑکی کہنے لگی:”اے جنید ( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! جانے کی جلدی نہ کیجئے، میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی ہے کہ آپ کی

موجودگی میں میرا ا نتقال ہو، آپ میری نمازِ جنازہ پڑھائیں اور دفن کریں .” پھر اس نے کلمۂ شہادت پڑھ کر موت کا جامنوش کرلیا.

پہلے ہی عمیق مسائل میں گھرا ہوا ہے اس میں ایسی باتوں سے مزید افرا تفری پیدا ہونے کا اندیشہ ہے امریکن صدر کے پریشر کے باوجود ایٹمی دھماکے کرنے والے شخص پر امریکی بھارتی ایجنٹ ہونے کا الزام کسی صورت جچتا نہیں عمران خان کے جلسہ میں مولوی ڈیزل کہہ کر مولاانا مفتی محمود کے فرزند فضل االرحمٰن پر بھبتیاں کسنابھی سیاسی موسم کا درجہ حرارت مزید گرم

کرتا چلا جارہا ہے اس کے برعکس شریفوں کے وزراء بھی کچھ کم نہیں کر رہے وہ بھی ہر صورت غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے عمران خان کے لتے لیتے رہتے ہیں اورایسی ایسی سیاسی اصطلاحات ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں جو کہ پاکستانیوں کے سینوں میں خنجر کی طرح چبھ جاتے ہیں پی پی پی کے بارے میں بھی مذکورہ دونوں پارٹیو ں کی زبان ان کے شایان شان نہیں

ہے ٹی وی اینکرز بھی اپنا ریٹ بڑھانے کے لیے سخت زبان استعمال کرنے والے افراد کو بلاتے اور ایکدوسرے کے غلیظ کپڑے کھلے میدان میں دھوتے رہتے ہیں ۔عمران خان صاحب کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ائیر مارشل ریٹارئرڈ اصغر خان جیسی مقبولیت شاید وہ کبھی بھی ناپاسکیں کہ انہوں نے 1977میں پاکستان قومی اتحاد کی نظام مصطفیٰ تحریک کے دوران کراچی میں 20لاکھ

افراد پر مشتمل جلوس کی قیادت کی تھی اور ایوبی دور میں خان عبدالقیوم خان نے 37میل لمبا جلوس نکالا تھا مگر اب ان کی جھاگ کبھی کی بیٹھ چکی اور پاکستانی سیاست میں ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا ان کا سیاسی سورج نصف النہار پر چمک رہا تھا ور راقم خود شیخ رشید اور جاوید ہاشمی کے ساتھ ایک ہی وقت اکٹھے اصغر خان کی تحریک استقلال میں 22دسمبر 1976کو مشہور

زمانہ وکیل محمود علی قصوری صاحب کے دفتر ملحقہ لاہور ہائیکورٹ میں شامل ہوئے تھے بعد ازاں میاں نواز شریف اور اعتزاز احسن بھی تحریک استقلال کے ہو کر رہ گئے۔ضیاء الحق کے ملک پر قبضہ کے بعد جاوید ہاشمی تو امور نوجوانان کے وزیر مملکت بن کرہمارا ساتھ چھوڑ گئے مگر میں اور شیخ رشید و دیگر افراد عرصہ دراز تک ان کے ساتھ رہے تاآنکہ انہوں نے خود ہی

پارٹی کی قیادت چھوڑ دی اور بھٹو کو ہالا کے پل پر پھانسی پر لٹکانے کے نعرے لگانے والا اصغر خان خود ہی بینظیر بھٹو صاحب کے ساتھ اتحادوں میں شامل ہو گیا اور اپنے بیٹے کو وزیربنوالیا جو بعد میں قتل ہو گئے مخالفین کے خلاف گالم گلوچ کی سیاست کو پاکستانیوں نے کبھی پسند نہیں کیا کہ اس کا نتیجہ کبھی بھی ملک کے حق میں اچھا نہیں نکلا ہم پہلے ہی1 197

جیسے سانحہ سے دوچار ہوچکے ہیں جس میں ہم نے اپنا مشرقی بازو کھودیاکہ اقتدار پر رہنے کی ضد کی وجہ سے یحیٰی خان نے بنگلہ بھائیوں کو دھکے دے کر علیحدہ کیا تھا اور مجیب الرحمٰن کی طرف سے یحیٰی خان سے ملاقات کے دوران اسے صدر پاکستان برقرار رکھنے کا وعدہ نہ کرنے پر فوجی ایکشن شروع کر ڈالا گیاادھر یحیٰی بھٹو کی لاڑکانہ میں ملاقات کے بعدجب بھٹو صاحب

کو سلامتی کونسل میں پاکستانی نمائندہ کے طور پر بھیجا گیا تو انہوں نے پولینڈ و دیگر ممالک کی قرار داد جس میں مشرقی پاکستان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا اسے پھاڑ ڈالا اور ہزار سال تک بھارت سے جنگ لڑنے کے جذباتی نعرے لگا کربھٹو صاحب سلامتی کونسل کے مخصوص اجلاس کا بائیکاٹ کرکے واپس آگئے اب چونکہ سبھی مہرے اپنا اپنا کام کرچکے تھے اس

لیے یحییٰ خان نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں 98ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دے دالا۔اور جنرل نیازی نے بھارتی جنرل اروڈا کے آگے اپنا پستول رکھ کر جنگ بندی کے معاہدہ پر دستخط کر ڈالے اور سقوط ڈھاکہ کے نام سے تاریخ کی بدترین شکست مسلمان سپاہ نے قبول کر لی اور یوں سبھی غدار کرداروں کا مشن مکمل ہوگیا اور ملک دو لخت ہو گیااس وقت بھی ہم آجکل کی

طرح جذباتی نعروں اور ایک دوسرے کے خلاف گالم گلوچ اور تشدد پسندانہ سیاست سے بھرپور کردار ادا کر رہے تھے بھٹو نے تو اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگاتے ہی پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس جو کہ ڈھاکہ ہی میں منعقد کیا جانا تھا کہ بارے میں کہہ ڈالاکہ جو شخض مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اس طرح یحٰیی خان ہر صورت صدارت پر برقرارہنے اور مغربی پاکستان میں زیادہ ممبرز رکھنے کی وجہ سے اقتدار کی سیڑھیوں پر فوراً چڑھ جانے جیسی خواہشات کی غلامی نے ملک ہی گنوا ڈالا۔

خط –

ایک دفعہ مولانا ظفر علی خان کے نام مہاشہ کرشن ایڈیٹر “پرتاپ” کا دعوت نامہ آیا جس میں لکھا تھا: “فلاں دن پروشنا فلاں سمت بکرمی میرے سُپّتر ویریندر کا مُونڈن سنسکار ہوگا. شریمان سے نویدن ہے کہ پدھار کر مجھے اور میرے پریوار پر کرپا کریں.

شُبھ چنتک کرشن.”( فلاں دن میرے بیٹے ویریندر کی سر مُنڈائی ہے. آپ سے درخواست ہے کہ تشریف لا کر مجھ اور میرے خاندان پر مہربانی کریں. ) مولانا نے آواز دی سالک صاحب! ذرا آئیے گا. فرمایا کہ مہربانی کرکے اس دعوت نامے کا جواب آپ میری طرف سے لکھ دیجیے. “برسات کے دن ہیں،

بارش تھمنے کا نام نہیں لیتی، میں کہاں جاؤں گا، معذرت کر دیجیے.” میں نے اُسی وقت قلم اٹھایا اور لکھا: “جمیل المناقب، عمیم الاحسان، معلّی الألقاب، مدیرِ پرتاپ السلام علیٰ من اتّبع الھُدیٰ! نامۂ عنبر شمامہ شرفِ صدور لایا. از بس کہ تقاطرِ امطار بحدّ ہے کہ مانع ایاب ذہاب ہے. لہٰذا میری حاضری متعذّر ہے. العُذر عند کِرام النّاسِ مقبول.” الرّاجی الٰی الرّحمة والغُفران ظفر علی خان. مہاشہ کرشن نے یہ خط پڑھنے کی کوشش کی. کچھ پلے پڑنا تو درکنار، وہ پڑھنے میں بھی ناکام رہے.

آخر مولانا کو دفتر “زمیندار” ٹیلی فون کر کے پوچھا: “مولانا! آپ کا خط تو مل گیا لیکن یہ فرمائیے کہ آپ آسکیں یا نہیں؟” اس پر مولانا ظفر علی خان نے بے اختیار قہقہہ لگایا اور مہاشہ جی سے کہا کہ: “آپ کا خط میں نے ایک پنڈت جی سے پڑھوایا تھا. آپ بھی کسی مولوی صاحب کو بلوا کر میرا خط پڑھوا لیجیے.

..

بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
اگر دیکھا جائے تو جسمانی غلامی اتنی معیوب نہیں جتنی ذہنی غلامی ہے ۔ اگر کسی قوم کی فکر اور سوچ آزاد نہ ہو تو وہ کبھی بھی شکست تسلیم نہیں کرتی ، اور موقع پاتے ہی خود کو آزاد کروا لیتی ہے ۔جبکہ کسی قوم کا ذہنی غلامی میں مبتلاء ہو جانا اس کے اندر سے سوچنے تک کی صلاحیت کو ختم کر کے رکھ دیتا ہے ۔ذہنی غلامی کا شکار قوموں کی ترجیحات ہی بدل جاتی ہیں

، جیسے کو ئی ریوڑ ہانکا جا رہا ہو۔ نہ تو سوچنے کی صلاحیت رہتی ہے اور نہ ہی حالات کو اپنی نظروں سے دیکھتی ہیں بلکہ ان کے آقا جس طرف چاہتے ہیں انکی سوچوں کا رخ موڑ دیتے ہیں ، پھر اس پر ستم بالائے ستم کہ یہ بے چارے غلام یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم آزاد سوچ کے مالک ہیں ۔اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں مسلمانوں کو ہر قدم نازک حالات سے نبرد آزما

ہونا پڑا ۔ احمد مجتبی ، نبی آخرالزماں ﷺ کے وصال کے فوراََ بعد اٹھنے والا ارتداد کا فتنہ کوئی معمولی فتنہ نا تھا ۔ اگر اسلام کی بجائے دنیا کا کوئی اور مذہب ہوتا تو اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہتا ۔ لیکن اس خطرناک فتنے سے مسلمان سرخرو ہو کر نکلے ۔1258ء میں فتنۂِ تاتار در حقیقت ساری دنیا سے مسلمانوں کا وجود مٹا دینے کی سازش تھی ۔ تاتاری ایک کے بعد ایک مسلم

علاقہ فتح کرتے جاتے تھے ، یوں لگتا تھا کہ اس تباہی مچاتے خونی سیلاب کو کوئی نہیں روک پائے گا ۔ کیونکہ کسی قوم کیلئے اس سے بڑی مایوس کن ، خوف کی بات کیا ہو گی کہ اس کے دارالخلافہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے ،اور خلیفۂِ وقت کو چٹائی میں لپیٹ کر گھوڑوں کے سموں تلے روند ڈالا جائے ۔لیکن اس سب کے با وجود بھی مسلمان ہمت نہیں ہارے اور تاتاریوں کے

خلاف میدانِ جہاد میں نکل آئے اور بالآخر انکو شکست دی۔ غرض یہ کہ جب تک مسلمانوں میں خلافت رہی مسلمان کبھی کسی قوم کے ذہنی غلام نہیں بنے بلکہ انکی سوچیں ہمیشہ آزاد رہیں ۔لیکن خلافت ٹوٹنے کے بعد جہاں ایک طرف مسلم علاقوں پر کافر قبضہ کرتے چلے گئے وہیں ان کے ذہن بھی کافروں کی غلامی میں جاتے رہے ۔ا س غلامی کے اثرات اتنے مؤثراور دیر پا ثابت ہوئے

کہ جسمانی آزادی کے باوجود بھی مسلمان ذہنی طور پر کافر طاقتوں کے غلام ہی رہے ۔ذہنی غلامی کی سب سے بڑی نحوست یہ ہوتی ہے کہ ایسی قومیں اچھے کو برا، برے کو اچھا، نفع کو نقصان اور نقصان کو نفع، دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن سمجھ رہی ہوتیں ہیں ۔اس ذہنی غلامی کے زہریلے اثرات نے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی کہ اس دور میں اسلامی خلافت

کی کوئی ضرورت نہیں ، اور اب جمہوریت کا دور ہے ۔اس طرح جمہوریت کو اسلامی خلافت کا نعم البدل قرار دیا گیا ۔اسی ذہنی غلامی نے مسلمانوں کو قرآن و حدیث کے مطابق سوچنے کی صلاحیت سے قاصر کر دیا کہ وہ حالات کا قرآن و حدیث کی روشنی میں تجزیہ کر سکیں ۔امریکہ کی عالم ِ اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کو مکمل اقتصادیات کی جنگ قرار دیا جا رہا ہے

حالانکہ عالمِ کفر خود اس جنگ کو مذہبی ہونے کا اعلان کر رہا ہے ۔غلام ذہنوں کے مالک نام نہاد دانشور وں کے بقول عراق پر قبضہ تیل کی دولت پر قبضہ اور افغانستان پر قبضہ وسطِ ایشیاء کے معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔ایسے دانشوروں کے بارے میں صیہونی طاقتیں کہتی ہیں کہ یہ لوگ ہمارے ہی ذہن سے سوچتے ہیں جو رخ ہم ان کو دیتے ہیں یہ

اسی پر سوچنا شروع کر دیتے ہیں ۔لیکن میری نظر میں جہاں تک تعلق وسائل پر قبضے کا ہے تو اگر آج سے ایک صدی پہلے جنگوں کے بارے میں کہا جاتا تو کسی حد تک درست تھا لیکن اس دور میں ان جنگوں کو تیل اور معدنی وسائل کی جنگ کہنا اسلئے درست نہیں کہ امریکہ پر حکمرانی کرنے والی اصل قوتیں اب تیل اور دیگر دولت کے مرحلے سے بہت آگے جا چکی ہیں ۔ اب

ان کے سامنے آخری ہدف ہے اور وہ اپنی چودہ سو سالہ جنگ کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں ۔دنیا کے تمام وسائل پر اگرچہ امریکہ کا قبضہ نہیں ہے لیکن ان تمام وسائل پر ان یہودیوں کا قبضہ ہے جنکے قبضے میں امریکہ ہے جبکہ یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ افغانستان ، عراق، شام اور دیگر مسلم ممالک پر چڑھائی کرانے والی وہی قوتیں ہیں تو پھر ایسی چیز

جو انکے پاس ہے کو حاصل کرنے کیلئے جنگ کرنے کو بھلا کیا ضرورت پیش آ سکتی ہے ؟ میرے کہنے کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ ان وسائل سے امریکہ کو کوئی سروکار نہیں! سروکار ہے! لیکن ان جنگوں کا پہلا مقصد یہ وسائل نہیں بلکہ جو محمد ِ عربی ﷺ نے چودہ سو سال پہلے بیان فرما دیا ہے ۔ان جنگوں کو اقتصادی جنگ کا نام دینے کا صرف یہی مقصد ہے کہ مسلمان ان

جنگوں کو مذہبی جنگ نہ سمجھنے لگیں کہ یہ چیز ان کے اندر جذبۂِ جہاد اور شوقِ شہادت کو زندہ کر دیگی ۔سوچو ں میں اس تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمان موجودہ حالات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ان کی بنیاد مغربی میڈیا کے تجزیے اور تبصرے ہوتے ہیں ۔ ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج اکثر پڑھے لکھے لوگوں

کے سوچنے کا انداز مغربی ہے اور لوگ مغرب کی ذہنی غلامی کا شکار ہیں ۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی قوم کا اپنے عقیدے اور نظریے ، اپنی بنیادوں اور اصولوں سے گہرا تعلق رہے گا وہ قوم اس وقت تک کسی کی ذہنی غلام نہیں بن سکتی۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اسی وقت تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے جب تک اس کا اپنے افکار و نظریات ، عقیدے اور

اصولوں کے ساتھ گہرا تعلق رہتا ہے ۔چنانچہ اگر آج بھی ہم اپنی منزل کو پانا چاہتے ہیں اور حالات کو درست اندا ز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اصولوں اور بنیادوں کی طرف لوٹنا ہوگا ۔جب تک ہم پتہ نہیں لگا لیتے کہ موجودہ دور کے بارے میں قرآن و حدیث کیا کہتے ہیں تب تک ہم صورتِ حال کو بالکل بھی نہیں سمجھ سکتے۔علامہ اقبال نے ذہنی غلام قوموں کی حالت کو اس

ایک شعر میں بند کر دیا ہے :
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا