راستے میں کتنی لڑکیوں کو دیکھا ؟

ایک نوجوان نے ایک عالم دین سے پوچھا؟ میں ایک جوان ہوں اور نامحرم دیکھنے کے لئے مجبور ہوں ،اور اپنے آپ کو نہیں روک پاتا، اس صورت میں کیا کروں؟ عالم دین نے اسکی بات پہ غور کیا اور اسے ایک برتن دیا جو دودھ سے لبالب بھرا ہوا تھا اور تاکید کی کہ کوزے کو فلاں جگہ تک لے جاؤ اور خیال رکھنا کہ دودھ نہ گرے، پھر کہا میں خود بھی ساتھ چلتا ہوں

اگر تم سے دودھ گرا تو میں سب لوگوں کے سامنے وہی تمہیں اس چھڑی سے ماروں گا۔ جوان کوزے کو صحیح و منزل تک لے گیا اتنی احتیاط سے کہ ایک قطرہ بھی دودھ کا نہ گرا. تب عالم دین نے اس سے پوچھا؟ راستے میں کتنی لڑکیوں کو دیکھا ؟ جوان نے جواب دیا کسی کو بھی نہیں۔ میں اس فکر میں تھا کہ دودھ کو احتیاط سے منزل تک پہنچا دوں تاکہ لوگوں کے سامنے مار کھا کر ذلیل نہ ہوں عالم دین نے کہا! یہ اس مؤمن کی داستان ہے جو خدا کو ہمیشہ اپنے کاموں پر حاضر و ناظر جانتا ہے. اور قیامت کے دن وہ نہیں چاہتا کہ اپنے حساب و کتاب کے ذریعے لوگوں کی نظروں سے گرے۔ ایمان کے بعد بڑی نعمت نیک عورت ہے۔ (حضرت عمر فاروقؓ) جوآدمی خود کو عالم کہے وہ جاہل ہے اور جو خود کو جنتی کہے وہ جہنمی ہے۔ (حضرت عمر فاروقؓ) طالب دنیا کو علم پڑھانا راہزن کے ہاتھ میں تلوار دینے کے مترادف ہے۔ (حضرت عمر فاروقؓ) کم بولنا حکمت، کم کھانا صحت، کم سونا عبادت اور عوام سے کم ملنا عافیت ہے۔ (حضرت عمر فاروقؓ)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور ﷺ کی امامت میں نماز پڑھتے ہوئےاسے توڑ کر گھر چلے گئے، وہ وقت جب تین جلیل القدر فرشتے جبرائیلؑ، میکائیلؑ اور اسرافیلؑ کو بیک وقت حرکت میں آنا پڑ گیا، ایما ن افروز واقعہ

ایک دن حضور اکرم ﷺ نے نماز عصر پڑھائی تو پہلا رکوع اتنا طویل فرمایا کہ گمان ہوا کہ شاید رکوع سے سر نہ اٹھائیں گے .پھر جب آپ ﷺنے رکوع سے سر اٹھالیا .

نماز ادا فرما لینے کے بعد آپ ﷺ نے اپنا رُخِ اَنور محراب سے ایک جانب پھیر کر فرمایا کہ میرا بھائی اور چچا زاد علی بن ابو طالب کہاں ہے ؟حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخری صفوں سے عرض کیالبیک ! میں حاضر ہوں یارسول اللہﷺ …! آپ ﷺنے فرمایااے ابو الحسن ! میرے قریب آجاؤ چنانچہ حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کے قریب آکر بیٹھ گئے.آپ ﷺ نے فرمایا ابو الحسن ! کیا تم نے اگلی صف کے وہ فضائل نہیں سنے جو اللہ عزوجل نے مجھے بیان فرمائے ہیں ؟ عرض کیا:کیوں نہیں، یارسول اللہ ﷺ …ارشاد فرمایاپھر کس چیز نے تمہیں پہلی صف اور تکبیر اولیٰ سے دور کردیا ،

کیا حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی محبت نے تمہیں مشغول کردیا تھا ؟ عرض کیان کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیسے رکاوٹ ڈال سکتی ہے. آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر کس چیز نے تمہیں روکے رکھا ؟عرض کیا کہ جب حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی تھی میں اس وقت مسجد ہی میں تھا اور دو رکعتیں ا دا کی تھیں پھر جب حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہی تو میں آپ ﷺ کے ساتھ تکبیرِ اُولیٰ میں شامل ہوا .پھر مجھے وضو میں شبہ ہوا تو میں مسجد سے نکل کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر چلا گیا اور جا کر حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کو پکارا مگر کسی نے میری پکار کا جواب نہ دیا تو میری حالت اس عورت کی طرح ہوگئی جس کا بچہ گم ہوجاتا ہے یا ہانڈی میں ابلنے والے دانے جیسی ہوگئی .میں پانی تلاش کررہا تھا کہ مجھے اپنے دائیں جانب ایک آواز سنائی دی اور سبز رومال سے ڈھکا ہوا سونے کا پیالہ میرے سامنے آگیا.میں نے رومال ہٹایا تو اس میں دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم پانی موجود تھا. میں نے نماز کے لئے وضوکیا پھر رومال سے تری صاف کی اور پیالے کو ڈھانپ دیا .پھرمیں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا نہ ہی مجھے یہ معلوم ہوسکا

کہ پیالہ کس نے رکھا اور کس نے اٹھایا ؟آپ ﷺ نے غیب کی خبر دیتے ہوئے مسکرا کر ارشادفرمایا:مرحبا! مرحبا! اے ابو الحسن !کیا تم جانتے ہو تمہیں پانی کا پیالہ اور رومال کس نے دیا تھا؟ عرض کی اللہ اور اس کے رسول عزوجل و ﷺ بہتر جانتے ہیں ارشاد فرمایا: پیالہ تمہارے پاس جبرئیلِ امین علیہ السلام لے کر آئے اور اس میں حظیرۃ القدس کا پانی تھا اوررومال تمہیں حضرتِ میکائیل علیہ السلام نے دیا تھا ،حضرتِ اسرافیل علیہ السلام نے مجھے رکوع سے سر اٹھانے سے روکے رکھایہاں تک کہ تم اس رکعت میں آکر مل گئے، اے ابو الحسن ! جو تم سے محبت کریگا اللہ عزوجل اس سے محبت کریگا اور جو تم سے بغض رکھے گا اللہ عزوجل اسے ہلاک کردے گا .(آنسوؤں کا دریا ، ص:220 ، مدینہ لائبریری ، دعوت اسلامی)

وہ لڑکی جس کی پیدائش پر ان کے والد کو حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی

اس بات سے کون مسلمان واقف نہیں کہ سیدہ رابعہ بصریہؒ پردہ خلوص کی پردہ نشین اور محذرہ خدا خاص، سوختہ عشق الہٰی مقبول درگاہ خداوندی ہیں۔ حضرت رابعہ بصریؒ بہت بڑی زاہدہ و عابدہ اور عارفہ تھیں۔ ان کی پیدائش پر خواب میں آپ کے والد گرامی کو حضور اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور حضور ﷺ نے فرمایا ”تیری یہ بچی بہت ہی مقبولیت حاصل کرے گی اور اس کی شفاعت سے میری امت کے کئی افراد بخش دئیے جائیں گے۔“ کیونکہ آپ تین بہنوں کے بعد تولدہوئیں، اس لئے آپ کا نام رابعہ (چوتھی) رکھا گیا۔ قصہ مختصر یہ کہ آپ بہنوں سے جداہوگئیں تو کچھ ظالموں نے آپ کو پکڑ کر فروخت کردیا۔ اس طرح آپ کنیز بن گئیں۔

آپ کا معمول یہ تھا کہ دن میں روزہ رکھتیں اور رات عبادت میں صرف کر دیتیں۔ ابتدا میں ایک شب جب آپ کے مالک کی آنکھ کھلی تو اس نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا، اس نے ایک گوشہ میں آپ کو سربسجود پایا اورایک معلق نور آپ کے سر پر فروزاں دیکھا، آپ حق تعالیٰ سے یہ عرض کررہی تھیں کہ ”اگر میرے بس میں ہوتو تو سارا وقت تیری عبادت میں گزاردیتی، لیکن چونکہ تو نے مجھے غیر کا محکوم بنادیا ہے، اس لئے میں تیری بارگاہ میں دیر سے حاضر ہوتی ہوں۔“
یہ سن کر آپ کا مالک بہت پریشان ہوا، اس نے یہ عہد کرلیا کہ ”مجھے تو اپنی خدمت لینے کے بجائے الٹا ان کی خدمت کرنی چاہیے تھی۔“
چنانچہ صبح ہوتے ہی آپؒ کو آزاد کرکے استدعا کی کہ ”آپ یہیں قیام فرمائیں تو میرے لئے باعث سعادت ہے، ویسے آپ اگر کہیں اور جانا چاہیں تو آپ کو اختیار ہے۔“
یہ سن کر آپ باہر نکل گئیں اور ذکر و شکر مین مشغول ہوگئیں۔ (مراة الاسرار ص 242 و تذکرة الاولیا)
منقول ہے کہ جس رات آپ پیدا ہوئیں، اس رات آپ کے والد کے ہاں اتنا کپڑا بھی نہیں تھا، جس میں آپ کو لپیٹا جاسکے اور اتنا روغن بھی نہیں تھا کہ آپ کی ناف پر چپڑدیا جاتا، گھر میں بالکل اندھیرا تھا، آپ کے والد سے آپ کی پیدائش کی رات کہا گیا کہ ”ہمسایہ کے گھر سے روغن لے آؤ، تاکہ چراغ جلائیں۔“ لیکن آپ کے والد نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ وہ کسی مخلوق سے کبھی کچھ نہیں مانگیں گے، اس لئے گھر والوں کے مجبور کرنے پر آپ پڑوسیوں کے گھر گئے، مگر دروازہ پر ہاتھ رکھ کر واپس چلے آئے اور کہا کہ ”دروازہ بند ہے۔“
جب آپ بڑی ہوئیں تو والدین کا سایہ سر پر سے اٹھ گیا۔ قحط اور خشک سالی کے باعث آپ کی بڑی بہنیں بھی جدا ہوگئیں، چنانچہ آپ بھی ایک طرف چل نکلیں، ایک ظالم نے پکڑ کر لونڈی بناکر فروخت کردیا، چنانچہ خریدار آپ کو گھر لے آیا اور سخت مشقت کا کام لینے لگا۔
حضرت رابعہؒ کا مالک جابر اور ظالم شخص تھا، جس کے دل میں رحم نام نہ تھا، وہ کنیزوں اور غلاموں کے ساتھ ناروا برتاؤ کو جائز سمجھتا تھا، اس کو اپنے کام سے کام تھا، انسانی ہمدردی سے کوئی سروکار نہ تھا۔
حضرت رابعہؒ کا مالک ان سے ہر وقت کام لیتا۔ بعض اوقات نماز پڑھنے کی مہلت بھی نہ ملتی، لیکن صبر و شکر کے ساتھ اپنے فرائض کو بخیر و خوبی انجام دیتی تھیں۔ مالک کو شکایت کا موقع نہ دیتی تھیں۔ گھر کے کام سے فارغ ہوکر عبادت میں مشغول ہوتیں۔ ان کا یہ معمول تھا کہ دن میں گھر کا کام کرتیں اور رات بھر عبادت میں مصروف رہتیں۔ آپ نے آقائے حقیقی اور آقائے مجازی دونوں کو خوش رکھنے کی کوشش کی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہدیکھی جانے والی ویڈیو

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

منسوباتِ بارگاہِ نبوی کی شان وعظمت کا اجمالی تعارف

اﷲ عزوجل نے نبی اکرم نورِ مجسمﷺ کو تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلیٰ بنایا۔ اسی طرح جمالِ صورت میں بھی یکتا و بے نظیر بنایا۔ صحابۂ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین خلوت و جلوت، سفر و حضر میں جمالِ جہاں آرا کو دیکھتے رہے، انہوں نے حبیب پاک ﷺکے فضل و کمال کی جو تصویر کشی کی ہے اسے سن کر یہی کہنا پڑتا ہے ؂
کوئی تجھ سا ہواہے نہ ہوگا شہا

حضورﷺ کے محافظین
کفار حضور اقدس ﷺ کے جانی دشمن تھے اور ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ ذرا بھی موقع مل جائے تو آپ کو شہید کر ڈالیں۔ بلکہ بار ہا قاتلانہ حملہ بھی کر چکے تھے۔ اس لئے کچھ جاں نثار صحابہ کرام باری باری سے راتوں کو آپ کی مختلف خوابگاہوں اور قیام گاہوں کا شمشیر بکف ہو کر پہرہ دیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب کہ یہ آیت نازل ہوگئی کہ واﷲ یعصمک من الناس ۔ یعنی اﷲ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔ اس آیت کے نزول کے بعد آپﷺ نے فرما دیا کہ اب پہرہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں، اﷲ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرما لیا ہے کہ وہ مجھ کو میرے تمام دشمنوں سے بچائے گا۔ ان جاں نثار پہرہ داروں میں چند خوش نصیب صحابہ کرام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں، جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔(۱) حضرت ابو بکر صدیق(۲) حضرت سعد بن معاذ انصاری(۳) حضرت محمد بن مسلمہ(۴) حضرت ذکوان بن عبداﷲ(۵) حضرت زبیر بن العوام(۶) حضرت سعد بن ابی وقاص(۷) حضرت عباد بن بشر(۸) حضرت ابو ایوب انصاری(۹) حضرت بلال(۱۰) حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنھم۔

کاتبین وحی
جو صحابہ کرام قرآن کی نازل ہونے والی آیتوں اور دوسری خاص خاص تحریروں کو حضور اقدس ﷺ کے حکم کے مطابق لکھا کرتے تھے ان معتمد کاتبوں میں خاص طور پر مندرج ذیل حضرات قابل ذکر ہیں۔(۱) حضرت ابو بکر صدیق (۲) حضرت عمر فاروق(۳) حضرت عثمان غنی(۴) حضرت علی مرتضیٰ(۵) حضرت طلحہ بن عبیداﷲ (۶) حضرت سعد بن ابی وقاص(۷)حضرت زبیر بن العوام (۸) حضرت عامر بن فہیرہ (۹) حضرت ثابت بن قیس(۱۰) حضرت حنظلہ بن زبیر(۱۱) حضرت زید بن ثابت(۱۲) حضرت ابی بن کعب(۱۳) حضرت امیر معاویہ(۱۴) حضرت ابو سفیان رضی اﷲ عنہم اجمعین۔

دربار نبوت کے شعراء
یوں تو بہت سے صحابہ کرام حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدح وثناء میں قصائد لکھنے کی سعادت سے سرفراز ہو ئے مگر در بار نبوی کے مخصوص شعراء کرام تین ہیں جو نعت گوئی کے ساتھ ساتھ کفار کے شاعرانہ حملوں کا اپنے قصائد کے ذریعہ دندان شکن جواب بھی دیا کرتے تھے ۔

(۱) دربار رسالت کے شعراء کرام میں سب سے زیادہ مشہور حضرت حسان بن ثابت بن منذر بن عمرو انصاری خزرجی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ’’ یا اﷲ ! حضرت جبرئیل کے ذریعے ان کی مدد فرما‘‘۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ’ جب تک یہ میری طرف سے کفار مکہ کو اپنا جواب اشعار کے ذریعے دیتے رہیں اس وقت تک حضرت جبرئیل علیہ السلام ان کے ساتھ رہا کرتے ہیں‘‘۔ایک سو بیس سال کی عمر پاکر 54 ھ میں وفات پائی ۔ساٹھ سال کی عمر دورجاہلیت میں گذاری اور ساٹھ برس کی عمر خدمت اسلام میں صرف کی ۔یہ ایک تاریخی لطیفہ ہے کہ ان کی اور ان کے والد’ ثابت‘ اور ان کے دادا’’ منذر‘‘ اور نگر دادا ’’حرام‘‘ سب کی عمر ایک سو بیس برس کی ہو ئیں ۔
(۲) حضرت کعب بن مالک انصاری سلمیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو جنگ تبوک میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے معتوب ہو ئے ۔مگر پھر ان کی توبہ کی مقبولیت قرآن مجید میں نازل ہوئی۔ ان کا بیان ہے کہ ہم لوگوں سے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ مشرکین کی ہجو کرو کیونکہ مومن اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا رہتا ہے او ر تمھارے اشعار گویا کفار کے حق میں تیروں کی مار کے برابر ہیں۔
(۳)دوسرے حضرت عبداﷲ بن رواحہ انصاری خزر جی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔ ان کے فضائل ومنا قب میں چند احادیث بھی ہیں۔ حضور اقدس ﷺنے ان کو’’ سید الشعراء ‘‘کا لقب عطا فرمایا تھا ۔یہ جنگ موتہ میں شہادت سے سرفراز ہوئے ۔

حضور ﷺ کے جھنڈے
سرور عالم ﷺ کا ایک بڑا جھنڈا تھا جو سفید تھا اور اس پر لکھا تھا’’ لا الہ اﷲ محمد رسول اﷲ ﷺ۔دوسرا پرچم سیاہ تھا اورتیسرا جھنڈا خاکی رنگ کا تھا۔ سیاہ رنگ کا جھنڈا صوف کے کپڑے سے بنایا گیا تھا، جسے عقاب کہا جاتا تھا۔ ایک جھنڈا زردرنگ کا تھا اورایک جھنڈے کو’’ خمیصہ‘‘ کہا جاتا تھا ۔حضور ﷺ نے ایک کمبل کا ٹکڑا نکالا اس کی رنگت کالی تھی، اسے نیزے سے باندھا ،پھر اس نیزے کو حرکت دی اورفرمایا کہ کون ہے جو اس نیزے کو اس شرط پر لے کہ اس کا حق ادا کر ے گا ؟اس شرط کے با عث مسلمانوں پر خوف طاری ہوا کو ئی آگے نہ بڑھا ،آخر ایک آدمی آگے بڑھا عرض کی :میں اس شرط پر یہ نیزہ لیتا ہوں کہ میں اس کاحق ادا کروں گا، ارشاد فرمائیے اس کا کیا حق ہے ؟فرمایا: اس کا حق یہ ہے دشمن پر حملہ کرتے ہو ئے آگے بڑھا جائے اور کسی کافر کی طرف پیٹھ کر کے پسپائی اختیار نہیں کی جائے ۔

گھوڑے پر سواری کا طریقہ
حضرت عبداﷲ بن جعفر سے مروی ہے حضور ﷺ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو اہل بیت نبوت کے بچے استقبال کیلئے حاضر ہوتے۔ ایک دفعہ حضور ﷺ تشریف لائیں، میں ان بچوں میں سب سے آگے تھا۔ حضور ﷺ نے مجھے اٹھایا اور مجھے آگے بٹھا لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا کے صاحبزادے آئے ان کو پیچھے بٹھالیا۔ ایک گھوڑے پر تین سوار ہو کر مدینہ میں داخل ہوئے۔ایک دفعہ حضور ﷺ سفر سے تشریف لائیں تو حضرت جعفر کے صاحبزادے عبداﷲ اور سیدنا علی کے صاحبزادے امام حسین استقبال کیلئے حاضر تھے۔ ان میں بڑے کو پیٹھ کے پیچھے بٹھایا اور چھوٹے کو آگے بٹھایا۔ ایک دفعہ حضور ﷺ تشریف لائیں تو حضرت قثم کو آگے اور فضل کو پیچھے بٹھایا۔پچاس آدمی وہ تھے جن کو حضور ﷺ کے ساتھ سوار ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

سفر پر جانے کیلئے پسندیدہ دن
حضور ﷺ سفر پر روانہ ہونے کیلئے جمعرات کا دن پسند فرماتے تھے۔ غزوہ تبوک پر روانگی بھی جمعرات کے روز ہوئی۔ حضور ﷺ اپنا وفدجمعرات ہی کو باہر روانہ فرماتے۔ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہحضور ﷺ سفر کے لئے جمعرات کا دن پسند فرماتے۔رحمت عالم ﷺ جب سفر پر جانے کیلئے اونٹ پر سوار ہوتے وقت اﷲ تعالیٰ کی حمد کرتے، تسبیح بیان فرماتے، تین تین بار تکبیر کہتے۔پھر یہ دعا بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے:اے اﷲ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی کی، پر ہیزگاری کی اور جو عمل تجھے پسند ہو اس کی درخواست کرتے ہیں، اے اﷲ!تو ہمارا یہ سفر ہم پر آسان کردے اور اس کی دور دراز کی مسافت کو طے کر دے، اے اﷲ! تو ہی سفر میں ہمارا رفیق ہے اور گھر بار میں ہمارا قائم مقام ہے۔ اے اﷲ!میں سفر کی سختیوں سے سفر کے تکلیف دہ منظر سے اور بیوی بچوں اور مال ومتاع میں تکلیف دہ واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔جب سفر سے واپس تشریفلاتے ،اس وقت پہلے یہ دعا دہراتے اور اس میں چند کلمات کا اضافہ فرماتے۔ اس کے علاوہ سفر کیلئے اور دعائیں بھی کتب سیرت میں مذکورہ ہیں۔حضور سرور عالم ﷺ اور حضور ﷺکے لشکر جب کسی اونچے ٹیلے پر چڑھتے تو اﷲ اکبر کہتے۔اگر بھیڑ ہوتی تو حضور ﷺ اپنی سواری کے جانور کو آہستہ چلاتے اور جب کھلی جگہ آتی توکچھ تیز چلتے۔

نشست وبرخاست کی ادائیں
حضور سرور عالمﷺ جب کسی مجمع میں تشریف لے جاتے تو جہاں جگہ مل جاتی وہاں بیٹھ جاتے اور اپنے صحابہ کو بھی یہی حکم دیا کرتے تھے ۔(۱)قرفضاء:بیٹھنے کی ایک خاص ہیئت ہے، جس میں انسان اپنے پیر پر بیٹھتا ہے اور رانوں کو پنڈلیوں سے ملا دیتا ہے۔ حضرت مخرمہ کی صاحبزادی فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو اپنے پیروں پر بیٹھے دیکھا ۔(۲) تربع ( چار زانو بیٹھنا ):حضرت حنظلہ بن خزیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور ﷺ چار زانو ہو کر بیٹھے ہیں۔ حضرت جابر سے مروی ہے کہ صبح کی نماز ادا کر نے کے بعد حضور ﷺ چار زانو ہو کر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوتا ۔(۳)احتباء : انسان اپنے گھٹنوں کو کھڑا کر کے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں سے گھیر لے ۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقا علیہ الصلوۃ کو کعبہ شریف کے صحن میں دیکھا کہ حضور ﷺ احتباء کی صورت میں تشریف فرما تھے ۔

ناپسندیدہ سبزیاں اور گوشت
وہ تر کاریاں جن سے بو آتی ہیں ان ہیں حضورﷺپسندنہیں فرماتے۔ مثلاً: پیاز، لہسن اور گندنا وغیرہ۔ اس کی وجہ سرکار دو عالم ﷺنے خود بیان فرمائی، فرمایا :کیو نکہ فرشتوں کی میرے پاس آمدورفت رہتی اور حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ہم کلام ہوتاہوں، اس لئے میں ان سبزیوں سے اجتناب کرتا ہوں تاکہ ملائکہ کو اس بد بو سے اذیت نہ پہنچے ۔حضور ﷺ نے وضاحت سے یہ بھی بتا دیا کہ یہ ترکاریاں حرام نہیں ۔ میں فرشتوں کی وجہ سے ان سے احتراز کرتا ہوں۔ بکرے کی سات چیزیں حضور ﷺ کو ناپسند تھی ۔پتہ ،مثانہ،حیاء،ذکر،انثیین، غدود،گردے۔ان پرندوں اور جانوروں کا گو شت ناپسند تھا جو مردار تھے۔ ام المومنین حضرت جویریہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے رسول اﷲ ﷺ سخت گرم کھانے کو نا پسند فرماتے، یہاں تک کہ اس کی گرمی کی شدت ختم ہوجاتی۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نہ کھانے کی چیز میں پھو نک مارتے اور نہ پینے کی چیز میں ۔

حضورﷺ کی تلواریں
حضور ﷺ کی تلواریں دو قسم کی تھی۔ ایک قسم کی تلواروں کے دستوں اور پھلوں پر چاندی کے جڑاؤ کاکام کیا گیا تھا ۔فتح مکہ کے دن حضور ﷺ کے پاس جو تلوار تھی اس پر سونے اور چاندی سے کام کیا گیا تھا ۔حضرت جعفر بن محمد سے روا یت ہے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی تلوار کا پھل اور قبضہ چاندی کا تھا ۔حضور ﷺ کی گیارہ تلواریں تھیں جن کے نام یہ ہیں ۔(۱)الماثور :یہ آپ کے والد ماجد کی تلوار تھی۔جب حضور ﷺ مدینہ تشریف لائے تھے تو اس وقت آپ کے ساتھ موجود تھی ۔( ۲)ذوالفقار:یہ بدر کی جنگ میں حضور ﷺ کو بطور مال غنیمت ملی تھی،اس کا دستہ چاندی کاتھا ۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حجاج بن علاط نے اسے بارگاہ رسالت ﷺمیں بطور ہدیہ پیش کیا تھا ۔(۳،۴،۵) قلعیہ ،البطار، الحتف:یہ تلواریں بنی قینقاع کے اسلحہ کے اس ذخیرہ سے لی گئی تھیں جو مسلمانوں کو بطور مال غنیمت ملا تھا ۔(۶،۷) مجذم،رسوم:یہ تلواریں بنی طے قبیلہ کے مال خانہ سے حضور ﷺ کو ملی تھیں ۔(۸)عضب:جب رحمت عالم ﷺ غزوۂ بدر کیلئے روانہ ہو ئے تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کی تھی۔(۹)قضیب:یہ بھی بنو قینقاع سے ملی۔(۱۰)صمصامۃ:یہ عرب کے نامور پہلوان عمرو بن معد یکرب الذبیدی کی تلوار تھی ۔خالد بن سعید اموی نے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کی تھی۔ سرور عالم ﷺ اس کو استعمال فرمایا کرتے تھے ۔یہ عرب کی مشہور ترین تلواروں میں سے ایک تھی ۔(۱۱)اللحیف ۔

حضور ﷺ کے نیزے
آپ ﷺ کے نیزوں کی تعداد پانچ تھی ۔(۱)المثوی(۲) المنثنی( ۳،۴،۵) حضور ﷺ کو بنی قینقاع قبیلہ کے ہتھیاروں سے ملے تھے ۔حضور ﷺ کے چھوٹے نیزے پانچ تھے ۔(۱)النبعہ البیضاء :جب حضور ﷺ نماز عید پڑھانے مدینہ طیبہ سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ نیزہ بطور سترہ گاڑاجاتا تھا۔(۲)العنزہ : عید کے دن حضور ﷺ کے سامنے چلنے والا اس کو اپنے ہاتھ میں پکڑتا ۔یہ نیزہ بھی عام طور پر سترہ کے طور پر استعمال ہوتا ۔(۳)الھد القمرۃ۔

حضوراکرم ﷺ کی زر ہیں
ان کی تعداد سات بتائی گئی ہے ۔(۱)السعدیہ:یہ وہ زر ہ ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام نے پہنی تھی جب آپ نے جالوت کو قتل کیا۔(۲)فضۃ:یہ اور پہلی زرہ سرکار دو عالم ﷺ کو بنو قینقاع کے اسلحہ کے ذخیرہ سے ملی تھیں ۔(۳)ذات الفضول :یہ ایک لمبی زرہ تھی اور جب رحمت عالم ﷺ غزوۂ بدر میں شرکت کیلئے روانہ ہو ئے توسعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیں ۔یہی وہ زرہ ہے جو شہنشاہ کو نین نے ابی شحم یہودی کے پاس تیس صاع کے بدلے رہن رکھی تھی۔ (۴)ذات الوشاح (۵ـ)ذات الحواشی (۶)التبراء:یہ چھوٹی تھی اس لئے اسے اس نام سے موسوم کیا گیا ۔(۷)الخرنق :ائمہ حدیث نے حضرت سائب بن یزید سے روا یت کیا ہے کہ سرور عالم ﷺ نے غزوہ ٔاُحد میں دو زر ہیں زیب تن فرمائی تھیں ۔احد کے علاوہ جنگ حنین میں بھی حضور ﷺ نے دو زر ہیں ذات الفضول اور سعدیہ زیب تن فرمائی ۔

حضور کریم کی ڈھا لیں
حضور ﷺ کی تین ڈھالیں تھیں ۔الزلوق، الفتق اور تیسری وہ ڈھال جسمیں مینڈھے اور عقاب کی تمثال تھی ۔امام بیہقی حضرت صدیقہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آخری ڈھال بارگاہ رسالت میں پیش کی گئی تو حضور ﷺ نے اس پر عقاب اور مینڈھے کی تمثال دیکھ کر کراہت کا اظہار کیا تو اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرت خاص سے ان تمثالوں کو اس سے مٹادیا ۔
٭٭٭
ماخوذ:
(۱)سیرت الرسول المعروف ضیاء النبیﷺ،ج۴،از:علامہ پیرکرم شاہ ازہری رحمۃ اﷲ علیہ (۲)سیرت محمدیہ ترجمہ مواھب اللدنیہ،از:حضرت امام بن احمد بن ابی بکرالخطیب القسطلانی الشافعی رحمۃ اﷲ علیہ ،ترتیب:محمدعبدالستار طاھرمسعودی زیدمجدہ(۳)سیرت مصطفیﷺ،از:علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی رحمۃ اﷲ علیہ (۴)سیرت رسول اکرمﷺ،از:محمدامام الدین صاحب

ابراہیمؑ نے پوچھا “اے میرے پروردگار” یہ سفید بال کیا ہے ؟

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو رحمن (اللہ ) کے دوست تھے سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے اپنی مونچھیں کتریں، اور وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے بڑھاپا یعنی سفید بال دیکھا، چنانچہ انہوں نے (جب سب سے پہلے اپنے بالوں میں سفیدی کو دیکھا تو ) عرض کیا کہ ” میرے پروردگار ” ! یہ کیا ہے ؟ پروردگار کا جواب آیا کہ ” ابراہیم (علیہ السلام ) ” یہ وقار ہے یعنی یہ اس بڑھاپے کی علامت ہے جو علم و دانش میں اضافہ کا باعث اور عز و وقار کا ذریعہ ہے اور اس کی وجہ سے لہو و لعب کی مشغولیت اور گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے . حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار ! یہ تو تیری بڑی نعمت ہے لہٰذا ” میرے وقار میں اضافہ فرما .

” (مالک ) مشکوۃ شریف . جلد چہارم . لباس کا بیان . حدیث 415 میرے بھائیوں اور محترم بہنوں! سر کے پہلے بال کا سفید ہو جانا انسان کے لئے موت کی بڑھنے اور الله سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے قریب ہو جانے کا سگنل ہوتا ہے لہٰذا اپنی باقی ماندہ زندگی الله کیمرضی سے گزارنے کا سگنل ہوتا ہے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آنے اور آخرت بچانے کی فکر کرنے سگنل.

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو رحمن (اللہ ) کے دوست تھے سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے اپنی مونچھیں کتریں، اور وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے بڑھاپا یعنی سفید بال دیکھا، چنانچہ انہوں نے (جب سب سے پہلے اپنے بالوں میں سفیدی کو دیکھا تو ) عرض کیا کہ ” میرے پروردگار ” ! یہ کیا ہے ؟ پروردگار کا جواب آیا کہ ” ابراہیم (علیہ السلام ) ” یہ وقار ہے یعنی یہ اس بڑھاپے کی علامت ہے جو علم و دانش میں اضافہ کا باعث اور عز و وقار کا ذریعہ ہے اور اس کی وجہ سے لہو و لعب کی مشغولیت اور گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے . حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار ! یہ تو تیری بڑی نعمت ہے لہٰذا ” میرے وقار میں اضافہ فرما .” (مالک ) مشکوۃ شریف . جلد چہارم . لباس کا بیان . حدیث 415 میرے بھائیوں اور محترم بہنوں! سر کے پہلے بال کا سفید ہو جانا انسان کے لئے موت کی بڑھنے اور الله سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے قریب ہو جانے کا سگنل ہوتا ہے لہٰذا اپنی باقی ماندہ زندگی الله کی مرضی سے گزارنے کا سگنل ہوتا ہے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آنے اور آخرت بچانے کی فکر کرنے سگنل یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو رحمن (اللہ ) کے دوست تھے سب سے پہلے انسان ہیں

جنہوں نے اپنی مونچھیں کتریں، اور وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے بڑھاپا یعنی سفید بال دیکھا، چنانچہ انہوں نے (جب سب سے پہلے اپنے بالوں میں سفیدی کو دیکھا تو ) عرض کیا کہ ” میرے پروردگار ” ! یہ کیا ہے ؟ پروردگار کا جواب آیا کہ ” ابراہیم (علیہ السلام ) ” یہ وقار ہے یعنی یہ اس بڑھاپے کی علامت ہے جو علم و دانش میں اضافہ کا باعث اور عز و وقار کا ذریعہ ہے اور اس کی وجہ سے لہو و لعب کی مشغولیت اور گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے . حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار ! یہ تو تیری بڑی نعمت ہے لہٰذا ” میرے وقار میں اضافہ فرما .” (مالک ) مشکوۃ شریف . جلد چہارم . لباس کا بیان . حدیث 415 میرے بھائیوں اور محترم بہنوں! سر کے پہلے بال کا سفید ہو جانا انسان کے لئے موت کی بڑھنے اور الله سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے قریب ہو جانے کا سگنل ہوتا ہے لہٰذا اپنی باقی ماندہ زندگی الله کی مرضی سے گزارنے کا سگنل ہوتا ہے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آنے اور آخرت بچانے کی فکر کرنے سگنل

اوقات

4 بیٹیوں کو اس خوش فہمی میں بیاہ دیا کہ چلو ماں باپ کے یہاں نہ سہی سسرال میں ہی اچھے دن دیکھ لیں گی ۔۔گھوم پھر لیں گی اپنے شوہر کے ساتھ ۔۔اپنے شوق اور حسرتیں پوری کر لیں گی جو مہر کی بہنیں اپنے غریب ماں باپ کے گھر نہ کر سکی ۔۔باپ کو گزرا عرصہ ہوگیا تب تو مہر صرف 11 سال کی تھی ۔۔آج مہرین 22 سال کی ہوگئی ہے ۔۔دو بار مہر کی منگنی صرف اسی وجہ سے ٹوٹی کہ رفعت بیگم جہیز اچھا خاصا نہیں دے سکتی تھی

اور غریب کی بیٹی حسن و جمال میں کتنی ہی برتر ہو لوگ اوقات دیکھ کر ہی رشتے کرتے ہیں ۔۔بس ابھی چچی جان آکر گئی یہ بتا کر کے مہر کو دیکھنے انکے کوئی رشتے دار آرہے ہیں ۔۔ایک ہی کمرے کا ڈربہ نما گھر کو سمیٹ کر دھو دھلا کر چمکایا گیا اور بیٹھنے کے لئے سستے بازار سے لیا ہوا اچھا سا قالین بھی بچھایا گیا ۔۔مہر نے کھانے پکانے میں مہارت حاصل کرلی تھی سو جھٹ پٹ تین چار چیزیں تیار ہوگئی ۔۔مہمان آئے ۔۔انکو رفعت بیگم اور مہر کے اخلاق نے متاثر کیا ۔۔رشتہ آیا ۔۔اور منگنی کی سادہ سی تقریب بھی ہوئی ۔۔خوش لباس رفعت بیگم کی پانچوں بیٹیاں اپنے اعلیٰ ذوق انتخاب کے کپڑے پہنے چمک رہی تھی ۔۔ہمیشہ سے ہی یہی بہنیں ننہیال اور ددھیال میں اپنی خوش لباسی کے لئے مشہور رہی ہیں

۔کیوں کے سستے کپڑوں کو ڈیزائنر لوک دینا ان کی ذہانت اور صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔۔یہی بات خاندان میں کچھ لوگ ہضم نہیں کر پاتے کے آخر اس غریب کریم کی بیٹیاں اتنی اچھی کیسے نظر آتی ہیں ۔۔

سسرال سے آیا ہوا مہر کا منگنی کا سامان سب دیکھتے ہی رہ گئے تھے ۔ ہر چیز برانڈڈ تھی ۔۔سب خوشی سے مسرور تھے کہ مہر کے کانوں میں آواز پڑی ۔۔

“مہرین نے بہت بڑا ہاتھ مارا ہے اس امیر پارٹی کو پھنسا کر ۔ ورنہ انکی اتنی اوقات کہاں کے اتنا اچھا رشتہ آتا ۔۔اگر اتنی ہی اچھی ہوتی بیٹیاں تو اچھے گھروں نہ جاتی ۔۔منگنی تو دیکھو ۔۔پاؤں ہی چادر سے باہر نکل دئے ۔۔مہرین با مشکل آنسو روک پائی۔ نگاہیں آسمان کی طرف اٹھی تھی اور آنسو باہر آنے سے پہلے دل میں اتر کر مہرین کریم کو مضبوطی عطا کر گئے تھے ۔۔اب نگاہیں سجدہ ریز تھیں ۔۔کیوں کہ انسان کو اوقات سے بڑھ کر اور قسمت سے زیادہ کچھ نہیں ملتا اور آج خالق کائنات نے اسے اپنے ساتھ ساتھ انکی بھی اوقات دکھائی تھی جو ہر امیر ہوکر بھی سوچ اور کردار میں مہرین کریم۔سے زیادہ غریب تھے ۔۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں “ہرمزان” نہاوند کا ایرانی گورنر تھا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں “ہرمزان” نہاوند کا ایرانی گورنر تھا اور مسلمانوں کا کٹر دشمن تھا..
اس کی وجہ سے مسلمانوں اور ایرانیوں میں کئی لڑائیاں هوئیں..
آخر ایک لڑائی میں ہرمزان گرفتار ہوا..
اسے یقین تھا کہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا لیکن امیر المومنین حضرت عمر رضی الله عنہ نے اسے اس شرط پر رہا کردیا کہ وه آئیندہ جزیہ دے گا..
آزاد ہو کر وه اپنے دارالخلافہ پہنچا’ بہت بڑی فوج اکٹھی کی اور مسلمانوں کے مقابلے میں اتر آیا لیکن اس بار بهی اسے شکست ہوئی اور ہرمزان دوبارہ سے گرفتار ہو کر امیر المومنین حضرت عمر رضی الله عنہ کے سامنے پیش کیا گیا.. ہرمزان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وه خود کو صرف کچھ لمحوں کا مہمان سمجھتا ہے..
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا..
“تم نے ہمارے ساتھ کئی بار عہد شکنی کی ہے..
تم جانتے ہو کہ اس جرم کی سزا موت ہے..؟”
ہرمزان نے کہا.. “ہاں میں جانتا ہوں اور مرنے کیلئے تیار ہوں..”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اسلام قبول کرنے کو کہا لیکن اس نے انکار کردیا اور کہا..
“میری ایک آخری خواہش ہے..”
آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا.. “کیا..؟”
ہرمزان نے کہا..
“میں شدید پیاسا ہوں اور پانی پینا چاہتا ہوں..”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر اسے پانی کا پیالہ پیش کیا گیا..
ہرمزان نے پیالہ ہاتھ میں پکڑ کر کہا..
“مجھے خوف ہے کہ پانی پینے سے پہلے ہی مجھے قتل نہ کردیا جائے..”
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا..
“اطمینان رکھو..
جب تک تم پانی نہ پی لو گے کوئی شخص تمہارے سر کو نہ چھوئے گا..”
ہرمزان نے کہا..
“آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک میں پانی نہ پیوں گا مجھے قتل نہ کیا جائے گا..
میں یہ پانی کبھی نہیں پیوں گا..
” یہ کہہ کر اس نے پیالہ توڑ دیا اور کہنے لگا..
“اب آپ مجھے کبھی قتل نہیں کر سکتے..”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا..
“تم نے عجیب چال چلی ہے لیکن عمر (رضی اللہ عنہ) کو اپنے لفظوں کا پاس ہے.. جاؤ تم آزاد ہو..”
ہرمزان شکرگزاری اور حیرانی کے تاثرات کے ساتھ چلا گیا..
چند دن بعد ہی ہرمزان اپنے کچھ ساتھیوں سمیت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے حاضر ہوا اور درخواست کی کہ ہمیں اسلام میں داخل کرلیجئے..
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا..
“تم نے اس وقت اسلام قبول کیوں نہ کیا جب میں نے تمہیں دعوت دی تھی..”
ہرمزان نے کہا..
“صرف اس لیے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں نے موت کے خوف سے کلمہ پڑھ لیا ہے..
اب میں اپنی رضا سے اسلام قبول کرتا ہوں..”

ایک ہندو پنڈت نے ایک اعلان کیا کہ ہندو مذہب سچا مذہب ہے اور اسلام جھوٹا مذہب ہے

حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمت اللہ علیہ کے زمانے میں ایک ہندو پنڈت نے ایک اعلان کیا کہ ہندو مذہب سچا مذہب ہے اور اسلام جھوٹا مذہب ہے اور دلیل اس نے یہ پیش کی کہ ہمارا فلاں مندر جو دو ہزار سال سے بنا ہوا ہے آج تک بالکل صحیح سالم ہے اسکی دیواریں کھڑکیاں دروازے غرض سب کچھ ویسے کا ویسے آج تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں جبکہ مسلمانوں کی مساجد ایک سال بھی نہیں گزرتا کہ رنگ روغن درودیوار دروازے کھڑکیاں سب کچھ خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام مٹنے والا ہے اور ہندو مت باقی رہنے والا ہے۔
مسلمانوں کی اکثریت اس پروپیگنڈا کا جواب دینے میں ناکام رہی اور اسکی وجہ سے لوگ بہت شش و پنج میں مبتلا ہو گئے کہ اس پروپیگنڈا کا روک تھام کیسے کیا جاۓ
ایسے میں حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی آگے آۓ اور اس نے اعلان کیا کہ اس کا جواب میں دوں گا
پنڈت نے کہا کیا جواب ہے حضرت نے کہا کہ ایسے نہیں اسی مندر کے دروازے پر جواب دوں گا
مقررہ وقت پر مسلمان اور ہندو سب جمع ہو گئے کہ دیکھئے کیا جواب دیتے ہیں
حضرت صاحب مندر کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور قرآن کی آیت
لو انزلنا ھذا القران علی جبل لرآئتہ حاشعۃ . . .
ترجمہ
اگر اللہ تعالی اس قرآن کو پہاڑ پر بھی نازل کر دیتے تو وہ پہاڑ بھی اللہ تعالی کے جلال سے ڈر کر ٹکڑے ٹکڑے ھو جاتا
.
آپ آیت پڑھتے جاتے اور مندر کے درودیوار دروازوں کے طرف انگلی سے اشارہ کرتے جاتے ایسے میں اللہ تعالی نے آپ کے ہاتھ پر اپنے دین کی حقانیت کی کرامت ظاہر کر دی اور مندر کی دیواریں گرنا شروع ھو گئی دروازے ٹوٹنے لگے
مسلمانوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا پنڈت جلدی حضرت کے قدموں میں گر گئے اور کہا بس کریں بہت ہو گیا لیکن اسکی حقیقت تو بتا دیں کہ یہ کیا ہوا
آپ نے فرمایا اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ قرآن اگر پہاڑ پر نازل کر دیتے تو وہ بھی اپنی جگہ نہیں ٹہر سکتا پھر اس مندر کی کیا مجال ہے کہ یہ اپنی جگہ پر کھڑا رہتا
یہ تو مسجد کی عظمت ہے کہ اس میں روزانہ قرآن پڑھا جاتا ہے پھر بھی اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہے۔

مولانا طارق جمیل نے ایک مرتبہ بتایا کہ ۔۔ چیف جسٹس نےججز کو ایسا واقعہ سنا دیا کہ اجلاس میں موجود ہرجج پر ہیبت طاری ہو گئی، جان کر آپ بھی سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدلیہ ساز پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ججز کو خوف خدا کا بھی سبق دیا.

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک مرتبہ ملک کے معروف اسلامی سکالر مولانا طارق جمیل نے میری موجودگی میں بتایا کہ حشر کے روز بہت سخت دھوپہوگی اور سورج سوا نیزے پر آجائے گا.

اس روز صرف ایک جگہ سایہ ہوگا اور اس کے نیچے صرف عادل قاضی موجود ہوں گے

.اس موقع پر چیف جسٹس نے جج صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ انصاف کریں کیونکہ یہ عبادت انہیں روز حشر سوا نیزے پر آئے سورج کی گرمی اور تپش سے محفوظ رکھے گی.

جنازہ کے چالیس اہم مسائل (چوتھی قسط)

(۳۶)شہداء کا مقام اور ان کے اقسام :
اسلام میں جہاد، شہادت اور شہید کا بلند مقام ہے ، شہداء کو انبیاء اور صدیقین کے بعد تیسرے درجہ پر رکھا گیا ہے جیساکہ اﷲ کا فرمان ہے :
وَمَن یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِم مِّنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَٰئِکَ رَفِیقًا (النساء :69)
ترجمہ: اور جو بھی اﷲ تعالٰی کی اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اﷲ تعالٰی نے انعام کیاہے ، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں ۔
قرآن وحدیث میں شہداء کے بے شمار فضائل ومناقب ،بڑے اجروثواب اور بلند درجات کا ذکر کیا گیا ہے جن کا یہاں احاطہ ممکن نہیں ہے ۔ ویسے سارے مرنے والوں کو برزخ کی زندگی ملتی ہے مگر اﷲ نے خصوصی طورپر شہداء کی برزخی زندگی کا ذکر کیا ہے ، ان سے گناہوں کی مغفرت کا وعدہ کیا گیا،قرض کے علاوہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، انہیں جنت کی بشارت دی گئی، ان کی روحیں قندیل میں عرش الہی سے آویزاں ہیں اور سبزپرندوں کے جوف میں سواری کرتی ہیں اور جنت میں سیروتفریح کرتی ہیں ۔شہید کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ انہیں ان کے کپڑوں میں خون سمیت بغیر غسل وجنازہ کے دفن کیا جاتا ہے تاکہ قیامت میں انہیں کپڑوں میں اٹھائے جائیں ۔شہداء جب اپنا یہ مقام دیکھتے ہیں تو پھر سے دنیا میں لوٹنے اور شہید ہونے کی تمنا کرتے ہیں ۔ یہ وہ شہداء ہیں جو اسلام وکفر کی کسی لڑائی میں شہید ہوئے ہوں ۔ شہداء کااتنا بڑا مقام ہونے کے باوجود ان سے ہم استغاثہ نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ وہ دنیا سے وفات پاچکے ہیں جو زندگی انہیں نصیب ہوئی ہے وہ برزخ کی زندگی ہے ۔ جب شہداء کو حاجت روائی کے لئے نہیں پکار سکتے تو صالحین واولیاء کو بھی بدرجہ اولی نہیں پکار سکتے بلکہ اﷲ کے علاوہ کسی کو بھی مدد کے واسطے پکارنا منع ہے ، اﷲ نے حکم دیا ہے کہ ہم صرف اسی کو ہی پکاریں اور وفات پانے والیتو ہماری پکار بھی نہیں سن سکتے مدد کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔
شہداء کی ایک دوسری قسم بھی ہے جو کچھ مخصوص اعمال اور مخصوص حالات کی وجہ سے شہید کا مقام پاتے ہیں ، ان کی تعداد بھی کئی ہیں ۔ سات قسم کے شہداء کا اکٹھے ایک حدیث میں بیان ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
الشَّہادۃُ سبعٌ سوی القتلِ فی سبیلِ اللَّہِ المطعونُ شہیدٌ والغرِقُ شہیدٌ وصاحبُ ذاتِ الجنبِ شہیدٌ والمبطونُ شہیدٌ وصاحبُ الحریقِ شہیدٌ والَّذی یموتُ تحتَ الہدمِ شہیدٌ والمرأۃُ تموتُ بِجُمعٍ شہیدۃٌ(صحیح أبی داود:3111)
ترجمہ: اﷲ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے عِلاوہ سات شہید ہیں (۱)مطعون شہید ہے(۲) اور ڈوبنے والا شہید ہے(۳)ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور (۴)اورپیٹ کی بیماری سے مرنے والا ، اور(۵)جل کر مرنے والا شہید ہے، اور (۶)ملبے کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے ، اور (۷)اور وہ عورت جو ولادت کی تکلیف ( درد زہ ) میں وفات پا جائے شہید ہے ۔
یہ فطری طور پر ملنے والی شہادتیں ہیں ، کچھ شہادتیں مبارک اعمال کی انجام دہی کی وجہ سیہمیں نصیب سکتی ہیں جن کا ہمیں خصوصی اہتمام کرنا چاہئے ۔ان میں سے ہے شہادت کی تمنا کرنا، والدین کی خدمت کرنا،بیوہ اور مسکین کی خدمت کرنا، اول وقت پر نماز پڑھنا، عشرہ ذی الحجہ میں اعمال صالحہ انجام دینا، عورتوں کا حج کرنا، اپنی نفسانی خواہشات سے جہاد کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، اپنے مال، عزت اور دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہونا، فتنے کے زمانے میں دین حق پر عمل کرنا، نماز کے بعد تسبیح فاطمی پڑھنا، اﷲ کا ذکر کرنا، سو بار اﷲ اکبر، سوبار الحمد ﷲ اور سوبار سبحان اﷲ کہنا، اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرناوغیرہ ۔ انہیں تفصیل سے جاننے کے لئے میرے بلاگ پر مضمون ” کیا عورتوں کو جہاد کے اجر سے محروم کیا گیا ہے؟” مطالعہ فرمائیں ۔
(۳۷)حسن خاتمہ کی علامت واسباب :
موت سے قبل اچھی حالت میں وفات پانا یا زبان پر کلمہ کا جاری ہونا حسن خاتمہ کی علامت ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : الأعمالُ بالخَوَاتِیمِ ( صحیح البخاری:6607) یعنی عمل کا دارومدار خاتمہ پر ہے ۔ اور یہ بھی فرمان نبوی ہے : من کانَ آخرُ کلامِہِ لا إلَہَ إلَّا اللَّہُ دَخلَ الجنَّۃَ(صحیح أبی داود:3116)ترجمہ: جس کی زبان سے آخری کلمہ لاالہ الااﷲ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
اس لئے مسلمان کو بری موت سے اﷲ کی پناہ اور حسن خاتمہ کی اﷲ سے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہئے اور عمل ترک کرکے صرف دعا سے موت کے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوگا بلکہ ہمیں کلمے کا تقاضہ پورا کرنا ہوگا یعنی اﷲ اور اس کے رسول کے فرمان کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی۔ حسن خاتمہ کی کچھ علامتیں ہیں جنہیں نیچے ذکر کیا جاتا ہے ۔
شہادت کی موت تو سب سے اچھا خاتمہ ہے جس کا ذکر اقسام کے ساتھ اوپر ہواہے وہ ساری قسمیں اچھی موت ہیں، ان کے علاوہ مرتے وقت زبان سے کلمہ ادا ہونا، پیشانی سے پیسہ نکلنا، مومن کی اچانک موت ہونا ،جمعہ کی رات یا دن میں وفات پانااور کسی بھی قسم کا نیک کام کرتے ہوئے وفات پانا مثلا نمازپڑھتے ہوئے ، روزہ رکھتے ہوئے ، تلاوت کرتے ہوئے ، ذکر کرتے ہوئے ، دعا کرتے ہوئے اور توبہ واستغفار کرتے ہوئے وغیرہ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا أرادَ اﷲُ بعبدٍ خیرًا استعملَہ ، فقیل : کیف یستعملُہ یا رسولَ اﷲِ ؟ قال : یوفِّقُہ لعمَلٍ صالحٍ قبلَ الموتِ(صحیح الترمذی:2142)
ترجمہ: جب اﷲ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کام پر لگاتا ہے،عرض کیا گیا: اﷲ کے رسول! کیسے کام پر لگاتا ہے؟ آپ نے فرمایا:موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے۔
اس لئے ہم اعمال صالحہ کے ذریعہ اﷲ کا پسندیدہ بندہ بنیں تاکہ موت کے وقت وہ ہمیں عمل صالح کی توفیق دے ۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ موت کے وقت نیک لوگوں کے چہرے پہ تبسم و نورانیت بھی حسن خاتمہ کی علامت ہے۔ یاد رہے وفات کے بعد یا دفن کے بعد میت کی طرف جھوٹے کشف وکرامات منسوب کرنا اور ان کی تشہیر کرکے اپنی تجارتی دوکان سجانا سخت عذاب کا باعث ہے ۔
(۳۸)موت کے وقت ظاہر ہونے والی بری علامات:
ایک مسلمان کو بری موت سے بکثرت پناہ مانگنی چاہئے ،مرتے وقت جس کا خاتمہ شر پر ہو واقعی اس کے لئے افسوس در افسوس ہے ۔ بری موت کی وجہ دین سے دوری، اعمال صالحہ سے نفرت ، برائی سے محبت اوراس پر اصرار ، ذکر الہی سے غفلت اور منکرات وفواحش کی انجام دہی، عقائد باطلہ ، شرک وبدعات پر عمل اور ان کی نشر واشاعت، آخرت سے بے فکری اور دنیا سے بیحد محبت وغیرہ ہے۔ ایسی صفات کے لوگوں کو مرتیوقت کبھی کلمہ نصیب نہیں ہوتابلکہ برائی کرتے ہوئے ان کی موت واقع ہوتی ہے مثلا فلم دیکھتے ہوئے، زنا کرتے ہوئے، شراب پیتے ہوئے ، جوا کھیلتے ہوئے، خودکشی کرکے،شرک وبدعت کرتے ہوئے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : مَنْ ماتَ علی شیء ٍ بَعثَہُ اﷲُ علیْہِ(صحیح الجامع:6543)
ترجمہ: جس حالت میں آدمی فوت ہوگا،اسی پر اسے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔
آپ ذرا تصور کریں جس کی موت زنا کرتے ہوئے ہواور قیامت میں وہ زناکرتے ہوئے اٹھایا جائے وہ شخص رب کو کیا منہ دکھائے گا اور اس کا حساب وکتاب کیسا ہوگا؟
بسا اوقات اچھے لوگوں کی موت پر ہمیں کچھ ایسی علامات نظر آتی ہیں جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں مثلا چہرہ یا بدن کا سیاہ ہوجانا تو اس قسم کی کوئی علامت کے ظہور پرپردہ کرنا چاہئے بطور خاص میت کو غسل دینے والے اگراس میں کوئی بری علامت دیکھے تو لوگوں سے اسے بیان نہ کرے ۔ حقیقت حال کا اﷲ کو علم ہے ہمیں کسی مسلمان میت کی برائی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں:
ذُکرَ عندَ النَّبیِّ صلی اﷲ علیہ وسلم ہالِکٌ بسوء ٍ فقالَ : لاَ تذْکروا ہلْکاکم إلاَّ بخیرٍ(صحیح النسائی:1934)
ترجمہ: نبی کریم ﷺ کے سامنے کسی مرنے والے کا ذکر برائی کے ساتھ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اپنے فوت شدگان کا ذکر بھلائی کے سوا(برائی کے ساتھ ) نہ کرو۔
(۳۹)سوگ اور عدت کے مسائل:
سوگ اور عدت یہ دونوں عورتوں سے متعلق ہیں ، مردوں کے لئے سوگ نہیں ہے ۔ جب کسی عورت کا کوئی رشتہ دار وفات پاجائے تو تین دن سوگ منانا جائز ہے اور شوہر کی وفات پر چار مہینے دس دن سوگ منانا واجب ہے۔ نبی ﷺکا فرمان ہے : لا یحلُّ لامرأۃٍ تؤمنُ باﷲِ والیومِ الآخرِ أنْ تحدَّ علی میِّتٍ فوقَ ثلاثِ لیالٍ ، إلَّا علی زوجٍ أربعۃَ أشہُرٍ وعشرًا (صحیح البخاری:5334)
ترجمہ: کسی عورت کے لیے جو اﷲ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، صرف شوہر کے لیے چار مہینے دس دن کا سوگ ہے ۔
سوگ منانے کا اسلامی طریقہ کیا ہے ؟ سوگ میں زینت اور بناؤسنگار کی چیزیں استعمال کرنا منع ہیں۔ خوشبو اور سرمہ سے بھی پرہیزکرنا ہے۔بیوہ عدت کے دوران رنگین وچمکدار کپڑے،ریشمی اور زعفرانی لباس،زینت کی چیزیں مثلا کان کی بالی، نان کا نگ، ،پازیب، کنگن، ہار،انگوٹھی، چوڑیاں، کریم ، پاؤڈر، خوشبودارتیل ، عطر، سرمہ ، مہندی وغیرہ استعمال نہیں کرے گی ۔حیض سے پاکی پر معمولی مقدار میں بخور وغیرہ استعمال کرسکتی ہیاور دوا کے طور پرسرمہ بھی استعمال کرسکتی ہے مگر صرف رات میں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ سوگ میں عورت پر غم کے آثار ظاہر ہوں اس وجہ سے زینت کی چیزیں استعمال کرنا منع ہے۔ سفید کپڑا ہی بیوہ کی علامت نہیں ہے کوئی بھی عام سادہ کپڑا جو خوبصورت نہ ہو پہن سکتی ہے اور ضرورت کی چیزیں انجام دینے مثلا کھانا پکانا، پانی بھرنے، جھاڑو دینے، غسل کرنے، کپڑا صاف کرنے ، بات چیت کرنے اور گھریلو امور انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے یہاں تک کہ اگر کوئی ملازمت ہواور چھٹی کی کوئی گنجائش نہ ہو توبناؤسنگار سے بچتے ہوئے ملازمت بھی کرسکتی ہیکیونکہ یہ ضرورت میں داخل ہے۔ بلاضرورت بات چیت، ہنسی مذاق، گھر سے نکل کر کام کرنا (الایہ کہ اشد ضرورت ہو)، ٹیلی ویزن ،ریڈیو ، اخبار اور موبائل کا بلاضرورت استعمال کرنا یعنی وقت گزاری کے لئے منع ہے ۔ خالی وقت میں قرآن کی تلاوت، ذکرواذکار، دعاواستغفاراورکتب احادیث وسیر کا مطالعہ بہتر ہے ۔
وفات پر یا نزول بلا پر آنکھوں سے آنسو بہ جائے ، بے اختیار رونا آجائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر قصدا پھوٹ پھوٹ کر دیر تک روتے رہنے ،آہ وبکا کرتے رہنے، جزع فزع کرنے ، زبان سے برے کلمے نکالنے اور نامناسب کام کرنا سوگ کے منافی ہے اور اس سے صبر کا اجر ضائع ہوجائے گا۔میت کی بیوہ یا ا س کے کسی رشتہ دار کو میت کے پاس جزع فزع کرنے کی ممانعت ہے ، وہاں چیخنے چلانے کی بجائے میت کے حق میں دعائے خیر کرنا چاہئے ۔ ابوسلمہ رضی اﷲ عنہ کی وفات کے وقت ان کے گھر والے چیخنے چلانے لگے تو آپ ﷺنے فرمایا:
لا تَدعوا علَی أنفسِکُم إلَّا بِخیرٍ ، فإنَّ الملائِکَۃَ یؤمِّنونَ علی ما تَقولون ثمَّ قالَ : اللَّہمَّ اغفِر لأبی سلَمۃَ وارفع درجتَہُ فی المَہْدیِّینَ ، واخلُفہُ فی عقبِہِ فی الغابِرینَ ، واغفِر لَنا ولَہُ ربَّ العالمینَ ، اللَّہمَّ افسِح لَہُ فی قبرِہِ ، ونوِّر لَہُ فیہِ(صحیح أبی داود:3118)
ترجمہ: اپنے لیے بد دعائیں مت کرو بلکہ اچھے بول بولو کیونکہ جو تم کہتے ہو اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ( بطور دعا ) فرمایا: اے اﷲ ! ابوسلمہ کی بخشش فرما، ہدایت یافتہ لوگوں کے ساتھ اس کے درجات بلند کر اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو ہی اس کا خلیفہ بن ۔ اور اے رب العلمین ! ہماری اور اس کی مغفرت فرما، اے اﷲ ! اس کی قبر کو فراخ اور روشن کر دے ۔
مزید چند مسائل مندرجہ ذیل ہیں ۔
بیوہ کو عدت کے طور پر چار مہینے اور دس دن گزارنے جوسوگ کے دن ہیں ،حاملہ کی عدت وضع حمل ہے، عدت کی شروعا ت اس دن سے ہوگی جب شوہر کی وفات ہوئی ہیگرچہ بیوہ کو خبر بعد میں ہوئی ہو، عدت شوہرکے گھر میں گزارے گی، عدت کے دوران بلاضرورت سفر کرنا منع ہے، دوران عدت سوگ کے مذکورہ احکام اپنانے ہیں ،اس میں نکاح کرنا یا نکاح کا پیغام دینا منع ہے بلکہ عدت کے گزرنے کے بعد ہی دوسرے مرد سے شادی کرسکتی ہے ۔ بیوہ کے احکام ومسائل سے متعلق مفصل ومدلل مضمون میرے بلاگ پر دیکھیں ۔
(۴۰)تعزیت کے آداب :
جو اہل شرک اور کافر ہیں انہیں صرف دلاسہ دے سکتے ہیں ،ان کیمیت کے لئے استفغار نہیں کرسکتے ہیں اور مسلمانوں کی تعزیت کرنا مسنون اوربڑے اجر کا کام ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
ما من مؤمنٍ یعزِّی أخاہُ بِمُصیبۃٍ إلَّا کساہُ اللَّہُ سبحانَہُ من حُلَلِ الکرامۃِ یومَ القیامَۃِ(صحیح ابن ماجہ:1311)
ترجمہ: جو مومن اپنے بھائی کی مصیبت کے وقت اس کی تعزیت کرتا ہے ، اﷲ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت وشرف کا لباس پہنائیں گے۔
میت کے رشتہ داروں کا غم ہلکا کرنے کے لئے انہیں تسلی دینا، صبر دلانا، اظہارہمدردی کرنا ، تعاون کی ضرورت ہوتو ان کا تعاون کرنااور میت کے لئے دعاء واستغفار کرنا تعزیت کہلاتی ہے۔ تعزیت کے طور پریہ دعا رسول اﷲ ﷺ سے منقول ہے:إنَّ ﷲ ما أخذَ ولہ ما أعطی . وکلُّ شیء ٍعندہ بأجلٍ مسمی(صحیح مسلم:923)
ترجمہ: لی ہوئی چیز بھی اسی کی ہے اور دی ہوئی چیز بھی اسی کی تھی اور ہر چیز اس ذات کے پاس وقت مقررہ کے مطابق لکھی ہوئی ہے۔
سوگ کے دن متعین ہیں جیساکہ اوپر معلوم ہوا مگر تعزیت کے واسطے زیارت کرنے کادن مدت متعین نہیں ہے جب کسی کے یہاں وفات کی خبر ملے اس کی تعزیت کرسکتا ہے خواہ تین دن بعد ہی ہو مگر تعزیت کے لئے خیمہ نصب کرنا، کسی جگہ لوگوں کا جمع ہونا، رسمین انجام دینا ،اجتماعی شکل میں دعوت کا اہتمام کرنا ، اجتماعی دعائیں، دعا میں ہاتھ اٹھانا، باربار تعزیت کے لئے جانا یہ سب امور ثابت نہیں ہیں لہذا ان سے بچا جائے ۔ جریر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں:
کنَّا نری الاجتماعَ إلی أَہلِ المیِّتِ وصنعۃَ الطَّعامِ منَ النِّیاحۃ(صحیح ابن ماجہ:1318)
ترجمہ: ہم اہل میت کیلئے اکٹھا ہونا ، اور دفن کرنے کے بعد کھانا بنانا نوحہ گری میں شمار کرتے تھے۔

نوٹ : جنازہ کے مسائل کی کثرت کی وجہ سے نکات کا مزید اضافہ کیا جائے گا ، اس لئے اس مضمون کی اگلی سرخیوں کا انتظار کریں ۔

اللہ سب بہنوں کی عزت کی حفاظت کرے ۔۔ تمام بہنیں ہ خبر ضرور پڑھیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان میں’گھریلو تشدد‘ کو عمومی طور پر میاں بیوی کے آپسی معاملے کے طور پر لیا جاتاہے اور یہی ایک وجہ ہے جس کے باعث لوگ اس میں مداخلت نہیں کرتے اور ثالثی کا کردار کرنے کے بجائے صرف معاملے کو بڑھتا ہو ا دیکھتے ہیں جوکہ آگے بڑھ کر شدید سے شدید تر ہوتا چلا جاتاہے اور بعض اوقات خواتین کو خودکشی کرنے تک مجبور ہو جاتی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ایسے میں ایک ٹویٹر صارف لڑکی نے جب ایسا ہی واقعہ سرعام سڑک پر ہوتے ہوئے دیکھا تو یہ لڑکی موقع پر اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کو نہ بچا سکی لیکن اس نے اس حوالے سے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے ایک چھوٹا سا اقدام اٹھاتے ہوئے اس واقعے کو ٹویٹر پر اپنے الفاظوں میں شیئر کیا

جس پر شہریوں کی جانب سے سخت مذمت کی جارہی ہے ٹویٹر صارف لڑکی نے اپنے پیغام میں پیغام میں لکھا کہ ’ایک خاتون کریم ٹیکسی سے میرے کالج کے سامنے اتری اور اس نے مدد کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی اور اسی دوران وہاں ایک اور گاڑی آکر رکی اور اس میں اس کا شوہر اترا اور اس نے اپنی اہلیہ کو سڑک پر ہی مارنا پیٹنا شروع کر دیا ، یہ واقع سینکڑوں افراد کے سامن پیش آیا لیکن کوئی بھی اس کی مدد کیلئے آگے نہیں بڑھا ‘۔

یہ واقعہ ایک یونیورسٹی کے باہر پیش آیا جہاں پر لوگوں کے بارے میں سمجھتا جاتاہے کہ وہ پڑھے لکھے اور باشعور ہیں تاہم کوئی بھی آگے نہیں بڑھا اور جو لڑکے اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں انہیں دوسروں نے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ ان کے گھر کا معاملہ ہے ۔ ٹویٹر صارف نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جب وہ شخص اپنی بیوی کو سڑک پر سرعام پیٹ رہاہے تو یہ گھر کا معاملہ ہے ؟

تو پھر کیا ہوگا اگر اس نے اسے ما ر ما ر کر موت کے منہ پہنچا دیا تو ،کیا یہ چیز آپ کو مداخلت پر مجبو رکرے گی ؟“۔اگر ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا ؟کون ہمارے لیے کھڑا ہو گا اور کون ہمارے معاشرے کو بہتری کی طرف لے جائے گا ؟

۔نوجوان ٹویٹر صارف کی جانب سے یہ معاملہ اٹھائے جانے پر لوگوں کی جانب سے اس کی مذمت کی جارہی ہے ۔ اس معاملے میں ایک صاف نے ٹویٹ کیا کہ اس خاتون نے مبینہ طور پر خود کشی کر لی ہے تاہم اس کی کسی حوالے سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہدیکھی جانے والی ویڈیو

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر

7ستمبر …… یوم دفاعِ ختم نبوت

یہ1974ء کی بات ہے ، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اﷲ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر جب کہ مولانا شریف جالندھری رحمۃ اﷲ علیہ اس کے جزل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔ مولانا محمد یوسف بنوری ؒکے دور میں جماعت کو بہت فوائد حاصل ہوئے۔ بیرونِ ملک جماعت متعارف ہوئی ۔ اندرونِ ملک کام میں وسعت آگئی ۔ اسی دور میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم بنے ۔ اس دور میں قادیانوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبہ نے بہت زور پکڑا ، دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث اور شیعہ چاروں مکاتب فکر کی مجلس عمل تشکیل دی گئی ۔ مجلس عمل کا صدر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو اور جزل سیکرٹری علامہ خالد محمود احمد رضوی صاحب (بریلوی) کو بنایا گیا ۔ حکومت وقت نے تحریک سے مجبور ہوکر علماء کی بات مان لی اور اس مسئلہ کو اسمبلی میں پیش کردیا۔

در اصل اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دو باتوں کا مغالطہ لگ گیا تھا اور وہ اسی ادھیڑ پن میں رہے کہ ’’قادیانی اچھے بھلے مسلمان ہیں،انہیں کافر کیوں قرار دیا جائے ؟نیز قادیانیوں کی اتنی بڑی اور منظم جماعت ہے، ان کے پاس اسمبلی میں اپنے دفاع کے لئے بہت مواد ہوگا ، وہ اپنا دفاع خوب کرلیں گے ۔‘‘ انہوں نے اسی غلط فہمی کی وجہ سے ( آنجہانی) مرزا ناصر احمد کو اسمبلی میں مسلمانوں کے جوابات دینے کی دعوت دی اور کہا : ’’ آؤ! اور خوب تیاری کرکے مسلمانوں کے سوالوں کے جواب دو،تاکہ کسی کے دل میں حسرت باقی نہ رہے ۔‘‘ یہ مسلمانوں کے لئے بہت ہی اچھا ہوا ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے دفتر میں مولانا محمد یوسف بنوری ؒ نے ڈیرہ لگالیا ۔ مولانا اﷲ وسایا ، مولانا عبد الرحیم اشعرؒؔ ، فاتح قادیانیت مولانا محمد حیاتؒ ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور قومی اسمبلی کے رکن اور جمعیت علمائے اسلام کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی محمود صاحبؒ بھی دفتر سے وابستہ ہوگئے ۔ مولانا مفتی محمودصاحبؒ کو جماعت کی طرف سے قومی اسمبلی میں نمائندہ مقرر کردیا گیا ۔

صبح سے شام تک آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں سامنے رکھ کر حوالہ جات پر نشان لگائے جاتے اور کیس تیار ہوتا رہتا اور اسے مفتی محمود صاحب ؒکے حوالے کردیا جاتا ۔
ایک روز (آنجہانی ) مرزا ناصر جب قومی اسمبلی میں داخل ہوا تو بھٹو نے وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ کی طرف دیکھ کر کہا : ’’دیکھو ! کیسا بزرگ آدمی ہے ۔ اس کی اتنی اچھی ڈاڑھی اور نورانی چہرہ ہے ،لوگ اس کو کافر کہتے ہیں۔‘‘

مولانا مفتی محمود نے قومی اسمبلی میں اپنا کیس پیش کیا ۔ جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو مفتی صاحب آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کے حوالے پڑھتے گئے ، اس وقت قومی اسمبلی کے تمام ارکان مفتی صاحب کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے تھے اور سبھی ہمہ تن گوش تھے ۔ مفتی محمود صاحبؒ فرمانے لگے: ’’بھائی!میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا ، یہ مرزا صاحب کی کتابیں پڑھی ہیں، جس کو شک ہے وہ آکر دیکھ لے اور مرزا ناصر اسمبلی میں موجود ہے ، اگر یہ میرے کسی حوالے کو جھٹلادے تو میں مان لوں گا ۔‘‘

آنجہانی مرزا ناصر خاموش تھا اور پانی پیئے جارہا تھا ، وہ پسینے میں شرابور ہوچکا تھا اور بار بار اپنا پسینہ صاف کر رہا تھا ، اس طرح کئی روز بحث چلتی رہی اور مفتی محمود صاحبؒ مقدمہ لڑتے رہے ۔ مولانا محمد یوسف بنوری ؒ نے دفتر میں مصلّٰی بچھا رکھاتھا اور ہر وقت دعاؤں میں لگے رہتے کہ: ’’ اے اﷲ پاک! اپنے محبوب اکے صدقے اپنے محبوب اکی عزت کی حفاظت فرما اور مسلمانوں کو اس فتنہ سے نجات عطا فرما۔‘‘اس اﷲ کے بندے کی دعائیں لگا تار ’’عرشِ عظیم‘‘ تک پہنچ رہی تھیں ۔

ایک روز مفتی محمود صاحبؒ نے بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ہے ، جس میں لکھا ہے کہ : ’’ مجھے نہ ماننے والے’’ کتیوں‘‘ اور’’ سورنیوں ‘‘کی اولاد ہیں ، ان کی عورتیں ’’جنگلوں کی سورنیاں‘‘ ہیں اور یہ خود ’’ولد الحرام‘‘ ہیں ۔‘‘ آپ مرزا ناصر سے پوچھیے کہ یہ عبارت غلط ہے؟۔ بھٹوصاحب! مرزا غلام احمد قادیانی نے کسی کو معاف نہیں کیا ، اس میں تم بھی آگئے ہو اور ہم بھی۔‘‘

چنانچہ بھٹو نے ( آنجہانی) مرزا ناصر سے پوچھا: ’’ کیا عبارت ٹھیک ہے؟‘‘ مرزا ناصر نے کہا : ’’ جی ہاں!‘‘بھٹو نے پوچھا : ’’ تم بھی اسے مانتے ہو!‘‘ مرزا ناصر نے جواب دیا :’’جی ہاں!‘‘ ۔

مفتی محمود صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: ’’اس وقت مرزا ناصر بار بار اپنا پسینہ صاف کر رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ پانی بھی پیئے جارہا تھا ۔ بھٹو نے حفیظ پیرزادہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : ’’یہ بہت بے ایمان ہے ، ہمیں صاف گالیاں دی جارہی ہیں ۔‘‘

اب جب بحث شروع ہوئی تو مفتی محمودصاحبؒ نے فرمایا: ’’ اب باقی کیا رہ گیا ہے؟ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا ہے ۔‘‘ اس طرح مرزا ناصر کو شکست فاش ہوئی اور بھری اسمبلی میں وہ مفتی صاحب کے کسی ایک سوال کا بھی جواب نہ دے سکا ۔

اس کے بعد مفتی محمود صاحبؒ بر سر مطلب آئے اور فرمایا : ’’ اب سب مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ یہ کافر ہیں اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ۔ اب تم بھی مان لو!۔‘‘اس پر کافی لے دے ہوئی ۔ مفتی محمود صاحب ؒ فرماتے ہیں : ’’ رات کا ایک بج گیاتھا ، اور بھٹو صاحب بضد رہے کہ’’ کافر تو لکھوالو مگر غیر مسلم نہ لکھواؤ ‘‘ ہم رات ایک بجے غصہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ : اچھا اب صبح ہونے دو،دیکھو! پھر کیا ہوتا ہے؟‘‘جب ہم دروازے میں آگئے تو بھٹو نے پیچھے سے بھاگ کر ہمیں پکڑ لیا اور کہنے لگا : ’’ مفتی صاحب! آؤ! جیسا آپ کہتے ہیں ویسا ہی لکھ دیتا ہوں‘‘ بالآخر بھٹو نے ہمارا مطالبہ مان لیا اور قادیانیوں کو کافر اور غیر مسلم قرار دے دیا گیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرلیا گیا کہ قادیانی کلیدی آسامیوں پر فائز نہیں رہیں گے ، یہاں تک کہ قادیانیوں کو اسامیوں سے الگ کروانے کا کام شروع ہوگیا۔ ہم نے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ بھٹو نے دستخط کردیے ، پھر تمام ارکانِ اسمبلی نے باری باری اپنے اپنے دستخط کیے ٗ اوراس طرح متفقہ طور پر قادیانیوں کے خلاف قومی اسبلی میں قرار داد منظور ہوگئی۔‘‘

جو مدینے میں مرنے کی خواہش کرے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہـ وسلم نے اس شخص کیلئے کیا ارشاد فرمایا؟ جان کر سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

مسجد نبویؐ کے نائب امام، موذن الشیخ ایاد بن احمد شکری نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ قتل و غارت، فتنہ وفساد ، لڑائی کو پسند نہیں کرتا ، کسی پر فتوے نہ لگاؤ اور کافر نہ کہو یہ کام جس کا ہے وہی کر سکتا ہے ،دین اسلام میں آسانیاں ہیں، ایمان صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ عمل بھی ضروری ہے ،کوئی بھی حاکم وقت ،حکمران وقت خواہ وہ برائی بھی کرتا ہے۔

اس کے خلاف افرا تفری نہ پھیلاؤ اس کے خلاف خرو ج نہ کرو ،امن و امان کو پسند کرنے والے صحیح مشن اور منہج پر ہیں ۔ وہ جمعہ کو جامع مسجد اسحاق میں نماز جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ۔ اس موقع پر انہوں نے عالم اسلام کے اتحاد،سلامتی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعا بھی کرائی ۔ الشیخ ایاد بن احمد شکری نے اپنے خطبے میں کہا کہ اللہ رب العزت نے اپنے رسول محمد ﷺکو ہم سب کیلئے حادی و مرشد بنا کر بھیجا ،

جنت کی خوشخبریاں سنانے والے اور جہنم سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور پھر اپنے محبوب کو ایسی توجیحات سے نوازا جن کے ذریعے رسول ﷺ اپنی امت کی تربیت کر سکیں۔رسولﷺ اللہ کی مرضی کے بغیر کلام نہیں کیا کرتے تھے۔،اس لئے آپ ؐکی ہر بات شریعت ہے اور ایک مسلمان کو اس پر ایمان لانا چاہیے ۔

اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو جوتوجیحات دیں ان میں ایک توجیح یہ تھی اے میرے محبوب آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح استقامت اختیار کیجیے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھاکہ تم کہہ دو میں اللہ پر ایمان لاتا ہو ں اور اس پر استقامت اختیار کر تا ہوں یہ کلمات دین اسلام کی اصل روح ہیں اور یہ وہ کلمات ہیں جس میں اسلام کو جمع کر دیا گیا ہے ۔یاد رکھنا ایمان بہت بڑی نعمت ہے ۔

صحیح مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کی جماعت سے الگ نہیں ہوتا اور اپنی زندگی نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارتا ہے ۔ صحیح مشن اور منہج وہ ہے جو انسان صحابہ کی برائی نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان ہستیوں کو اپنے محبوب کا وزراء بنایا ہے اور انہیں پوری کائنات سے چنا ہے ۔ نبی کریمﷺ ؐنے خود کہا میرے صحابہ کو گالی نہ دو اور جس نے گالی دی اس پراللہ اس کے فرشتوں اورپوری کائنات کی لعنت ہے۔

جو قتل و غارت ،فساد او ر لڑائی کو پسند نہیں کرتا جوامن کو پسند کرتا ہے وہ مومن ہے کیونکہ جو ایک مومن کو قتل کرتا ہے وہ امن و امان کو تہہ و بالا کرنا چاہتا ہے ۔تقدیر کو نہ جھٹلائیں ،ہر قسم کی تقدیر چاہے وہ اچھی ہو یا وہ بری ہو اس کا فیصلہ اس رب نے کیا ہے ۔ ایمان پر شک نہ کرنا ایمان نیکی کرنے سے بڑھتا اور برائی کرنے سے کم ہوتا ہے ۔ دین میں جھگڑے نہ کرو لڑائی نہ کرنا جس کی زندگی کا مقصد یہ ہے وہ صحیح مشن پر ۔ صحیح منہج

مشروط طلاق

ایک شخص کسی بات پر اپنی بیوی سے ناراض ہوا اور قسم کھا کر کہا کہ ’’جب تک تو مجھ سے نہ بولے گی میں تجھ سے کبھی نہ بولوں گا. ‘‘عورت تند مزاج تھی اس نے بھی قسم کھا لی اور وہی الفاظ دہرائے جو شوہر نے کہے تھے.

اس وقت غصہ میں کچھ نہ سوجھا مگر پھر خیال آیا تو دونوں کو نہایت افسوس ہوا. شوہر مایوس ہو کر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضرہوا کہ آپ کوئی تدبیر بتائیے. امام صاحبؒ نے فرمایا ’’ جاؤ شوق سےباتیں کروکسی پر کفارہ نہیں ہے.سفیان ثوریؒ کو معلوم ہوا تو نہایت برہم ہوئے اور امام ابو حنیفہؒ سے جا کر کہا آپ لوگوں کو غلط مسئلے بتا دیا کر تے ہیں.

امام صاحبؒ سفیان ثوریؒ کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا ’’جب عورت نے شوہر کو مخاطب کر کے قسم کے الفاظ کہے تو عورت کی طرف سے بولنے کی ابتدا ہو چکی، پھر قسم کہاں باقی رہی؟ ‘‘ سفیان ثوریؒ نے کہا ’’ حقیقت میں آپ کو جو بات وقت پر سوجھ جاتی ہے ہم لوگوں کا وہاں تک خیال بھی نہیں پہنچتا.

بیٹی اللّہ کی رحمت

اﷲ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام قرآن کریم میں ارشاد فرمایا : ﴿ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضِ، یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ، یَہَبُ لِمَن یَّشَآءُ اِنَاثاً وّیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّکُوْرَ۔ اَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَاناً وَّاِنَاثاً ویَجْعَلُ مَنْ یَشَآءُ عَقِیْماً﴾ (سورۃ الشوریٰ ۴۹ ۔ ۵۰) آسمانوں اور زمین کی سلطنت وبادشاہت صرف اﷲ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دنوں عطا کردیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ اس کے ہاں نہ لڑکا پیدا ہوتا ہے اور نہ لڑکی پیدا ہوتی ہے، لاکھ کوشش کرے مگر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔ جس کے لئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرمادیتا ہے۔ لڑکیاں اور لڑکے دونوں اﷲ کی نعمت ہیں۔ لڑکے اور لڑکیوں دونوں کی ضرورت ہے۔ عورتیں مرد کی محتاج ہیں اور مرد عورتوں کے محتاج ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے دنیا میں ایسا نظام قائم کیا ہے کہ جس میں دونوں کی ضرورت ہے اور دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔

اﷲ کی اِس حکمت اور مصلحت کی روشنی میں جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو ہم میں سے بعض احباب ایسے نظر آئیں گے کہ جن کے یہاں لڑکے کی بڑی آرزوئیں اور تمنائیں کی جاتی ہیں، جب لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اس وقت بہت خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اگر لڑکی پیدا ہوجائے تو خوشی کا اظہار نہیں کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بچی کی پیدائش پر شوہر اپنی بیوی پر، اسی طرح گھر کے دیگر افراد عورت پر ناراض ہوتے ہیں حالانکہ اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اﷲ کی عطا ہے۔ کسی کو ذرہ برابر بھی اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یاد رکھیں کہ لڑکیوں کو کم تر سمجھنا زمانۂ جاہلیت کے کافروں کا عمل تھا، جیساکہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے۔۔۔۔۔ خوب سن لو کہ وہ (کفار مکہ) بہت برا فیصلہ کرتے ہیں﴾۔ (سورۃ النحل ۵۸۔۵۹ ) لہذا ہمیں بیٹی کے پیدا ہونے پر بھی یقینا خوشی ومسرت کا اظہار کرنا چاہئے۔

نبی اکرمﷺ نے بیٹیوں کی پرورش پر جتنے فضائل بیان فرمائے ہیں ، بیٹے کی پرورش پر اس قدر بیان نہیں فرمائے ۔

لڑکیوں کی پرورش کے فضائل سے متعلق چند احادیث :
حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، اور وہ ان کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے زندگی گزارے (یعنی ان کے جو حقوق شریعت نے مقرر فرمائے ہیں وہ ادا کرے، ان کے ساتھ احسان اور سلوک کا معاملہ کرے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے) اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا رہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی بدولت اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ (ترمذی ۔ باب ما جاء فی النفقہ علی البنات)

اسی مضمون کی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے بھی مروی ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ ﷺ کے ارشاد فرمانے پر کسی نے سوال کیا کہ اگر کسی کی ایک بیٹی ہو (تو کیا وہ اس ثواب عظیم سے محروم رہے گا؟) آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک بیٹی کی اسی طرح پرورش کرے گا، اس کے لئے بھی جنت ہے ۔ (اتحاف السادۃ المتقین)

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص پر لڑکیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو اور وہ اس کو صبر وتحمل سے انجام دے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ (ترمذی )

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز سے پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوجائیں تو ان کی شادی کردے) تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہونگے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔ (ترمذی ۔ باب ما جاء فی النفقہ علی البنات)

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے ایک قصہ منقول ہے ، وہ فرماتی ہیں کہ ایک خاتون میرے پاس آئی جس کے ساتھ اس کی دو لڑکیاں تھیں، اس خاتون نے مجھ سے کچھ سوال کیا، اس وقت میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہیں تھا ، وہ کھجور میں نے اس عورت کو دیدی، اس اﷲ کی بندی نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور ایک ایک ٹکڑا دونوں بچیوں کے ہاتھ پر رکھ دیا، خود کچھ نہیں کھایا، حالانکہ خود اسے بھی ضرورت تھی، اس کے بعد وہ خاتون بچیوں کو لے کر چلی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے اس خاتون کے آنے اور ایک کھجور کے دو ٹکڑے کرکے بچیوں کو دینے کا پورا واقعہ سنایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جس کو دو بچیوں کی پرورش کرنے کا موقع ملے اور وہ ان کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرے تو وہ بچیاں اس کو جہنم سے بچانے کے لئے آڑ بن جائیں گی۔ (ترمذی)

﴿وضاحت﴾: مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں کی شریعت اسلامیہ کے مطابق تعلیم وتربیت اور پھر ان کی شادی کرنے پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تین فضیلتیں حاصل ہوں گی: ۱) جہنم سے چھٹکارا۔ ۲) جنت میں داخلہ۔ ۳) حضور اکرم ﷺ کے ساتھ جنت میں ہمراہی۔

قرآن کی آیات ودیگر احادیث کی روشنی میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ شریعت ِاسلامیہ کے مطابق اولاد کی بہتر تعلیم وتربیت وہی کرسکتا ہے جو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، جیسا کہ پہلی حدیث میں گزرا (ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا رہے )۔

حضور اکرم ﷺ کا طرزِ عمل: حضور اکرم ﷺکی چار بیٹیاں تھیں : حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا ، حضرت زینبرضی اﷲ عنہا ، حضرت رقیہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا ۔ آپ ﷺ اپنی چاروں بیٹیوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔ آپﷺکی تین بیٹیوں کا انتقال آپ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کا انتقال آپ ﷺکے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوا۔ آپ ﷺکی چاروں بیٹیاں جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ حضور اکرم ﷺحضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ بہت ہی شفقت اور محبت کا معاملہ فرمایا کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺجب سفر میں تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے۔

چند مسائل: جہاں تک محبت کا تعلق ہے، اس کا تعلق دل سے ہے اور اس میں انسان کو اختیار نہیں ہے، اس لئے اس میں انسان برابری کرنے کا مکلف نہیں ہے۔ یعنی کسی ایک بچہ یا بچی سے محبت زیادہ کرسکتا ہے۔ مگر اس محبت کا بہت زیادہ اظہار کرنا کہ جس سے دوسرے بچوں کو احساس ہو ، منع ہے۔

اولاد کو ہدیہ اور تحفہ دینے میں برابری ضروری ہے۔ لہذا ماں باپ اپنی زندگی میں اولاد کے درمیان اگر پیسے یا کپڑا یا کھانے پینے کی کوئی چیز تقسیم کریں تو اس میں برابری ضروری ہے۔ اور لڑکی کو بھی اتنا ہی دیں جتنا لڑکے کو دیں۔ شریعت کا یہ حکم کہ لڑکی کا لڑکے کے مقابلے میں آدھا حصہ ہے، یہ حکم باپ کے انتقال کے بعد اس کی میراث میں ہے۔ زندگی کا قاعدہ یہ ہے کہ لڑکی اور لڑکے دونوں کو برابر دیا جائے۔
اگر ماں باپ کو ضرورت کے موقع پر اولاد میں کسی ایک پر کچھ زیادہ خرچ کرنا پڑے، تو کوئی حرج نہیں ہے، مثلاً بیماری، تعلیم اور اسی طرح کوئی دوسری ضرورت ہو تو خرچ کرنے میں کمی بیشی کرنے میں کوئی گناہ اور پکڑ نہیں ہے۔ لہذا حسب ضرورت کمی بیشی ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

بیٹی کی شادی کے بعد بھی بیٹی کا حق میراث ختم نہیں ہوتا۔ یعنی باپ کے انتقال کے بعد وہ بھی باپ کی جائیداد میں شریک رہتی ہے۔

ان دنوں ہماری بیٹیاں غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں، لہذا ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو نامحرم مردوں کے اختلاط سے حتی الامکان بچائے۔ اگر ہماری بیٹیوں کو گھر سے باہر نکلنا ہی ہو تو پر دہ کے ساتھ نکلیں، نیز تنگ اور بہت زیادہ زیب وزینت والے لباس پہن کر باہر نہ نکلیں، بلکہ اسلامی مہذب لباس استعمال کریں۔ وقتاً فوقتاً ان کو نگاہیں نیچی رکھنے کی تلقین دیتے رہیں۔ بیٹیوں کے انٹرنیٹ وموبائل کے استعمال کی نگرانی رکھیں۔ اپنی بیٹیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی ضرور دلائیں مگر ان کو آزاد نہ چھوڑدیں کہ وہ نوجوانی کے نشہ میں غلط راستہ اختیار کرلیں جس پر پچھتاوہ کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو، نیز وہ دنیا وآخرت کی زندگی میں ناکام ہوجائیں اور قیامت کے دن آپ یعنی والدین سے بھی صحیح تربیت نہ کرنے کا سوال کیا جائے ۔ روزانہ ہی سینکڑوں عصمت دری کے واقعات اخبارات کی سرخیاں بن رہے ہیں، مگر اس سنگین مسئلہ کے حل کے لئے صرف فروعی باتوں کی طرف توجہ دی جارہی ہے جس سے مسئلہ کا حل قیامت تک نہیں ہوگا، حالانکہ اس کا بنیادی حل وہی ہے جو اسلامی تعلیمات میں ملتا ہے جس کو اختصار کے ساتھ اوپر ذکر کیا گیا، نیز زانیوں کے لئے اسلام نے جو سزا طے کی ہے وہی متعین ہونی چاہئے، اسی کے ذریعہ سے اس کا سد باب ممکن ہے۔