ﻣﯿﮟ ﻏﺮﯾﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ

ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﮦ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﯾﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻣﺎﻝ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ۔ ﻣﻮﺳﯽٰ ؑ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﯾﺴﺎﮐﺮ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﻭﻧﭧ ﭘﺮﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮﮐﮭﺎ ، ﺗﯿﺮﺍﻣﺎﻝ ﮐﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﻧﺒﯽ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ،ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﻧﭧ ﭘﮧ، ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﺑﭽﮭﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﻧﭧ ﭘﺮﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮﮐﮭﺎﺗﺎ ۔
ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻣﺎﻝ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ۔ﺗﻮﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﺎ ﺍﻭﻧﭧ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻭﻧﭧ ﭘﺮﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﮭﺘﺎ، ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯﺫﺭﮮ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﻧﭧ ﮨﻠﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﺍ ﺳﻠﻮﺍ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﮔﮯ ﺍﻭﻧﭧ ﮐﮯ ﮐﻮﮨﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﺍ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺫﺭﮮ ﮔﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺫﺭﮮ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﻞ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﺎ ﺟﻮ ﮐﯿﮍﮮ ﻣﮑﻮﮌﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﮦ ﺫﺭﮮ ﮈﺍﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ۔ ﮐﯿﻮﮞ۔۔۔۔ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔

ایک درویش اور اُسکی اللہ سے محبت

ایک ملنگ درویش بارش کے پانی میں عشق و مستی سے لبریز چلا جارہا تھا کہ اْس درویش نے ایک مٹھائی فروش کو دِیکھا جو ایک کڑھائی میں گرما گرم دودھ اْبال رہا تھا تْو موسم کی

مْناسبت سے دوسری کڑھائی میں گرما گرم جلیبیاں تیار کررہا تھا ملنگ کچھ لمحوں کیلئے وہاں رْک گیا شائد بھوک کا احساس تھا یا موسم کا اثر تھا۔ ملنگ حلوائی کی بھٹی کو بڑے غور

سے دیکھنے لَگا ملنگ کْچھ کھانا چاہتا تھا لیکن ملنگ کی جیب ہی نہیں تھی تو پیسے بھلا کیا ہْوتے۔

ملنگ چند لمحے بھٹی سے ہاتھ سینکنے کے بعد چَلا ہی چاہتا تھا کہ نیک دِل حَلوائی سے رَہا نہ گیا اور ایک پیالہ گرما گرم دودھ اور چند جلیبیاں ملنگ کو پیش کردِیں ملنگ نے گرما گَرم

جلیبیاں گَرما گرم دودھ کیساتھ نْوش کی اور پھر ہاتھوں کو اْوپر کی جانب اْٹھا کر حَلوائی کو دْعا دیتا ہْوا آگے چَلدِیا۔ ملنگ کا پیٹ بھر چْکا تھا دْنیا کے غموں سے بے پروا وہ پھر اِک نئے

جْوش سے بارش کے گدلے پانی کے چھینٹے اْڑاتا چلا جارہا تھا وہ اِس بات سے بے خبر تھا کہ ایک نوجوان نو بیاہتا جْوڑا بھی بارِش کے پانی سے بَچتا بچاتا اْسکے پیچھے چَلا آ رھا ہے

یکبارگی اْس ملنگ نے بارش کے گَدلے پانی میں اِس زور سے لات رَسید کی کہ پانی اْڑتا ہْوا سیدھا پیچھے آنے والی نوجوان عورت کے کَپڑوں کو بِھگو گیا اْس نازنین کا قیمتی لِباسکیچڑ

سے لَت پَت ہْوگیا تھا اْسکے ساتھی نوجوان سے یہ بات برداشت نہیں ہْوئی۔لِہذا وہ آستین چَڑھا کر آگے بَڑھا اور اْس ملنگ کو گریبان سے پَکڑ کر کہنے لگا کیا اندھا ہے تْجھے نظر نہیں آتا

تیری حَرکت کی وجہ سے میری مِحبوبہ کے کَپڑے گیلے ہوچْکے ہیں اور کیچڑ سے بھر چْکے ہیں۔ ملنگ ہکا بَکا سا کھڑا تھا جبکہ اْس نوجوان کو مَجذوب کا خاموش رِہنا گِراں گْزر رہا تھا۔ عورت نے آگے بڑھ کر نوجوان کے ہاتھوں سے ملنگ کو چھڑوانا بھی چاہا لیکن

نوجوان کی آنکھوں سے نِکلتی نفرت کی چنگاری دیکھ کر وہ بھی دوبارہ پیچھے کھسکنے پر مجبور ہو گئی۔ راہ چلتے راہ گیر بھی بے حِسی سے یہ تمام منظر دیکھ رہے تھے لیکن نوجوان کے غْصے کو دیکھ کر کِسی میں ہِمت نہ ہْوئی کہ اْسے رْوک پاتے اور بلاآخر طاقت

کے نشے سے چْور اْس نوجوان نے ایک زور دار تھپڑ ملنگ کے چہرے پر جَڑ دِیا بوڑھا ملنگ تھپڑ کے تاب نہ لاسکا اور لڑکھڑاتا ہْوا کیچڑ میں جا پڑا نوجوان نے جب ملنگ کو نیچے گِرتا دِیکھا تْو مْسکراتے ہْوئے وہاں سے چَلدیا۔ بوڑھے ملنگ نے

آسمان کی جانب نِگاہ اْتھائی اور اْس کے لَب سے نِکلا واہ میرے مالک کبھی گَرما گَرم دودھ جلیبیوں کیساتھ اور کبھی گَرما گَرم تھپڑ، مگر جِس میں تْو راضی مجھے بھی وہی پسند ہے، یہ

کہتا ہْوا وہ ایکبار پھر اپنے راستے پر چَلدِیا۔ دوسری جانب وہ نوجوان جْوڑا جوانی کی مَستی سے سرشار اپنی منزل کی طرف گامزن تھا تھوڑی ہی دور چَلنے کے بعد وہ ایک مکان کے

سامنے پْہنچ کر رْک گئے وہ نوجوان اپنی جیب سے چابیاں نِکال کر اپنی محبوبہ سے ہنسی مذاق کرتے ہْوئے بالا خَانے کی سیڑھیاں طے کر رہا تھا۔ بارش کے سبب سیڑھیوں پر پھلسن ہو گئی تھی اچانک اْس نوجوان کا پاؤں رَپٹ گیا اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گِرنے لَگا۔ عورت

زور زور سے شور مچا کر لوگوں کو اپنے مِحبوب کی جانب متوجہ کرنے لگی جسکی وجہ سے کافی لوگ فوراً مدد کے واسطے نوجوان کی جانب لَپکے لیکن دیر ہو چْکی تھی نوجوان کا سَر پھٹ چْکا تھا اور بْہت ذیادہ خْون بِہہ جانے کی وجہ سے اْس کڑیل نوجوان کی موت واقع

ہو چْکی کْچھ لوگوں نے دور سے آتے ملنگ کو دِیکھا تْو آپس میں چہ میگویئاں ہْونے لگیں کہ ضرور اِس ملنگ نے تھپڑ کھا کر نوجوان کیلئے بَددْعا کی ہے ورنہ ایسے کڑیل نوجوان کا صرف سیڑھیوں سے گِر کر مرجانا بڑے اَچھنبے کی بات لگتی ہے۔ چند منچلے نوجوانوں نے یہ

بات سْن کر ملنگ کو گھیر لیا ایک نوجوان کہنے لگا کہ آپ کیسے اللہ والے ہیں جو صِرف ایک تھپڑ کی وجہ سے نوجوان کیلئے بَددْعا کر بیٹھے یہ اللہ والوں کی روِش ہَر گز نہیں کہ ذرا

سی تکیلف پر بھی صبر نہ کر سکیں۔ وہ ملنگ کہنے لگا خْدا کی قسم میں نے اِس نوجوان کیلئے ہرگِز بَددْعا نہیں کی ! تبھی مجمے میں سے کوئی پْکارا اگر آپ نے بَددْعا نہیں کی تْو

ایسا کڑیل نوجوان سیڑھیوں سے گِر کر کیسے ہلاک ہو گیا ؟ تب اْس ملنگ نے حاضرین سے ایک انوکھا سوال کیا کہ کوئی اِس تمام واقعہ کا عینی گَواہ موجود ہے؟ ایک نوجوان نے آگے

بَڑھ کر کہا ، ہاں میں اِس تمام واقعہ کا عینی گَواہ ہْوں ملنگ نے اَگلا سوال کیا ،میرے قدموں سے جو کیچڑ اْچھلی تھی کیا اْس نے اِس نوجوان کے کپڑوں کو داغدار کیا تھا ؟ وہی نوجوان بْولا نہیں ،، لیکن عورت کے کَپڑے ضرور خَراب ہْوئے تھے ملنگ نے نوجوان کی بانہوں کو

تھامتے ہْوئے پوچھا، پھر اِس نوجوان نے مجھے کیوں مارا ؟ نوجوان کہنے لگا، کیوں کہ وہ نوجوان اِس عورت کا محبوب تھا اور اْس سے یہ برداشت نہیں ہْوا کہ کوئی اْسکے مِحبوب کے کپڑوں کو گَندہ کرے اسلئے اپنی معشوقہ کی جانب سے اْس نوجوان نے آپکو مارا۔ نوجوان کی

بات سْن کر ملنگ نے ایک نعرہ مستانہ بْلند کیا اور یہ کہتا ہْوا وہاں سے رْخصت ہْوگیا پس خْدا کی قسم میں نے بَددْعا ہرگز نہیں کی تھی لیکن کوئی ہے جو مجھ سے مْحبت رکھتا ہے اور وہ اِتنا طاقتور ہے کہ دْنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اْسکے جبروت سے گھبراتا ھے

کنگنا رنا وت کس خاندان سے تعلق رکھتی ہیں؟ فلمی دنیا میں کس طر ح آئیں؟

بھارتی فلم انڈسٹری کے حوالے سے عموما یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں وہ بڑے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے اور ہندی و انگریزی لہجے کے حامل افراد ہی آگے آسکتے ہیں مگر

بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت نے اس تاثر کی نفی کردی ہے، 30سالہ کنگنا رناوت11سالوں سے بھارتی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں ، آج تک ان کی بارے میں کسی کو

علم نہیں تھا کہ وہ قدامت پسند گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کو گھر میں شدید پابندیوں کا سامنا تھا۔بھارتی ٹی وی چینل ” این ڈی ٹی وی“ سے گفتگو کرتے ہوئے کنگنا رناوت نے

اپنے ماضی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق ہماچل پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں ” منڈی “سے ہے، میں راجپوت خاندان سے تعلق رکھتی ہوں جہاں پر عورتوں کے حوالے سے سخت رائے قائم کی جاتی ہے، بیٹیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا

جاتا ہے جبکہ بچوں کو سارا پیار دیا جاتا ہے، میرے گھر میں بھی باقی خاندان کی طرح کا طریقہ کار رائج تھا، عورتوں کو اپنے گھروالوں کے سامنے بھی گھونگھٹ نکال کر بیٹھنا پڑتا

ہے جبکہ خواتین ہمیشہ کھانا مردوں کے بعد کھاتی ہیں۔ میرے والد مجھے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے جبکہ میرے بھائی کو کمانڈو بننے کا شوق تھا ، ابو اس کے لئے کھلونا پستول اور دیگر چیزیں لے کر آتے تھے۔ جب میں چندی گڑھ کالج میں گئی تو وہاں

میں نے منی سکرٹ پہننا شروع کردی جس پر سارے خاندان میں ہنگامہ بھرپا ہوگیا لوگ اور رشتہ دار میرے ابو کو فون کرکے میرے حوالے سے طرح طرح کی خبریں دیتے تھے۔کالج

سے جب میں ایک بار گاؤں گئی تو میری ماں نے غصے اور نفرت سے مجھے کہا کہ تم ایک بدتمیز لڑکی ہو۔کنگنا رناوت کا مزید کہنا تھا کہ میں آزاد زندگی گزارنا چاہتی تھی میں

والدین، بھائیوں، خاوند اور بیٹوں کے بکھیڑے سے آزاد ہو کر اڑنا چاہتی ہوں اس لئے میں نے اپنے خاندان اور روایات سے بغاوت کی مجھے اپنے خاندان پر کبھی بھی فخر نہیں ہوا۔مجھے ایسے لوگوں پر کبھی فخر نہیں ہوتا جو لوگ عورتوں کو دبا کر رکھتے ہیں ، میری بغاوت کے

بعد میرے گاؤں کے لوگوں نے مختلف انداز سے سوچنا شروع کردیا ہے، لڑکیاں اپنی مرضی سے جینا سیکھ چکی ہیں جبکہ نوجوان چارپائیاں توڑنے کی بجائے کام کرنے کو ترجیح دے

رہے ہیں ، گاؤں کے لوگ میرے حوالے سے کہتے ہیں کہ میں ان جیسی کیوں

نہیں ہوں ، شکل و صورت میں ان جیسی ہونے کے باجود ان کے جیسا رویہ کیوں نہیں ہے؟ بڑے شہروں کے لوگ دولت کی ہوس میں اندھے ہوکر اسی کے بارے میں سوچتے ہیں جبکہ

چھوٹے شہروں میں لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے۔اپنے لہجے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ آپ کا لہجہ انگریزوں والا ہو

اسے ہی فلم انڈسٹری میں لایا جاتا ہے میں انگریزی ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی

ہوں لیکن میں اپنے ہماچل پردیش والے لہجے پر بے حد خوش ہوں اور اسی پر فخر محسوس کرتی ہوں۔

سیاہ فام عورت کے بیٹے “

ایک مرتبہ حضرت بلال رضی الله عنہ اور حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ میں تلخ کلامی ہوگئ تو غصے میں حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ نے حضرت بلال رضی الله عنہ کو ” اے سیاہ فام عورت کے بیٹے ” کہہ دیا۔حضورِاکرم صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم کو جب خبر ملی تو آپ صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” اے ابوزر، کیا تم نے بلال کی والدہ کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کئے ہیں ؟ کیا تم میں ابھی بھی جہالت موجود ہے؟”حضرت ابوزر غفاری یہ سن کر روتے ہوے
مسجدسے بھاگے اور حضرت بلال کے پاس پہنچ کر اپنی رخسار زمین پر رکھ کر بولے ” اے بلال، جب تک آپ اِس (گال) پر اپنا پاؤں نہیں رکھیں گے، میں نہیں اٹھونگا۔ آپ عالی مقام ہیں اور میں ادنیٰ حقیر “حضرت بلال رضی الله عنہ یہ سن کر رونے لگے اور اُنہیں زمین سے اٹھا کر اسی رخسار پر بوسہ دیا اور گلے لگالیا۔(شعیب الایمان ۴۷۶۰، صحیح بخاری ۵۰، صحیح مسلم ۱۶۶۱)حجتہ الوداع کے موقع پر پیارے رسولِ عربی محمد صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا ” کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر، کسی عربیکوکسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر برتری نہیں سوائے تقوٰی کی بنیاد پر ”ایک مرتبہ حضرت بلال رضی الله عنہ اور حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ میں تلخ کلامی ہوگئ تو غصے میں حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ نے حضرت بلال رضی الله عنہ کو ” اے سیاہ فام عورت کے بیٹے ” کہہ دیا۔حضورِاکرم صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم کو جب خبر ملی تو آپ صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” اے ابوزر، کیا تم نے بلال کی والدہ کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کئے ہیں ؟ کیا تم میں ابھی بھی جہالت موجود ہے؟”حضرت ابوزر غفاری یہ سن کر روتے ہوے

صدقہ بلاوں کو ٹال دیتا ہے

ایک نوجوان نے کسی تنگدست بوڑھے کی مدد کی تھی۔ گردش زمانہ سے یہ نوجوان کسی سنگین جرم میں گرفتار ہوااور اسکو قتل کی سزا سنائی گی سپاہی اسکو لیکر قتل گاہ کی طرف روانہ ہوے تو تماشہ دیکھنے کے لیے سارا شہر امنڈ آیا ۔ ان میں وہ بوڑھا بھی تھا جسکی مدد اس نوجوان نے کی تھی بوڑھے نے اپنے محسن کو اس حال میں دیکھا تو اسکا دل زحمی ہوا اور زور زور سے رونے کر دھائی دینے لگا” ہاے لوگوں ہمارا نیک دل بادشاہ آج وفات پا گیا افسوس آج دنیا تاریک ہوگی”سپاہیوں
اور لوگوں نے جب یہ حبر سنی تو مارے پریشانی کے نوجوان کو وہی چھوڑ کر محل کی بھاگے ۔ بوڑھے نے فورااس نوجوان کی زنجریں کھولی اسکو بھگا کر خود وہاں بیٹھ گیا ۔سپاہی محل میں پہنچے تو بادشاہ وہی موجود تھا کھسیانے سے ہوکر وہ وہاں سے کھسک لیے قتل گاہ میں آے تو دیکھا سامنے بوڑھا بیٹھا ہے جب کہ نوجوان نو دو گیارہ ہوگیا تھا ۔ سپاہی ساری صورتحال سمجھ گئے بوڑھے کو گرفتار کرکہ ساراہ ماجرہ سنا دیا بادشاہ نے جو اپنے مرنے کی جھوٹی حبر سنی تو غضبناک ہوکر تحت سے اٹھ کھڑا ہوا” اے بوڑھے تیری اتنی ہمت یسے ہوئی کہ تو نے میری موت کی جھوٹ خبر لوگوں میں پہنچا دی آخر میں نے تیرا بگاڑا ہی کیا تھابوڑھے نے نرم لہجے میں کہاعالیجاہ ! میرے ایک جھوٹ بولنے پہ آپ پر کوئی آنچ نہیں آئی ۔لیکن میرے محسن نوجوان کی جان بچ گئ جس کو بے گناہ قتل کیا جارہا تھا جس وقت میں بھوکوں مررہا تھا تب اسی نوجوان کے دیئے ہوے دقے سے میں نے اپنے لیے اور اپنے حاندان کے لیے غذا کا بندوبست کیا تھا ۔ آج اسکو بے گناہ مصیبت میں دیکھکر مجھ سے رہا نھی گیا مجھ میں موجود انسانیت اور جوان مردی نے سر اٹھایا کہ میں اسکی جان بچاو اسی مدد کی حاطر میں نے یہ حیلہ اپنایا”بادشاہ نے جب یہ سنا تو اس نے اس نوجوان کی تعریف کی اور اس مقدمے کی
از سر نو تحقیقات کا حکم دیا، ۔ خوش ہوکر اس بوڑھے فقیر کو انعام او اکرام دیا۔اس نوجوان سے جب کوئی پوچھتا کہ تیری جان کیسے بچی؟وہ جواب دیتا”ایک حقیر سی رقم میری کام آئی جو اس سائل کو ضرورت کے وقت میں نے دی تھی”

مفلس و کنگال فقیر

ایک فقیر بہت مفلس و کنگال تھا ۔اس کی دعا رب تعالٰی سے یہی تھی کہ تو نےمجھے بغیر مشقت کے پیدا کیا ہے۔اسی طرح بغیر مشقت کے مجھے روزی بھی دے وہ مسلسل یہی مانگا کرتا تھا۔اللہ تعالٰی عزوجل نے اس کی دعا قبول فرمائی،اسے خواب آیا کہ تو ردی والے کی دکان پر جا وہاں بوسیدہ کاغذوں میں سے تجھے ایک کاغذ ملے گا۔اسے لے آ اور تنہائی میں پڑھ۔صبح اٹھ کر وہ رودی کی دکان پر گیا۔ردی میں سے وہ تحریر(گنج نامہ)تلاش کرنے لگا۔۔تھوڑی دیر بعد وہ گنج نامہ اس کے سامنے آگیا۔۔جو اسے خواب میں نظر آیا تھاا۔۔اس نے وہ کاغذ دکاندار سے لیا۔۔تنہائی میں اس کاغذ کو پڑھا۔اس پرچے میں تحریر تھا کہ شہر سے پار ایک مزار ہے ادھر ہی خزانہ دفن ہے۔مزار کی طرف پشت اور منہ قبلہ کی طرف کرکے تیر کو کمان میں رکھ۔۔جہاں پر تیر گرے وہاں خزانہ دفن ہوگا۔۔فقیر نے تیر کمان لے کر
اپنے جوہر دکھانے شروع کردیئے۔۔جہاں تیر پھینکتا وہاں جلدی سے بیلچے پھاوڑے لے کر زمین کھودنا شروع کردیتا۔۔بیلچہ،پھاوڑا اور وہ فقیر کند ہوگئے مگر خزانے کا نام و نشان بھی نہ ملا۔۔وہ روزانہ اسی طرح عمل کرتا تیر پھینکتا جس جگہ تیر گرتا اسے کھودتا مگر خزانہ نہ ملاتا۔۔فقیر کے اس پروگرام کا بادشاہ وقت کو پتا چلا۔۔بادشاہ نے اسے طلب کیا۔۔اس نے ساری کہانی بادشاہ کو سنائی اور کہنے لگا جب سے خزانے کا پتہ پایا ہے۔تلاش میں ہوں،خزانہ تو نہ ملا سخت تکلیف اور مشقت میرا مقدر بن گئی ہے۔
بادشاہ نے فقیر سے وہ گنج نامہ لے لیا۔۔خزانہ پانے کے لئے بادشاہ نے بھی تیر چلانے شروع کردیئے۔چھ ماہ تک بادشاہ بھی تیر چلاتا رہا مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔۔
بادشاہ سلامت بھی ناامید ہو کر وہ گنج نامہ فقیر کو واپس کردیا۔۔
فقیر نے پھر اللہ تعالٰی کی طرف رجوع کیا عاجزی و انکساری اور آنکھیں اشک بار کرکے دعا کی اے اللہ تعالٰی میری سمجھ سے یہ عقدہ بالاتر ہے۔میں راز کو نہ پاسکا۔تو خود ہی کمال مہربانی سےاسے حل کردے اور مجھے خزانے تک پہنچا دے۔جب وہ عاجز ہو کر بارگاہ الہی میں سچے دل سے گر پڑا تو آواز آئی۔۔میں نے تجھے تیر کو کمان میں رکھنے کو کہا تھا۔۔تجھے تیر چلانے اور کمالات دکھانے کا نہیں کہا تھا۔۔۔ خزانہ تیرے پاس تھا۔۔تیرے قریب تھا۔۔تو تیراندازی کے سفر میں اس سے دور ہوتا گیا۔۔خدا کی ذات کو اپنے اندر اپنے دل میں تلاش کر جو شہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔۔اپنے من میں ڈوب خزانہ تک پہنچ جائے گا.۔

بیٹی کے قاتل

نبی کریمؐ کی بڑی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کی شادی اپنے کزن ابوالعاص سے ہوئی۔ ایک موقع پر ابوالعاص نے ان کو اجازت دی کہ اگر آپ چاہیں تو میرے پاس مکہ مکرمہ میں رہیں اور اگر چاہیں تو مدینہ منورہ ہجرت کر جائیں۔ سیدہ زینبؓ نے ہجرت کا ارادہ فرما لیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بھائی کنانہ سے کہا کہ تم ان کو مدینہ میں چھوڑ آؤ۔ادھر سے نبی کریمؐ نے بھی صحابہ کرامؓ کو بھیج دیا تھا جو مکہ سے تھوڑے فاصلے پر انتظار میں تھے، چنانچہ سیدہ زینبؓ جانے کے لیے تیار ہو گئیں۔جب مکہ سے
باہر نکلنے لگیں تو کافروں کو پتہ چل گیا۔ ابو سفیان سب سے زیادہ خفا تھا کہ یہ تو قریش مکہ کی بڑی بے عزتی ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبرؐ کی بیٹی دن دہاڑے اتنی جرأت کے ساتھ چلی جائے اور ہم اس کا راستہ نہ روک سکیں، چنانچہ وہ آیا اور کہنے لگا: ہم اس کو جانے نہیں دیں گے۔اس موقع پر ایک نوجوان ھبار بن الاسود بھی موجود تھا جو حضرت زینبؓ کا رشتے میں کزن لگتا تھا۔۔۔ بعض اوقات قریبی رشتہ دار ہی وقت آنے پر زیادہ تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔۔۔ اس نے آ کر حضرت زینبؓ کی سواری کی ٹانگ پر وار کیا۔ جب اونٹنی پر وار ہوا تو وہ اونٹنی بدکی اور سیدہ زینبؓ نیچے گر پڑیں۔ اس وقت وہ امید سے بھی تھیں۔ نیچے پتھریلی زمین تھی، چنانچہ حمل کی حالت میں اونٹ کی بلندی سے عورت گرے تو کیا ہوتا ہے؟ وہی ہوا کہ بالآخر حمل ضائع ہو گیا، اس قریبی رشتہ دار کی وجہ سے اتنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ خیر ابو سفیان نے کہا کہ آج تم ان کو واپس لے جاؤ اور کل چپکے سے اس کو یہاں سے نکال لینا، ہم پھر اس کا راستہ نہیں روکیں گے، بات کرنے والوں کو ہم اتنا تو کہہ دیں گے کہ ہاں ہم نے ایک مرتبہ ان کا راستہ روکا تھا۔چنانچہ سیدہ زینبؓ کو اسی تکلیف کی حالت میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا سفر کرنا پڑا۔ اس زمانے میں سواری پر اس سفر کے لیے پندرہ دن لگتے تھے۔ سوچیں کہ ایسی تکلیف اور پھر مشقت بھرا سفر۔جب سیدہ زینبؓ مدینہ منورہ پہنچیں تو تکلیف کی وجہ سے ان کی حالت بہت بری ہو چکی تھی۔ نبی کریمؐ نے جب اپنے جگر گوشہ کو اس حالت میں دیکھا تو مبارک آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا کہ میری اس بیٹی کو دین کی خاطر جتنا ستایا گیا اتنا کسی دوسرے کو نہیں ستایا گیا۔اور یہی زخم بالآخر بعد میں وفات کا سبب بھی بنا۔اب سوچئے کہ جو بندہ ایسا زخم لگائے کہ بیٹی کی موت ہی واقع ہو جائے وہ کتنا بڑا دشمن ہوتا ہے! بندے کا بس چلے تو اس کا گلا ہی گھونٹ دے اور اس کی گردن جسم سے جدا کر دے۔۔۔ لیکن ہوا کیا؟ جب مکہ فتح ہوا تو ھبار بن الاسود کو بھی اپنے کیے کا پتہ تھا۔ وہ جدہ کی طرف بھاگا کہ میں کسی دوسرے ملک میں چلا جاؤں۔ راستے میں خیال آیا کہ میں نے جو کیا سو کیا، مگر سنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبر تو بہت معاف کرنے والے ہیں چلو آزما ہی لیتا ہوں۔چنانچہ وہ واپس آیا اور آتے ہی نبی کریمؐ کی خدمت میں کہنے لگا: جی آپ مجھے معاف کر دیں۔ میں نے واقعی بہت برا کام کیا تھا۔ میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں۔ اللہ کے پیارے حبیبؐ نے اپنی بیٹی کے اس قاتل کے گناہ کو بھی معاف کردیا۔۔۔ ہم لوگوں کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو معاف نہیں کر سکتے۔ او جی فلاں نے محفل میں یوں کہا! فلاں نے میرے بارے میں یوں کہا! ہم ان کو معاف نہیں کر سکتے اور ایسے شخص کو معاف کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

مجھے میرے اللہ سے حیاآتی ہے

عمربن حبیب روم کی قیدمیں آئے توان کیساتھ باقی9 آدمی تھے جنہیں قتل کردیاگیاعمر بن حبیب بہت خوبصورت تھے اس لیے بادشاہ نے انہیں اپنا غلام بنا لیا ، عیسائی بادشاہ نے کہاکہ اگرتم اپنادین تبدیل کردو تومیں تمہیں اپنی آدھی ریاست بھی دے دوں گااوراپنی بیٹی کی شادی بھی تم سے کروں گاانہوں نے کہاکہ ساراملک عرب بھی دے دے اورملک روم بھی دے دے میں ایک پل کے لیے بھی اپنادین نہیں چھوڑ سکتا۔بادشاہ کوایک ترکیب سوجھی اس نے ایک گھرمیں انہیں بندکردیا
اورایک خوبصورت لڑکی کوکہاکہ اس کے گناہ کرواؤ۔لڑکی آگئی اورحضرت عمربن حبیب کوگناہ کی دعوت دینے لگی حضرت نے نظراٹھاکراس لڑکی کونہ دیکھا۔تین دن گزرگئے اورتین راتیں حضرت عمربن حبیب نے روٹی کھائی نہ نظراوپراٹھائی لڑکی نے کہاتوکیابلاہے تین دن سے نہ تونے کھایانہ پیااورنہ تیری نظراٹھی کون ہے توکیاہے توتمہیں کون روکتاہے توانہوں نے فرمایااب تومیرے لیے شراب بھی حلال ہے جس سطح پرمیری پیاس پہنچ چکی ہے اوریہ گوشت بھی حلال ہے، جس سطح پر میری بھوک پہنچ چکی ، مگر میں کیا کروں میری جوانی امانت ہے، میں یہ نہیں کر سکتا کیوں کہ مجھے میرے رب سے حیاآتی ہے کہ وہ مجھے دیکھ رہاہے میں یہ کام نہیں کرسکتالڑکی تین دن کی بجائے تیس دن بیٹھی رہے میں یہ کام نہیں کرسکتامیں اپنی جوانی پرداغ نہیں لگواسکتایہ امانت ہے۔لڑکی نے کہاتیرے جیسے انسانیت کے تاج کومیں قتل نہیں ہونے دوں گی لڑکی نے باہرنکل کربادشاہ سے کہاکہ سردارتونے مجھے کس کے پاس بھیجالوہاہے نہ کھایانہ پیا،پتھرہے کہ نظراٹھاکہ نہ دیکھامیں اس پرکیاہاتھ ڈالتی۔رات کولڑکی آئی اورکھانالے آئی اورایک مشکیزے میں پانی بھی لے آئی اورحضرت عمربن حبیب کودیابعدمیں دروازہ کھول کرکہاکہ یہاں سے نکل جاؤ یہ قطبی تارہ جودیکھ رہے ہواس اپنے دائیں کندھے پررکھوتوایک دن تم عراق پہنچ جاؤگے۔یہ کردارتھاجس نے صحرانشینوں کوقیصروقصریٰ کے اوپرجھنڈے گاڑھنے کی طاقت عطافرمائی۔

انارکا دانہ

ایک شخص اکثر ایک بوڑھی عورت سے انار خریدا کرتا تھا، وزن و پیمائش اور قیمت کی ادا ئیگی سے فارغ ہوکر وہ انار کو چاک کرتا اور ایک دانہ اپنے منھ میں ڈال کے شکایت کرتا کہ یہ تو کھٹے ہیں ….اور یہ کہہ کے وہ انار اس بوڑھی عورت کے حوالے کر دیتا….. وہ بزرگ عورت ایک دانہ چکھ کے کہتی “یہ تو با لکل میٹھا ہے” مگر تب تک وہ خریدار اپنا تھیلہ لیکے وہا ں سے جا چکا ہوتا ہے….
اس شخص کی زوجہ بھی ہر بار اس کے ساتھ ہی ہوتی تھی ….اس کی بیوی نے پوچھا “جب اس کے انار ہمیشہ میٹھے ہی نکلتے ہیں تو یہ روز کا ڈرامہ کیسا..”اس شخص نے مسکرا کے جواب دیا ” وہ بوڑھی ماں میٹھے انار ہی بیچتی ہیں مگر غربت کی وجہ سے وہ خود اس کو کھانے سے محروم ہیں …اس ترکیب سے میں ان کو ایک انار بلا کسی قیمت کے کھلانے میں کامیاب ہو جا تا ہوں …بس اتنی سی بات ہے”اس بوڑھی عورت کے سامنے ایک سبزی فروش عورت روزانہ یہ تماشہ دیکھتی تھی …… سو وہ ایک دن پوچھ بیٹھی “یہ آدمی روزانہ تمہارے انار میں نقص نکال دیتا ہے اور تم ہو کہ ہمیشہ ایک زائد انار وزن کرتی ہو…کیا وجہ ہے؟؟؟”یہ سن کے بوڑھی عورت کے لبوں پر مسکراھٹ کھیل گئی اور وہ گویا ہوئی “میں جانتی ہو ں کہ وہ ایسا مجھے ایک انار کھلانے کے لیے کرتا ہے اور وہ یہ سوچ بیٹھا ہے کہ میں اس سے بیگانہ ہوں، میں کبھی زیادہ وزن نہیں کرتی … یہ تو اسکی محبت ہے جو ترازو کے پلے کو بوجھل کر دیتی ہے” .محبت اور احترام کی مسرتیں ان چھوٹے چھوٹهے میٹھے دانو ں میں پنہاں ہیں …. سچ ہے کہ محبت کا صلہ بھی محبت ہے…!!

صلاح الدین ایوبی ‎کی پیدائش کا واقع

گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ہونے تک شادی سے انکار کرتا رہا ، ایک دن اس کے بھائی اسدالدین نے اس سے کہا : بھائی تم شادی کیوں نہیں کرتے ۔۔۔؟ نجم الدین نے جواب دیا : میں کسی کو اپنے قابل نہیں سمجھتا. اسدالدین نے کہا : میں اپ کیلئے رشتہ مانگوں ؟ نجم الدین نے کہا : کس کا ؟ اسدالدین : ملک شاہ بنت سلطان بن مالک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا یا وزیر الملک کی بیٹی کا ۔۔۔۔؟
نجم الدین : وہ میرے لائق نہیں ، اسدالدین حیرانگی سے : پھر کون تیرے لائق ہوگی ؟ نجم الدین نے جواب دیا : مجھے ایسی نیک بیوی چاہئے جو میرا ہاتھ پکڑکر مجھے جنت میں لےجائے اور اسی سے میرا ایک ایسا بیٹا پیدا ہو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ۔۔۔۔ اسدالدین کو نجم الدین کی بات پسند نہ آئی اور انہوں نے کہا : ایسی تجھے کہا ملے گی ؟ نجم الدین نے کہا : نیت میں خلوص ہو تو اللّہ نصیب کرے گا ۔۔۔۔۔ ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے ایک شیخ کے پاس بیٹھے ھوئے تھے ، اک لڑکی آئی اور پردے کے پیچھے سے ھی شیخ کو آواز دی ، شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کیلئے نجم الدین سے معذرت کی ۔۔۔۔ نجم الدین سنتا رہا شیخ لڑکی سے کیا کہہ رہا ہے ۔ شیخ نے اس لڑکی سے کہا تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کر دیا جس کو میں بھیجا تھا ۔۔۔۔؟ لڑکی : اے ہمارے شیخ اور مفتی وہ لڑکا واقعی خوبصورت اور رتبے والا تھا مگر میرے لائق نہیں تھا ۔ شیخ : تم کیا چاہتی ہوں ؟ لڑکی : شیخ مجھے ایک ایسا لڑکا چاہئے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے مجھے اللّہ اک ایسا بیٹا دے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کی قبلہ اول واپس لے ۔۔۔۔۔ نجم الدین حیران رہ گیا کیونکہ جو وہ سوچتا تھا وہی یہ لڑکی بھی سوچتی تھی ۔۔۔۔ نجم الدین جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کے رشتے ٹھکرائے تھے شیخ سے کہا اس لڑکی سے میرا شادی کروا دیں ۔۔۔۔۔ شیخ : یہ محلے کی سب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ہے ۔۔۔ نجم الدین : میں یہی چاہتا ہوں : نجم الدین اس فقیر متقی لڑکی سے شادی کرلی اور اس سے وہ شہسوار پیدا ہوا جسے دنیا ” صلاح الدین ایوبی ” کے نام سے جانتی ہے ۔۔۔۔ جنہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد کروایا ۔۔۔۔۔