خُدا اپنے بندوں کی ہمیشہ فکر کرتا ہے۔

سڑک کے کنارے کھمبے پر چپکے کاغذ پر لکھا ہوا تھا۔میرے پچاس روپے گم ہو گئے ہیں، جس کو ملیں وہ میرے گھر واقع فلاں گلی پہنچا دے، میں ایک بہت ہی غریب اور بوڑھی عورت ہوں، میرا کوئی کمانے والا نہیں، روٹی خریدنے کیلئے بھی محتاج رہتی ہوں۔ایک آدمی نے یہ تحریر پڑھی تو وہ کاغذ پر لکھے ہوئے پتے پر پہنچانے چلا گیا۔
جیب سے پچاس روپے نکال کر بْڑھیا کو دیئے تو وہ پیسے لیتے ہوئے رو پڑی۔کہنے لگی: بیٹے آج تم بارہویں آدمی ہو جسے میرے پچاس روپے ملے ہیں اور وہ مجھے پہنچانے چلا آیا ہے۔
آدمی پیسے دیکر مسکراتے ہوئے جانے لگا تو بْڑھیا نے اْسے پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا
بیٹے، جاتے ہوئے وہ کاغذ جہاں لگا ہوا ہے اْسے پھاڑتے جانا
کیونکہ ناں تو میں پڑھی لکھی ہوں اور ناں ہی میں نے وہ کاغذ اْدھر چپکایا ہے۔
وفي السماء رزقكم وما توعدون
آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

ﻓﺮﯾﺪ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ

ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﮔﻨﺞ ﺷﮑﺮ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻔﻠﺴﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻝ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﻧﻪ ﺗﮭﺎ۔ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﻀﺪ ﺭﻫﯽ۔ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ، ﺑﯽ ﺑﯽ ! ﺳﺐ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﻫﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﻮ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﻧﯽ ﺳﺎ ﻏﻼﻡ ﻫﻮﮞ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﻮﻟﯽ، ﺁﭖ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﻧﯿﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﻫﯿﮟ ﻣﯿﮟﺁﭖ ﮐﮯ
ﺩﺭ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ۔ﺁﺧﺮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺍﭼﮭﺎ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﮈﮬﯿﻼ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺅ، ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮈﮬﯿﻼ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﺋﯽ،ﺑﺎﺑﺎﻓﺮﯾﺪ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ( ﻗﻞ ﻫﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﺣﺪ ) ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻣﭩﯽ ﭘﺮ ﺩﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﮯ ﻭﻩ ﻣﭩﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻧﮯ ﻭﻩ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ،ﻟﻮ ﺑﯽ ﺑﯽ ! ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﻭ۔ ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﻫﻮﺋﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﮔﮭﺮﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﮈﮬﯿﻠﮯ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮐﺌﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﻣﮩﮑﺎ ﺩﯾﺎ، ﻏﺴﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﮎ ﺻﺎﻑ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﭘﺮ ﺩﻡ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﻥ ﮐﯽ ﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ، ﺳﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﻪ ﻫﻮﺍ۔ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﺟﻨﻮﻥ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺳﻮﺍﺭ ﻫﻮ ﮔﺌﯽﻭﻩ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﭘﺮ ﺩﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﭩﯽ، ﻣﭩﯽ ﻫﯽ ﺭﻫﺘﯽ۔ ﻭﻩ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹﭘﮍﮬﺘﯽ ﺭﻫﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﺑﮯ ﺳﻮﺩ ﺭﻫﺎ، ﺁﺧﺮ ﻭﻩ ﻣﭩﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﻫﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﻮﻩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﻧﻪ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﺎ ، ﻧﻪ ﻏﺴﻞ، ﻧﻪ ﻫﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺑﺲ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﯽ
ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻏﺴﻞ ﮐﯿﺎ، ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﺎﺋﯽ، ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮪ ﺭﻫﯽ ﻫﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﭩﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﻧﮭﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ، ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﻤﯽ ﻫﮯ ؟ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﻫﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮕﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺗﯿﺮﮮ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽﻧﮭﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﺑﺲ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﻨﻪ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﺪ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻧﮭﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔سبحان اللہ بے شک یہی وہ اللہ کے بندے تھے جو اللہ کے نزدیک انعام یافتہ قرار پائے۔

ہونڈا کمپنی کی اٹھان کی دلچسپ کہانی

ہونڈا گاڑی لینا تو تقریباً ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے۔ ہر سال نت نئے ماڈلز متعارف کروانے اور آفاقی شہرت رکھنے والی ہونڈا کمپنی کی بھی اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اسکا مالک سوئی چیرو ہونڈا تھا۔ وہ17 نومبر1905 کو جاپان کے شہر ہماماتسو میں پیدا ہوا۔ وہ ایک جاپانی انجینیئر اور صنعتکار تھا۔ اس نے اپنا بچپن اپنے باپ کی ہاتھ بٹائی میں گزار دیا۔ اس کا باپ سائیکل مرمت کرنے کا کام کرتا تھا۔ اس وقت اس کی ماں بھی جولاہوں کا کام کرتی تھی۔ 15 سال کی عمر میں بغیر کسی تعلیم کے ہونڈا ٹوکیو کی طرف نوکری ڈھونڈنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس نے کام کا آغاز ایک گیراج میں 1992 میں ایک شاگرد کے طور پر کیا۔ اپنی نوکری پر کچھ تحفظات کی بنا پر وہ چھ سال بعد وہاں سے واپس اپنے گھر آگیا۔ 1922
ء میں 22 سال کی عمر میں گاڑیاں ٹھیک کرنے کے اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ 1937ء میں ہونڈا نے پسٹنز بنانا شروع کر دیے جس کے بعد اس نے موٹرسائیکلوں کے لیے انجن بنانے کا کام شروع کر دیا۔ 1948 میں ہونڈا موٹر کمپنی کے سربراہ کی حیثیت سے اس نے مکمل موٹرسائیکل بنانا شروع کر دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہونڈا بہترین موٹرسائیکل بیچنے والی ایک ارب پتی کمپنی بن گئی۔ 1959 میں ہونڈا موٹرسائیکل کمپنی نے امریکہ میں اپنی پہلی ڈیلرشپ شروع کردی۔ 1973 تک وہ اپنی کمپنی کا سربراہ جس کے بعد وہ ریٹائر ہو گیا۔ اسکا افسانوی کردار اس قدر ذیادہ تھا کہ “پیپل” میگزین نے اسے 25 انتہائی دلچسپ لوگوں کی فہرست میں ڈال دیا۔ ہونڈا کمپنی ابھی تک اپنا نام بنائے ہوئے پوری دنیا پر چھائے ہوئے ہے۔ ہونڈا نے ایک مکینک کی حیثیت سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کہاں پہنچ گیا۔ محنت اور کام سے اخلاص کبھی کسی کو مایوس نہیں کرتا بلکہ ترقی کی راہوں پر ڈال دیتا ہے۔

فراست

مدینہ میں ایک حمام (غسل خانہ ) تھا۔جس میں مردہ عورتوں کو نہلایاجاتاتھا اوران تجہیزو تکفین کی جاتی تھی۔ایک مرتبہ اس میں ایک خاتون جس کاانتقال ہوچکاتھا۔نہلانے کیلئے لایاگیا۔اس کو غسل دیاجارہاتھاکہ ایک عورت نے اس مردہ خاتون کو برابھلاکہتے ہوئے کہا توبدکار ہے اوراس کی کمر سے نیچے ایک لترمارالیکن اس برابھلاکہنے والی اورپھرمردہ عورت کو مارنے والی عورت کاہاتھ جہاں اس نے ماراتھاچپک گیا۔عورتوں نےبہت کوشش اورتدبیر کی لیکن ہاتھ الگ نہیں ہوا۔ بات پورے شہر میں پھیل گئی کیونکہ معاملہ ہی عجیب تھا۔
ایک زندہ عورت کا ہاتھ ایک مردہ عورت سے چپکاہواہے اب اس کو کس تدبیر سے الگ کیاجائے۔مردہ کودفن بھی کرناضروری ہے۔اس کے لواحقین الگ پریشان ہوں گے۔معاملہ شہر کے والی اورحاکم تک پہنچ گیا۔ انہوں نے فقہاءسے مشورہ کیا۔بعض نے رائے دی کہ اس زندہ عورت کا ہاتھ کاٹ کر الگ کیاجائے۔کچھ کی رائے یہ بنی کہ مردہ عورت کے جس حصہ سے اس زندہ خاتون کاہاتھ چپکاہے۔اتنے حصہ کو کاٹ لیاجائے۔کچھ کاکہناتھاکہ مردہ کی بے عزتی نہیں کی جاسکتی۔کچھ کاکہناتھاکہ زندہ عورت کاہاتھ کاٹنااس کو پوری زندگی کیلئے معذور بنادے گا۔
شہر کاوالی اورحاکم امام مالکؒ کا قدرشناس اوران کے تفقہ اورفہم وفراست کا قائل تھا۔اس نے کہاکہ میں جب تک اس بارے میں امام مالکؒ سے بات کرکے ان کی رائے نہ لوں میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا۔امام مالکؒ کے سامنے پورامعاملہ پیش کیاگیا۔توانہوں نے سن کر فرمایانہ زندہ خاتون کاہاتھ کاٹاجائے اورنہ مردہ عورت کے جسم کاکوئی حصہ الگ کیاجائے۔میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ مردہ عورت پر اس زندہ خاتون نے جو الزام لگایاہے وہ اس کا بدلہ اورقصاص طلب کررہی ہے لہٰذاس الزام لگانے والی عورت کو شرعی حد سے گزاراجائے چنانچہ شرعی حدجوتمہت لگانے کی ہے یعنی اسی کوڑے۔کوڑے مارنے شروع کئے گئے۔ایک دو،دس بیس،پچاس،ساٹھ ستر بلکہ اناسی79کوڑوں تک اس زندہ خاتون کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم کے کمر کے نچلے حصہ سے چپکارہا۔جوں ہی آخری کوڑاماراگیا۔اس کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم سے الگ ہوگیا۔
یقینا اس واقعہ میں دوسروں پر بےجا تہمتیں لگانے والوں کے لیے بڑی عبرت موجود ہے،اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کو اس گناہ کے شر سے اپنی پناہ رحمت عطا فرمائیں۔
بحوالہ بستان المحدثین للشاہ عبدلعزیز دہلوی،صفحہ25۔انوارالمسالک لمحمد بن علوی المالکی الحسنی 244،شرح التجرید الصحیح للعلامہ الشرقاوی 343

مہمان

ایک قریبی شہر پہلی بار جانا ہوا‘ لاری اڈے اترا تو اندازہ نہیں تھا کس طرف جانا ہے‘ پاکستانی طریقہ استعمال کرتے ہوئے رکشے والے سے پوچھا فلاں جگہ جانا ہے‘ اس نے کہا سو روپے میں مطلوبہ جگہ چھوڑ آو¿ں گا‘ میں بہت جلدی میں تھا‘ اس لیے اس شرط پر فوری رکشے میں سوار ہوگیا کہ وہ کسی اور سواری کا انتظار نہیں کرے گا‘رکشے والا کافی زندہ دل شخص ثابت ہوا یا شاید ان کی فطرت ہی ایسی ہوتی ہے وہ سارے رستے دلچسپ علاقائی قصے کہانیاں سناتا رہا، جہاں مجھے جانے کی اتنی جلدی تھی وہیں اس کی دلچسپ باتیں
سن کر جی چاہ رہا تھا کہ سفر جلدی ختم ہی نا ہو‘ بہرحال مختلف لمبی لمبی سڑکیں اور گلیاں گھومتے ہوئے منزل مقصود پہنچا‘ اسے بخوشی سو کا نوٹ دیا اور شکریہ ادا کرکے نیچے اتر گیا۔وہاں مجھے اپنا ضروری کام نبٹانے میں تین سے چار گھنٹے لگے واپسی پر ایک دوست مجھے لاری اڈے ڈراپ کرنے کے لیے ساتھ چل پڑا مگر اس نے بائیک یا گاڑی باہر نہیں نکالی‘ میں حیران ہوا کہ یہ کیسا سی آف کرنا ہے کہ پیدل رکشے تک چھوڑنے جا رہا ہے جبکہ بائیک اور گاڑی بھی موجود ہے‘ مہمان چونکہ بے زبان ہوتا ہے اس لیے میں خاموشی
سے ساتھ چلتا رہا۔ہم باتیں کرتے ہوئے گلی سے باہر نکلے‘ مین سڑک پر آتے ہی بائیں ہاتھ کی سڑک مڑے ہی تھے بالکل سامنے وہی لاری اڈا دیکھ کر میرے ہاتھوں کے طوطے چڑیا مینا سب اڑ گئے۔تب سمجھ آیا کہ وہ رکشے والا درحقیقت مجھے ارد گرد سے بے خبر رکھنے کے لیے اتنے قصے کہانیاںسنا رہا تھا لیکن مہمان چونکہ بے زبان ہوتا ہے اس میں میں خاموش رہااوراپنے عزیز سے اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

شکر کرو‘ توبہ کرو اور

ہوائی امریکا کی 40ویں ریاست ہے‘ یہ ریاست بحر الکاہل میں ایک وسیع جزیرہ ہے‘ یہ آسٹریلیا سے قریب اور امریکا کی دوسری ریاستوں سے دور واقع ہے‘ امریکا میں تین طویل ترین ڈومیسٹک فلائیٹس چلتی ہیں‘ پہلی فلائیٹ 13 گھنٹے‘ دوسری 12 گھنٹے اور تیسری 11 گھنٹے لمبی ہے‘یہ تینوں فلائیٹس ہوائی جاتی ہیں‘ ہونولولو ہوائی کا دارالحکومت ہے‘ یہ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہےدنیا کے اس خوبصورت شہر کی قربت میں 28 اپریل 1988ءکو ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ یہ واقعہ 58 سالہ ائیر ہوسٹس لانسنگ کلارا بیل (Lansing Clarabelle) کے ساتھ پیش آیا اور اس نے دنیا کے لاکھوں لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا‘ کلارا بیل الوہا ائیر لائین میں ملازم تھی‘
یہ 28 اپریل کو فلائیٹ 243 کے ذریعے ہیلو (Hilo) سے ہونو لولو جا رہی تھی‘ فلائیٹ میں 90 مسافر اور عملے کے پانچ ارکان سوار تھے
جہاز نے اس دن 8 فلائیٹس کی تھیں‘ تمام فلائیٹس ہموار اورنارمل تھیں‘ موسم بھی خوش گوار تھا‘ دونوں پائلٹس بھی تجربہ کار تھے‘ وہ 8 ہزار گھنٹوں سے زیادہ فلائنگ کر چکے تھے‘ ہیلو اور ہونولولو کے درمیان 35 منٹ کی فلائیٹ تھی‘ جہاز نے ایک بج کر 25 منٹ پر ٹیک آف کیا اور یہ 20منٹ میں 23 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ گیا‘ مسافر اور عملہ فلائیٹ کو انجوائے کر رہے تھے‘ پائلٹ کو اچانک فرسٹ کلاس کیبن میں کسی چیز کے ٹوٹنے اور غبارے کی طرح پھٹنے کی آواز آئی‘ وہ پریشانی میں کیمرے گھمانے لگا
وہ ابھی وجہ تلاش کر رہا تھا کہ اس نے ایک عجیب منظر دیکھا‘ اس نے دیکھا‘ کلارا بیل فرسٹ کلاس کیبن میں کھڑی ہے‘ اچانک جہاز کی چھت میں خلا پیدا ہوا‘ کلارا بیل اپنی جگہ سے اٹھی‘ جہاز سے اڑی‘ باہر گری اور خلا میں گم ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی جہاز ڈولنے لگا‘ جہاز کی چھت میں سوراخ ہو چکا تھا‘ پائلٹ نے جہاز کو کنٹرول کرنا شروع کر دیا لیکن جہاز ”آﺅٹ آف کنٹرول“ ہو چکا تھا‘ جہاز کے اندر ہوا بھر گئی‘ ہوا کا دباﺅ انجن کی طاقت سے کئی گنا زیادہ تھا
جہاز کے اندر درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ ہو گیا‘ قریب ترین جزیرہ ماﺅ تھا‘ پائلٹ13 منٹ کی سر توڑ کوشش کے بعد جہاز کو ماﺅ ائیرپورٹ پر اتارنے میں کامیاب ہو گیا‘ مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ تھے‘ صرف کلارا بیل غائب تھی‘ وہ آج تک نہیں مل سکی‘ حادثے کے بعد تحقیقات ہوئیں‘ پتہ چلا‘ نمی کی وجہ سے جہاز کی چھت کے پیچ کمزور ہو گئے تھے‘ وہ ہوا کا دباﺅ برداشت نہ کر سکے اور پرواز کے دوران عین اس جگہ سے اکھڑ ہو گئے جہاں کلارا کھڑی تھی‘ پیچ نکلنے سے چھت کا ایک حصہ اڑ گیا‘ جہاز میں خلا پیدا ہوا اور کلارا اس خلا سے باہر گر گئی‘ وہ کہاں گئی اور اس کی لاش کہاں گری امریکی فضائیہ کو آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا‘ یہ ایک واقعہ تھا‘ آپ اب دوسرا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘ یہ واقعہ بھی ایک ائیر ہوسٹس کے ساتھ پیش آیا۔
ویسنا ولووک (Vesna Vulovic) کا تعلق سربیا سے تھا‘ وہ یوگو سلاوین ائیر لائینز میں ملازم تھی‘ وہ 26 جنوری 1972ءکوفلائیٹ جے اے ٹی 367 میں سوار تھی‘ یہ فلائیٹ سٹاک ہوم سے سربیا جا رہی تھی‘ اس دن ویسنا کی ڈیوٹی نہیں تھی لیکن انتظامیہ نے زبردستی اس کی ڈیوٹی لگا دی‘ ویسنا نے ڈیوٹی سے بچنے کی کوشش کی لیکن اس کی ساتھی اس دن بیمار تھی اور سپروائزر کے پاس ویسنا کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا چنانچہ ویسنا کو طوعاً وکراہاً فلائیٹ میں سوار ہونا پڑ گیا‘ جہاز نے ٹیک آف کیا اور معمول کے مطابق اڑنے لگا
فلائیٹ جب چیک ریپبلک کی حدود میں داخل ہوئی تو دھماکہ ہوا اور جہاز چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو کر فضا میں بکھر گیا‘ جہاز کو بم سے اڑا دیا گیا تھا‘ بم سامان کے حصے میں لگایا گیا تھا اور وہ ٹائم بم تھا‘ تحقیقاتی اداروں کو دس دن بعد ملبے سے بم کا کلاک بھی مل گیااور کریش کے اگلے دن ایک کروش گروپ نے ذمہ داری بھی قبول کر لی‘ جہاز میں 27 مسافر سوار تھے‘ وہ تمام مسافر ہلاک ہو گئے لیکن آپ قدرت کا کمال دیکھئے ویسنا ولووک اس حادثے میں بچ گئی‘ وہ بم سے بھی محفوظ رہی اور 32 ہزار فٹ کی بلندی سے زمین پر گرنے کے بعد بھی26 دسمبر2016ءتک زندہ رہی‘ یہ معجزہ کیسے ہوا؟تحقیقات کے دوران پتہ چلا کیٹرنگ کی ایک ٹرالی حادثے کے وقت اس کی کمر کے ساتھ جڑ گئی تھی
اس ٹرالی نے سیٹ بیلٹ کا کام کیا اور اس نے اسے جہاز کے ٹوٹے ہوئے حصے سے الگ نہ ہونے دیا‘ وہ باہر نہ گر سکی‘ دوسرا ‘حادثے کے وقت کوئی لاش اڑ کر اس کے سر پر گر گئی تھی‘ لاش نے اسے اوپر سے محفوظ رکھا جبکہ جہاز کی باڈی اس کے نیچے محفوظ رہی یوں وہ 32 ہزار فٹ کی بلندی اور بم دھماکے کے باوجود زندہ رہی تاہم اس کی دونوں ٹانگیں اور کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ گئی‘ وہ کوما میں بھی چلی گئی ‘ وہ 23 دن کوما میں رہی‘ اسے جہاز سے نکالنے کا فریضہ ایک جرمن ڈاکٹر نے انجام دیا تھا‘ وہ ڈاکٹر دوسری جنگ عظیم میں اس نوعیت کے زخمیوں کا علاج کر چکا تھا چنانچہ اس نے اسے بڑی احتیاط سے ملبے سے نکالا اور ہسپتال پہنچا دیا‘ وہ کئی ماہ زیر علاج رہی‘ وہ صحت مند ہوئی تو اسے دوبارہ سروس میں رکھ لیا گیا‘ یوگو سلاویہ نے اسے قومی ہیروئین کا درجہ بھی دیا‘ وہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل ہوئی اور اسے دنیا بھر کے سول ایوی ایشن ایوارڈز بھی ملے۔
آپ اب ان دونوں واقعات کا تجزیہ کیجئے‘ ہوائی کی کلارا بیل کی موت کا وقت آ چکا تھا‘ وہ 23 ہزار فٹ کی بلندی پر تھی‘ جہاز کی چھت میں اچانک سوراخ ہوا اور وہ اڑ کر خلا میں گم ہو گئی جبکہ باقی 95 مسافر جہاز کی پھٹی ہوئی چھت اور منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ کے باوجود سلامت رہے‘ اسی طرح یوگوسلاوین ائیر لائین کے 27 مسافروں کا وقت پورا ہو چکا تھا لہٰذا وہ فضائی حادثے کا شکار ہوگئے جبکہ ویسنا ولووک کی زندگی ابھی باقی تھی ‘وہ بم دھماکے اور 32 ہزار فٹ کی بلندی سے گرنے کے باوجود محفوظ بھی رہی اوروہ ابھی تک بھرپور زندگی گزارہی ہے‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے؟ یہ حضرت علیؓ کا وہ قول ثابت کرتا ہے
جس میں آپؓ نے فرمایا تھا‘ زندگی کی سب سے بڑی محافظ موت ہوتی ہے‘ ہم بھی کیا لوگ ہیں‘ ہم موت سے بچنے کے سینکڑوں جتن کرتے ہیں لیکن یہ جب آتی ہے تو پھر یہ سمندر دیکھتی ہے‘ پہاڑ‘ خلا‘ صحرا‘ غار اور نہ ہی ایٹمی مورچہ‘ یہ انسان پر وہاں سے وار کرتی ہے جس کے بارے میں اس نے سوچا تک نہیں ہوتا‘ پانی کے دو قطرے ہماری سانس کی نالی میں پھنستے ہیں اور ہم اوندھے ہو کر گر پڑتے ہیں‘ چیل کے منہ سے ہڈی گرتی ہے‘ ہمارے سر پر لگتی ہے اور ہم دم دے جاتے ہیں‘ امیر تیمور نے آدھی دنیا میں کھوپڑیوں کے مینار بنا دیئے‘ وہ تلواروں‘ تیروں اور نیزوں سے بچ گیا
طاعون بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی لیکن وہ آخر میں سردی لگنے سے مر گیا‘ ہمایوں کو اس کے اپنے اور پرائے مل کر قتل نہیں کر پائے لیکن وہ آخر میں سیڑھی سے پھسل کر مر گیا‘ یہ کیا ہے؟ یہ موت کا وہ وقت ہے جسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور جب انسان کا وقت نہیں ہوتا‘ قدرت اسے ابھی زندہ رکھنا چاہتی ہے تو پھر وہ برستے بموں‘ پھیلتی آگ اور ٹوٹتے پھوٹتے پہاڑوں کے درمیان بھی زندہ رہتا ہے‘ وہ مگر مچھ کے پیٹ سے بھی سلامت نکل آتا ہے‘ وہ شیروں کے غار اور سانپوں کے کنوئیں میں بھی حیات رہتا ہے
یہ زندگی اور موت کا کھیل ہے‘ یہ عجیب کھیل ہے‘ آپ نے بچنا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو مار نہیں سکتی اور آپ کا وقت آ پہنچا ہے تو دنیا کے تمام ڈاکٹرز‘ تمام طبیب مل کر بھی آپ کو بچا نہیں سکتے‘ آپ سلامت ہیں تو آپ میزائل لگنے کے بعد بھی سلامت رہیں گے اور آپ کا وقت آ چکا ہے تو آپ کےلئے مچھر کا ڈنگ بھی کافی ہو گا‘ آپ کو پانی کا گلاس بھی لڑ سکتا ہے‘ ہم لوگ زندگی اور موت کے معاملے میں مکمل بے بس ہیں
ہم اپنی زندگی میں اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کمی چنانچہ ہمیں موت سے بھاگنے کی بجائے موت کو اپنا دوست بنا لینا چاہیے‘ یہ دوست ہماری زندگی کی حفاظت بھی کرے گا اور ہمیں زندگی کی غلاظت سے بھی بچائے گا‘ یہ ہمیں روز وہ نقطہ سمجھائے گا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو سمجھایا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا‘ موسیٰ جب میں کسی شخص کو کوئی چیز دینا چاہتاہوں اور ساری دنیا مل کر اس سے وہ چیز چھیننا چاہتی ہے
اور میں جب کسی کو کسی چیز سے محروم رکھنا چاہتاہوں اور ساری دنیا مل کر اسے وہ چیز دینا چاہتی ہے تو مجھے لوگوں کی کوشش پر بہت ہنسی آتی ہے‘ ہم یہ نقطہ سمجھ لیں‘ ہم اگر موت کو اپنا دوست بنا لیں تو موت ہمیں روزانہ یہ بتائے گی‘ اے بے وقوف شخص تم غم نہ کرو‘ یہ اگر تمہارا نصیب ہے تو کوئی اسے تم سے چھین نہیں سکے گا اور یہ اگر تمہارے نصیب میں نہیں تو یہ تمہیں کبھی نہیں مل سکے گا‘ شکرکرو‘ توبہ کرو اور خوش رہو‘ زندگی بس یہی ہے۔

زندگی کے اصول

کسی جگہ ایک بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اْس سے بہت ہی پیار کرتا تھا۔دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اْسکا خاوند اْس کیلئے محبت بھری شاعری کرتا اور اْس کیلئے شعر کہتا تھا۔عمر جتنی
زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اْتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔جب اس عورت سے اْس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیاکہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟
یا وہ بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور بچے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟
یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟تو عورت نے یوں جواب دیا کہ خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت کی چھاؤں بنا سکتی ہے اوراگر یہی عورت چاہے تو اپنے گھر کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سے بھی بھر سکتی ہے۔مت سوچیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا ایک سبب ہے۔ تاریخ کتنی مالدار عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاوند اْن کو اْنکے مال متاب سمیت چھوڑ کر کنارہ کش ہو گئے۔اور نا ہی عیالدار اور بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے پیدا کئے مگر نا خاوند اْنکے
مشکور ہوئے اور نا ہی وہ اپنے خاوندوں سے کوئی خصوصی التفات اور محبت پا سکیں بلکہ طلاق تک نوبتیں جا پہنچیں۔اچھے کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں رہ کرمزے مزے کے کھانے پکا کر بھی عورتیں خاوند کے غلط معاملہ کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں اور خاوند کی نظروں میں اپنی کوئی عزت نہیں بنا پاتیں ،تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پْرسعادت اور خوشیوں بھری زندگی کا کیا راز ہے؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان پیش آنے والے مسائل اور مشاکل سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟
اْس نے جواب دیا: جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا تھا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اْن لمحات میں ( نہایت ہی احترام کے ساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ احترام کیساتھ خاموشی کا یہ مطلب ہے کہ آنکھوں سے حقارت اور نفرت نا جھلک رہی ہو اور نا ہی مذاق اور سخریہ پن دکھائی دے رہا ہو۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال اور ایسے معاملے کو بھانپ لیا کرتا ہے۔
اچھا تو آپ ایسی صورتحال میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟اْس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا تم اْس سے فرار چاہتی ہو اور اْسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی، خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اْسے نا صرف یہ کہ سْننا بلکہ اْس کے کہے سے اتفاق کرنا بھی اْتنا ہی اشد ضروری ہے۔ میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جایا کرتی تھی، کیونکہ اس ساری چیخ و پکار اور شور و شرابے والی گفتگو کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اْسے آرام کی ضرورت ہوتی تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کام کاج میں مشغول ہو جاتی تھی، بچوں کے کام کرتی، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے میں وقت گزارتی اور اپنے دماغ کو اْس جنگ سے دور بھگانے کی کوشش کرتی جو میری خاوند نے میرے ساتھ کی تھی۔
تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اختیار کرلینا اور خاوند سے ہفتہ دس دن کیلئے بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟
اْس نے کہا: نہیں، ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا فعل اور خاوند کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دو رْخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اپنے خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع شروع میں اْس کیلئے یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنا چاہے گا اور بولنے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اْس میں تم سے دو ہفتوں تک نا بولنے کی استعداد آ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔ خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اْس کیلئے آکسیجن کی مانند ہو اور تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہے۔اگر ہوا بننا ہے تو ٹھنڈی اور لطیف ہوا بنو نا کہ گرد آلود اور تیز آندھی۔اْس کے بعد آپ کیا کیا کرتی تھیں؟اْس عورت نے کہا: میں دو گھنٹوں کے بعد یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس کا ایک گلاس یا پھر گرم چائے کا یک کپ بنا کر اْس کے پاس جاتی، اور اْسے نہایت ہی سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوتا تھا۔ میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات ہوئی ہی نہیں۔
جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھتا تھا کہ کیا میں اْس سے ناراض تو نہیں ہوں۔جبکہ میرا ہر بار اْس سے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔ اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویئے کی معذرت کرتا تھا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔تو کیا آپ اْس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟ہاں، بالکل، میں اْن باتوں پر بالکل یقین کرتی تھی۔ میں جاہل نہیں ہوں۔
کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اْن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھ سے غصے میں کہہ ڈالتا تھا اور اْن باتوں پر یقین نا کروں جو وہ مجھے پر سکون حالت میں کرتا تھا؟ غصے کی حالت میں دی ہوئی طلاق کو تو اسلام بھی نہیں مانتا، تم مجھ سے کیونکر منوانا چاہتی ہو کہ میں اْسکی غصے کی حالت میں کہی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا کروں؟تو پھر آپکی عزت اور عزت نفس کہاں گئی؟کاہے کی عزت اور کونسی عزت نفس؟ کیا عزت اسی کا نام ہے تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ و ترش باتوں پر تو یقین کرکے اْسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اْس کی اْن باتوں کو کوئی اہمیت نا دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پر سکون ماحول میں کہہ رہا ہے!
میں فوراً ہی اْن غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اْنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔
جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل کے اندر موجود تو ہے مگر یہ راز اْسکی زبان سے بندھا ہوا ہے۔

تمہاری چاہت نہ کریں گے

حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں بغداد میں ایک امیر شخص رہتا تھا جس کی بیوی بہت خوبصورت اور پری چہرہ تھی۔ اس عورت کو اپنے حسن و جوانی پر بہت ناز تھا ایک دفعہ وہ بناؤ سنگھار کرتے ہوئے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کر بہت فخر سے کہنے لگی کہ دنیا میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہوگا جو مجھ دیکھ لے اور میرے طمع نہ کرے
خاوند نے کہا کہ اور تو مجھے کسی کا پتہ نہیں لیکن حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ پر یہ اعتماد ضرور ہے کہ وہ تمہیں دیکھ کر بھی تمہاری چاہت نہ کریں گے ۔ بیوی نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو میں آزمالیتی ہوں یہ گھوڑا اور یہ گھوڑے کا میدان ۔ دیکھ لیتی ہوں کہ حضرت جنید کتنے پانی میں ہیں ۔ خاوند نے اسے اجازت دے دی وہ عورت حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک مسلئہ پوچھنے کے بہانے حاضر ہوئی ۔ خوب بن سنور کر آئی تھی اور مسلئہ پوچھتے ہوئے اس نے اچانک اپنا نقاب کھول دیا حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی اس کے چہرے پر اچانک نظر پڑی تو انہوں نے فورا” نظر جھکا لی اور زور سے اللہ کے نام کی ضرب لگائی ، یہ ضرب اس عورت کے دل میں پیوست ہوگئی وہ چپ چاپ وہاں سے واپس آگئی گھر واپس آئی تو دل کی حالت بدل چکی تھی سارے ناز نخرے ختم ہوگئے ساری زندگی ہی بدل گئی ، سارا دن قران مجید کی تلاوت کرتی اور رات کو مصلے پر کھڑی ہوجاتی اور نوافل پڑھتی ۔ اللہ کے ڈر اور محبت کی وجہ سے روتی رہتی اور آنکھوں سے آنسو جاری رہتےاس عورت کا خاوند کبھی کبھی کہا کرتا کہ حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ نے تو میری بیوی کو میرے کام کا نہ چھوڑا

غریب کے گھر میں اللہ رہتا ہے

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ اپنے زمانے کے ولی تھے اور غوث الاعظم کے درجے پرفائز تھے۔ غوث الاعظم دین اور روحانیت کے ساتھ ساتھ انتہائی مال دار اور خوشحال بھی تھے۔ آپ کے مریدوں کی تعداد آپ کی زندگی ہی میں لاکھوں تک پہنچ گئی تھی‘ آپ جب سفر کیلئے روانہ ہوتے تھے تو سینکڑوں‘ ہزاروں لوگ آپ کے ساتھ ساتھ سفر کرتے تھے اور سب کی خواہش ہوتی تھی آپ کسی ایک شخص کی طرف آنکھ ٹھا کر دیکھیں اوراس سے کوئی خدمت لیں۔ ایک بار حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ حج کیلئے روانہ ہوئے۔ خادموں اور مریدوں کا لشکر آپ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ راستے میں شام پڑ گئی‘آپ نے خادموں سے قریب تر گاﺅں کے بارے میں پوچھا‘ معلوم ہوا
ایک میل کے فاصلے پر ایک گاﺅں موجود ہے۔ آپ گاﺅں تشریف لے گئے اور خادموں سے فرمایا ”جاﺅ جا کر معلوم کرو‘ اس گاﺅں میں سب سے غریب شخص کون ہے“ خادم گئے‘ واپس آئے اور آ کر عرض کیا ”گاﺅں کے سرے پر ایک مکان میں دو بوڑھے میاں بیوی اور ان کا ایک بیٹا رہتا ہے‘ یہ اس گاﺅں کے غریب ترین لوگ ہیں“۔ غوث الاعظم اس گھر گئے اور گھر والوں کو کہا ”میں آج رات آپ کے گھر میں قیام کرنا چاہتا ہوں‘ کیا آپ مجھے اجازت دے دیں گے“ وہ لوگ غوث الاعظم کی اس عجیب خواہش پر حیران رہ گئے اور انہوں نے کہا ”حضرت ہمارا مکان حاضر ہے لیکن ہم آپ کی خدمت نہیں کر سکیں گے“ غوث الاعظم نے انہیں تسلی دی اوران کے
مکان میں داخل ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد علاقے کے لوگوں کو حضرت عبدالقادر جیلانی کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ ہزاروں لاکھوں روپے کے نذرانے لے کر حاضر ہو گئے۔ ان لوگوں نے آپ سے عرض کیا ”جناب آپ کو اس ٹوٹے پھوٹے گھر میں ٹھہرنے کی کیا ضرورت ہے‘
آپ ہمارے محل‘ ہماری کوٹھی اور ہمارے فارم ہاﺅس میں تشریف لائیے“ غوث الاعظم مسکرائے اور فرمایا ”غریب شخص کے گھر میں اللہ ہوتا ہے اور تم چاہتے ہو میں اللہ تعالیٰ کے گھر سے نکل کر تمہارے گھر آ جاﺅں‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ آپ اسی غریب شخص کے گھر میں ٹھہرے رہے‘ صبح تک اس گھر میں سونے‘ چاندی کے نذرانوں کے ڈھیر لگ گئے‘ آپ فجر کی نماز کے بعد سفر پر روانہ ہونے لگے تو آپ نے گھر کے مالک کوبلایا‘ تمام نذرانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا ”یہ سب آپ کا ہے‘ میں بس مسافر ہوں‘ ایک رات گزارنا چاہتا تھا‘ گزار لی‘ آپ کا احسان کندھوں پر ہمیشہ رہے گا“ غوث الاعظم رخصت ہو گئے لیکن بستی کے غریب ترین لوگوں کو امیر بنا گئے۔

میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں

انڈیا میں ایک بڑی عمر کے آدمی تھے۔ وہ فوت ہوگئے۔ کسی نے ان کو خواب میں دیکھاتو پوچھا: جی! آگے کیابنا؟ کہنے لگے: میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں۔ اس نے پوچھا: وجہ

کیابنی؟ کہنے لگے: ایک مرتبہ ہندوؤں کی ہولی کا تھا اور وہ ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے پھر رہے تھے، میں اپنے گھر سے کسی دوسری جگہ پر جا رہا تھا۔ راستے میں مجھے پان کھاتے

ہوئے تھوک پھینکنے کی ضرورت محسوس ہوئی، اس وقت مجھے اپنے سامنے ایک گدھا نظر آیا، میری طبیعت میں کچھ ایسی بات پیداہوئی کہ میں نے یہ کہہ دیا: ارےارے گدھے! تجھے کسی نے نہیں رنگا، آ! میں تجھے رنگ دیتاہوں،

یہ کہہ کر میں نے اپنی پان والی تھوک گدھے پر پھینک دی، اللہ تعالیٰ نے میرے اس عمل پر پکڑ لیا کہ تم نے کافروں کے عمل کے ساتھ مشابہت اختیار کی، چنانچہ اس وجہ سے میری قبر کو جہنم کا گڑھا بنادیاگیا۔