پٹ بل نسل کے دو پالتو کتے پوری عورت کھا گئے، برسوں پالنے پوسنےوالی مالکن کا ایسا حشر کر ڈالا کہ پولیس والے لاش دیکھتے ہی چیختے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے

ورجینیاامریکی ریاست ورجینیا کے دیہی علاقے کی پولیس نے ایک خاتون کی پریشان کر دینے والی تفصیلات جاری کی ہیں جسے ان کے مطابق گذشتہ ہفتے چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے ہی دو کتوں نے مار ڈالا.میڈیارپورٹس کے مطابق چار روز کے بعد جب 22 سالہ بیتھنی سٹیفنز کی لاش ملی تو پولیس نے ان کی ہلاکت کے بارے میں بتانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی.

جب پولیس اہلکاروں کو کتے ملے تو ان کے مطابق وہ سمجھے کے یہ کتے کسی مردہ جانور کی لاش کے گرد کھڑے ہیں.تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سٹیفینز کی لاش تھی اور پولیس کے مطابق پٹ بل نسل کے یہ کتے اسے کھا رہے تھے.گوچ لینڈ کاؤنٹی پولیس کے اہلکار جم ایگنیو نے بتایا کہ ابتدائی بڑے زخم جو بیتھنی کو آئے تھے ’وہ ان کے گلے اور چہرے پر تھے.انھوں نے مزید بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ کتوں نے پہلے انھیں زمین پر گرایا،

جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں اور پھر انہی کتوں نے ان پر حملہ کر کے انھیں مار ڈالا،پولیس اہلکار ایگنیو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ ابتدائی طور پر ہلاک ہونے والی خاتون کے گھر والوں کا سوچ کر ان کی تصاویری تفصیلات جاری نہیں کرنا چاہتے تھے.تاہم ان کے مطابق جب بعد میں ورجینیا میں رچمنڈ سے کوئی 48 کلومیٹر دور اس چھوٹے سے گاؤں میں افواہیں گردش کرنے لگیں اور یہاں کے رہائشی کافی پریشان ہونے لگے تو انھوں نے یہ تفصیلات بتانے کا فیصلہ کیا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ اس گاؤں میں کوئی قاتل نہیں ہے.

..

موڈ آف ہے
دل نہیں لگتا اس اُجڑے دیار میں، بنی ہے کس کی عالم نا پائیدار میں
آج کی دنیا میں انسان کے پاس دل لگانے کا بے بہا سامان اور خزانہ موجود ہے اسکے باوجود بھی انسانوں کو کہی نہ کہیں شدت سے اس مسئلے کا سامنا ہے کہ دل کبھی کبھی کسی بھی کام

میں لگنا چھوڑ دیتا ہے۔ عملی طور پر دیکھا جائے تو انسان کام تو ہاتھ اور دماغ سے کرتا ہے مگر پھر بھی دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ایک دم سے کچھ ہوا نہیں اور انسان کا دل پھر کہیں لگا نہیں ۔
انسان اگر دیکھے تو اکثر آپ کام بہت اچھا کر رہے ہوتے ہو اچھا خاصا کر رہے ہوتے ہو مگر پھر بھی آپکا دل کہیں نہیں لگتا آپکا دل اُٹھ سا جاتا ہے آپکو خیال آنے لگتا ہے کہ آپ سے

کچھ ہو نہیں رہا آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ جانا چاہتے ہو۔ آپ اپنے آپکو کہیں اور لگانا چاہتے ہو آپ کہیں منہ چھپا لینا چاہتے ہو ۔ آپکا دل کہیں نہیں لگتا ۔ آپ خود بھی کہیں لگے رہنا نہیں چاہتے۔
مگر زندگی ہے سو اسکو جینا تو ہے۔ جو کچھ ذمے ہے اسکو نبھانا تو ہے۔

1۔ چھٹی پہ چلے جائیں
جس حد تک ممکن ہو ۔ اکثر آپ آفس سے ایک چھٹی مار کر کسی تفریحی نزدیک ترین تفریحی مقام پر بھی جاسکتے ہیں۔ یا پھر آپ صرف چار گھنٹے کی تفریح پر بھی جا سکیں تو چلے جائیں۔

ہم شاپنگ مالز میں ہی جانے کو تفریح سمجھتے ہیں حیقیت میں کسی باغ میں جانا ذیادہ ریفریشنگ تفریح ہے۔
2۔ انٹرنیٹ سے دور ہو جائیں

اگر آپ ایسے آفس ورکر ہیں جسکی زندگی سے چاہ کر بھی نیٹ تھوڑی دیر کے لئے بھی نہیں نکلسکتا تو بجائے اسکے کہ آپ چوبیس گھنٹۓ استعمال کریں۔ آپ کام کے حساب سے وقت مقرر کر کے پھر اسکے علاوہ وائی فائی بند رکھنے کی پریکٹس کریں۔

ہر وقت کی سرفنگ ہر وقت کی نیٹ کنیکٹیویٹی آپکو جزباتی بیمار کرنے کی ایک بے حد بڑی وجہ ہے۔

3۔کھا کیا رہے ہیں
زبردستی پھلوں کو اپنی روٹین میں ڈالیں ۔ آپ پھل اور سبزیاں نہیں کھاتے اگر جن فوڈ کہتے ہیں تو صحت کے ساتھ ساتھ موڈ کے مسائل بھی آپکو ذیادہ ہی لاحق ہوں گے۔

4۔خود سے باتیں کر رہے ہیں
کہنے میں یہ دیوانوں کی باتیں لگتی ہیں مگر یقین رکھیں آپ اگر خود کے ساتھ ملاقات نہیں رکھ رہے تو آپ جلد مایوس ہو جائیں گے۔ خود کو اپنا مسئلہ بتائیں۔ خود کے ساتھ شیئرنگ کریں۔ آپ کو چند دن میں خود فرق پتہ لگے گا۔

5۔نماز پڑھیں

ورجینیاامریکی ریاست ورجینیا کے دیہی علاقے کی پولیس نے ایک خاتون کی پریشان کر دینے والی تفصیلات جاری کی ہیں جسے ان کے مطابق گذشتہ ہفتے چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے ہی دو کتوں نے مار ڈالا.میڈیارپورٹس کے مطابق چار روز کے بعد جب 22 سالہ بیتھنی سٹیفنز کی لاش ملی تو پولیس نے ان کی ہلاکت کے بارے میں بتانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی.

جب پولیس اہلکاروں کو کتے ملے تو ان کے مطابق وہ سمجھے کے یہ کتے کسی مردہ جانور کی لاش کے گرد کھڑے ہیں.تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سٹیفینز کی لاش تھی اور پولیس کے مطابق پٹ بل نسل کے یہ کتے اسے کھا رہے تھے.گوچ لینڈ کاؤنٹی پولیس کے اہلکار جم ایگنیو نے بتایا کہ ابتدائی بڑے زخم جو بیتھنی کو آئے تھے ’وہ ان کے گلے اور چہرے پر تھے.انھوں نے مزید

بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ کتوں نے پہلے انھیں زمین پر گرایا،

جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں اور پھر انہی کتوں نے ان پر حملہ کر کے انھیں مار ڈالا،پولیس اہلکار ایگنیو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ ابتدائی طور پر ہلاک ہونے والی خاتون کے گھر والوں کا سوچ کر ان کی تصاویری تفصیلات جاری نہیں کرنا چاہتے تھے.تاہم ان کے مطابق جب بعد میں ورجینیا میں رچمنڈ سے کوئی 48 کلومیٹر دور اس چھوٹے سے گاؤں میں افواہیں گردش کرنے لگیں اور یہاں کے رہائشی کافی پریشان ہونے لگے تو انھوں نے یہ تفصیلات بتانے کا فیصلہ کیا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ اس گاؤں میں کوئی قاتل نہیں ہے.

ہمیں لگتا ہے مصروف زندگی میں نماز کے لئے وقت نہیں۔ جبکہ ہم نماز نہیں پڑھتے اسی لئے تو وقت نہیں ملتا اپنے لئے بھی۔

وہ 11 عادات جو جن لوگوں میں ہوں، انہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، اگرآپ بھی کامیاب انسان بن کر زیادہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو یہ خبرآپ کیلئے ہے

انسانی کامیابی کے لئے ہمیشہ تگ و دو کرتا ہے اور کامیاب انسانوں کے تجربے سے سیکھنے کو کوشش کرتا ہے۔ کامیابی کے نام سینکڑوں کتب لکھی گئیں جبکہ موٹیویشنل سپیکرز بھی کامیابی کے اسرار و رموز سے آگاہ کرتے ہیں۔

بیسویں صدی کے آغاز میں امریکی صحافی نپولین ہِل نے ”تھنک اینڈ گرو رِچ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی مذکورہ کتاب جو اس دور میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب قرار پائی۔۔ کئی برس کی عرق ریزی کے بعد تھامس سی کورلے نے اپنی تحقیق کا نچوڑ یہ نکالا کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان 11 عادات کا سنگِ گراں حائل ہے۔

تمام کامیاب افراد کی زندگیوں میں 11 ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کوئی بھی شخص اپنا لے تو اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔روزنامہ دنیا کے کالم نگار محمد بلال غوری نے امریکی صحافی نپولین ہل کی کتاب ”تھنک اینڈ گرو رچ“ کو موضوع بناتے ہوئے کامیاب آدمیوں کی11عادات بتائی ہیں۔

جو لوگ کامیاب انسان بنا چاہتے ہیں انہیں سب سے پہلے جلدی بیدار ہونے کی عادت اپنانا ہوگی۔ جلدی اٹھنے سے مراد سحر خیزی نہیں بلکہ مدعا یہ ہے کہ جب ا?پ نے کہیں کسی کام پر جانا ہو تو مطلوبہ وقت سے تین گھنٹے پہلے بیدار ہوں تاکہ متوقع رکاوٹیں حائل نہ ہو سکیں۔

کامیاب افراد کی میں سے 76 فیصد کامیاب افراد ورزش ضرور کرتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ورزش کے لئے صبح کا وقت منتخب کیا جائے، یہ بھی نہیں کہ ہر صورت جم جوائن کیا جائے لیکن بلا ناغہ ورزش کرنا کامیاب زندگی کی پہلی سیڑھی ہے۔

کامیاب افراد کی شخصیت میں تیسری اہم ترین عادت مطالعہ کی ہے۔ کامیابی کے حصول کے لئے مطالعہ کو حرزِ جاں بنانا از حد ضروری ہے۔ اس نے جتنے بھی کامیاب افراد کے معمولاتِ زندگی ملاحظہ کئے ان میں تفریحی ناول، رومانوی کہانیوں، شاعری یا فکشن کے بجائے ایسی کتابوں کی ورق گردانی کو جزو لازم کی حیثیت حاصل تھی جن سے کچھ سیکھنے کو ملے۔

کامیاب افراد کی چوتھی خصوصیت ہے مثبت سوچ۔ جو لوگ دوسروں کی کامیابی پر جلتے کڑھتے رہتے ہیں، آس پاس کے افراد میں خامیاں تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں، ہر بات کو منفی انداز میں لیتے ہیں، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے برعکس کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جو مثبت اور تعمیری سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔

بالعموم لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ آج کل کس چیز کا رجحان ہے، لوگ کس طرف جا رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں اور پھر بغیر سوچے سمجھے اس طرف دوڑ لگا دی جاتی ہے۔ لیکن کامیاب افراد اس بھیڑ چال سے متاثر نہیں ہوتے، وہ اپنی سمت خود متعین کرتے ہیں، وہ وقت کے سانچوں میں ڈھل نہیں جاتے بلکہ وقت کے سانچے بدل جاتے ہیں۔

کامیاب افراد اپنا ہدف طے کرتے ہیں اور پھر پوری تندہی کے ساتھ اس کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔ مشکلات سے گھبرا کر ہمت نہیں ہارتے بلکہ ثابت قدمی سے ڈٹے رہتے ہیں۔
کامیاب افراد کی ساتویں عادت یہ کہ وہ کمائی کے لئے ایک آمدن پر اکتتفا نہیں کرتے بلکہ وہ نئے ذرائع کی تلا ش میں رہتے ہیں۔

آٹھویں بات‘ جو کامیاب افراد کو ممتاز و منفرد کرتی ہے‘ لوگوں سے رائے لینا اور مشورہ کرنا ہے۔ بیشتر ناکام افراد خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور کسی سے مشاورت کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ اگر مشورہ کر بھی لیں تو اسے خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کے برعکس کامیاب افراد ادنیٰ اور حقیر سمجھے جانے والے افراد سے صلاح لینے میں بھی تامل نہیں کرتے۔ کامیابی کی منازل طے کرنے والی شخصیات کی

وہ لوگ جو عاجزی و انکساری سے پیش آتے ہیں، ہمیشہ مشکور و ممنون رہتے ہیں، وہی کامیاب و کامران قرار پاتے ہیں اور یہ کامیاب افراد کی نویں نشانی ہوتی ہے۔کامیاب افراد دوسروں کے لئے ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں، دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے فراخدلی سے انہیں آگے بڑھنے کا موقع دینے والے افراد اپنی زندگیوں میں بھی کامیاب بن سکتے ہیں ۔

کامیاب افراد کی گیارہویں عادت اور خصوصیت اچھی صحبت ہے، اگر آپ اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو یقین جانیں آپ کامیاب و کامران ہوں گے اس کے برعکس اگر آپ برے لوگوں کی صحبت میں رہیں گے تو مایوسیاں اور ناکامیاں آپ کا مقدر بنیں گی۔

سلطان سے دغا کیا اور انگریز سے وفا کی –

سلطان ٹیپو کو جس نے دھوکا دیا تھا ، وہ میر صادق تھا. اس نے سلطان سے دغا کیا اور انگریز سے وفا کی.

انگریز نے انعام کے طور پر اس کی کئی پشتوں کو نوازا. انہیں ماہانہ وظیفہ ملا کرتا تھا. مگر پتہ ہے جہان! جب میر صادق کی اگلی نسلوں میں سے کوئی نہ کوئی ہر ماہ وظیفہ وصول کرنے عدالت آتا تو چپڑاسی صدا لگایا کرتا. میر صادق غدّار کےورثاء حاضر ہوں”ایک آنسو ان کی آنکھ سے پھسلا اور تکیے میں جذب ہو گیا.میرے بیٹے! میری بات یاد رکھنا ، جیسے شہید

قبر میں جا کر بھیسیکڑوں سال زندہ رہتا ہے، ایسے ہی غدار کی غداری بھی صدیوں یاد رکھی جاتی ہے. دن کے اختتام پر فرق صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ انسان تاریخ میں صحیح طرف تھا یا غلط طرف پہ.”دن کیطرف پہ.” ٹیپو سلطان کی شہادت پر زمین ہی نہیں کانپی آسمان بھی کھل کر رویا پڑھیے انگریزوں نے آخری دن شیر میسور کی نعش کے ساتھ کیا کیا ؟ شیر کی ایک دن

کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ، یہ معروف قول تھا شیر میسور ٹیپو سلطان شہید کا .ٹیپو سلطان ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے. آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا. آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش دی.یوں تو شجاعت و

بہادری کے کئی قصے ان سے منسوب ہیں مگر ہم اپنے قارئین کے ذوق کی نذر ایک تحریر کررہے ہیں . سینئیر کالم نگار جی این بھٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ :ڈیوک آف ولنگٹن کی سپاہ ایک خونریز معرکہ میں سرنگا پٹنم فتح کرچکی تھیں مگر ڈیوک آف ولنگٹن کو ابھی تک اپنی فتح کا یقین نہیں آرہا تھا. وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے

پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹنم کے میدان میں جمع ہونے والے محب وطن شہیدوں کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے، رات کی سیاہی اور گہری ہوتی جا رہی تھی. لگتا تھا آسمان نے بھی ٹیپو سلطان کی شکست پر جو اسکے اپنے بے ضمیر درباریوں‘ اور لالچی وزیروں کی وجہ سے ہوئی اپنا چہرہ شب کی تاریکی میں چھپا لیا تھا‘ اتنے

میں چند سپاہی ولنگٹن کے خیمے میں آئے‘ انکے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے. انہوں نے اسے ٹیپو سلطان کی شہادت اور اسکی نعش برآمد ہونے کی اطلاع دی. یہ نعش سلطان کے وفاداروں کے ڈھیر کے نیچے دبی ملی.

جنرل ولنگٹن خوشی سے حواس باختہ ہوکر سلطان کی نعش کے پاس پہنچا تو وہ نعش وفاداروں کے جمگھٹ میں ایسی پڑی تھی جیسے بْجھی ہوئی شمع اپنے گرد جل کر مرنے والے پروانوں کے ہجوم میں ہو‘ جنرل نے سلطان کے ہاتھ میں دبی اسکی تلوار سے اسے پہچان کر اسکی شناخت کی.یہ تلوار آخر وقت تک سلطان ٹیپو کے فولادی پنجے سے چھڑائی نہ جا سکی. اس موقع پر جنرل

نے ایک بہادر سپاہی کی طرح شیر میسور کو سلیوٹ کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے، اب کوئی طاقت ہماری راہ نہیں روک سکتی‘‘ اور اسکی نعش اندر محل کے زنان خانے میں بھجوائی تاکہ اہلخانہ اس کا آخری دیدار کریں اس کے ساتھ ہی آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا. جب سلطان کی قبر کھودی جانے لگی تو آسمان کا سینہ بھی شق ہو گیا اور چاروں طرف

غیض و غضب کے آثار نمودار ہوئے، بجلی کے کوندے لپک لپک کر آسمان کے غضب کا اظہار کر رہے تھے. اس وقت غلام علی لنگڑا، میر صادق اور دیوان پورنیا جیسے غدارانِ وطن خوف اور دہشت دل میں چھپائے سلطان کی موت کی خوشی میں انگریز افسروں کے ساتھ فتح کے جام لنڈھا رہے تھے، اور انکے چہروں پر غداری کی سیاہی پھٹکار بن کر برس رہی تھی‘ جوں ہی قبر مکمل

ہوئی لحد بن گئی تو آسمان پھٹ پڑا اور سلطان میسور کی شہادت کے غم میں برسات کی شکل میں آنسو?ں کا سمندر بہہ پڑا.

شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ، یہ معروف قول تھا شیر میسور ٹیپو سلطان شہید کا .ٹیپو سلطان ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے. آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا. آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش

دی.یوں تو شجاعت و بہادری کے کئی قصے ان سے منسوب ہیں مگر ہم اپنے قارئین کے ذوق کی نذر ایک تحریر کررہے ہیں . سینئیر کالم نگار جی این بھٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ :ڈیوک آف ولنگٹن کی سپاہ ایک خونریز معرکہ میں سرنگا پٹنم فتح کرچکی تھیں مگر ڈیوک آف ولنگٹن کو ابھی تک اپنی فتح کا یقین نہیں آرہا تھا. وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک

خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹنم کے میدان میں جمع ہونے والے محب وطن شہیدوں کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے، رات کی سیاہی اور گہری ہوتی جا رہی تھی. لگتا تھا آسمان نے بھی ٹیپو سلطان کی شکست پر جو اسکے اپنے بے ضمیر درباریوں‘ اور لالچی وزیروں کی وجہ سے ہوئی اپنا چہرہ شب کی

تاریکی میں چھپا لیا تھا‘ اتنے میں چند سپاہی ولنگٹن کے خیمے میں آئے‘ انکے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے. انہوں نے اسے ٹیپو سلطان کی شہادت اور اسکی نعش برآمد ہونے کی اطلاع دی. یہ نعش سلطان کے وفاداروں کے ڈھیر کے نیچے دبی ملی.

قبر پر شامیانہ تانا گیا محل سے لیکر قبر تک جنرل ولنگٹن کے حکم پر سلطان میسور کا جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ لایا گیا. فوجیوں کے دو رویہ قطار نے کھڑے ہوکر ہندوستان کے آخری عظیم محبِ وطن بہادر جنرل اور سپوت کے جنازے کو سلامی دی. میسور کے گلی کوچوں سے نالہ و آہ شیون بلند ہو رہا تھا، ہر مذہب کے ماننے والے لاکھوں شہری اپنے عظیم مہربان
سلطان کیلئے ماتم کر رہے تھے اور آسمان بھی انکے غم میں رو رہا تھا. جنرل ولنگٹن کے سپاہ نے آخری سلامی کے راؤنڈ فائر کئے اور میسور کی سرزمین نے اپنے ایک عظیم سعادت مند اور

محب وطن فرزند کو اپنی آغوش میں ایک مادر مہربان کی طرح سمیٹ لیا. اس موقع پر سلطان کے معصوم چہرے پر ایک ابدی فاتحانہ مسکراہٹ نور بن کر چمک رہی تھی. آج بھی ہندوستان کے ہزاروں باسی روزانہ اس عظیم مجاہد کی قبر پر بلا کسی مذہب و ملت کی تفریق کے حاضر ہو کر سلامی دیتے ہیں.

’’میں نے خانہ بدوش لڑکی کے ساتھ کئی راتیں۔۔۔۔۔۔‘‘ انتہائی ہولناک مکان میں رہنے کاتجربہ کرنے والے ماسٹر کی کہانی جومزے لینے کے چکر میں خود چکرا کر رہ گیاتھا،اسکے ساتھ کیا ہوا ،جان کر آپ بھی چکرکھاجائیں گے

آنکھیں کھولتے ہی میں نے دیکھا کہ گوشالی میرے بستر پر دراز تھی.اس نے نہایت خوش رنگ لباس پہنا ہوا تھا،بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا ،ہونٹوں پر قاتلانہ مسکراہٹ تھی.

اس نے وارفتگی سے بازو پھیلائے.اسے دیکھتے ہی میری عقل ماوف ہوگئی.میں پاس گیا تو شدت جذبات سے اس نے میری کلائی پر اپنا ناخن چبھوکر اپنی بے قراری کا اظہار کیا…میں تو جیسے اسکی آنچ سے موم کی طرح پگل گیا’’ تم واپس کب آئی اور آنے کا یہ کیسا انداز ہے‘‘ میں اسکے پاس جاکر اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر خوابیدہ اندازمیں بولا. ’’ اداس ہوگئی تھی …‘‘ اس نے

ایسے انداز سے کہا کہ پھر وہ رات میری زندگی کے حسین لمحوں میں گزرتی چلی گئی .گوشالی اور مجھ پر نشہ سا چھایا تھا.محبت کی پُرجوش قربت کالمحہ… دل سے آہ نکلی کاش یہ رات اور یہ لمحے یہیں ٹھہر جائیں.لیکن وقت کہاں رکتا ہے . صبح میری آنکھ کھلی تو میں نے کروٹ لیکر گوشالی کو دیکھنا چاہا لیکن وہ بستر پر نہیں تھی،میں نے آواز دیکر اسے پکارا ..لیکن پورے

گھر میں میری آواز گونج کر رہ گئی.میں اٹھا اور پورے گھر میں گوشالی کو تلاش کر چھوڑا لیکن وہ کہیں نہیں ملی.میں پریشان ہوگیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے. کہیں وہ واپس تو نہیں چلی گئی.میں نے فوری کپڑے بدل لے اور گوشالی کے والدین کے پاس پہاڑوں میں پہنچ گیا.گوشالی اس وقت خیمے کے باہر دھوپ سینک رہی تھی. ’’ یہ کیا بات ہوئی،مجھے بتائے بغیر تم واپس چلی آئی ،ایسا تو نہیں کرتے ‘‘ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا ’’ میں نے کیا کیا ہے ‘‘ اس نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا

’’ ارے ،اتنی معصوم تو نہ بنو … رات تم گھر واپس آئی تھی اور صبح ہوتے ہی غائب ہوگئی ‘‘ ’’ میں تو کہیں نہیں گئی.رات سے ادھر ہی ہوں.آپ نے کس کو دیکھ لیاہے ،کوئی سپنا تو نہیں دیکھ لیا ‘‘ گوشالی نے ہنستے ہوئے پوچھا. ’’ سپنا … نہیں … دیکھو گوشالی مذاق نہیں کرو … میں سچ کہہ رہا ہوں ‘‘ اس دوران اسکی اماں خیمے سے باہر نکل آئی اور مجھے دیکھتے

ہی بولی’’ اچھا ہوا آپ آگئے.رات بھر سے اسکی طبیعت بہت خراب ہے.مرتے مرتے بچی ہے.پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا،رات بھر اسکے سینے میں درد رہا ہے ،چہرہ پیلا پڑگیا تھا اور بار بار سر جھٹکتی رہی ہے.ہم تو سوچ رہے تھے کہ آپ کو کیسے بلایا جائے ‘‘ گوشالی کی اماں کی بات سن کر میں نے غور سے دیکھا ،اسکا چہرہ ستا ہوا تھا،آنکھوں میں دکھن سی نظر آرہی تھی.معاً میری نظر اپنی کلائی پر پڑی،ایک گہرا نیلگوں سا زخم رات بھر کی کہانی کی سچائی کی گواہی دے رہا تھا …

میں نے گوشالی سے مزید کچھ نہیں کہاسوائے اس بات کے ’’ٹھیک ہے تم نہیں آئی تو میں ہی آگیا ہوں،اب ادھر تمارے ساتھ خیمے میں ہی رہوں گا ‘‘ میں نے اسے ساتھ لیا اور ہم خیمے میں چلے گئے.گوشالی نے میرا ہاتھ بڑی مضبوطی سے تھام رکھا تھا .اس نے اپنا سر میری گود میں رکھا اور کسی معصوم بچے کی طرح سوگئی. رات بھر نہ جانے کون اسکا جسم چرا کر لے گیا

تھا جو اب میری گود میں آکر سکون کی نیند سوگیا تھا.اب مجھے کوئی وہم نہیں رہا تھا کہ اس گھر میں بدروحیں رہتی ہیں .اور اس گھر کی مالکن گوشالی کے روپ میں میں میرے ساتھ مزے لے چکی ہے.

..

ابھی کچھ دن لگیں گے
حقیقت پسند لوگ مایوس نہیں ہوتے اس لیے کہ وہ خیالوں کی نہیں بلکہ حقائق کی دنیا میں جیتے ہیں۔ انسان کی خوشی یا مایوسی کا ایک تعلق اس کی توقعات سے بھی ہوتا ہے۔ گجرات کے انتخاب سے مختلف لوگوں نے الگ الگ امیدیں وابستہ کررکھی تھی ۔ کوئی سوچتا تھا کہ شاہ اور مودی کے اس گڑھ میں کمل کا بال بیکا نہیں ہو سکتا ۔ ان بھکتوں کو انتخابی نتائج سے سب سے زیادہ

رنج ہوا ہے۔ وہ لوگ جو سوچتے تھے اس بار پنجہ میوانی، ٹھاکور اور ہاردک کی مدد سے کمل کو مسل کر رکھ دے گا ان کا بھی چین و سکون غارت ہوگیا ہے۔ان انتہاوں کے درمیان کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو سوچتے تھے اس بار اگر بی جے پی شاہ جی کے دعویٰ کے مطابق ۱۵۰سیٹیں لانے میں کامیاب نہیں ہوپاتی ہے تو یہ اس کی ناکامی ہے۔ ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس کا خیال

تھا کہ بی جے پی کوپچھلی مرتبہ کے ۱۱۵ کی بہ نسبت سے ایک بھی سیٹ کم ملے تو وہ اس کی شکست ہے۔ ان کے علاوہ ایسے پرامید لوگ بھی تھے کہ جو سوچتے تھے اگر بی جے پی
۱۰۰ کے اندر آوٹ ہو جائے اوردونوں جماعتیں دو اعداد میں سمٹ جائیں تب بھی کافی ہے۔ یہ تینوں قسم کے لوگ حالیہ نتائج سے مطمئن ہیں۔ ان صابر و شاکر لوگوں پر جاوید اختر کی اپنے دادا

مضطر خیرآبادی کے لہجے والی طویل مصروں کی غزل کا مطلع سادق آتا ہے؎
ذرا موسم تو بدلا ہے ،مگر پیڑوں کی شاخوں پر، نئے پتوں کے آنے میں، ابھی کچھ دن لگیں گے

بہت سے زرد چہروں پر غبار غم ہے کم بے شک ،پر ان کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
جاوید اختر کی یہ غزل اگر گجرات انتخاب کے بعد منظر عام پر آتی تو لوگ سمجھتے کہ یہ اسی پس منظر میں کہی گئی ہے۔ اس کا کئی اشعار من و عن ان حالات کی عکاسی کرتے ہیں ۔ یہ

امید افزاء شعر تو خیر ان تمام لوگوں کے دل کی آواز ہے جو بی جے پی کے مظالم کا شکار ہیں اور اس سے نجات چاہتے ہیں ۔ یہ شعر ان کانگریسیوں کابھی حوصلہ بڑھاتا ہے جو یکے بعد دیگرے ناکامیوں سے اپنا اعتماد کھو بیٹھے تھے اور شنکر سنگھ واگھیلا یا نارائن رانے کی طرح پالہ بدلنے کی سوچ رہے تھے۔ ایک طرف جہاں بوڑھی قیادت مایوسی کے دلدل میں دھنستی جارہی

تھی وہیں ہاردک پٹیل ، جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکور جیسے لوگوں کو راہل کی قیادت میں امید کی ایک کرن نظر آئی ۔ وہ جانتے تھے کہ یہ جنگ پہلے ہی معرکہ میں سر نہیں ہوگی لیکن اس کے بعد منزل قریب تر ضرور ہوجائیگی ۔ گجرات میں برسوں سے غفلت کے شکار عوام کا خمار یکبارگی نہیں ٹوٹے گا ۔ان کے لیے تاریکی اور روشنی کے فرق کا ادراک کرکے حقائق کو تسلیم

کرنے میں وقت تو لگے گا ؎
توہم کی سیہ شب کو کرن سے چاک کر کے، آگہی ہر ایک آنگن میں نیا سورج اتارے

مگر افسوس یہ سچ ہے وہ شب تھی اور یہ سورج ہے یہ سب کو مان جانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
انتخابی سیاست میں عوام ہمیشہ ان لوگوں کے حق میں رائے نہیں دیتے کہ جن اس کا حقدار سمجھتے ہیں بلکہ کئی لوگ سوچتے ہیں اپنی پہلی پسند کو ووٹ دے کر رائے ضائع کرنے سے بہتر ہے

گھر بیٹھ رہیں یا جس کی کامیابی کے امکان روشن ہیں اسی کی حمایت کردی جائے۔ ایسے ڈھل مل رائے دہندگان ان انتخابی نتائج کو دیکھ کر کفِ افسوس مل رہے ہیں ۔ ایک غیر مصدقہ خبر کے مطابق۱۶ نشستوں پر بی جے پی کو ۳۰۰۰ سے کم کے فرق سےکامیابی ملی۔ ان میں سے گودھرا اور ڈھوکلا میں تو ۲۳۷ اور ۳۲۷ کا فرق تھا۔ بی جے پی کے مخالف عوام کو توخیر ان نتائج نے

بیدار کردیا ہے مگر یہ کافی نہیں ہے۔ اب ان کو آئندہ انتخاب تک ایسے لوگوں کو جگانا ہوگا جو ہنوز خواب غفلت میں مست ہیں۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ اس میںمشکلات کے ساتھ کامیابی کے روشن امکانات بھی ہیں اس لیے کہ ؎
اندھیرے ڈھل گئے روشن ہوئے منظر، زمیں جاگی فلک جاگا تو جیسے جاگ اٹھی زندگانی

مگر کچھ یاد ماضی اوڑھ کے سوئے ہوئے لوگوں کو لگتا ہے جگانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
حالیہ انتخاب میں گجرات کی عوام نے ایک کو راہل کو ہرا دیا اور مودی کو ڈرا دیا لیکن ان دونوں کے علاوہ شنکر سنگھ واگھیلا کو مٹا دیا۔ یہ شخص اقتدار کی خاطر مستقل قلابازیاں کھاتا رہا۔ پہلے تو سنگھ پریوار سے بغاوت کرکے کانگریس کی مدد سے وزیراعلیٰ بن گیا۔ اس کے بعد کانگریس میں شامل ہوکر مرکزی وزیر بن گیا ۔ مرکز میں جب کانگریس پارٹی ہار گئی تو پھر اس طوطا

چشمی رہنما کی نیت ڈانواں ڈول ہوگئی ۔ اسے مودی جی کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر سنگھ کے پرچارکا گزرا ہوا زمانہ یاد آنے لگا۔ وہ مودی جی کورام مندر کی تعمیر پر اکسانے لگا اور بالآخر احمد پٹیل کے انتخاب کے وقت کھلی بغاوت کردی۔ شاہ جی بنیا ہیں انہوں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ اس بوڑھے گھوڑے میں کتنا دم خم ہے؟ احمد پٹیل کی کامیابی نے واگھیلا کی پول کھول دی۔ جب بی جے پی نے فاصلہ بنالیاتو وہ نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا ۔ واگھیلا کی غداری اور اس کے ساتھ ہونے والی دغابازی کو اس شعر کی عینک سے دیکھیں ؎

’’ہاشم نما ز پڑھتا اور ہم اس کے گرد جمع ہو جاتے ‘‘۔۔یہ تحریر تمام مسلمانوں کو ضرور پڑھنی چاہیے

لفظ’’دنیا‘‘عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی انتہائی بدصورت عورت جسے دیکھ کر کراہت محسوس ہو . اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا اور رسولوں کے ذریعے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ دنیا کے کھیل تماشوں میں نہ کھو جانا بلکہ اپنی آخرت کی فکر بھی کرناکیونکہ اسی میں دائمی سکون رکھ دیا گیا ہے.

حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے‘‘یعنی جو اعمال دنیا میں کرو گے ویسا ہی صلہ آخرت میں رب تعالیٰ تمہیں دیں گے. کامیاب ہو گئے وہ لوگ جنہوں نے بدی کے راستے کو اللہ کی خوشنودی اور رضا کیلئے چھوڑا اوربلاشبہ فلاح پا گئے جن کا تذکرہ ہمیشہ کیلئے لوگوں میں اللہ کرواتا رہتا ہے. حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ ’’تم اپنے وقت سے میری عبادت اور

رضا کیلئے وقت نکالو ، میں تمہارے کام آسان کر دوں گا ورنہ میں تمہیں تمہارے کاموں میں اس حد تک الجھا دوں گا کہ تمہیں فرصت نہ ہو گی.‘‘معروف سابق پاکستانی بلے باز سعید انور نے اپنے تازہ بیان میں دنیاکی دھوکہ دینے والی عارضی سکون کی زندگی اور اللہ کی رضا و خوشنودی اور دائمی سکون کی حقیقت نہایت دلچسپ انداز میں بیان کی ہے جسے قارئین کیلئے پیش

کیا جا رہا ہے. سعید انور کہتے ہیں کہ دنیا کے مزے صرف چند روز اور چند لمحوں کے ہیں. مجھے نت نئے موبائلز کا شوق تھا ، ایک موبائل خریدتا اور چند دن استعمال کرنے کے بعد اس سے دل بھر جاتا تو نیا موبائل خرید لیتا، میں نئے نئے گھر بناتا اور پھر بیچ دیتا، دنیا کی مہنگی سے مہنگی اور نئی گاڑی استعمال کرتا ، خرید سکتا تو خرید لیتا نہیں تو شوق پورا کرنے کیلئے

کرایہ پر بھی حاصل کر لیتا تھا لیکن صرف چند گھنٹوں یا دنوں میں ہی دل بھر جاتا اور پھر وہی بے چینی دل میں گھر کر لیتی . آخر کار پتہ چلا کہ سکون صرف اللہ کی عبادت اور خوشنودی سے حاصل ہوتا ہے، آپ کی دنیاوی اور اخروی زندگی کا دارومدار آپ کے اعمال پر ہے . جنید جمشید کی مثال دیتے ہوئے سعید انور کا کہنا تھا کہ جنید جمشید کا انجام کیا شاندار ہوا، وہ کیا

کوئی بہت بڑے بزرگ تھے ، ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ موسیقی کی ترویج اور گانا گاتے گزرا مگر جب اس سے توبہ کی اور اللہ کی خوشنودی اور رضا کیلئے دین کی تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا تو دن رات بدل گئے . انہوں نے کہا کہ غیبت زنا سے بھی بڑا گناہ ہے اوراللہ تعالیٰ غیبت کرنے والے کی تقدیر کا رزق روک دیتے ہیں اور حدیث میں آتا ہے کہ بعض گناہ انسان کی تقدیر کا رزق روک دیتے ہیں.

وہ قوم اس وقت تک کسی کی ذہنی غلام نہیں بن سکتی۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اسی وقت تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے جب تک اس کا اپنے افکار و نظریات ، عقیدے اور اصولوں کے ساتھ

گہرا تعلق رہتا ہے ۔چنانچہ اگر آج بھی ہم اپنی منزل کو پانا چاہتے ہیں اور حالات کو درست اندا ز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اصولوں اور بنیادوں کی طرف لوٹنا ہوگا ۔جب تک ہم پتہ نہیں لگا لیتے کہ موجودہ دور کے بارے میں قرآن و حدیث کیا کہتے ہیں تب تک ہم صورتِ حال کو بالکل بھی نہیں سمجھ سکتے۔علامہ اقبال نے ذہنی غلام قوموں کی حالت کو اس ایک شعر میں بند کر

دیا ہے :
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا

میں نے کبھی جنید جمشید کے منہ سے کسی کیلئے غیبت نہیں سنی، میں کبھی کہتا کہ انضمام آپ سے متعلق یہ کہتا ہے یا فلاں یہ کہتا ہے تو جنید جمشید کہتے ’’سعید بھائی صحیح تو کہتے ہیں میں ہوں ہی ایسا‘‘. انہوں نے کبھی جواب میں کسی کی برائی نہیں کی.سعید انور کا کہنا تھا کہ جنید جمشید کی زندگی میں شاید اتنے لوگ ہدایت پر نہیں آئے مگر اس کی موت نے بے شمار لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھا دیا. اللہ نے دنیا کو دکھایا کہ کیسے ایک ناچنے گانے والے نے جب اس کے راستے کو اپنایا تو اس نے اس کے تذکرہ سے دنیا کو بھر دیا.ان کا کہنا تھا کہ دین

کی تبلیغ اور اچھے اعمال کی وجہ سےاللہ نے جنید جمشید کو دنیا میں ہی اتنا کچھ دے دیا تھا کہ جس کا اس نے خواب بھی نہ دیکھا تھا، وہ زندگی اور موت دونوں میں شہرت کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اللہ نے ان کو دنیا میں بھی شہرت اور دولت سے نوازا اور آخرت میں بطور شہید اٹھائے جائیں گے.اپنے آخری تبلیغی دورے کے موقع پر چترال میں بیان کے دوران انہوں نے

اچانک اپنی شہادت کی دعا مانگی اور سب نےمل کر آمین کہا وہ دعا قبول ہوئی اور وہ شہادت حاصل کر گئے. سعید انور نے بیان کے دوران صالح اعمال پر زور دیتے ہوئے ہاشم آملہ کی مـثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈربن سٹیڈیم میں میرا بیان تھا جسے سننے کیلئے ہاشم آملہ بھی آئے تھے وہاں جنید جمشید بھی موجود تھے جن سے ان کی ملاقات ہوئی. انہوں نے بتایا کہ میں نے اس کے

ساتھی غیر مسلم کھلاڑیوں سے پوچھا کہ ہاشم آملہ کا آپ پر کیا اثر ہے تو ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ہم میچ ہارتے ہیں یا خراب کارکردگی کے باعث بے سکونی اور بے چینی محسوس کرتے ہیں تو ہاشم آملہ کواطمینان اور سکون سے نماز اور قرآن کی تلاوت کرتے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر ہاشم کے چہرے پر اتنا سکون ہے تو اس کے اندر کتنا سکون ہو

گا.سعید انور نے مسلمانوں کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مساجد کو آباد کریں اور نماز اور دیگر عبادات پر بھرپور توجہ دیں کیونکہ مچھلی کی ضروریات اور سکون پانی میں ہی ہوتا ہے، چند لمحے کے آرٹیفیشل سکون سے بہتر اللہ کے راستے کا دائمی سکون ہے.

گہرا تعلق رہتا ہے ۔چنانچہ اگر آج بھی ہم اپنی منزل کو پانا چاہتے ہیں اور حالات کو درست اندا ز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اصولوں اور بنیادوں کی طرف لوٹنا ہوگا ۔جب تک ہم پتہ نہیں لگا لیتے کہ موجودہ دور کے بارے میں قرآن و حدیث کیا کہتے ہیں تب تک ہم صورتِ حال کو بالکل بھی نہیں سمجھ سکتے۔علامہ اقبال نے ذہنی غلام قوموں کی حالت کو اس ایک شعر میں بند کر

دولہا میں ایسی خامی پکڑی گئی کہ بالغ دلہن کو اس کیساتھ رخصت کرنے سے ہی انکارکردیاگیا، بارات خالی ہاتھ واپس

بارات دلہن لئے بغیر واپس گھر واپس چلی گئی کیونکہ دولہا کم عمر تھا اور لڑکی والوں نے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پنڈی بھٹیاں کے نواحی گاﺅں مرزا بکسیکا کے رہائشی سکندر علی کی دو بیٹیوں کی بارات گھر آئی

تو اسی دوران دولہا اللہ دتہ کی عمر کم ہونے کی وجہ سے رشتے داروں میں بحث شروع ہو گئی اور لڑکی کے رشتے داروں نے اللہ دتہ کی عمر پر اعتراض کیا کہ ابھی اللہ دتہ بالغ نہیں اور بچی کے رشتے داروں نے بچی کا نکاح اور رخصتی کرنے سے انکار کر دیا،

جس پر بارات دلہن لیے بغیر واپس آگئی جبکہ دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ اللہ دتہ اور مہوش کے درمیان نکاح نہیں ہوا۔

عاشقی فلم میں کام کرنے والا یہ جوڑا اب کیسا نظر آتا ہے

یہ مشہور فلم آپ نے ضرور دیکھی ہو گی سال 1990ءمیں بالی ووڈ کی معروف ’لو سٹوری‘ عاشقی ریلیز ہوئی تو سینماءگھروں میں لائنیں لگ گئیں۔ یہ فلم ناصرف اپنی کہانی کے باعث آج تک لوگوں کو یاد ہے بلکہ اس کے گانے بھی اس قدر مشہور ہوئے کہ آج بھی لوگ انہیں سنتے ہیں۔اس فلم کے ہیرو راہول روئے کو خوب شہرت ملی اور ان کی خوبصورتی کے باعث ان کے مداحوں میں لڑکیوں کی ایک کثیر تعداد شامل تھی۔ 2015ءمیں مہیش بھٹ نے اس فلم کا سیکوئل بنایا جسے لوگوں نے کافی پسند کیا اور اس فلم نے شردھا کپور کو شہرت بھی بخشی۔

اب وہ 47 سال کے ہو چکے ہیں جبکہ اس فلم میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے والی انو اگروال بھی بڑھاپے کی دہلیز پار کر چکی ہیں اور دونوں کے چہروں میں اس قدر تبدیلی آ گئی ہے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔راہول رائے تو اب بھی قدرے وجیہہ نظر آتے ہیں مگر انواگروال کو دیکھنے والا کوئی بھی شخص یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ چند سالوں قبل یہ ’عورت‘ ہیروئن کا کردار ادا کر چکی ہے۔ انڈسٹری میں مادھوری ڈکشٹ، کاجول، ایشوریہ رائے سمیت دیگر کئی اداکارائیں ہیں جو عمر رسیدہ ہو چکی ہیں مگر ان کی خوبصورتی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوا ہے مگر ناجانے انواگروال کیساتھ کیا بیتی۔فیس بک پیج ضرور لائیک کریں

سبز مرچیں کھانے کا وہ فائدہ جو آپ کو آج تک کسی نے نہیں بتایا، جان کر آپ انہیں ثابت ہی چبانا شروع کردیں گے

سبز مرچیں مشرقی کھانوں کی شان ہیں اور صدیوں سے ہمارے پکوانوں میں ان کا استعمال جاری ہے۔آپ بھی یقینا ان کے چٹ پٹے ذائقے کو پسند کرتے ہوں گے لیکن ان کے ڈھیر سارے طبی فوائد بھی ہیں۔ سبز مرچ کے فوائد کی فہرست یوں تو بہت طویل ہے لیکن ان میں سے کچھ اہم ترین فوائد خصوصاً قابل ذکر ہیں۔

سبز مرچ کا استعمال ناک کی جانب دوران خون میں اضافہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں نزلہ و زکام کی کیفیت میں کافی افاقہ محسوس ہوتا ہے۔ہری مرچ درد کی کیفیت میں بھی مفید ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس کے استعمال سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے جو درد کے احساس کو کم کرتی ہے۔

یہ وٹامن سی کا بھی خزانہ ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی کو محفوظ رکھنے کیلئے اسی ٹھنڈی جگہ پر رکھنا چاہیے۔ دھوپ اور حرارت سے وٹامن سی ضائع ہوجاتا ہے۔ہری مرچ کھانے سے جسم میں اینڈورفن مادے کا اخراج ہوتا ہے جو کہ ذہنی پریشانی اور دباﺅ کے مسائل سے نجات دلاتا ہے اور چڑچڑے پن کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کیلئے بھی ہری مرچ بہت مفید بتائی جاتی ہے کیونکہ یہ خون میں شوگر کے لیول کو متوازن کرتی ہے۔اگر آپ آئرن کی کمی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہری مرچ کو اپنی خوراک کا حصہ بنالیں۔ یہ آئرن کا قدرتی ذریعہ ہے اور بصارت کیلئے بھی مفید سمجھی جاتی ہیں۔

ہری مرچ میں بیکٹیریا کا خاتمہ کرنے والے مادے بھی بکثرت پائے جاتے ہیں لہٰذا جلد کے انفیکشن میں اس کا استعمال مفید ہے۔اگر جسم پر خراش یا زخم لگنے کی صورت میں خون بہت زیادہ خارج ہوتا ہے تو ہری مرچوں کو کھانے کا حصہ بنانا چاہئیے کیونکہ ان میں موجود ’وٹامن کے‘ اس مسئلے سے نجات دلاتا ہے۔

ہری مرچ میں ایک مخصوص اینٹی آکسیڈنٹ مادے بیٹا کیروٹین کی بھی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ مادہ دل اور دوران خون کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔اور اسی طرح ہری مرچ میں پایا جانے والا ’وٹامن اے‘ بھی ہمارے جسم کے لئے کئی طرح کے فوائد رکھتا ہے۔ یہ خصوصاً ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے۔

دو شرطیں لڑکی کی –

ایک بہت ہی زبردست اور مزیدار قصہ ،ایک صاحب تھے جو شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی۔ آخر ایک جوان لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ بھیج دیا۔جوان لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ہوگئی۔ پہلی یہ کہ ہمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے۔ دوسرے یہ کہ ہمیشہ دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے۔ شادی ہوگئی۔ بابا جی جوانوں میں ہی بیٹھتے اور گپیں لگاتے۔ جوان ظاہر ہے صرف لڑکیوں کی اور پیار محبت کی ہی باتیں کرتے ہیں۔ منڈیوں کے بھاؤ سے انھیں دلچسپی نہیں اور نہ وہ دیوارِ چین لگیایسے موضوعات سے کچھ لینا دینا۔باباجی کا موڈ ہر وقت رومینٹک رہتا۔ گھر جاتے تو ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر گھر میں کود جاتے۔ آخر ایک دن بابا جی کے پرانے جاننے والے مل گئے۔ وہ انھیں گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گئے۔ اب وہاں کیا باتیں ہونا تھیں۔ یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ہوں۔ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں۔ یار میرا تو وضو ہی نہیں رہتا۔ میری تو بھائی جان ریڑھ کی ہڈی کا مہرہ کھل گیا ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے جھٹکہ نہ لگے۔

یار مجھے تو نظر ہی کچھ نہیں آتا۔ کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا۔ ڈرپ لگی ہے تو جان بچی ہے۔ بابا جی جوں جوں ان کی باتیں سنتے گئے توں توں ان کا مورال زمین پر لگتا گیا۔ جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخاست ہوگئی اور بابا جی گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی دیوار کے بجائے وہ دیوارِ چین لگی۔ ہمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے۔ آخر ماڈل تو دونوں کا ایک ہی تھا۔ بابا جی نے کنڈی کھٹکھٹائی۔ کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ۔ اندر سے بیوی بولی: اسی لیے بولا تھا جوانوں میں بیٹھا کر۔ لگتا ہے آج بڈھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ہے اسی لیے ہمت جواب دے گئی ہے۔ نتیجہ: انسان بوڑھا نہیں ہوتا مجلس اسے بوڑھا کر دیتی ہے۔ ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ معلم اسی لیے جلد بوڑھے نہیں ہوتے کہ وہ بچوں کی مجلس میں رہتے ہیں۔ یوں وہ ماحول ان پر ٹائم اینڈ سپیس کے اثرات کو نیوٹرل کر دیتا ہے

پولیس انسپکٹر کا خاتون پولیس آفیسر سے پولیس سٹیشن کے کمرے میں مساج، تصاویر وائرل

ولیس سٹیشن میں یہ بھی ہوتا ہے دیکھ کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے ۔ قانون کے رکھوالےخود پولیس اسٹیشن میں کیا کر رہے ہیں تصاویرنے منظر عام پر آتے ہی ہلچل مچا دی۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے

انسپکٹر خود ارام کر رہا ہے اور خاتون انسپکٹر اس کے کمر کا مساج کر رہی ہے۔ یہ تصاویر ممبئی کے پولیس سٹیشن سے ہیں جو انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکی ہیں. انڈین عوام کا کہنا ہے کے اگر پولیس والے انہی بے شرم کاموں میں مصروف رہیں گے تو عوام کی خفاظت کیسے کریں گے؟