میں نہیں مانتا کہ خدا موجود ہے

امام ابو حنیفہؒ کا واقعہ ہے کہ ان کے زمانے میں مہدی جو اموی خلیفہ تھا، اس کے دربار میں ایک دہریہ آیا، جو خدا کی ذات سے انکار کرتا تھا، اس نے کہا میں نہیں مانتا کہ خدا موجود ہے، یہ کائنات طبعی رفتار سے خود بنی ہے اور خود چل رہی ہے. لوگ مر رہے ہیں اور پیدا ہو رہے ہیں وغیرہ.

یہ سب ایک طبعی کارخانہ ہے کوئی بنانے والا نہیں ہے یہ اس کا دعویٰ تھا اور اس نے چیلنج کیا کہ مسلمانوں میں جو سب سے بڑا عالم ہو،اس کو میرےمقابلے میں لایا جائے تاکہ اس سے بحث کروں اور لوگ غلطی میں مبتلا ہیں کہ اپنی طاقتوں کو خواہ مخواہ ایک غیبی طاقت کے تابع کر دیا ہے، جو سارے جہان کو چلا رہی ہے، تو اس زمانے میں سب سے بڑے عالم امام ابوحنیفہؒ تھے، مہدی نے امام صاحبؒ کے پاس آدمی بھیجا،

رات کا وقت تھا، رات ہی کو خلیفہ کا دربار منعقد ہوتا تھا، آدمی بھیجا کہ وہ آ کر اس دہریے سے بحث کریں اور اسے سمجھائیں اور راہ راست پر لائیں. چنانچہ آدمی پہنچا، بغداد میں ایک بہت بڑا دریا ہے، اسے دجلہ کہتے ہیں، اس کے ایک جانب شاہی محلات تھے، ایک جانب شہر، تو امام ابو حنیفہؒ شہر میں رہتے تھے اس لیے دریا پار کرکے آنا پڑتا تھا. اس نے کہا اصل میں دربار میں ایک دہریہ آ گیا ہے اور وہ دعویٰ کر رہا ہے کہ خدا کا وجود نہیں ہے، کائنات خود بخود چل رہی ہے، آپ کو مناظرہ کے لیے بلایا ہے.امام صاحبؒ نے فرمایا، اچھا آپ جا کے کہہ دیں کہ میں آ رہا ہوں، وہ آدمی واپس گیا اور کہا کہ امام صاحبؒ کو میں نے خبر کر دی ہے اور آپ آنے والے ہیں.اب دربار لگا ہوا ہے. خلیفہ، امراء، وزراء بیٹھے ہوئے ہیں اور دہریہ بھی بیٹھا ہوا ہے، امام صاحبؒ کا انتظار ہے مگر امام صاحب نہیں آ رہے. رات کے بارہ بج گئے امام صاحبؒ ندارد.دہریے کی بن آئی، اس نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ ڈر گئے ہیں اور سمجھ گئے ہیں کہ کوئی بڑا فلسفی آیا ہے، میں اس سے نمٹ نہیں سکوں گا،اس واسطے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے اور آپ یقین رکھیں وہ نہیں آئیں گے، میرے مقابلے میں کوئی نہیں آ سکتا.اب خلیفہ بھی متامل ہے، درباری بھی حیران ہیں اور دہریہ بیٹھا ہوا شیخی دکھا رہا ہے. جب رات کا ایک بجا تو امام صاحبؒ پہنچے، دربار میں حاضر ہوئے، خلیفہ وقت نے تعظیم کی، جیسے علماء ربانی کی کی جاتی ہے، تمام دربار کھڑا ہو گیا. خلیفہ نے امام صاحبؒ سے کہا کہ آپ اتنی دیر میں کیوں آئے؟آدمی رات کے آٹھ بجے بھیجا گیا تھا، اب رات کا ایک بجا ہے، آخر اتنی تاخیر کی کیا وجہ پیش آئی؟ شاہی حکم تھا،

اس کی تعمیل جلد ہونی چاہیے تھی، نہ یہ کہ اس میں اتنی دیر لگائی جائے. امام صاحبؒ نے فرمایا کہ ایک عجیب و غریب حادثہ پیش آ گیا، جس کی وجہ سے مجھے دیر لگی اور عمر بھر میں، میں نے ایسا واقعہ کبھی نہیں دیکھا تھا، میں حیران ہوں کہ کیا قصہ پیش آیا، اس شد و مد سے بیان کیا کہ سارا دربار حیران ہو گیا کہ کیا حادثہ پیش آگیا.فرمایا بس عجیب و غریب ہی واقعہ تھا اور خود مجھے بھی ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا، کہ کیاقصہ تھا؟ جب سارے دربار کو خوب شوق دلا دیا اور سب سرتاپا شوق بن گئے، حتیٰ کہ خود امیر المومنین نے کہا کہ فرمائیے کیا قصہ پیش آیا… فرمایا! قصہ یہ پیش آیا، جب میں شاہی محل میں اترنے کے لیے چلا ہوں تو دریا بیچ میں تھا، دریا کے کنارے پر جو پہنچا

تو اندھیری رات تھی، نہ کوئی ملاح تھا نہ کشتی تھی، آنے کا کوئی راستہ نہ تھا،میں حیران تھا کہ دریا کو کس طرح پار کروں، اس شش و پنج میں کھڑا ہوا تھا کہ میں نے یہ حادثہ دیکھا کہ دریا کے اندر سے خود بخود لکڑی کے نہایت عمدہ بنے ہوئے تختے نکلنے شروع ہوئے اور ایک کے بعد ایک نکلتے چلے آ رہے ہیں، میں تحیر سے دیکھا رہا تھا کہ یا اللہ! دریا میں سے موتی نکل سکتا ہے، مچھلی نکل سکتی ہے، مگر یہ بنے بنائے تختے کہاں سے آئے؟ ابھی میں اسی حیرت میں تھا کہ اس سے زیادہ عجیب واقعہ پیش آیا کہ تختے خود بخود جڑنے شروع ہوئے، جڑتے جڑتے کشتی کی صورت ہو گئی،میں نے کہا یا اللہ! یہ کس طرح سے کشتی بن گئی، آخر انہیں کون جوڑ رہا ہے کہ اوپر نیچے خود بخود تختے لگے چلے جا رہے ہیں.ابھی میں اسی حیرت میں تھا کہ دریا کے اندر سے لوہے قیتل کی کیلیں نکلنی شروع ہو گئیں اور خود بخود اس کے اندر ٹھکنے لگیں اور جڑجڑا کے بہترین قسم کی کشتی بن گئی.میں حیرت میں کہ یہ کیا ماجرا ہے، یہ تختے جو جڑے ہوئے تھے، ان کی درجوں سے پانی اندر گھس رہا تھا کہ دریا کے اندر سے خود بخود ایک روغن نکلنا شروع ہوا اور ان درجوں میں وہ بھرنا شروع ہوا جس سے پانی اندر گھسنا بند ہو گیا.ابھی میں اسی حیرت میں تھا کہ وہ کشتی خود بخود میری طرف بڑھنی شروع ہوئی اور کنارے پر آ کر ایسے جھک گئی، گویا مجھے سوار کرانا چاہتی ہے، میں بھی بیٹھ گیا، وہ خو بخود چلی اور مجھے لے کر روانہ ہوگئی، دریا کی دھار پر پہنچی. پانی ادھر کو جا رہا تھا کشتی خود بخود ادھر کو جا رہی تھی، کیونکہ شاہی محلات ادھر کو تھے. میں حیران تھا کہ یا اللہ! آخر پانی کے بہاؤ کے خلاف کون اسے لے جا رہا ہے؟یہاں تک کہ شاہی محل کے قریب کنارے پر پہنچ گئی اور آخر جھک کر پھر کنارے پر کھڑی ہو گئی کہ میں اتر جاؤں تو میں اتر گیا، پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کشتی غائب بھی ہو گئی، گھنٹہ بھر اس کنارے اور گھنٹہ بھر اس کنارے سوچتا رہا کہ یہ کیا قصہ تھا؟ یہ سانحہ جس کی وجہ سے تحیر میں کئی گھنٹے لگ گئے، اب تک سمجھ میں نہیں آیا، کیا ماجرا تھا؟ اور میں امیرالمومنین سے معافی چاہتا ہوں کہ آٹھ بجے بلایاگیا اور ایک بجے پہنچا ہوں.

دہریے نے کہا، امام صاحب! میں نے تو یہ سنا تھا کہ آپ بڑے عالم ہیں، بڑے دانش مند اور فاضل مند آدمی ہیں مگر بچوں کی سی باتیں کر رہے ہیں، بھلا یہ ممکن ہے کہ پانی میں سے خود بخود تختے نکل آئیں، خود ہی جڑنے لگیں، خود ہی کیلیں ٹھک جائیں، خود ہی روغن لگ جائے، خود آ کے کشتی اپنے آپ کو جھکا دے، آپ اس پر بیٹھ جائیں اور خود ہی لے کے چل دے، خود ہی وہ کنارے پر پہنچا دے، یہ کوئی عقل میں آنے والی بات ہے؟میں نے سمجھا تھا کہ آپ بڑے دانش مند، فاضل اور عالم ہیں، امام آپ کا لقب ہے اورباتیں کر رہے ہیں آپ نادانوں اوربچوں جیسی؟یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کشتی بنانے والا نہیں، خود بخود بن گئی، کوئی کیلیں ٹھونکنے والا نہیں، خود بخود ٹھک گئیں، کوئی روغن بھرنے والا نہیں، خود ہی بھر گیا، کوئی چلانے والا ملاح نہیں، خود ہی چل پڑی، کوئی سمجھانے والا نہیں، خود ہی سمجھ گئی کہ مجھے شاہی محل کے اوپر جانا ہے،یہ عقل میں آنے والی بات ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا، اچھا یہ بات نادانی اور بے وقوفی کی ہے؟ اس نے کہا، جی ہاں! فرمایا: ایک کشتی بغیر بنانے والے کے بن نہ سکے، بغیر چلانے والے کے چل نہ سکے، بغیر کیلیں ٹھونکنے والے کے اس کی کیلیں ٹھک نہ سکیں اور یہ اتنا بڑا جہان جس کی چھت آسمان ہے، جس کا فرش زمین ہے، جس کی فضا میں لاکھوں جانور ہیں، یہ خود بخود بن گیا، خود ہی چل رہا ہے، سورج بھی، چاند بھی، خود ہی چل رہے ہیں،یہ کوئی عقل میں آنے والی بات ہے؟ ایک معمولی کشتی جسے انسان بنا سکتاہے، یہ تو بغیر بنانے والے کے نہ بنے اور اتنا بڑا جہان ہو، انسان کے بس میں ہے وہ خود بخود بن جائے، تو تمہاری عقل بچوں جیسی ہے یا میری عقل بچوں جیسی؟. میں نادان ہوں یا تم نادان ہو؟ مناظرہ ختم ہو گیا اور بحث تمام ہوگئی اوردہریہ اپنا سا منہ لے کر واپس ہو گیا، اب کیا بحث کرے، جو اس کی بنیاد تھی وہ ساری کی ساری ختم ہو گئی.

اللہ کی مخلوق

ایک جج نے اپنا واقعہ سنایا : ” میں ایک جگہ سیشن جج لگا ہوا تھا . ایک کیس آیا ،ایک ملزم میرے سامنے پیش کیا گیا جس پر قتل کا الزام تھا‘ سارے ثبوت اس کے خلاف تھے .

مگر وہ تھا بہت معصوم شکل ،اور روتا اور چیختا بھی تھا کہ میں نے یہ قتل نہیں کیا. اس کی معصومیت سے یہ پتہ چلتا تھا کہ اس نے قتل نہیں کیا لیکن ثبوت یہ بتاتے تھے کہ اس نے قتل کیا ہے.میری زندگی کا تجربہ تھا ،میرے تجربات اور اس کی معصومیت یہ بتا تی تھی کہ اس نے قتل نہیں کیا. اس لیے میری کوشش یہ شروع ہوگئی کہ اس کو بچالوں.

اسی کوشش میں تقریباً تین مہینے میں نے اس فیصلے کو لمبا کیا لیکن میری کوشش ناکام رہی. میں سارا دن اسی کے بارے میں سوچتا میں سوچتا رہتا تھا. میری زندگی کا کوئی یہ عجیب فیصلہ تھا. آخر کار میں نے اس کو سزائے موت لکھ دی.دوسرے دن اس کو سزائے موت ہونی تھی میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ تم نے قتل کیا ہے؟کہنے لگا ،جج صاحب میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے قتل نہیں کیا. میں نے کہا ،تم نے کونسا ایسا جرم کیا ہے جس کی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے ؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا ،صاحب جی میں نے ایک گناہ کیا ہے، مجھے یاد آگیا ہے، وہ یہ کہ میں نے ایک کتیا کو بڑی بے دردی سے مارا تھا اور وہ مرگئی تھی، بس وہ قتل میں نے کیا ہے. میں فوراً چونک پڑا، اور اسے کہا، تبھی تو جب سے تمہارا کیس میرے پاس آیا ہے، آج تین مہینے ہوگئے ہیں،

روزانہ جب میں گھر جاتا ہوں تو ایک کتیا میرے دروازے پر بیٹھی ہوتی ہے، اور چیاؤں چیاؤں کرتی ہے اور اپنی زبان میں مجھ سے انصاف کا کہتی ہے.” جج صاحب نے بتایا کہ دوسرے دن اس شخص کو پھانسی ہوگئی اور مجھے سبق ملا ،وہ یہ کہ اللہ کی مخلوق پر ظلم کرنے والے کو اللہ ضرور سزا دیتا ہے، اس کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں. ہماری نظر میں جو مخلوق حقیر اور نجس ہے لیکن بنانے والے کو وہ مخلوق کتنی پیاری ہے.

اﷲ پاک ان مہلک چیزوں سے بچائے

نبی پاک ﷺ محسن انسانیت ہیں جنہوں نے زندگی بسر کرنے کابہترین طریقہ بتادیا،جن کاموں سے امت کومنع کیااب امت کاکام ہے ان کاموں سے بچناجولوگ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کواپناتے ہیں ان میں انہیں کامیابیاں ہی کامیابیاں ملتی ہیں اور جوعمل کی کوشش نہیں کرتے غیروں کے طریقوں کواپناتے ہیں ناکامیاں پھر ان کامقدر بن جاتی ہیں آپ نے حدیث ذیل میں سات ہلاک کر دینے والی چیزیں بتائی ہیں اب امت کاکام ہیں ان چیزوں سے اجتناب کرے نہیں کرے گی توہلاکت مقدر بن جائے گی آئیے حدیث پاک پر نظر ڈالتے ہیں ۔۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا(1) اﷲ کے ساتھ شرک کرنا(2) جادو کرنا(3) کسی جان کو ناحق قتل کرنا (4) سود کھانا (5) یتیم کا مال کھانا(6) لڑائی کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور(7)بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا(بخاری ومسلم)
(1) اﷲ تعالی کے ساتھ شرک کرنا
شرک کے معنی ہیں کہ خد اکی ذات یا صفات میں اور اس کی عبادت وبندگی میں کسی دوسرے کو کم وبیش وساجھی ٹھہرانا، شرک توحید کی ضد ہے یہ سب سے بڑا گناہ اور کفر کے مترادف ہے ۔اﷲ پاک کا ارشاد ہے ترجمہ:یعنی بلاشبہ شرک بہت بڑا گناہ ہے(لقمان)
دراصل اسلام میں عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر تمام اعمال کی جزا اور سزا کا انحصار ہے اگر عقیدہ شرک سے پاک وصاف ہے تو اعمال کوتاہیوں اور لغزشوں کی بخشش اور معافی کی پختہ امید اﷲ تعالی سے رکھنی چاہئے ، لیکن اگر عقیدے میں شرک کی آمیزش ہے تو پھر پہاڑوں کے برابر نیکیاں بھی کسی کام نہیں آئیں گی۔شرک کرنے والے یعنی مشرک کی خدا کے یہاں مغفرت ہرگز نہیں ہوسکتی ہے اﷲ تبارک وتعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ: یعنی اﷲ مشرک کو ہرگز نہیں بخشے گا اور ا سکے سوا جس کو چاہے گا بخش دے گا (نسا ء)
الغرض شرک بہت بری بلا ہے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے لیکن شرک ناقابل معافی گناہ ہے مشرک پر جنت حرام ہے اور ا سکا ابدی ٹھکانہ جہنم ہے۔
حضرت ابوموسی اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا لوگو!شرک کرنے سے بچو کیونکہ شرک عظیم ترین گناہ ہے (ابوداؤد)
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے کہاجو اﷲ چاہے اور تم چاہو ۔آپؐ نے فرمایا کیا تم نے مجھے اﷲ کا شریک بنادیا؟ اس طرح کہا کرو، جو اکیلا اﷲ چاہے (احمد)نیز آپ ﷺ نے فرمایا جس نے غیر اﷲ کی قسم کھائی اس نے (کفر یا)شرک کیا۔(ترمذی ، حاکم)
(2)جادو کرنا۔۔۔
اسلام جادو کا سخت مخالف ہے۔ جو لوگ جادو سیکھتے ہیں ان کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے۔ ترجمہ:۔ مگر وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو ان کے حق میں مفید نہیں بلکہ مضر تھی(البقرہ )
نبی ﷺ نے جادو کا شمار مہلک اور کبیرہ گناہوں میں کیا ہے جو افراد ہی کو نہیں قوموں کو بھی ہلاک کردیتا ہے اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں تباہی لاتا ہے۔ قرآن نے جادو گروں کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔ ترجمہ:۔ اور پناہ مانگتا ہوں میں گرہوں میں پھونکنے والوں (نفوس)کے شر سے(سورۃالفلق)
گرہوں میں پھونکنا جادو کے طریقوں اور اس کی خصوصیات میں سے ہے۔ جادو کے بارے میں اﷲ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔ترجمہ:۔ البتہ شیطان ہی کفر کیا کرتے تھے وہ لوگوں کو سحر (جادوگری)کی تعلیم دیتے تھے(سورہ بقرہ )
حضرت ابن عباس سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جس نے علم نجوم کا کچھ حصہ حاصل کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کیا (اس حساب سے)جتنا علم نجوم زیادہ سیکھا تو اس نے اتنا ہی جادو کا علم زیادہ سیکھا (ابوداؤد نے صحیح سند سے روایت کیا)نجومیوں ، کاہنوں، اور دست شناسوں کی تصدیق کرنے والے خوب یاد رکھیں کہ ان کے بارے میں آپ ﷺ نے کیا باتیں فرمائی ہیں۔
حضرت صفیہ بنت ابی عبید ،بعض ازواج مطہرات سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی اعراف (یعنی غیبی امور کے جاننے کے دعویدار)کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کی بابت پوچھے اور اس کو سچ مانے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کی جائے گی(مسلم)
اسلام نے جس طرح نجومی کے پاس غیب اور راز کی باتیں معلوم کرنے کی غرض سے جانا حرام ٹھہرایا ہے اسی طرح جادو سیکھنے یا جادوگروں کے پاس کسی مرض کے علاج یا کسی مشکل حل کرنے کے لئے جانا بھی حرام قرار دیا ہے رسول اﷲ ﷺ نے اس سے اپنی برات ظاہر کرتے ہوئے فرمایا ․ترجمہ:۔ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو براشگون لے یا جس کے لئے برا شگون لیا جائے یا جس کے لئے کہانت کی جائے یا جادو کرے یا جادو کرائے(البزار)
آج یہ بیماری ہمارے ملک پاکستان میں بہت زیادہ ہوتی جارہی ہے پڑھے لکھے لوگ اس میں مبتلاء ہوتے جارہے ہیں اﷲ پاک سب مسلمانوں کی اس سے حفاظت فرمائے (آمین)
(3)کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔۔۔
ناحق کسی کو قتل کرنے کے بارے میں اﷲ تعالی کا ارشاد ہے
ترجمہ:۔ اور اﷲ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہیں پکارے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اﷲ تعالی نے منع کردیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا (فرقان )
حق کے ساتھ قتل کرنے کی تین صورتیں ہیں اسلام کے بعد کوئی دوبارہ کفر اختیار کرے جسے ارتداد کہتے ہیں ، یا شادی شدہ ہوکر بدکاری کا ارتکاب کرے یا کسی کو قتل کردے ان صورتوں میں قتل کیا جائے گا۔
ایک مرتبہ حجۃالوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور ہاتھ سے تمام لوگ سلامت رہیں اور تمہارے خون اور مال اور آبرو تم پر سب حرام ہیں۔(بخاری)
اسلام نے انسانی زندگی کو مقدس اور انسانی جانوں کو محترم ٹھہرایا ہے ۔ انسانی جان پر زیادتی کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کفر کے بعد اسی کا درجہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ترجمہ:۔ کہ جس نے کسی کو قتل کیا بغیراسکے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کردیا (المائدہ)
یہ بیماری بھی عام ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ قتل وقتال تک نوبت آجاتی ہے آج بھائی بھائی کادشمن بنابیٹھاہے یہ بھی خداکی ناراضگی کی علامت ہے اﷲ پاک حفاظت فرمائے (آمین)
(4)سود کھانا۔۔۔
سود کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے ۔ترجمہ:۔ اے ایمان والو!اﷲ سے ڈرو اور جو سود تمہارا باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر واقعی تم مومن ہو، لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو خبردار ہوجاؤ کہ اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ اگر تم توبہ کرلو تو زرِ اصل لینے کا تمہیں حق ہے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے(سورۃ البقرہ)
رسول اﷲ ﷺ نے سود اور سود خوار دونوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا اور واضح فرمایا کہ سود سماج کے لئے نہایت خطرناک ہے۔
نبی پاک ﷺ کاارشاد ہے کہ اﷲ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، گواہ بننے والے اور کاتب سب پر لعنت فرمائی ہے۔(احمد ، ابوداؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ)
(5)یتیم کا مال کھانا۔۔۔
اسلام میں کسی کا مال بھی ناحق اور ناجائز طو رپر کھانا حرام ہے اور یتیم کے بارے میں تو اﷲ تعالی کا ارشاد ہے۔ ترجمہ:۔بے شک وہ لوگ جو ناجائز طریقے سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں تو وہ یقینا اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں اور عنقریب وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے(سورہ نسا ء)
اﷲ تعالی کاایک اور ارشاد ہے ۔ترجمہ:۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو(سورہ انعام )
یتیم کا مال کھانے اور اس کو پینے سے خاص طو رپر بچنے کی تاکید کی گئی ہے کہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ ۔ یتیم کا مال کھانا اور پینا تو بہت دور کی بات ہے کیونکہ یتیم کا مال ناحق کھانا جہنم کی آگ کھانے کے برابر ہے۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ: ۔ یہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ان سے کہہ دیجئے ان کی اصلاح کرنی بہتر ہے اور اگر تم ان کو (خرچ میں)اپنے ساتھ ملالو تو وہ تمہارے ہی بھائی ہیں اور اﷲ جانتا ہے خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون ؟(سورۃ البقرہ )
(6)لڑائی کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔۔۔
جہاد کے متعلق اﷲ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ:۔ اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اﷲ تعالی دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل لائے گا تم اﷲ تعالی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اﷲ ہر چیز پر قاد رہے۔(سورۃ توبہ)
اﷲ تعالی کا فرمان ہے۔ترجمہ:۔ تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہارے لئے ناگوار ہے اورکچھ تعجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو حالانکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہو اور شاید تم کسی چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لئے بری ہو اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔(سورۃ البقرہ )
حضرت ابوذر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اﷲ کون ساعمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا اﷲ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا (بخاری ،مسلم)
آج ہمارء لیے افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان صرف میدان جہاد ہی سے راہ فرار اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں بلکہ جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی منہ موڑے ہوئے ہیں۔
(7)بھولی بھالی پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا۔۔۔
ایمان دار اور مومنہ عورتوں پر الزام لگانے کے بارے میں اﷲ تعالی اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتے ہیں۔ترجمہ:۔جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے ۔(سورۃ نور)
سابق راوی ہی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص اپنے مملوک (غلام، باندی)پر بدکاری کی تہمت لگائے تو قیامت والے دن اس (مالک)پر حد قائم کی جائے گی مگر یہ کہ وہ (مملوک)ایسی ہی ہو جیسے اس نے کہا (پھر مالک پر حد نہیں ہوگی)(بخاری، مسلم)
یہ سارے کبیرہ گناہ ہیں تاہم ان میں شرک سب سے بڑا ہے کیونکہ وہ کبھی معاف نہیں ہوگا اور مشرک ہمیشہ جہنم میں رہے گا اس کے برعکس دوسرے کبیرہ گناہ اگر اﷲ چاہے گا تو معاف فرمادے گا ، بصورت دیگر اس کے مرتکب کو جہنم کی سزا بھگتنی پڑے گی، لیکن اس سزا کے بعد اسے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائیگا اگر وہ مومن ہوگا۔
ان تمام گناہوں سے بچنے کے لیے شاعر کاپیاراکلام میری زبان پر دعاکی صورت میں آگیا
گناہوں کی عادت چھڑامیرے مولا
مجھے نیک انساں بنامیرے مولا
جوتجھ کوجوتیرے نبی کوپسند ہے
مجھے ایسابندہ بنامیرے مولا
اﷲ ہم سب کو ان تمام کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھے اور صغیرہ سے بھی بچنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)

خود پر بے یقینی کا خاتمہ ۔۔ صرف ” 6″ کاموں سے –

میں آپ کو صرف ” 6 ” کام ایسے بتاوں گا جس پر عمل کرنے سے آپ کواپنی صلاحیتوں کے بھربور اظہار پر بہتری آے گی ان شااللہ ۔ چلیں پھر تیار ہو جایں میری آگے ترتیب دی گئی چھ باتوں کو حرف با حرف با سمجھ پڑہنے اور پھر بہترین سے عمل کرنے کے لیے۔ بعض دفعہ ہم با صلاحیت ہو کر بھی آگے نہیں بڑھ پاتے جس کی بنیادی وجہ ہوتی ہے ” خود پر بے یقینی” ، ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد نہیں ہوتا۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور اپنے آپ کا حوصلہ نچوڑنے والی

حوصلہ نچوڑنے والی سوچیں ہمارے ذہن میں جمنا شروع ہوجاتی ہیں۔ جو فرد کامیاب ہونا چایتا ہے اس کو خود پر بے یقینی کی کیفیت پر قابو پاتے پاتے ختم کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ناکامی ہونے سے زیادہ یہ والی کیفیت ہی ہمارے خوابوں کو روند دیتی ہے جس سے پھر ہم مزید ڈپریشن میں آ کر اپنا حال اورزیادہ خراب کر لیتے ہیں ۔

تو جناب اگرآپ بھی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہوئے بھی بے یقینی کی حالت میں ہیں اور کھل کر لوگوں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے ججھکتے ہیں تو میرا آج کا آرٹیکل آپ کے لیے ہی ہے ۔ میں آپ کو صرف ” 6 ” کام ایسے بتاؤں گا جس پر عمل کرنے سے آپ کو اپنی صلاحیتوں کے بھربور اظہار پر بہتری آئے گی ان شااللہ ۔ چلیں پھر تیار ہو جائیں میری آگے ترتیب دی گئی چھ باتوں کو حرف با حرف با سمجھ پڑھنے اور پھر بہترین سے عمل کرنے کے لیے۔

1۔ چھوڑ دو، چھوڑ دو ” زیادہ سوچنا” چھوڑ دو ۔

سوچنا اچھا ہوتا ہے مگر اپنی منفی سوچوں کا غلام بن جانا بالکل بھی اچھا نہیں۔ کیوں قیدی بنا لیتے ہو خود کو اپنی سوچوں کا؟؟ اس صورت سے نکلنے کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ خود کو باور کروائیں کہ آپ حد سے زیادہ سوچ رہے ہو۔ اپنے دماغ کو آرڈر لگائیں ذرا کہ “رک جاؤ، کیوں فضول میں اتنا سوچے جا رہے ہو۔ وقفہ کرو ذرا”۔ ۔ اپنے آپ کو شعوری حالت میں لے کر آئیں ذرا۔ اور اپنی صلاحیت پر مثبت خیال رکھ کر فوکس کریں۔

2۔ لوگوں کا کیا۔ ۔ ۔فرمانے دو ۔

اگر آپ اپنی اچھی صلاحیت والے ہر کام کو کرنے سے پہلے یہ سوچیں گے کہ فلاں پتہ نہیں کیا کہے گا، فلاں میرا مذاق اڑائے گا، فلاں یہ کہے گا، وہ کہے گا تو سمجھ لیں کہ آپ خود پر قابو پانے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہمیں اپنی صلاحیت کے بہتریں استعمال کو کسی دوسرے کے کہنے پر روکنا نہیں چاہیے ۔ جب ہم ہر فلاں فلاں کے کچھ سوچنے اور کہنے کو جب قابو نہیں کر سکتے تو پھر فضول میں پریشان ہونے کا کیا فائدہ ؟؟ ویسے بھی یہ صرف ہمیں لگ رہا ہوتا ہے کہ ہر کوئی ہمیں نوٹس کر رہا ہے۔ ۔حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ اور اگر کوئی کر بھی رہا ہو تو پھر ہمیں اور اچھے سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ پتہ چلے سب کو کہ ہم واقعی میں ” کچھ خاص” ہیں ۔

3۔ صلاحیت ۔ ۔ کبھی دھوکہ نہیں دے گی

اپنے آپ پر اگر اعتماد کھو بھی رہے ہو ، پھر بھی اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتبار رکھنا، ان پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا کہ کہ آپ ان کو جب بھی آزماؤ گے وہ آپ کو دھوکہ نہیں دیں گی۔ صرف اتنا کرنا کہ منفی سوچوں کو قابو کر کے رکھنا، اپنے خیالات پر کڑی نظر رکھنا۔ خود کو ایسے لوگوں کے درمیان میں رکھنا جو آپ کو حوصلہ دے سکیں ، آپ کو سراہیں اور دلجوئی کریں ۔ یاد رکھنا ہے کہ پہلے آپ کو خود سے لڑنا پڑے گا اپنے آپ کو منوانے کے لیے۔

4۔ لکھتے رہو۔ ۔ جو خوبی ہے ، جو پایا ہے ۔

یہ کام تو لازمی کرنا ہے کہ اپنے اندر خوبیاں ہیں ، جس صلاحیت پر سراہا گیا ہے ، اسی حوالے سے جب جب تعریف ہوئی ہے ، کیا کچھ حاصل ہوا ہے ۔ ۔ ۔سب لکھنا ہے پھر ایسی جگہ رکھنا ہے جہاں سے اسے آسانی سے بار بار پڑھ پاؤ، خاص کر اس وقت جب بے یقینی کا شکار ہونے لگو۔۔۔ تب ایسا سب پڑھنے سے ، وہ سب یاد کرنے سے نیا حوصلہ ملے گا، ذہن میں مثبت سوچیں آئیں گی ۔ آپ کو لگے گا کہ آپ کافی کچھ اچھا حاصل کر چکے ہو، بہت سارے لوگ آپ کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور آپ کو اسی حوالے سے پہچانتے ہیں ۔ اس طرح آپ دیکھنا کہ جلد ہی بے یقینی کی کیفیت سے باہر آنا شروع ہو جاؤ گے ۔

5۔ کچھ خاص و منفرد کرنا۔ ۔ جاری رہنا۔

بے یقینی کی کیفیت میں بھی خود کو اپنے کرنے والے کام سے روکنا نہیں۔ بے شک آہستہ ہو جانا، دل نہیں بھی کر رہا پھر بھی تھوڑا تھوڑا ہی سہی مگر کرنا ضرور ہے ۔ رک جاؤ گے تو بے یقینی اور زیادہ بڑھنے لگے گی۔ مزید منفی سوچیں دماغ میں جگہ بناتی جائیں گی۔ آپ نے اپنی بے یقینی والی کیفیت کو گزرنے دینا ہے مگر خود کو اسکے ساتھ بہنے نہیں دینا۔ ایسا تب ہونا جب آپ رک جاؤ گے۔ اس لیے خود کو روکنا نہیں۔ اپنی تخلیقی قوت کا استعمال کرتے جانا اور چھوٹے چھوٹے قدموں ساتھ آگے بڑھتے جانا۔

6۔ آج اور ابھی میں رہنا۔ ۔ اور سوچنا۔

آپ کو شاید احساس نہ ہوتا ہو مگر ہمیں بے یقینی زیادہ تبھی ہوتی ہے جب ہم ماضی میں رہ جاتے ہیں ۔ پہلے ہوئی کسی ناکامی سے اور لوگوں کے منفی طنز اور رویوں سے سہمے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ” پھر سے ویسا نہ ہو جائے” کی بات سے ڈرتے ہیں ۔ مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، گزر جاتا ہے ۔ سب پہلے جیسا ہی ہو، بالکل بھی ضروی نہیں ہوتا۔ پہلے سے حاصل کیا سبق یاد کرتے، دوبارہ سے اچھی پلاننگ کرتے قدم بڑھانا ہی پڑتا ہے ۔ ایسا اسی صورت ممکن جب آپ ” آج اور ابھی” کے لمحہ میں رہ کر سوچیں اور پلان کریں۔

تو دوستو، یہ وہ سب خاص باتیں ہیں جن پر آپ عمل کر کے خود کی صلاحیتوں پر ہونے والی بے یقینی والی کیفیت پر قابو پا سکتے ہیں ۔حرف آخر یہ اہم بات بھی یاد رکھیں کہ دوسرں ساتھ مثبت موازنہ کرنا اچھا ہوتا ، آپ کو بھی ویسا ہی یا اس سے زیادہ بہترین بننے کی تحریک ملتی مگر حاسدانہ موازنہ نہ ہو۔ زیادہ اچھا تو یہی کہ صرف اپنے آپ ساتھ موازنہ کریں ۔ اپنے آج کو گزرے کل ، پچھلے مہینہ یا سال سے اچھا بنائیں ۔ اپنی دوڑ دوڑیں بس۔ اپنے رب سے دعا کیا کریں کہ وہ آپ کی کمی و کوتاہیوں کو دور کرنے میں آسانی پیدا فرمائے۔ آمین!

امام غزالیؒ کے بھائی ان کے پیچھے نمازکیوں نہیں پڑھتے تھے ‎‎؟‎ –

محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ اور احمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ دو بھائی تھے یہ اپنے لڑکپن کے زمانے میں یتیم ہوگئے تھے ، ان دونوں کی تربیت ان کی والدہ نے کی ان کے بارے میں ایک عجیب بات لکھی ہے کہ ماں ان کی اتنی اچھی تربیت کرنے والی تھی کہ وہ ان کو نیکی پر لائیں حتیٰ کہ عالم بن گئے مگر دونوں بھائیوں کی طبیعتوں میں فرق تھا ۔امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ اپنے وقت کے بڑے واعظ اور خطیب تھے اور مسجد میں نماز پڑھاتے تھےان کے بھائی عالم بھی تھے اور نیک بھی تھے

بھی تھے

لیکن وہ مسجد میں نماز پڑھنے کے بجائے اپنی الگ نماز پڑھ لیا کرتے تھے توایک مرتبہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی والدہ سے کہا امی لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں تو اتنا بڑا خطیب اور واعظ بھی ہے اور مسجد کا امام ہے مگر تیرا بھائی تیرے پیچھے نماز نہیں پڑھتا امی آپ بھائی سے کہیں وہ میرے پیچھے نماز پڑھا کرے ماں نے بلا کر نصیحت کی چنانچہاگلی نماز کا وقت آیا امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھانے لگے اور ان کے بھائی نے بھی پیچھے نیت باند لی لیکن عجیب بات ہے کہ جب ایک رکعت پڑھنے کے بعد دوسری رکعت شروع ہوئی تو ان کے بھائی نے نماز توڑ دی اور نماز کی جماعت سے باہر نکل آئے اب جب امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے نماز مکمل کی ان کو بڑی سبکی محسوس ہوئی وہ بہت زیادہ پریشان ہوئے لہٰذا مغموم دل کے ساتھ گھر واپس لوٹے ،

ماں نے پوچھا بیٹا بڑے پریشان نظر آتے ہو کہنے لگے امی بھائی نہ جاتا تو زیادہ بہتر رہتا ۔ یہ گیا اور ایک رکعت پڑھنے کے بعد دوسری میں واپس آگیا اور اس نے آکر الگ نماز پڑھی تو ماں نے اس کو بلایا اور کہا بیٹا ایسا کیوں؟ چھوٹا بھائی کہنے لگا میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے لگا پہلی رکعت انہوں نے ٹھیک پڑھائیمگر دوسری رکعت میں اللہ کی طرف دھیان کے بجائے ان کا دھیان کسی اور جگہ تھااس لئے میں نے ان کے پیچھے نماز چھوڑ دی اور آکر الگ پڑھ لی ۔

ماں نے پوچھا امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ سے کہ کیا بات ہے؟کہنے لگے کہ امی بالکل ٹھیک بات ہے میں نماز سے پہلے فقہ کی ایک کتاب پڑھ رہا تھا اور نفس کے کچھ مسائل تھے جن پر غور وخوض کر رہا تھا جب نماز شروع ہوئی تو پہلی رکعت میں میری توجہ الی اللہ میں گزری لیکن دوسری رکعت میں وہی نفس کے مسائل میرے ذہن میں آنے لگ گئے ان میں تھوڑی دیر کے لیے ذہن دوسری طرف متوجہ ہوگیا اس لیے مجھ سے یہ غلطی ہوئی تو ماں نے ایک وقت ایک ٹھنڈا سانس لیا اور کہا افسوس کہ

تم دونوں میں سے کوئی بھی میرے کام کا نہ بنا اس جواب کو جب سنا دونوں بھائی پریشان ہوئے ۔ امام غزالی رحمتہ اللہ نے تو معافی مانگ لی امی مجھ سے غلطی ہوئی مجھے تو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مگر دوسرا بھائی پوچھنے لگا امی مجھے تو کشف ہوا تھا اس لیے کشف کی وجہ سے میں نے نماز توڑ دی تو میں آپ کے کام کا کیوں نہ بنا؟تو ماں نے جواب دیا کہ “تم میں سے ایک تو نفس کے مسائل کھڑا سوچ رہا تھا اور دوسرا پیچھے کھڑا اس کے دل کو دیکھ رہا تھا ، تم دونوں میں سے اللہ کی طرف تو ایک بھی متوجہ نہ تھا لہٰذا تم دونوں میرے کام کے نہ بنے” نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

جوانی دیوانی مستانی –

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ ہے۔ آپ کی ایک شاگردہ جو باقاعدہ آپ کا درس سننے آتی تھی۔ نہایت عبادت گزار تھی۔ اس بے چاری کا جوانی میں خاوند چل بسا۔ اس نے دل میں سوچا! ایک بیٹا ہے اگر میں دوسرا نکاح کرلوں گی تو مجھے دوسرا خاوند تو مل جائے گا‘ لیکن میرے بچے کی زندگی برباد ہوجائے گی۔ اب وہ بچہ جوان ہونے کے قریب ہے۔ ”یہی میرا سہارا سہی“ لہٰذا اس عظیم ماں نے یہی سوچ کر اپنے جذبات کی قربانی دی۔وہ ماں گھر میں بچے کا پورا خیال رکھتیلیکن جب وہ بچہ

گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہوپاتی۔اب اس بچے کے پاس مال کی کمی نہ تھی۔ اٹھتی ہوئی جوانی بھی تھی یہ جوانی دیوانی مستانی ہوجاتی ہے چنانچہ وہ بچہ بری صحبت میں گرفتار ہوگیا۔ شباب اور شراب کے کاموں میں مصروف ہوگیا، ماں برابر سمجھاتی لیکن بچے پر کچھ اثر نہ ہوتا‘ چکنا گھڑا بن گیا‘ وہ اس کو حضرت حسن بصری کے پاس لے کر آتی‘ حضرت بھی اس کو کئی کئی گھنٹے سمجھاتے لیکن اس بچے کا نیکی کی طرف رجحان ہی نہیں تھا۔ حضرت کے دل میں بھی یہ بات آئی کہ شاید اس کا دل پتھر بن گیا ہے‘مہر لگ گئی ہے بہرحال ماں تو ماں ہوتی ہے۔ ماںاسے پیار سے سمجھاتی رہی، میرے بیٹے نیک بن جاو ‘تمہاری زندگی اچھی ہوجائے گی۔کئی سال برے کاموں میں لگ کر اس نے اپنی دولت کے ساتھ اپنی صحت بھی تباہ کرلی اور اس کے جسم میں لاعلاج بیماریاں پیدا ہوگئیں‘معاملہ یہاں تک آپہنچا کہ اٹھنے کی بھی سکت نہ رہی اور بستر پر پڑگیا۔ اب اس کو آخرت کا سفر سامنے نظر آنے لگا‘ ماں نے پھر سمجھایا‘

بیٹا! تو نے اپنی زندگی توخراب کرلی‘ اب آخرت بنالے اور توبہ کرلے ‘اللہ بڑا غفور الرحیم ہے وہ تمہارے تمام گناہوں کومعاف کر دیگا۔جب ماں نے سمجھایا اس کے دل پر کچھ اثر ہوا ۔کہنے لگا! ماں میں کیسے توبہ کروں؟ میں نے بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں‘ ماں نے کہا بیٹا حضرت سے پوچھ لیتے ہیں‘ بیٹے نے کہا ماں اگر میں فوت ہوجاوںتو میرا جنازہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ پڑھائیں۔ماں حضرت کے پاس گئی حضرت کھانے سے فارغ ہوئے تھے اور تھکے ہوئے تھے اور درس بھی دینا تھا۔ اس لیے قیلولہ کیلئے لیٹنا چاہتے تھے۔ ماں نے دروازہ کھٹکھٹایا‘ پوچھا کون؟ عرض کیا حضرت میں آپ کی شاگردہ ہوں۔

میرا بچہ اب آخری حالت میں ہے وہ توبہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا آپ گھر تشریف لے چلیں۔حضرت نے سوچا یہ پھر دھوکا دے رہا ہے اور میرا وقت ضائع کرے گا اور اپنا بھی کرے گا۔سالوں گزرگئے اب تک کوئی بات اثر نہ کرسکی اب کیا کرے گی۔ کہنے لگے!میں اپنا وقت ضائع کیوں کروں؟ میں نہیں آتا۔ ماں نے کہا حضرت اس نے تو یہ بھی کہا کہ اگر میرا انتقال ہوجائے تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری پڑھائیں۔ حضرت نے کہا میں اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھاوں گا۔ اس نے تو کبھی نماز ہی نہیں پڑھی۔

اب وہ شاگردہ تھی چپ کرگئی‘ روتی ہوئی گھر آگئی۔بیٹے نے پوچھا کیا ہوا؟ ماں نے کہا ایک طرف تیری حالت دوسری طرف حضرت نے انکار کردیا۔اب یہ بات بچے نے سنی تو اس کے دل پر چوٹ لگی اور کہا ماں میری ایک وصیت سن لیجئے ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیا؟عجیب وصیت :کہا امی میری وصیت یہ ہے کہ جب میری جان نکل جائے تو سب سے پہلے اپنا دوپٹا میرے گلے میں ڈالنا‘ میری لاش کو کتے کی طرح صحن میں گھسیٹنا‘ جس طرح مرے ہوئے کتے کی لاش گھسیٹی جاتی ہے۔ ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیوں؟ کہا امی اس لیے کہ دنیا والوں کو پتہ چل جائے کہ جو اپنے رب کا نافرمان اور ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہےاس کا انجام یہ ہوا کرتا ہے۔میری پیاری ماں مجھے قبرستان میں دفن نہ کرنا‘ ماں نے کہا وہ کیوں؟

کہا ماں مجھے اسی صحن میں دفن کردینا ایسا نہ ہو کہ میرے گناہوں کی وجہ سے قبرستان کے مردوں کو تکلیف پہنچے جس وقت نوجوان نے ٹوٹے دل سے عاجزی کی یہ بات کہی تو پروردگار کو اس کی یہ بات اچھی لگی‘ روح قبض ہوگئی‘ابھی روح نکلی ہی تھی ماں آنکھیں بند کررہی تھی تو دروازے پر دستک ہوئی پوچھا کون؟ جواب آیا حسن بصری ہوں۔کہا حضرت آپ کیسے؟ فرمایا جب میں نے تمہیں جواب دے دیا اور سوگیا۔ خواب میں اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوا‘ پروردگار نے فرمایا حسن بصری تو میرا کیسا ولی ہے؟ میرے ایک ولی کا جنازہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ نے تیرے بیٹے کی توبہ قبول کرلی ہے۔ تیرے بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے حسن بصری کھڑا ہے۔اے اللہ! تو کتنا کریم ہے کہ مرنے سے چند لمحہ پہلے اگر کوئی بندہ شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی زندگی کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

کیا نماز واقعی بے حیائی سے روکتی ہے؟ –

ایک دفعہ میں اپنے استاد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا،میں نے سوال کیا:حضرت قران کہتا ہے:”بے شک نماز بْرے اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔(سورہ عنکبوت آیت 45)لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں اور سود بھی کھاتے ہیں،جھوٹ بھی بولتے ہیں،بے حیائی کے کام بھی کرتے ہیں۔ہم خود بھی نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے مکمل طور پر کنارہ کش نہیں ہو پاتے۔تو اِس آیت کا کیا مطلب ہوا؟فرمانے لگے: قاضی بیٹا۔قران کی آیت پر نہیں اپنی نمازوں پر شک کرو۔ کہ ان نمازوں میں ایسی کونسی کمی ہیجو تمہیں

کمی ہیجو تمہیں گناہوں سے نہیں روک پا رہیں۔صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نےکبھی یہ سوال نہیں کیا،کیونکہ انکی نمازیں واقعی نمازیں تھیں۔اب بھلا سوچو اگر ایک شخص کو دن میں پانچ بار عدالت میں جج کا سامنا کرنا ہو تو کیا وہ جرم کرنے کا سوچے گا بھی؟جرم تو وہ کرتا ہے جو سمجھتا ہے کہ عدالت سے بچ جائیگا۔یہ جواب سن کر مجھے وہ حدیث یادآگئی کہ بہت سے نمازیوں کی نمازیں انکے منہ پر مار دی جائینگی

جب کبھی آپ پر دنیا تنگ ہونے لگے تو اس قصے کو یاد کر لیا کریں –

وہ سات بچوں کے باپ تھے ۔۔۔ تین بیٹے اور چار بیٹیاں ۔۔۔ ان کا پہلا بیٹا دو سال اور چند ماہ کی عمر میں فوت ہو گیا۔۔۔ دوسرا بیٹا پندرہ ماہ میں چل بسا۔۔۔تیسرا بیٹا ستر ماہ میں داغ مفارقت دے گیا۔۔۔ان کی پہلی بیٹی کی شادی ہوئی وہ اٹھائیس برس میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔۔۔ان کی دوسری بیٹی کی شادی ہوئی وہ اکیس برس میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔پھر ان کی تیسری بیٹی کی شادی ہوئی وہ بھی ستائیس برس میں اس جہانِ فانی سےکوچ کرگئیں .انہوں نے اپنے تمام بیٹے بیٹیاں کو اپنی آنکھوں کے

اپنی آنکھوں کے سامنے دنیا سے رخصت ہوتے دیکھا۔ اور ان کی اپنی رحلت کے وقت صرف ایک بیٹی دنیا میں رہ گئیں تھیں۔۔۔ کیا آپ نے جان لیا یہ کون تھے ؟؟؟

یہ اللہ کے حبیب کریم ﷺ ۔۔ آخری نبی ﷺ اور امت کے غم خوار ، محمد ﷺ بن عبد اللہ تھے ۔ جب کبھی آپ کوکسی سخت آزمائش یا دل چیر دینے والے غم کا سامنا ہو تو اپنے نبی آخر الزمان ﷺ کے اس قصے کو یاد کر لیا کریں۔

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کیلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پرمیسج بٹن پر کلک کریں

سفید بال دوبارہ سیاہ کرنے کا آسان ترین گھریلو نسخہ –

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے سفید بال عمر بھر کیلئے سیاہ کالے ہو جائیں تو یہ ٹوٹکہ استعمال کریں ،سفید بالوں کیلئے: آلو کے چند خشک ٹکڑے ایک پاؤ لوہے کے برتن میں آدھ کلو پانی ڈال کر ایک دن کیلئے رکھ دیں دوسرے دن اس پانی کو لگائیں‘ بال سیاہ ہوجائیں گے۔ چند ہفتے چند مہینے یہ ٹوٹکہ ضرور آزمائیں۔کالے اور لمبے بال: ناریل کا تیل مٹھی بھر مہندی کے پتے ڈال کر ابال لیں‘ روزانہ بالوں پرلگانے سے بال لمبے اور گھنےہوجائیں گے۔ چہرے کا مساج: چہرے پر اکثر دانوں کے ٹھیک ہوجانے کے بعد دانوں

کے بعد دانوں کا نشان باقی رہ جاتا ہے تو چہرے پر دانوں کیلئے روغن زیتون اور روغن کدو کو برابر (باؤل) میں ڈال کر گال کا مساج کریں اور تب تک مساج کریں جب تک دھبے دور نہ ہوجائیں۔چہرے کے داغ دھبوں کیلئے: لیموں کے چھلکے پیس کر دودھ میں ڈال کر ملائیں اور رات کو سونے سے پہلے چہرے پر لگانے سے داغ دھبےحلقے دور ہوجائیں گے۔جلد نکھارئیے: تازہ دودھ میں گلیسرین ڈال کر چہرے پر لگانےسے جلد نکھر جاتی ہے۔آنکھوں کےحلقوں کیلئے: ملائی میں چند قطرے لیمن کا رس ملا کر چہرے پر لگانے سے حلقے دور ہوجاتے ہیں۔پاؤں کی بدنمائی کیلئے: نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر پاؤں اس میں رکھ دیں‘ تقریباً بیس منٹ تک رہنے دیں‘ اس کے بعد کوئی بھی کولڈ کریم لگائیں۔ مزید پاؤں کی جھریوں کیلئے پٹرولیم جیلی کو متاثرہ حصہ پر لگانے سے جھریاں ختم ہوجاتی ہیں۔اگر آپ کے ساتھ بھی یہ مسائل ہیں تو آج سے ہی ان ٹوٹکوں پر عمل کرنا شروع کردیں۔

طوائف کا جنازہ –

ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﮯ ﺷﺎﮦ ﺭﻓﯿﻊ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ کا ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﺎﺩﺭؒ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥﭘﺎﮎ ﮐﺎ ﺑﺎﻣﺤﺎﻭﺭﮦ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﺷﺎﮦﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ 1159ھ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ،ﻋﻠﻢ ﻭﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮨﻢ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺗﮭﮯ،ﺍﻭﺭ ﺫﮨﺎﻧﺖ ﻭ ﻃﺒﺎﻋﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﺘﮯﺗﮭﮯ۔ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﺿﺮ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﺩﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﻧﻘﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﮐﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﯿﺶ کیا جا رہا ہے۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ :ﺣﻀﻮﺭ ﯾﮧ ﭘﯿﺸﮧ ﻭﺭ ﻃﻮﺍﺋﻔﯿﮟ ﻣﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ

ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﻥ ﮐﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮ؟ ﺳﺎﺋﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ،ﺍﻥﮐﯽ ﺗﻮ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ! ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺗﻮ ﺍﻥ ﻃﻮﺍﺋﻔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺭﮐﮭﺎﺟﺎﺋﮯ۔ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﺎ ﺭﯾﺰﯾﮉﻧﭧ ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ،ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺌﯽ ﻋﺎﻟﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ،ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺴﻠﯽﺑﺨﺶ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ،ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺠﺌﮯ، ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ،ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﮍﺍ ﺳﻮﺭﮨﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺏ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺳﮯﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﮮ ﯾﺎ ﺳﻮﺗﮯ ﺳﮯ؟ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯽ ﺗﮧ ﺗﮏ ﭘﮩﻧﭻ ﮔﺌﮯ ،ﺳﻮﺗﮯﺳﮯﻣﺮﺍﺩﺣﻀﺮﺕﻣﺤﻤدﷺ ﺗﮭﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽعلیہ ﺍﻟﺴﻼﻡ ،ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯﻓﻮﺭﺍً ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺧﻮﺩ ﺍﺱﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﭨﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡﮐﺮﮮ، ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭﮐﺮﮮ۔

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﻣﺤﻔﻞ ﺭﻗﺺ ﻭ ﺳﺮﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺟﺎ ﮔﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﻟﯿﮑﻦ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽﮨﮯ،ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ؟ﺷﺎﮦ ﺻﺎحب ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺩﻭ ﭘﻠﻨﮓ ﮨﻮﮞ ﺍﯾﮏﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﭽﮭﺎ ﺩیئے ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﺎﻧﭩﮯ ،ﺗﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺲ ﭘﺮﺁﺋﮯ ﮔﯽ ،ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭘﮭﻮﻝ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ،ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺑﺲ ﺭﻗﺺ ﻭﺳﺮﻭﺩﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﮐﯽ ﻣﺜﻞ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﻠﻨﮓ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭﺍﻟﮯﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﭘﮭﻮﻝ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﻠﻨﮓ ﮐﯽ ﮨﮯ۔

ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺩﺍ ﮔﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﯿﻮﯼﮐﮯﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻭﮦ کچھ ﻧﺎ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ ،ﻭﮦ ﺳﻮﺩﺍﮔﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯﻟﮕﺎﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﺮﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ تجھ ﮐﻮﻃﻼﻕ،ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝﮨﻮﮔﯿﺎ،ﺳﻮﺩﺍ ﮔﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻭﮦﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ،ﺳﻮﺩﺍ ﮔﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﻮﯼ ﺧﻮﺍﮦﻣﺨﻮﺍﮦ ﮨﺎتھ ﺳﮯ ﭼﻞ ﺩﯼ۔ﺟﺲ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻓﺘﻮﯼٰ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺳﺐﯾﮩﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﻃﻼﻕ ﮨﻮﮔﺌﯽ ۔

ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺁﯾﺎﺗﻮآﭖ ﻧﮯ ﺑﺮﺟﺴﺘﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻃﻼﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮨﺎ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﮨﻮﮔﯿﺎ ،ﺳﻮﺩﺍﮔﺮﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ،ﭘﮭﺮ ﻃﻼﻕﮐﯿﺴﯽ؟ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻧﮯ ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﮯﺳﯿﻨﮑﭩﺮﻭﮞ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭖﮐﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻮﺭﺍ ﮐﻮﺋﯽﺳﺎﺅﻧﻮﻻ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ‘‘ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ’’: ﮔﺪﮬﮯ ﺳﺐ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﮮﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺒﺰﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻘﺮﮦ،ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﻣﺎﺋﯽ۔

ہاضمے کی خرابی اورمعدے کی تیزابیت ختم کرنے کاانتہائی سستاترین نسخہ ،چارروزمیں بیماری ہمیشہ کےلئے ختم

ہاضمے کی خرابی اورمعدے میں تیزابیت،سینے کی جلن ایسے مسائل ہیں جو بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ ہمارے کھانے پینے کی عادات ہیں۔اگر ایسا مشروب مل جائے جو جو سینے کی جلن سے نجات دے اور معدے کی تیزابیت کم کردے تو یقیناًآپ ایسا مشروب ضرور پئیں گے۔آئیے آپ کو ایسا مشروب بنانے کے طریقہ بتاتے ہیں جوچندروز استعمال کرنے سے آپ کو سینے کی جلن سے نجات دےگا۔پوری عمر بھر پور یاداشت رکھنے کے لیے اس ایک انتہائی آسان نسخے پر عمل کریں ایک کپ کھیرا،آدھ کپ اناناس،تھوڑی سی اجوائن،آدھا لیموںاور کچھ ناریل پانی لیں۔تمام

ناریل پانی لیں۔تمام سخت اشیاءکو ایک کپ میں ڈال دیں،پھر اس میں ناریل پانی شامل کر کے اچھی طرھ پیس لیں۔مزیدار مشروب تیار ہے۔ اس مشروب کو صرف چارروز استعمال کرنے بعد ہی آپ کے تیزابیت ختم ہوجائے گی اورآپ کااس بیماری سے ہمیشہ کےلئے جان چھوٹ جائے گی ۔ہاضمے کی خرابی اورمعدے میں ابیت،سینے کی جلن ایسے مسائل ہیں جو بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ ہمارے کھانے پینے کی عادات ہیں۔

اگر ایسا مشروب مل جائے جو جو سینے کی جلن سے نجات دے اور معدے کی تیزابیت کم کردے تو یقیناًآپ ایسا مشروب ضرور پئیں گے۔آئیے آپ کو ایسا مشروب بنانے کے طریقہ بتاتے ہیں جوچندروز استعمال کرنے سے آپ کو سینے کی جلن سے نجات دے گا۔ہاضمے کی خرابی اورمعدے میں تیزابیت،سینے کی جلن ایسے مسائل ہیں جو بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ ہمارے کھانے پینے کی عادات ہیں۔اگر ایسا مشروب مل جائے جو جو سینے کی جلن سے نجات دے اور معدے کی تیزابیت کم کردے تو یقیناًآپ ایسا مشروب ضرور پئیں گے۔آئیے آپ کو ایسا مشروب بنانے کے طریقہ بتاتے ہیں جوچندروز استعمال کرنے سے آپ کو سینے کی جلن سے نجات دےگا۔