ﺗﯿﻦ ﺩﻭﺳﺖ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ

اﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮬﮯ ﺍﺑﻮﻇﮩﺒﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺩﻭﺳﺖ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ، ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮉﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻓﻠﭙﺎﺋﻨﯽ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺲ ﺑﯿﺲ ﮐﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺳﻨﺎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ۔ ﺟﺲ ﺩﻥ ﺳﺰﺍ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﻮﻣﯽ ﺗﮩﻮﺍﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﻗﺎﺿﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺰﺍ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ
ﻟﯿﮑﻦ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻗﻮﻣﯽ ﺗﮩﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺭﻋﺎﺋﺖ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﻮ۔ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﻠﭙﺎﺋﻨﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﻭٔ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ؟ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﮌﮮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﮑﯿﮧ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﭘﺮ ﺗﮑﯿﮧ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﺋﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﻮﻟﮧ ﮐﻮﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﮑﯿﮧ ﭘﮭﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﻮﮌﮮ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺮ ﭘﺮ ﺳﮩﻨﮯ ﭘﮍﮮ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮉﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﮑﯿﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﺮ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺗﮑﯿﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﮟ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺗﮑﯿﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺑﯿﺲ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎ ﺩﺋﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﺳﺰﺍ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﮯ۔ ﺟﺐ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺗﻢ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭ ﺭﻋﺎﺋﯿﺘﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﺑﻮﻟﻮ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮬﻮ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻮﻻ۔ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﻋﺎﺋﺖ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺲ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮐﻮﮌﮮ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﻗﺎﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻟﻮﮒ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮬﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﺭﻋﺎﺋﺖ ﮬﮯ۔ ﺑﮩﺮ ﺣﺎﻝ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﺭﻋﺎﺋﺖ ﭼﺎﮬﺌﯿﮯ؟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻮﻻ۔
ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﺮ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺍﻧﮉﯾﻦ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﮟ۔

پاکستانی جانباز پائلٹ کی کہانی

پرواز کے بیس منٹ بعد درازقد جوان کاک پٹ کی جانب بڑھا، ایئر ہوسٹس نے بڑے ادب سے کہا تھا۔ ’’سر آپ تشریف رکھیں، کاک پٹ میں جانیکی اجازت نہیں۔‘‘ مگر خوبرو فضائی مہمان کو جواب دینے کے بجائے یہ نوجوان دھکا دیتے ہوئے کاک پٹ میں گھس گیا۔ ایئر ہوسٹس جو گرتے گرتے سنبھلی تھی، اسکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ اسے یہ سانسیں بھی آخری لگ رہی تھیں۔ ایک لمحے میں اس کا چہرہ خوف سے پسینے سے شرابور ہوا اور سرخ و سفید سے زرد پڑ گیا۔ نوجوان نے کاک پٹ میں داخل ہوتے ہی پسٹل نکال کر پائلٹ کی کن پٹی پر رکھ دیا۔ اسی دوران اس دہشتگرد کے دو ساتھی بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور پسٹل مسافروں پر تان لئے۔یہ فلمی کہانی نہیں، یہ پی کے 554 پرواز تھی۔ یہ پاکستان میں 25 مئی 1998ء کو اغوا ہونیوالے مسافر جہاز کا ناقابل فراموش واقعہ ہے جس میں ہر لمحے ڈرامائی موڑ آتے رہے۔پی آئی اے فوکر 277 تربت ایئرپورٹ سے اڑا، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے مزید مسافروں کو لے کر کراچی روانہ ہوا۔ اس میں 33مسافر اور عملہ کے پانچ افراد سوار تھے۔ اسے ساڑھے چھ بجے کراچی پہنچنا تھا مگر اب اسکی منزل کا فیصلہ ہائی جیکروں نے کرنا تھا۔
دہشتگرد کی انگلی ٹریگر پر تھی، اس نے کیپٹن عزیر کو حکم دیا۔ ’’جہاز کراچی نہیں انڈیا دہلی ائیرپورٹ جائے‘‘۔ دہشتگرد نے کیپٹن کو انڈیا سول ایوی ایشن سے رابطہ کر کے اترنے کی اجازت مانگنے کو کہا۔ کیپٹن عزیر نے ایسا ہی کیا اور ساتھ ہی جہاز کی سمت بھی بدل دی۔ اسی لمحے ایئرہیڈ کوارٹرکو بھی خبر ہو گئی اور آناً فاناً دو فائٹر جیٹ ایف 16 فضا میں بلند ہو گئے۔ کیپٹن عزیر دہشتگردوں کے اناڑی پن کو بھانپ گئے تھے۔ دہشتگرد کے کہنے پر کیپٹن عزیر نے دہلی ایئر پورٹ سے رابطہ کیا۔ وہ دراصل اپنے ملک میں ہی ہیڈ کوارٹر کیساتھ رابطے میں تھے جبکہ دہشتگردوں کو باور کرایا جارہا تھا کہ دہلی ایئر پورٹ سے رابطہ ہے۔ ہیڈ کوارٹر میں حکام کی ارجنٹ میٹنگ میں ایکشن پلان بنایا گیا، ایکشن پلان میں فیصلہ یہ ہوا کہ فوکر کو حیدر آباد سندھ ایئرپورٹ پر اتارا جائے۔
کیپٹن عزیر نے دہشتگردوں کو بتایا کہ ہمارے پاس کافی ایندھن نہیں ہے جو ہمیں دہلی لے جا سکے، ہمیں قریبی ایئر پورٹ سے ایندھن اور خوراک لینا پڑیگی۔ ہائی جیکر ہر صورت جہاز دہلی لے جانا چاہتے تھے۔ انکے پاس نقشہ تھا۔ وہ نقشہ دیکھتے ہوئے بھوج ایئرپورٹ کا ذکر کر رہے تھے۔ انکی باتیں سن کر کیپٹن نے کہا کہ انڈیا کا بھوج ایئر پورٹ قریب پڑتا ہے۔ دہشتگردوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ اب اگلا مرحلہ تھا بھوج ایئرپورٹ رابطہ کر کے اترنے کی اجازت کا تھا۔ کیپٹن عزیرنے وہاں رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی جیکر بھوج ایئر پورٹ پر اترنا چاہتے ہیں۔ جواب میں ٹھیٹھ ہندی میںایئر پورٹ آفیسر نے کال ہینڈل کرنا شروع کر دی۔ دہشتگردوں نے اسے بتایا کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں وہ حکومت پاکستان کے انڈیا کے مقابلہ میں نیوکلیئر تجربے کرنے کے کیخلاف ہیں اور اس ہائی جیک سے وہ پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ ایٹمی تجربہ نہ کرے۔ تھوڑے انتظار کے بعد دوسری طرف بتایا گیا کہ پردھان منتری نے انکو بھوج ایئر پورٹ پر لینڈ کرنیکی اجازت دیدی ہے۔ جس پرخوشی سے دہشتگردوں نے جے ہند اور جے ماتا کی جے کے نعرے لگائے۔
یہ سب کچھ حیدر آباد ایئرپورٹ کے اردگرد فضا میں ہو رہا تھا۔ ہنگامی طور پر حیدر آباد ایئر پورٹ سے تمام جہاز ہٹا دیئے گئے۔ پولیس فورس نے ایئر پورٹ کی جانب جانیوالے تمام راستے بند کر دیئے۔ ایس ایس جی کمانڈوز، پولیس اور رینجرز مستعد کھڑے تھے، افسران کی نگاہیں سکرین پر تھیں، اب جہاز نے ٹائم پاس کرنا تھا اس لئے کہ وہ پہلے ہی حیدر آباد کی حدود میں ہی تھا۔ کیپٹن عزیر کمال ہوشیاری اور ذہانت سے جہاز مزید بلندی پر لے گئے اور وہیں ایک ہی زون میں گھماتے رہے اور ظاہر یہ کرتے رہے کے وہ انڈیا جا رہے ہیں جبکہ ایف 16 فائٹر جیٹ انکے اردگرد تھے۔ رات کو اس وقت حیدر آباد ایئر پورٹ پر تمام لائٹس بند کر دی گئیں۔ ایئر پورٹ سے ہلالی پرچم اتار کر ترنگا لگا دیا گیا۔ ہیڈ کوارٹر سے ہدایات ہندی میں ہی دی جا رہی تھیں۔ کیپٹن صاحب جہاز کو جعلی بھوج ایئرپورٹ پر لینڈ کرانے والے تھے۔ سارا ایئرپورٹ خالی تھا۔ وہاں دہشتگردوں نے انڈیا کا پرچم لہراتے دیکھا تو جے ہند کے نعرے بلند کئے، ساتھ ہی کیپٹن عزیر کو گالیاں دیں۔ جہاز کو ایک سائیڈ پر پارک کر دیا گیا تو مذاکراتی ٹیم جہاز میں داخل ہوئی۔ یہ ٹیم ایس ایس پی حیدر آباد اختر گورچانی، اے ایس پی ڈاکٹر عثمان انور اور ڈپٹی کمشنر سہیل اکبر شاہ پر مشتمل تھی انہوں نے اپنا تعارف باالتریب اشوک بھوج ایئرپورٹ منیجر، رام اسسٹنٹ ایئرپورٹ منیجر کے طور پر کرایا سہیل اکبر شاہ نے خود کو ڈی سی راجستھان ظاہر کیا۔ انہوں نے ہندی میں دہشتگردوں سے بات چیت کی گویا یہ انڈیا تھا اور یہ بھوج ایئر پورٹ۔ دہشتگرد ایندھن اور خوراک چاہتے تھے لیکن بات چیت طویل ہوتی جارہی تھی، تینوں اہلکاروں کا ہدف تھا کہ وہ جہاز کے اندر کی صورتحال کا جائزہ لیں۔ خاص طور پر وہ شخص جس نے جسم پر پیکٹ باندھ رکھے تھے وہ انکے ہتھیاروں کو بھی دیکھنا چاہتے تھے۔
اس ٹیم نے دہشتگردوں سے کہا کہ عورتوں بچوں کو یہیں اتار کر آپ دہلی چلے جائیں یہ چونکہ دہشتگردوں کے ہمدرد تھے اس لئے بات مان لی۔ رات گیارہ بجے جہاز سے عورتیں اور بچے اترنا شروع ہوئے ان مسافروں کے جہاز سے اترنے کی دیر تھی کہ جہاز کے چاروں طرف اندھیرے میں خاموشی سے رینگتے ہوئے کمانڈوز ایک ہی ہلے میں تیزی کے ساتھ پہلے اور دوسرے دروازے سے اللہ اکبر کے نعروں کیساتھ حملہ آور ہوگئے۔ اللہ اکبر کے نعرے نے دہشتگردوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ بد حواسی میں ایک دہشتگرد نے ڈپٹی کمشنر پر فائر کردیا تاہم نشانہ خطا گیا۔ دو منٹ کے اندر تینوں دہشتگردوں کو قابو کر کے باندھ دیا گیا۔ وہ حیران پریشان تھے اور یہ بھوج ایئرپورٹ پر اللہ اکبر والے کہاں سے آگئے۔ چیف کمانڈو نے آگے بڑھ کر زمین پر بندھے ہوئے دہشت گردوں کیطرف جھکتے ہوئے انکی حیرت زدہ آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہو کہا۔ ’’ویلکم ٹو پاکستان‘‘ کپیٹن عزیر بڑے سکون سے بیٹھے ساری صورتحال دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ ا پنا بیگ اٹھاتے ہوئے دہشتگردوں کے قریب سے مسکراتے ہوئے جہاز سے اتر گئے۔ حواس بحال رہیں تو کیپٹن عزیز جیسے کارنامے انجام دینا ناممکن نہیں۔اس واقعہ کے ہیرو کپٹن عزیر کو اعزازی میڈل دیئے گئے۔ ان دنوں سندھ میں معین الدین حیدر گورنر تھے۔ انہوں نے پولیس کیلئے خصوصی اعزازات کی سفارش کی۔ سترہ سال بعد دو ہزار پندرہ کو تینوں دہشتگردوں کو اٹھائیس مئی کو سزائے موت دے دی گئی۔ یہ وہی دن ہے جب ایٹمی دھماکوں کی یاد میں قوم پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی سالگرہ مناتی ہے۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

اماں کواپنے گھر لے جائیں

بیٹوں اور دونوں بیٹیوں کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔اور وہ سب کے سب گزشتہ ایک گھنٹے سے ہسپتال کے برآمدے میں ٹہل ٹہل کر اس سوال کا جواب سوچ رہے تھے ۔میرا خیال ہے اظفربھائی سب سے بڑے ہیں۔ان کا فرض ہے کہ اماں کواپنے گھر لے جائیں صائمہ نے

بڑی دیر کے بعد اٹکتے ہوئے کہا ۔اظفر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو مسلسل تسبیع کے دانے رول رہی تھی اور اماں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔میں اپنے فرض سے

انکار نہیں کرتالیکن تم سب جانتے ہو حرا سروس کرتی ہے اور اماں کیلئے اب فل ٹائم عورت کی ضرورت ہے میرا خیال ہے تم گھر رہتی ہو تم اماں کی دیکھ بھال اچھی طرح کر لو گی۔خرچہ کی فکر نہ کرنا وہ

میں دوں گا ۔اظفر نے خرچے پر زور دے کر کہا میری تو بڑی خواہش ہے کہ اماں کی خدمت کروں مگر آپ تو جانتے ہوکہ میرے سسرال والے کس طرح کے ہیں اور میں یہ سب برداشت

نہیں کر سکتی کے میرے بھائیوں کو کوئی برا کہے ۔پھر؟ کچھ لمحوں کیلئے پھر سکوت چھاگیا۔میرا خیال ہے ظفر بھائی کے پاس اماں زیادہ آرام سے رہ سکتی ہیں سائرہ نے ہکلاتے ہوئے منجھلے بھائی کی طرف دیکھا۔میرا بھی یہی خیال ہے ۔

اظفر نے فوراََ چھوٹی بہن کی تائید کی ۔ظفر اور اسکی بیوی نے آنکھوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہا اصل میں اماں کا کبھی بھی ہمارے گھر دل نہیں لگا وہ تو ہمارے گھر دو دن سے

زیادہ رہتی ہی نہیں۔بیماری میں تو انسان تنہائی سے گھبراتا ہے۔شاہنہ نے شوہر کے کچھ کہنے سے قبل ہی صفائی پیش کر دی پھر اب کیاہوگا؟میری تو مجبوری ہے میری آمدنی بھی کم

ہے،پھر میرے گھر میں تو بالکل جگہ نہیں اظہر نے کہا۔پھر،پھراماں کس کے گھر جائیں گی ؟سب مجبور تھے اور سوچوں میں غرق تھے۔آپ سب مریضہ کے رشتہ دار ہیں ان سب نے

گھبرا کر سر اٹھایا جی!جی! آپ کو وارڈ میں ڈاکٹر بلا رہے ہیں خدا خیر کرے وہ سب تیزی سے وارڈ میں داخل ہوے ۔آئی ایم سوری شی ازایکسپائرڈ ڈاکٹر نے اظفر کے کاندھے پر ۔ہاتھ

رکھتے ہوے کہا ۔سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔سب کے چہروں پر ظاہری غم کے ساتھ ہی ایک کمینی سی مسرت کا عکس بھی تھا

شیر پنجاب

راجہ رنجیت سنگھ پنجاب کا حکمرا ن تھا اس نے دنیا میں سکھوں کی پہلی حکومت بنائی تھی ۔یہ ہندوستا ن کا واحد حکمران تھا جس نے پٹھانوں کو نا صرف شکست دی تھی بلکہ اس نے پشاور پر قبضہ بھی کرلیا تھا ۔یہ پنجاب کا پہلا حکمران تھا جسے شیر پنجاب کا خطاب دیا گیا تھا اور جو خود کو شیر پنجاب کہلاکر خوش ہوتا تھا۔راجہ رنجیت کی دائیں آنکھ خراب تھی یا بائیں ۔اس کی وجہ اس کا رعب داب تھا ۔کسی شخص میں آنکھ اٹھا کر راجہ رنجیت سنگھ کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں تھی۔فقیر عزیز الدین برٹش گو رنر جنرل لارڈ آک لینڈٖ سے ملاقات کیلئے شملہ گیا۔ملاقات کے دوران گورنر جنرل نے فقیر عزیز الدین سے پوچھا ’’پرا ئم منسٹر یہ بتا یئے راجہ رنجیت سنگھ کی کون سی آنکھ خراب ہے ‘‘فقیر عزیز
ہے ‘‘فقیر عزیز الدین نے فوراََ جواب دیا ’’جناب ہمارے مہاراجہ سورج ہیں اور سورج کی صرف ایک آنکھ ہوتی ہے ‘‘گورنر جنرل نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا ،فقیر عزیز الدین مزید بولا’’اور جناب ہمارے مہاراجہ کی ایک آنکھ ہی میں اتنی چمک اور روشنی ہے کہ مجھے کبھی ان کی دوسری آنکھ کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں ہوئی ‘‘گورنر جنرل اس شاندار خوشامد پر اتنا خوش ہوا کہ اس نے اپنی سونے کی گھڑی اتار کر فقیر عزیز الدین کو پیش کردی۔
چپ کرو
ایک کسان نے اپنے پڑوسی کو خوب بری بھلی سنائیں اور اس سے لڑ بھڑ پڑا۔ جب اسے پشیمانی کا احساس ستانے لگا تو وہ اپنے سادھو کے پاس گیا اور اسے سارا ماجرا بتایا۔ سادھو نے اسے کہا کہ بازار جائے اور ایک بڑا تھیلا بھر کر کسی پرندے کے پر خرید کر لے آئے۔ وہ بازار سے پر خرید کر سادھو کے پاس لے آیا۔ سادھو نے اسے بولا کہ اب کسی سڑک کے بیچ میں یہ پورا تھیلا خالی کر آؤ۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ سارے پر تم سڑک پر گرا کر واپس آؤ۔ وہ کسان تھیلا لے کر چل پڑا۔ ایک سڑک پر پہنچ کر اس نے تھیلا انڈیلا اور سارے پر سڑک پر گرا دیے۔ واپس سادھو کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس سے پوچھا کہ اب کیا کروں؟ سادھو نے بولا کہ واپس اسی جگہ جاؤ اور وہ سارے پر اٹھا کر اسی تھیلے میں ڈال کر لاؤ۔
کوشش کرنا کے سارے پر لے کر ہی لوٹو۔ وہ ادھر پہنچا تو آدھے سے زیادہ پر اڑ چکے تھے اور ایک دو باقی تھے۔اس نے بمشکل ان کو تھیلے میں اکٹھا کیا اور واپس چل دیا۔ سادھو نے اسے لوٹتے دیکھ کر پوچھا کہ کیوں بھائی پر مل گئے تھے؟ اس نے منہ لٹکا کر نفی میں جواب دیا۔ پھر بولا کہ وہ تو اڑ گئے تھے۔ سادھو بولا کہ وہ تمہارے تلخ الفاظ کی مانند تھے۔ جیسے تم نے اپنے پڑوسی کو کھری کھری سنائیں تو اس کا دل ٹوٹا۔ اس کو بہت سی باتوں پر شدید غصہ بھی آیا ہو گا۔ لیکن تم کہہ بھی دو کہ تم نے اپنے الفاظ واپس لے لیے تو اس سے تمہارے الفاظ کا جو اثر اس کے دل پر مرتب ہوا ہے وہ کبھی نہیں مٹ سکتا۔ حاصل سبق انسان طیش میں بہت کچھ بول جاتا ہے اور سب سے کڑوی بات یہ ہے کہ وہ زیادہ تر سچ بولتا ہے لیکن سننے والے کے لیے ان باتوں کو فراموش کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اکثر دوستی یا رشتے ناتوں میں باقی لوگ بیچ میں پڑ کر دوست بحال کروا دیتے ہیں لیکن کسی کے دل اور دماغ سے ان الفاظ کے نقوش مٹانا ناممکن ہوتا ہے۔ ایسی دوستی جو اتنے بڑے امتحان سے گزرے کبھی دوبارہ پہلی کی طرح نہیں ہو سکتی۔
ایک ایسی دراڑ بیچ میں پڑ جاتی ہے جس کو ختم کرنا نا ممکن ہوتا ہے۔ الفاظ اور زبان ایک تحفہ ہیں، ایک نعمت ہیں جو انسان کو اپنی بات اور خیالات کا اظہار کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ اگر ان کا درست استعمال کرو تو یہی انسان کی زندگی سنوار دیتے ہیں اور ان کا ہی غلط استعمال انسان کے لیے ہر موڑ پر ایک نیا دشمن بنا دیتا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے ہمیشہ یہی بولا ہے کہ سنت اور حدیث کی روشنی میں انسان اگر اپنی زبان پر قابو پالے تو بڑے سے بڑے معمے کو حل کر سکتا ہے۔ زبان کا سب سے بہترین استعمال تو اللہ کا ذکر اور عبادت میں ہو سکتا ہے اور جب انسانوں سے ملنے جلنے اور ان کے معاملات کی بات آئے تو بہترین کام خاموش رہنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ خاموش رہنا اور صرف مسکراہٹ سے لوگوں کو خوش آمدید کہنا بہترین امر ہوتا ہے۔
جو انسان خاموش رہتا ہے وہ کچھ بھی نہ جانتا ہو تب بھی وہ لوگوں کو بذات خود تو اپنی لاعلمی کا اعلان نہیں کرتا پھرتا اور غصے کے اوقات میں تو انسان کو پانی پی پی کر اور باقی لوگوں سے فوراً! دور ہٹ جانا چاہیے ہے تاکہ وہ کسی کی دل آزاری نہ کرے۔ جب معلوم ہو کہ کسی دوسرے کا قصور ہے اور سزا آپ کو مل رہی ہے تب انسان کا دل کرتا ہے کہ اس پر پھٹ پڑے پر یہ یاد رکھو کہ دنیا ختم ہو جائے گی اور جس نے برا کیا اس کا اجر اسے خدا دے گا۔ غصہ کرنا ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں بھی نہیں ہوتا۔ اکثر اوقات عورتیں دوسری عورتوں کا گھر برباد کرتی ہیں۔ نندیں بھابیاں، ساسیں بہو۔۔یہ سب صرف ڈرامے تو نہیں ہوتے۔ لیکن جس کے پاس سکت نہ ہو وہ ان کا نہ منہ توڑ سکتی ہیں نہ اپنا بدلہ لے سکتی ہیں۔ ایسے میں غصہ پینا بھی پڑتا ہے۔ تو کیوں نہ خود کو عادت ہی ڈال لی جائے کہ بولنا ہی نہیں ہے۔

آٹھ بندر

یہ درحقیقت ایک یو کے میں کیے جانے والے تجربے کی داستان ہے۔ انہوں نے ایک کمرے میں آٹھ بندر بند کر دیے۔ اس کمرے میں ایک سیڑھی لگا دی اور اس کی چھت پر کیلوں کا ایک گچھا باندھ دیا۔ جب بھی کوئی بندر اس کیلوں کے گچھے تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا تو باقی تمام بندروں پر برف والا ٹھنڈا پانی سپرے کیا جاتا تھا۔ شروع کے دو چار دن تو اسی طرح سارے بندر باری باری اوپر چڑ ھ کر کیلے حاصل کرنے کی تگو دو میں لگے رہتے تھے لیکن کچھ دن بعد وہ سیکھ گئے اور اگر کوئی بھی بندر اوپر چھڑھنے لگتا تو باقی سارے بندر اس کو خوب پیٹتے تھے۔یہ سلسہ کافی دن ایسے ہی جاری رہا اور سب بندر سمجھ گئے اور
پھر انھوں نے کیلوں کی طرف دیکھنا بھی بند کر دیا کیونکہ وہ اس کا انجام جانتے تھے۔ ایک دن سائنسدانوں کو کچھ سوجھا اور انہوں نے ان میں سے ایک بندر چڑیا گھر بھیج کر اس کی جگہ ایک نیا بندر اس کمرے میں باقی پرانے سات بندروں کے ساتھ ڈال دیا۔ جیسے ہی اس نے کیلے دیکھے اس کی تو باننچھیں کھل اٹھی۔۔۔لگا سیدھا سیڑھی کی طرف بڑھنے، ابھی دو چار قدم ہی اوپر چڑھا ہو گا کہ سب بندروں نے اس کی خوب دھلائی کر ڈالی۔ کوئی تین چار دن وہ اسی طرح بار بار کوشش کرتا اور باقی بندروں سے اپنی روز خوب ٹھکائی کرواتا۔ آخر کار اس نے بھی توبہ کر لی۔ اب سائنسدانوں نے ایک اور پرانے بندر کی جگہ ایک نیا بندر ان میں شامل کر دیا۔ وہ بھی بالکل اسی طرح چار دن لگا رہا، پھر سب سے مار کھا کر اس نے بھی کیلوں کی تمنا چھوڑ دی۔
آہستہ آہستہ سائنس دانوں نے ان سب پرانے بندروں کی جگہ نئے بندر اس کمرے میں ڈال دیے لیکن ان سب کا وہی رویہ رہا کہ جیسے ہی کوئی ایک بھی سیڑھی کی اوڑھ بڑھتا، باقی سب مل کر اس کی خوب دھلائی کرتے۔ سائنسدانوں نے اب پانی کا چھڑ کاؤ بالکل بند کر دیا تھا لیکن بندروں میں چونکہ ایک سوچ بن چکی تھی اور وہ اپنے پہلے کے تلخ تجربوں کے باعث بہت ڈرتے تھے تو وہ ابھی بھی کسی بندر کو اوپر نہیں چڑھنے دیتے تھے۔ یہی حال ہمارے لیڈروں کا ہے، جب کوئی آواز اٹھاتا ہے، اس کا ٹیٹوا ایسے عبرت ناک طریقے سے دباتے ہیں کہ باقی سب بھی ڈر سہم جاتے ہیں اور اس کے بعد کسی کی جرات نہیں ہوتی کہ دوبارہ اپنی زبان پر سچ لائے ۔ بہت سے مذاہب بھی اسی فلاسفی کا شکار ہیں اور اپنے فالوئرز کو اسی طرح اچھا خاصہ ایکسپلائٹ کر رہے ہیں۔ رسم و روایات بھی اسی کا ایک حصہ ہیں۔
کسی کو نہیں پتہ کہ کیوں اس طرح چل رہے ہیں، بس ہمارے باپ دادا نے کہا تھا اور وہ ایسے ہی کرتے تھے تو ہم بھی اندھا دھن نکل پڑے ان کے پیچھے پیچھے۔ اپنے آپ کو الگ بنائیں اور جو بھی کرتے ہیں، اس سے پہلے اچھی طرح سوچیں اور باقیوں سے پوچھیں کہ جو بھی وہ آپ کو کرنے کو کہہ رہے ہیں، اس کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ کوئی بھی اس قابل نہیں ہوتا کہ آپ اندھا دن اس کو مان کر اس کے پیچھے چل پڑیں۔ اگر دنیا میں کوئی ایسی چیز ہے جس کو آپ کا اندھا دن ماننا کوئی تک بناتا ہے، تو وہ اللہ کا وجود اور اس کی طاقت میں ہر شے کا ہونا ہے، بس۔ اپنا راستہ خود بنائیں اور ہر کام سے پہلے اس کے کرنے کی وجہ اچھے سے معلوم کر لیں، خود تحقیق کریں، اچھی طرح ہر معاملے کی چھان بین کر لیں اور اوروں کیباتوں پر تو بالکل بھی نہ جائیں۔

صبح سے لے کر رات تک یہ تیسری چڑیا ہے

اہک دفعہ میاں اور بیوی ٹیبل پر بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے. کہ سامنے کھڑکی میں ایک چڑا اور چڑیا آکر بیٹھ گئے .اور پیار کرنے لگےبیوی نے اپنے میاں سے کہا۔”ہم سے اچھے تو یہ چڑیا اور چڑا ہیں ایک دوسرے سے کتنا پیار کرتے ہیں اور ایک آپ ہیں کہ مجھ پر پیار بھری نظر ہی نہیں ڈالتے۔“ شوہر نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوپہر میں کھانے کی میز پر دونوں بیٹھے تھے کہ روشندان میں پھر چڑیا اور چڑا آ بیٹھے اور پیار کرنے لگے۔ بیوی نے دوبارہ شوہر کی توجہ اس طرف کروائی لیکن شوہر پر کوئی اثر نہ ہوا۔ شام کو روشندان میں جب تیسری بار بھی وہی نظارہ دیکھنے کو ملا تو بیوی سے رہا نہ گیا اور پھٹ پڑی۔ ”میں صبح سے کہہ رہی ہوں۔ آخر میں بھی انسان ہوں مجھے بھی
ہوں مجھے بھی پیار کی ضرورت ہے لیکن آپ کے سینے میں شاید خدا نے اس چڑے سے بھی چھوٹا دل دیا ہے۔“ شوہر نے نہایت اطمینان سے جواب دیا۔ کیوں اپنا خون جلاتی ہو بیگم! تم نے شاید غور نہیں کیا۔ کہ اس چڑے کے ساتھ صبح سے لے کر رات تک یہ تیسری چڑیا ہے۔دن کی

بہت قریب

ایک غریب کسان حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کے پاس آیا اور کہا حاکم نے میری زمین کی ساری پیداوار روک لی ہے اور کہتا ہے جب تک شاہی فرمان نہیں لاﺅ گے ایک دانہ بھی نہیں ملے گا‘ میری زندگی کا ذریعہ یہی پیداوار ہے‘میرے بچے بھوکے مر جائیں گے‘

آپؒ نے فرمایا اگر ساری زندگی کےلئے فرمان مل جائے تو کسان نے کہا پھر تو کیا ہی کہنے‘ آپؒ اس کے ساتھ فوراً دہلی روانہ ہو گئے‘ بادشاہ کو پتہ چلا تو فوجوں سمیت استقبال کو نکلا‘ جب کام کا پتہ چلا تو کہا‘

حضرت آپؒ صرف حکم بھیج دیتے‘ خود زحمت کرنے کی کیا ضرورت تھی‘ آپؒ نے فرمایا‘ جب یہ کسان میرے پاس آیا تو اپنی بے بسی کے سبب اللہ کے اتنا قریب تھا کہ اس کی مدد کرنا‘

اس کے کام میں شریک ہونا ‘اللہ کی عین بندگی تھی‘ اس لئے اللہ کی بندگی اور رضا حاصل کرنے کےلئے میں خود آیا ہوں۔

شادی کے بعد سسرال میں پہلا رمضان

شادی کے بعد یہ اسکا پہلا رمضان تھا. امی کے گھر تو اس پر کوئی خاص ذمے داری نہیں تھی کیونکہ امی سحری بناکر اسکو باقی سب کےساتھ ہی اٹھایا کرتی تھیں.انکا کہنا تھا “چار دن ماں کے گھر آرام کرلے پھر سسرال جا کے ذمے داریاں ہی نبھانی ہیں”مگر اب شادی کے بعد دو مہینے کا بچہ رات بھر جگائے رکھتا تھا.اور جو ذرا آنکھ لگنے لگتی تو سحری کا وقت ہوجاتا تھا.میٹھی نیند قربان کرکے وہ اس خیال سے بہت جلد اٹھ جایا کرتی تھی کہ سب کی سحری بنانے کے لئے زیادہ وقت درکار ہوگا .
اگر صرف اپنی اور اپنے شوہر کی سحری بنانی ہوتی تو مزید ایک گھنٹہ سونے کی گنجائش نکل ہی جاتی. مگر اب جب کہ پورے گھر کی سحری کی ذمے داری اس اکیلی کے سر پر تھی تو ایک گھنٹہ پہلے ہی اٹھنا پڑتا تھا پھر ہر ایک کی الگ الگ پسند کے مطابق سحری بنانے میں تھوڑا وقت بھی زیادہ لگتا تھا.
اپنے طور پر وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ کوئی کمی نہ رہ جائے. ہر ایک کو اسکی پسند کے مطابق ہی سحری ملے.آج انیسواں روزہ تھا اور وہ رات کو ایک لمحہ بھی نہیں سوسکی تھی. پتہ نہیں اس کے بیٹے کو کیا ہوگیا تھا. مسلسل روئے چلا جارہا تھا.رات بھر وہ اس خیال سے اپنے بیٹے کو لے کر ٹہلتی رہی تھی کہ اس کے رونے سے شوہر کی نیند نہ خراب ہوجائے.انہوں نے صبح آفس بھی تو جانا تھا.سحری کے قریب جا کے بیٹا سویا تو نجانے کیسے بچے کو سلاتے سلاتے اسکی بھی آنکھ لگ گئی تھی. رات بھر ٹہل ٹہل کر تھک بھی تو چکی تھی.ایک گھنٹہ سونے کے بعد لاشعوری طور پر احساس ذمے داری سے اسکی آنکھ کھلی تو سحری کا وقت ختم ہونے میں بیس منٹ باقی تھے وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی تھی اور گھبرا کر جلدی سے کچن کا رخ کیا تھا.ابھی کچن کے قریب ہی پہنچی تھی کہ اپنی ساس کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی.
وہ اس کی نند سے سحری لگانے کو کہرہی تھیں اور ساتھ میں اسکی بھی خبر لی جارہی تھی “کہ وہ ایک بہت ہی غیر ذمے دار بہو ہے. سونے سے ہی اسکو فرصت نہیں اور یہ کہ اگر انکی وقت پہ آنکھ نہ کھلتی تو آج اس نے سب کو شدید گرمی میں بغیر سحری کا روزہ رکھوادیا تھا”جواب میں نند کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی “ہاں نا امی اب انکو بھی اٹھانے کی ضرورت نہیں. رکھیں بغیر سحری کا روزہ.ہمیں رکھوانے چلی تھیں. آج مزہ آجائے گا جب خود بغیر سحری کا روزہ رکھینگی. سزا ملنی چاہئے انکو اس غیر ذمے داری کی”اور وہ حیران ہو کر بہتے آنسؤں کے ساتھ سوچرہی تھی کیا اسکی ذمے داری ہے سب کو روزہ کے لئے اٹھانے کی??روزہ تو انسان نے اپنے لئے رکھنا ہوتا ہے
تو پھر کیا وہ اپنی ذمے داری پر خود اپنے روزے کی فکر میں نہیں اٹھ سکتا??وہ مزید آگے بڑھ کر انکو شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اس کی امی کی تربیت ایسی نہیں تھی.آنسو پونچھ کر اپنے دل کو یہ تسلی دیتے ہوئے شوہر کو اٹھانے چلدی تھی کہ اگر وہ سب کو اٹھا کر سحری کرواتی ہے تو اس کے بدلے اللہ سے اجر بھی تو پاتی ہے.اسکی سحری اگر نہ بھی ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی کہ سارا دن اس نے گھر میں ہی تو رہنا تھا.مگر اس کے شوہر نے تو آفس جانا تھا انکی سحری بہت ضروری تھی.ویسے بھی جو تکلیف وہ یہ باتیں سن کر اٹھا چکی تھی اس تکلیف کے سامنے بغیر سحری نہ کرنے کی تکلیف کیا معنے رکھتی تھی.۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

سبق

وہ ٹرین کی سیٹ پر لیٹا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ایک مسافر نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ غصے سے بولا، “تمہیں پتہ نہیں “وہ مسافر شرافت سے کھسک لیا کہ کہیں جھگڑا نہ ہو جائے ۔ ۔ ۔؟ متعدد مسافروں کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔پھر ایک ایسا مسافر آیا جس نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، مگر اس کا وہی جواب تھا کہ ، “تمہیں پتہ نہیں ؟ “مسافر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ، ” کیا پتہ نہیں ؟ “لیٹا ہوا آدمی لجاجت سے بولا، ” یہ کہ بھائی جان میں
بیمار ہوں ” ۔ ۔۔سبق1: بد معاش اس وقت تک بد معاش ہے جب تک باقی لوگ شرافت کی چادر میں چھُپے رہنے میں عافیت جانتے رہیں۔سبق 2: چالاک لوگ اس وقت تک حکمران ہیں جب تک عوام ان کی چالاکیوں کو سمجھ نہ جائیں۔سبق 3: دنیا میں وہ قومیں طاقتور سمجھی جاتی ہیں جن کی کمزوریوں کا باقی اقوام کو علم نہ ہو پائے۔

وقت اور دولت

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:۔
” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔” تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تا جرنے کہا۔۔۔ “70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے کتنے ہیں؟ “۔تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔
واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔
بادشاہ نے وزیر سے کہا:۔
“اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔”
تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ “۔
یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:۔
“ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں۔۔۔۔